TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

روزوں کا بیان - روزوں کا بیان - Book 7 of Mishkat with Urdu and English Translation

Book 7 of Mishkat, with 9 chapters and 153 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

153 Hadith · 9 Chapters
بَاب تَنْزِيه الصَّوْم
روزے کی تقدیس و پاکیزگی کا بیان
وَعَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: كُنْتُمْ تَكْرَهُونَ الْحِجَامَةَ لِلصَّائِمِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَا إِلَّا مِنْ أَجْلِ الضَّعْفِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
ثابت بنانی ؒ بیان کرتے ہیں ، انس بن مالک ؓ سے دریافت کیا گیا ، تم رسول اللہ ﷺ کے دور میں روزہ دار کے پچھنے لگانے کو نا پسند کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : نہیں ، صرف کمزوری کے پیش نظر ۔ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۱۹۴۰) ۔
2016
Sahih
بَاب تَنْزِيه الصَّوْم
روزے کی تقدیس و پاکیزگی کا بیان
وَعَنِ الْبُخَارِيِّ تَعْلِيقًا قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَحْتَجِمُ وَهُوَ صَائِمٌ ثُمَّ تَرَكَهُ فَكَانَ يَحْتَجِمُ بِاللَّيْلِ
امام بخاری ؒ سے معلق روایت ہے ، انہوں نے کہا : ابن عمر ؓ روزہ کی حالت میں پچھنے لگوایا کرتے تھے ، پھر اسے ترک کر دیا ، پھر آپ رات کے وقت پچھنے لگواتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (الصوم باب : ۳۲ قبل ح ۱۹۳۸) ۔
2017
Sahih
بَاب تَنْزِيه الصَّوْم
روزے کی تقدیس و پاکیزگی کا بیان
وَعَن عَطاء قَالَ: إِن مضمض ثُمَّ أَفْرَغَ مَا فِي فِيهِ مِنَ الْمَاءِ لَا يضيره أَنْ يَزْدَرِدَ رِيقَهُ وَمَا بَقِيَ فِي فِيهِ وَلَا يَمْضُغُ الْعِلْكَ فَإِنِ ازْدَرَدَ رِيقَ الْعِلْكَ لَا أَقُولُ: إِنَّهُ يُفْطِرُ وَلَكِنْ يُنْهَى عَنْهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي تَرْجَمَةِ بَابٍ
عطا ؒ بیان کرتے ہیں ، اگر کلی کرے ، پھر منہ کے پانی کو گرا دے تو پھر اگر وہ اپنا تھوک اور جو پانی اس کے منہ میں باقی رہ گیا تھا نگل لے تو اس کے لیے مضر نہیں ، البتہ وہ گوند نہ چبائے ، اگر وہ گوند کا لعاب نگل لے تو میں نہیں کہتا کہ وہ روزہ توڑ لے گا ، لیکن اسے اس سے روکا جائے گا ۔ امام بخاری نے اسے ترجمعہ الباب میں روایت کیا ہے ۔ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (الصوم باب : ۲۸ بعد ح ۱۹۳۴) ۔
2018
Sahih
بَاب صَوْم الْمُسَافِر
مسافر کے روزے کا بیان
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: إِنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيَّ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصُومُ فِي السَّفَرِ وَكَانَ كَثِيرَ الصِّيَامِ. فَقَالَ: «إِنْ شِئْتَ فَصم وَإِن شِئْت فَأفْطر»
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ حمزہ بن عمرو اسلمی ؓ بہت زیادہ روزے رکھا کرتے تھے ، انہوں نے نبی ﷺ سے عرض کیا : کیا میں دوران سفر روزہ رکھ لیا کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر تم چاہو تو روزہ رکھو اور اگر تم چاہو تو نہ رکھو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۹۴۳) و مسلم (۱۰۳ / ۱۱۲۱) ۔
2019
Sahih
بَاب صَوْم الْمُسَافِر
مسافر کے روزے کا بیان
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَسِتَّ عَشْرَةَ مَضَتْ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ فَمِنَّا مَنْ صَامَ وَمِنَّا مَنْ أَفْطَرَ فَلَمْ يَعِبِ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ. رَوَاهُ مُسلم
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نے سولہ رمضان کو رسول اللہ ﷺ کی معیت میں جہاد کیا ، ہم میں سے کچھ نے روزہ رکھا ہوا تھا اور کچھ نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا ، روزہ دار نے روزہ نہ رکھنے والے کو معیوب سمجھا نہ افطار کرنے والے نے روزہ دار کو معیوب سمجھا ۔ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۹۳ / ۱۱۱۶) ۔ 2615
2020
Sahih
بَاب صَوْم الْمُسَافِر
مسافر کے روزے کا بیان
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَرَأَى زِحَامًا وَرَجُلًا قَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» قَالُوا: صَائِمٌ. فَقَالَ: «لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصَّوْمُ فِي السَّفَرِ»
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ سفر میں تھے کہ آپ نے ہجوم اور ایک آدمی دیکھا جس پر سایہ کیا ہوا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے کیا ہوا ؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا : روزہ دار ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۹۴۶) و مسلم (۹۲ / ۱۱۱۵) ۔ 2612
2021
Sahih
بَاب صَوْم الْمُسَافِر
مسافر کے روزے کا بیان
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فِي وم حَارٍّ فَسَقَطَ الصَّوَّامُونَ وَقَامَ الْمُفْطِرُونَ فَضَرَبُوا الْأَبْنِيَةَ وَسَقَوُا الرِّكَابَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الْيَوْمَ بِالْأَجْرِ»
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نبی ﷺ کے ساتھ شریک سفر تھے ، ہم میں سے کچھ روزے سے تھے اور کچھ نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا ، ایک سخت گرم دن میں ہم نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا تو روزہ دار تو (نڈھال ہو کر) گر پڑے ، جبکہ جن لوگوں نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا وہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے خیمے لگائے اور سواریوں کو پانی پلایا ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آج روزہ نہ رکھنے والے اجر لے گئے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۸۹۰) و مسلم (۱۰۰ / ۱۱۱۹) ۔ 2622
2022
Sahih
بَاب صَوْم الْمُسَافِر
مسافر کے روزے کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَرَفَعَهُ إِلَى يَدِهِ لِيَرَاهُ النَّاسُ فَأَفْطَرَ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ. فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ: قَدْ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَفْطَرَ. فَمن شَاءَ صَامَ وَمن شَاءَ أفطر
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے تو آپ نے روزہ رکھا ، حتیٰ کہ آپ مقام عسفان پر پہنچے تو آپ نے پانی منگایا اور اسے ہاتھ سے بلند کیا تاکہ لوگ اسے دیکھ لیں ، پس آپ نے روزہ افطار کر لیا حتیٰ کہ آپ مکہ پہنچ گئے اور یہ رمضان کا واقعہ ہے ، ابن عباس ؓ فرمایا کرتے تھے ، رسول اللہ ﷺ نے (دوران سفر) روزہ رکھا بھی ہے اور افطار بھی کیا ہے ، جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۹۴۸) و مسلم (۸۸ / ۱۱۱۳) ۔ 2608
2023
Sahih
بَاب صَوْم الْمُسَافِر
مسافر کے روزے کا بیان
وَفِي رِوَايَة لمُسلم عَن جَابر رَضِي الله عَنهُ أَنه شرب بعد الْعَصْر
صحیح مسلم میں جابر ؓ سے مروی روایت میں ہے کہ آپ نے عصر کے بعد (پانی) پیا ۔ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۹۱ / ۱۱۱۴) ۔ 2611
2024
Sahih
بَاب صَوْم الْمُسَافِر
مسافر کے روزے کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الْكَعْبِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِن اللَّهَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ شَطْرَ الصَّلَاةِ وَالصَّوْمَ عَنِ الْمُسَافِرِ وَعَنِ الْمُرْضِعِ وَالْحُبْلَى» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
انس بن مالک کعبی ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ نے مسافر سے نصف نماز ساقط فرما دی جبکہ مسافر ، دودھ پلانے والی اور حاملہ خاتون سے روزہ ساقط فرما دیا ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و النسائی و ابن ماجہ ۔
Takhreej
حسن ، رواہ ابوداؤد (۲۴۰۸) و الترمذی (۷۱۵ وقال : حسن) و النسائی (۴ / ۱۸۰ ح ۲۲۷۶) و ابن ماجہ (۱۶۶۷) ۔
2025
Sahih
بَاب صَوْم الْمُسَافِر
مسافر کے روزے کا بیان
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ لَهُ حَمُولَةٌ تَأْوِي إِلَى شِبْعٍ فَلْيَصُمْ رَمَضَانَ من حَيْثُ أدْركهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
سلمہ بن محبق ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص کے پاس سواری ہو جو شکم سیری کے مقام پر اسے پہنچا دے وہ روزے رکھے جہاں بھی وہ رمضان کو پا لے ۔‘‘ ضعیف
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۲۴۱۰ ۔ ۲۴۱۱) * عبد الصمد بن حبیب ضعیف ضعفہ الجمھور و حبیب بن عبداللہ : مجھول ۔
2026
Zaeef
بَاب صَوْم الْمُسَافِر
مسافر کے روزے کا بیان
عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ إِلَى مَكَّةَ فِي رَمَضَانَ فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ كُرَاعَ الْغَمِيمِ فَصَامَ النَّاسُ ثُمَّ دَعَا بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ فَرَفَعَهُ حَتَّى نَظَرَ النَّاسُ إِلَيْهِ ثُمَّ شَرِبَ فَقِيلَ لَهُ بَعْدَ ذَلِكَ إِنَّ بَعْضَ النَّاسِ قَدْ صَامَ. فَقَالَ: «أُولَئِكَ الْعُصَاةُ أُولَئِكَ الْعُصَاةُ» . رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے سال رمضان میں مکہ کے لیے روانہ ہوئے تو آپ نے روزہ رکھا ، حتیٰ کہ آپ مقام کراع الغمیم پر پہنچے ، صحابہ کرام ؓ نے بھی روزہ رکھا ہوا تھا ، پھر آپ نے پانی کا پیالہ منگوایا ، اسے بلند کیا حتیٰ کہ صحابہ کرام نے اسے دیکھ لیا ، پھر آپ نے اسے نوش فرمایا ، اس کے بعد آپ کو بتایا گیا کہ بعض لوگوں نے روزہ رکھا ہوا ہے (ابھی تک افطار نہیں کیا) تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ نافرمان ہیں ، وہ نافرمان ہیں ۔ ‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۹۰ / ۱۱۱۴) ۔ 2610
2027
Sahih
بَاب صَوْم الْمُسَافِر
مسافر کے روزے کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَائِمُ رَمَضَانَ فِي السَّفَرِ كَالْمُفْطِرِ فِي الْحَضَرِ» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
عبدالرحمن بن عوف ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دوران سفر رمضان کا روزہ رکھنے والا ، حالتِ قیام میں روزہ نہ رکھنے والے کی طرح ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ (۱۶۶۶) * ابو سلمۃ لم یسمع من ابیہ کما قال علی بن المدینی و احمد و ابن معین و غیرھم فالسند منقطع ۔
2028
Zaeef
بَاب صَوْم الْمُسَافِر
مسافر کے روزے کا بیان
وَعَن حَمْزَة بن عَمْرو السّلمِيّ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُ بِي قُوَّةً عَلَى الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ؟ قَالَ: «هِيَ رُخْصَةٌ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَمَنْ أَخَذَ بِهَا فَحَسَنٌ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ» . رَوَاهُ مُسلم
حمزہ بن عمرو اسلمی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں دوران سفر روزہ رکھنے کی قوت رکھتا ہوں ، تو کیا (دوران سفر روزہ رکھنے پر) مجھے گناہ ہو گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ اللہ عزوجل کی طرف سے ایک رخصت ہے ، جس نے اسے لے لیا تو اس نے اچھا کیا اور جو شخص روزہ رکھنا چاہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۰۷ / ۱۱۲۱) ۔ 2629
2029
Sahih
بَاب الْقَضَاء
قضا کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ يَكُونُ عَلَيَّ الصَّوْمُ مِنْ رَمَضَانَ فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقْضِيَ إِلَّا فِي شَعْبَانَ. قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: تَعْنِي الشّغل من النَّبِي أَو بِالنَّبِيِّ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، مجھ پر رمضان کے روزے ہوتے تو میں صرف شعبان میں ان کی قضا دے سکتی تھی ۔ یحیی بن سعید بیان کرتے ہیں ، ان کی مراد یہ ہے کہ (قضا میں تاخیر) نبی ﷺ کی مشغولیت کی وجہ سے تھی ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۹۵۰) و مسلم (۱۵۱ / ۱۱۴۶) ۔ 2687
2030
Sahih
بَاب الْقَضَاء
قضا کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحِلُّ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تَصُومَ وَزَوْجُهَا شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ وَلَا تَأْذَنَ فِي بَيْتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کسی عورت کے لیے ، اپنے خاوند کے پاس ہوتے ہوئے اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ رکھنا جائز نہیں ، اور وہ اس کی اجازت کے بغیر کسی کو اس کے گھر میں آنے کی اجازت نہ دے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۸۴ / ۱۰۲۶) ۔ 2370
2031
Sahih
بَاب الْقَضَاء
قضا کا بیان
وَعَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ أَنَّهَا قَالَتْ لِعَائِشَةَ: مَا بَالُ الْحَائِضِ تَقْضِي الصَّوْمَ وَلَا تَقْضِي الصَّلَاةَ؟ قَالَتْ عَائِشَةُ: كَانَ يُصِيبُنَا ذَلِكَ فَنُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّوْمِ وَلَا نُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّلَاةِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
معاذہ عدویہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عائشہ ؓ سے عرض کیا : حائضہ کا کیا معاملہ ہے کہ وہ روزہ کی قضا دیتی ہے اور نماز کی قضا نہیں دیتی ؟ عائشہ ؓ نے فرمایا : ہم بھی اس سے دوچار ہوتی تھیں تو ہمیں روزے کی قضا کا حکم دیا جاتا تھا جبکہ نماز کی قضا کا حکم نہیں دیا جاتا تھا ۔ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۶۹ / ۳۳۵) ۔ 763
2032
Sahih
بَاب الْقَضَاء
قضا کا بیان
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صَوْمٌ صَامَ عَنْهُ وليه»
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں تو اس کی طرف سے اس کا وارث روزے رکھے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۹۵۲) و مسلم (۱۵۳ / ۱۱۴۷) ۔ 2692
2033
Sahih
بَاب الْقَضَاء
قضا کا بیان
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ فَلْيُطْعَمْ عَنْهُ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: وَالصَّحِيحُ أَنه مَوْقُوف على ابْن عمر
نافع ؒ ابن عمر ؓ سے روایت کرتے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمہ ماہ رمضان کے روزے ہوں تو اس کی طرف سے ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : درست بات یہ ہے کہ یہ عبداللہ بن عمر ؓ پر موقوف ہے ۔ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۷۱۸) * محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلی : ضعیف مشھور ۔
2034
Zaeef
بَاب الْقَضَاء
قضا کا بیان
عَنْ مَالِكٍ بَلَغَهُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُسْأَلُ: هَلْ يَصُومُ أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ أَوْ يُصَلِّي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ؟ فَيَقُولُ: لَا يَصُومُ أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ. وَلَا يُصَلِّي أَحَدٌ عَنْ أحد. رَوَاهُ فِي الْمُوَطَّأ
امام مالک ؒ فرماتے ہیں ، انہیں یہ خبر پہنچی ہے کہ ابن عمر ؓ سے مسئلہ دریافت کیا گیا تھا ، کیا کوئی شخص کسی دوسرے کی طرف سے روزہ رکھ سکتا ہے یا کوئی کسی دوسرے شخص کی طرف سے نماز پڑھ سکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا :’’ کوئی کسی کی طرف سے روزہ رکھ سکتا ہے نہ کوئی کسی کی طرف سے نماز پڑھ سکتا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ مالک (۱ / ۳۰۳ ح ۶۸۱) * ھذا منقطع ، من البلاغات و روی البیھقی (۴ / ۲۵۴) بسند صحیح عن ابن عمر قال :’’ لا یصوم احد عن احد و لکن تصدقوا عند من مالہ للصوم لکل یوم مسکینًا ‘‘ و صححہ البیھقی ۔ ۔
2035
Zaeef