TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

امام اور مقتدی کی نیت کے اختلاف کا بیان۔ - امام اور مقتدی کی نیت کے اختلاف کا بیان۔ - The book of leading the prayer (al-imamah) - Sunnan Nisai with Urdu and English Translation

Chapter 41 of The book of leading the prayer (al-imamah) in Sunnan Nisai. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 41 of 64 · 5 Hadith
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى قَوْمِهِ يَؤُمُّهُمْ فَأَخَّرَ ذَاتَ لَيْلَةٍ الصَّلَاةَ وَصَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ يَؤُمُّهُمْ فَقَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَلَمَّا سَمِعَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ تَأَخَّرَ فَصَلَّى، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ خَرَجَ فَقَالُوا:‏‏‏‏ نَافَقْتَ يَا فُلَانُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ مَا نَافَقْتُ وَلَآتِيَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُخْبِرُهُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مُعَاذًا يُصَلِّي مَعَكَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَأْتِينَا فَيَؤُمُّنَا وَإِنَّكَ أَخَّرْتَ الصَّلَاةَ الْبَارِحَةَ فَصَلَّى مَعَكَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَجَعَ فَأَمَّنَا فَاسْتَفْتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ فَلَمَّا سَمِعْتُ ذَلِكَ تَأَخَّرْتُ فَصَلَّيْتُ وَإِنَّمَا نَحْنُ أَصْحَابُ نَوَاضِحَ نَعْمَلُ بِأَيْدِينَا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَا مُعَاذُ أَفَتَّانٌ أَنْتَ اقْرَأْ بِسُورَةِ كَذَا وَسُورَةِ كَذَا .
It was narrated that 'Amr said: I heard Jabir bin 'Abdullah say: 'Mu'adh used to pray with the Prophet (ﷺ) then he would go back to his people to lead them in a prayer. He stayed late one night and prayed with the Prophet (ﷺ) then he went back to his people to lead them in prayer, and he recited Surat Al-Baqarah. When a man from his people heard that, he stepped aside and prayed (on his own), then he left. They said: 'You have become a hypocrite, 0 so and-so!' He said: 'By Allah, I have not become a hypocrite, and I will go to the Prophet (ﷺ) and tell him (about that),' So he went to the Prophet and said: '0 Messenger of Allah(ﷺ), Muadh prays with you, then he comes to lead us in prayer. You delayed the prayer, and he prayed with you then he came back to lead us in prayer, and he started to recite Shut Al-Baqarah. When I heard that, I stepped aside and prayed by myself, because we are people who bring water with the camels and we work hard.' The Prophet (ﷺ) said to him: '0 Muadh, do you want to cause hardship to the people? Recite such and such a Surah, and such and such a Surah. '
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے، پھر اپنی قوم میں واپس جا کر ان کی امامت کرتے، ایک رات انہوں نے نماز لمبی کر دی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انہوں نے نماز پڑھی، پھر وہ اپنی قوم کے پاس آ کر ان کی امامت کرنے لگے، تو انہوں نے سورۃ البقرہ کی قرآت شروع کر دی، جب مقتدیوں میں سے ایک شخص نے قرآت سنی تو نماز توڑ کر پیچھے جا کر الگ سے نماز پڑھ لی، پھر وہ  ( مسجد سے )  نکل گیا، تو لوگوں نے پوچھا، فلاں! تو منافق ہو گیا ہے؟ تو اس نے کہا: اللہ کی قسم میں نے منافقت نہیں کی ہے، اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں گا، اور آپ کو اس سے باخبر کروں گا ؛ چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! معاذ آپ کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں، پھر ہمارے پاس آتے ہیں، اور ہماری امامت کرتے ہیں، پچھلی رات انہوں نے نماز بڑی لمبی کر دی، انہوں نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر واپس آ کر انہوں نے ہماری امامت کی، تو سورۃ البقرہ پڑھنا شروع کر دی، جب میں نے ان کی قرآت سنی تو پیچھے جا کر میں نے  ( تنہا )  نماز پڑھ لی، ہم پانی ڈھونے والے لوگ ہیں، دن بھر اپنے ہاتھوں سے کام کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا:  معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے ہو تم  ( نماز میں )  فلاں، فلاں سورت پڑھا کرو  ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة ۳۶ (۴۶۵)، سنن ابی داود/الصلاة ۶۸ (۶۰۰)، ۱۲۷ (۷۹۰)، (تحفة الأشراف: ۲۵۳۳) (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض پڑھنے والے کی نماز صحیح ہے۔
836
Sahih
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَشْعَثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى صَلَاةَ الْخَوْفِ فَصَلَّى بِالَّذِينَ خَلْفَهُ رَكْعَتَيْنِ وَبِالَّذِينَ جَاءُوا رَكْعَتَيْنِ فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا وَلِهَؤُلَاءِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ .
837. It was narrated from Abu Bakr that the Prophet (ﷺ) offered the fear prayer (Salat Al-Khauf). He led those who were behind him in two Rak'ah and those who came (after them) in two Rak'ah, so the Prophet (ﷺ) prayed four Rak'ahs and each group prayed two.
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خوف کی نماز پڑھائی، تو اپنے پیچھے والوں کو دو رکعت پڑھائی،  ( پھر وہ چلے گئے )  اور جو ان کی جگہ آئے انہیں بھی دو رکعت پڑھائی، تو اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعتیں ہوئیں، اور لوگوں کی دو دو رکعتیں ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة ۲۸۸ (۱۲۴۸) مطولاً، (تحفة الأشراف: ۱۱۶۶۳)، مسند احمد ۵/۳۹، ۴۹، ویأتی عند المؤلف برقم: ۱۵۵۲ (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعتوں میں سے پچھلی دو رکعتیں نفل ہوئیں، جب کہ ان دو رکعتوں میں آپ کے جو مقتدی تھے انہوں نے اپنی فرض پڑھی تھی۔
837
Sahih
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ تَفْضُلُ عَلَى صَلَاةِ الْفَذِّ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً .
It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Praying in congregation is twenty-seven times better than praying alone.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  جماعت کی نماز تنہا نماز پر ستائیس درجہ فضیلت رکھتی ہے ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان ۳۰ (۶۴۵)، ۳۱ (۶۴۹)، صحیح مسلم/المساجد ۴۲ (۶۵۰)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: ۸۳۶۷)، موطا امام مالک/الجماعة ۱ (۱)، مسند احمد ۲/۱۷، ۶۵، ۱۰۲، ۱۱۲، ۱۵۶، سنن الدارمی/الصلاة ۵۶ (۱۳۱۳) (صحیح)
838
Sahih
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاةِ أَحَدِكُمْ وَحْدَهُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ جُزْءًا .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Praying in congregation is twenty-five portions better than one of you praying alone.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  جماعت کی نماز تم میں سے کسی کی تنہا نماز سے پچیس گنا افضل ہے ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد ۴۲ (۶۴۹)، سنن الترمذی/الصلاة ۴۷ (۲۱۶)، (تحفة الأشراف: ۱۳۲۳۹)، موطا امام مالک/الجماعة ۱ (۲)، مسند احمد ۲/۲۵۲، ۲۶۴، ۲۶۶، ۲۷۳، ۳۲۸ (بلفظ: سبع وعشرون) ۳۹۶، ۴۵۴، ۴۷۳، ۴۷۵، ۴۸۵، ۴۸۶، ۵۲۰، ۵۲۵، ۵۲۹ (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎: اس سے پہلے والی حدیث میں ۲۷ گنا، اور اس میں ۲۵ گنا زیادہ فضیلت بتائی گئی ہے، اس کی توجیہ بعض علماء نے یہ کی ہے کہ یہ فضیلت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے ۲۵ گنا بتلائی گئی، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس میں مزید اضافہ فرما کر اسے ۲۷ گنا کر دیا، اور بعض نے کہا ہے کہ یہ کمی بیشی نماز میں خشوع و خضوع اور اس کے سنن و آداب کی حفاظت کے اعتبار سے ہوتی ہے۔
839
Sahih
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ تَزِيدُ عَلَى صَلَاةِ الْفَذِّ خَمْسًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً .
It was narrated from that the Prophet (ﷺ) said: Prayer in congregation is twenty-five levels better than a prayer offered on one's own.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  جماعت کی نماز تنہا نماز سے پچیس درجہ بڑھی ہوتی ہے ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ۱۷۴۷۱)، مسند احمد ۶/۴۹ (صحیح)
840
Sahih

Chapters

64
01
اہل علم و فضل کی امامت کا بیان۔
1 Hadith
02
ظالم حکمرانوں کے پیچھے نماز پڑھنے کا بیان۔
2 Hadith
03
امامت کا زیادہ مستحق کون ہے ؟
1 Hadith
04
امامت کے لیے عمردراز شخص کو آگے بڑھانے کا بیان۔
1 Hadith
05
لوگ کسی جگہ اکٹھا ہوں اور سب برابر ہوں تو کون امامت کرے ؟
1 Hadith
06
کئی لوگ ایک ساتھ ہوں اور ان میں حاکم بھی موجود ہو تو کون امامت کرے ؟
1 Hadith
07
امامت کے لیے رعایا میں سے کوئی آگے بڑھ جائے، پھر حاکم آ جائے تو کیا وہ پیچھے ہٹ جائے ؟
1 Hadith
08
امام کا رعیت میں سے کسی شخص کے پیچھے نماز پڑھنے کا بیان۔
2 Hadith
09
زائر کی امامت کا بیان۔
1 Hadith
10
نابینا (اندھے) کی امامت کا بیان۔
1 Hadith
11
نابالغ بچہ کی امامت کا بیان۔
1 Hadith
12
:(نماز کے لیے) لوگوں کے کھڑے ہونے کا بیان۔
1 Hadith
13
اقامت کے بعد امام کو کوئی ضرورت پیش آ جائے جس سے وہ نماز مؤخر کر دے۔
1 Hadith
14
نمازی پر کھڑے ہو جانے کے بعد امام کو یاد آئے کہ وہ ناپاک ہے تو کیا کرے ؟
1 Hadith
15
امام کا اپنی عدم موجودگی میں کسی کو اپنا نائب بنانے کا بیان۔
1 Hadith
16
امام کی اقتداء (پیروی) کرنے کا بیان۔
1 Hadith
17
امام کی اقتداء کرنے والے کی اقتداء کرنے کا بیان۔
4 Hadith
18
جب تین آدمی ہوں تو امام کے کھڑے ہونے کی جگہ اور اس میں اختلاف کا بیان۔
2 Hadith
19
جب تین مرد اور ایک عورت ہو تو کیسے صف بندی کی جائے ؟
1 Hadith
20
دو مرد اور دو عورتیں ہوں تو کیسے صف بندی کرے ؟
2 Hadith
21
امام کے ساتھ ایک بچہ اور ایک عورت ہو تو وہ کہاں کھڑا ہو ؟
2 Hadith
22
مقتدی بچہ ہو تو امام کے کھڑے ہونے کی جگہ کا بیان۔
1 Hadith
23
امام کے قریب کون لوگ ہوں پھر ان سے قریب کون ہوں ؟
2 Hadith
24
امام کے نکلنے سے پہلے صفوں کی درستگی کا بیان۔
1 Hadith
25
امام صفیں کیسے درست کرے ؟
2 Hadith
26
جب امام آگے بڑھے تو صفیں برابر کرنے کے لیے کیا کہے ؟
1 Hadith
27
سیدھے کھڑے ہو جاؤ ‘‘ کتنی بار کہنا ہے ؟
1 Hadith
28
امام کا صفیں درست کرنے اور مل کر کھڑے ہونے کی ترغیب دلانا۔
3 Hadith
29
پہلی صف کی دوسری صف پر فضیلت کا بیان۔
1 Hadith
30
پچھلی صف کا بیان۔
1 Hadith
31
جو صف کو جوڑے۔
1 Hadith
32
عورتوں کی سب سے بہتر اور مردوں کی سب سے بدتر صفوں کا بیان۔
1 Hadith
33
ستونوں کے بیچ صف بندی کا بیان۔
1 Hadith
34
صف کی مستحب جگہ کا بیان۔
1 Hadith
35
امام نماز کتنی ہلکی پڑھے ؟
3 Hadith
36
کبھی کبھی امام کو نماز لمبی کرنے کی رخصت کا بیان۔
1 Hadith
37
نماز میں امام کے لیے کتنا عمل جائز ہے ؟
1 Hadith
38
رکوع، سجود وغیرہ میں امام سے سبقت کرنے کا بیان۔
3 Hadith
39
مقتدی کا امام کی نماز سے نکل جانے اور جا کر مسجد کے ایک گوشے میں اپنی نماز پڑھ لینے کا بیان۔
1 Hadith
40
امام بیٹھ کر نماز پڑھتا ہو تو مقتدی بھی بیٹھ کر نماز پڑھیں۔
3 Hadith
41
امام اور مقتدی کی نیت کے اختلاف کا بیان۔
5 Hadith
42
جب تین آدمی ہوں تو باجماعت نماز پڑھنے کا بیان۔
1 Hadith
43
جب تین افراد ہوں: ایک مرد، ایک بچہ اور ایک عورت تو باجماعت نماز پڑھنے کا بیان۔
1 Hadith
44
جب دو آدمی ہوں تو باجماعت نماز کا بیان۔
2 Hadith
45
نفل نماز کی جماعت کا بیان۔
1 Hadith
46
فوت شدہ نماز کی جماعت کا بیان۔
2 Hadith
47
جماعت چھوڑنے کی شناعت کا بیان۔
1 Hadith
48
جماعت سے پیچھے رہنے کی شناعت کا بیان۔
1 Hadith
49
جہاں پر اذان دی جاتی ہو وہاں نمازوں کی محافظت کا بیان۔
3 Hadith
50
جماعت چھوڑنے کے عذر کا بیان۔
3 Hadith
51
بغیر جماعت) جماعت کا ثواب پانے کی حد کا بیان۔
2 Hadith
52
تنہا نماز پڑھنے کے بعد جماعت کے ساتھ نماز دہرانے کا بیان۔
1 Hadith
53
تنہا نماز پڑھنے والے کا فجر کی نماز جماعت کے ساتھ دہرانے کا بیان۔
1 Hadith
54
نماز کا وقت نکل جانے کے بعد جماعت کے ساتھ نماز دہرانے کا بیان۔
1 Hadith
55
جو آدمی مسجد میں امام کے ساتھ باجماعت نماز پڑھ چکا ہو اس سے فریضہ نماز کے ساقط ہونے کا بیان۔
1 Hadith
56
نماز کے لیے دوڑ کر جانے کا بیان۔
1 Hadith
57
نماز کے لیے بغیر دوڑے تیز آنے کا بیان۔
2 Hadith
58
نماز کے لیے اول وقت میں جانے کا بیان۔
1 Hadith
59
اقامت کے بعد نفل یا سنت پڑھنے کی کراہت کا بیان۔
3 Hadith
60
امام (فرض) نماز میں ہو تو سنتیں پڑھنے والے کے حکم کا بیان۔
1 Hadith
61
صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھنے کا بیان۔
2 Hadith
62
صف میں ملے بغیر رکوع کرنے کا بیان۔
2 Hadith
63
ظہر کے بعد سنت پڑھنے کا بیان۔
1 Hadith
64
عصر کے پہلے سنت پڑھنے کا بیان اور اس سلسلے میں ابواسحاق سبیعی سے رواۃ حدیث کے اختلاف کا ذکر۔
2 Hadith
No chapter matched that.