أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: أَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَجْهِهِ حِينَ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ فَقَالَ: أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَتَرَاصُّوا فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي .
It was narrated that Anas said:
The Messenger of Allah (ﷺ)turned to face us when he stood up to pray, before he said the Takbir and said: 'Make your rows straight and come close to one another, for I can see you behind my back. '
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو ہماری طرف متوجہ ہوتے، اور اللہ اکبر کہنے سے پہلے فرماتے: تم اپنی صفیں درست کر لو، اور سیسہ پلائی دیوار کی مانند ہو جاؤ، ۱؎ کیونکہ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف: ۵۹۵)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ۷۱ (۷۱۸)، ۷۲ (۷۱۹)، ۷۶ (۷۲۵)، صحیح مسلم/الصلاة ۲۸ (۴۳۴)، ویأتی عند المؤلف برقم: ۸۴۶ (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎: «تراص» کے معنی اس طرح مل کر کھڑے ہونے کے ہیں جیسے دیوار میں ایک اینٹ دوسری اینٹ کے ساتھ پیوست ہوتی ہے درمیان میں ذرا سا بھی فاصلہ اور شگاف نہیں ہوتا۔
815
Sahih