أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ زِيَادٍ الْأَعْلَمِ، قال: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاكِعٌ فَرَكَعَ دُونَ الصَّفِّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ .
Abu Bakrah narrated that he entered the Masjid when the when the Prophet (ﷺ) was bowing, so he bowed outside the row. The Prophet said:
May Allah increase you in keenness, but do not do this again.
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ مسجد میں داخل ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں تھے، تو انہوں نے صف میں شامل ہونے سے پہلے ہی رکوع کر لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ آپ کی حرص میں اضافہ فرمائے، پھر ایسا نہ کرنا ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الاذان ۱۱۴ (۷۸۳)، سنن ابی داود/الصلاة ۱۰۱ (۶۸۳، ۶۸۴)، (تحفة الأشراف: ۱۱۶۵۹)، مسند احمد ۵/۳۹، ۴۲، ۴۵، ۴۶، ۵۰ (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎: کیونکہ خیر کی حرص گو محبوب و مطلوب ہے لیکن اسی صورت میں جب یہ شریعت کے مخالف نہ ہو، اور اس طرح صف میں شامل ہونا شرعی طریقے کے خلاف ہے، اس لیے اس سے بچنا اولیٰ ہے۔
872
Sahih