أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَصْرِيُّ، عَنْ بِشْرٍ هُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قال: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ: الدَّائِمُ، قُلْتُ: فَأَيُّ اللَّيْلِ كَانَ يَقُومُ ؟ قَالَتْ: إِذَا سَمِعَ الصَّارِخَ .
It was narrated that Masruq said:
I said to 'Aishah: 'Which deed was most beloved to the Messenger of Allah (ﷺ)?' She said: 'That which was done persistently.' I said: 'At what part of the night did he pray Qiyam?' She said: 'When he heard the rooster.'
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب کون سا عمل تھا؟ تو انہوں نے کہا: جس عمل پر مداومت ہو، میں نے پوچھا: رات میں آپ کب اٹھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: جب مرغ کی بانگ سنتے ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/التھجد ۷ (۱۱۳۲)، الرقاق ۱۸ (۶۴۶۱)، صحیح مسلم/المسافرین ۱۷ (۷۴۱)، سنن ابی داود/الصلاة ۳۱۲ (۱۳۱۷)، (تحفة الأشراف: ۱۷۶۵۹)، مسند احمد ۶/۹۴، ۱۱۰، ۱۴۷، ۲۰۳، ۲۷۹ (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎: یہ عام معمول کی بات ہو گی، ورنہ خود عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آپ رات کے ہر حصے میں سوتے یا نماز پڑھتے پائے گئے۔
1617
Sahih