The book of qiyam al-lail (the night prayer) and voluntary prayers during the day - تہجد (قیام اللیل) اور دن میں نفل نمازوں کے احکام و مسائل - Book 20 of Sunnan Nisai with Urdu and English Translation
Book 20 of Sunnan Nisai, with 66 chapters and 220 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
Ahmad bin Sulaiman informed us, he said:
Yahya bin Adam narrated to us, he said: Malik narrated to us from Zubaid, from Dharr, from Ibn Abza.'
اس سند سے (سعید بن عبدالرحمٰن) بن ابزیٰ نے یہ حدیث مرسلاً ( یعنی سند میں انقطاع کے ساتھ ) روایت کی ہے، لیکن اسے عطا بن سائب نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے متصلاً روایت کی ہے۔
Ata bin As-Sa'ib reported from Sa'eed bin Abdur-Rahman bin Abza from his father:
That the Messenger of Allah (ﷺ) used to recite in witr: Glorify the Name of your Lord, the Most High; and Say: O you disbelievers!;' and 'Say: He is Allah, (the) One.'
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے۔
Muhammad bin Bashshar informed us, he said:
Abu Dawud narrated to us from Shu'bah, from Qatadah, who said: I heard 'Azarah narrating from Sa'eed bin 'Abdur-Rahman Ibn Abza, from his father That the Messenger of Allah (ﷺ) used to recite in witr: Glorify the Name of your Lord, the Most High; and Say: O you disbelievers!;' and 'Say: He is Allah, (the) One.' And when he had finished praying, he said: Subhanal-Malikil-Quddus (Glory be to the Sovereign, the Most Holy) three times.
سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے پھر جب فارغ ہو جاتے تو تین بار «سبحان الملك القدوس» کہتے۔
Ishawq bin Mansur informed us, he said:
Abu Dawud narrated to us, he said: Shu'ba narrated to us, from Qatadah, from Abdur-Rahman bin Abza, that The Messenger of Allah (ﷺ) used to recite in witr: Glorify the Name of your Lord, the Most High; and Say: O you disbelievers!;' and 'Say: He is Allah, (the) One.' And when he said the taslim, he would say: Subhanal-Malikil-Quddus (Glory be to the Sovereign, the Most Holy) three times, elongating his words the third time.
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے، اور جب فارغ ہو جاتے تو تین بار «سبحان الملك القدوس» کہتے، اور تیسری مرتبہ کھینچ کر کہتے۔
Muhammad bin Al-Muthanna informed us, he said Muhammad said:
Shu'bah narrated to us, he said: I heard Qatadah narrating from Zurarah, from Abdur-Rahman bin Abza, that The Messenger of Allah (ﷺ) used to recite in witr: Glorify the Name of your Lord, the Most High.'
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى» پڑھتے تھے۔ شبابہ نے ان دونوں کی یعنی محمد کی اور ابوداؤد کی مخالفت کی ہے ۱؎ انہوں نے اسے شعبہ سے، شعبہ نے قتادہ سے، قتادہ نے زرارہ بن اوفی سے، اور زرارہ نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: ۱۷۳۲ (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎: شبابہ نے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ کی جگہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کا ذکر کیا ہے، ان کی روایت آگے آ رہی ہے۔
(With that chain) from Imran bin Husain that:
The Prophet (ﷺ) recited in Witr: Glorify the Name of your Lord, the Most High.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى» پڑھی۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ کسی نے اس حدیث میں شبابہ کی متابعت کی ہے، یحییٰ بن سعید نے ان کی مخالفت کی ہے ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ۱۰۸۲۶) (صحیح بما قبلہ) (عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی روایت سے صحیح ہے، واقعہ وہ ہے جس کا تذکرہ اگلی روایت میں آ رہا ہے، ایسے وتر میں مذکورہ سورت کا پڑھنا دیگر روایات سے ثابت ہے)
Explanation
وضاحت: ۱؎: یہ مخالفت متن حدیث میں ہے جیسا کہ اگلی روایت سے ظاہر ہے۔
Muhammad bin Al-Muthanna informed us, he said:
Yahya bin Sa'eed narrated to us from Shu'bah, from Qatadah, from Zurarah, from Imran bin Husain, who said The Messenger of Allah (ﷺ) prayed Zuhr, and a man recited 'Glorify the Name of your Lord, the Most High.' When he finished praying, he said: 'Who recited: 'Glorify the Name of Your Lord, the Most High?' A man said: 'I did.' He said: 'I knew that someone was competing with me in it.'
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھی، تو ایک شخص نے سورۃ «سبح اسم ربك الأعلى» پڑھی، تو جب آپ نماز پڑھ چکے تو آپ نے پوچھا: «سبح اسم ربك الأعلى» کس نے پڑھی ہے؟ تو ایک شخص نے عرض کیا: میں نے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایسا لگا کہ تم میں سے کسی نے مجھے خلجان میں ڈال دیا ہے ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: ۹۱۸ (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎: یہ دونوں الگ الگ حدیثیں ہیں گو دونوں کی سند ایک ہے، اس طرح کی مخالفت ضرر رساں نہیں واللہ اعلم۔
It was narrated that Abu Al-Jawza said:
Al-Hasan said: The Messenger of Allah (ﷺ) taught me some words to say in witr in Qunut: Allahumma ihdini fiman hadayta wa 'afini fiman afayta wa tawallani fiman tawallayta wa barik li fima a'tayta, wa qini sharra ma qadayta, fa innaka taqdi wa la yuqda 'alayk, wa innahu la yadhilluman walayta, tabarakta Rabbana wa at'alayt (O Allah, guide me among those whom You have guided, pardon me among those You have pardoned, turn to me in friendship among those on whom You have turned in friendship, and bless me in what You have bestowed, and save me from the evil of what You have decreed. For verily You decree and none can influence You; and he is not humiliated whom You have befriended. Blessed are You, O Lord, and Exalted.)'
حسن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کلمات سکھائے جنہیں میں وتر کی کی قنوت میں کہتا ہوں، وہ یہ ہیں: «اللہم اهدني فيمن هديت وعافني فيمن عافيت وتولني فيمن توليت وبارك لي فيما أعطيت وقني شر ما قضيت إنك تقضي ولا يقضى عليك وإنه لا يذل من واليت تباركت ربنا وتعاليت» اے اللہ! مجھے ہدایت دے، ان لوگوں میں شامل کر کے جنہیں تو نے ہدایت دی ہے، عافیت دے ان لوگوں میں شامل کر کے جنہیں تو نے عافیت دی ہے، میری نگہبانی فرمان لوگوں میں شامل کر کے جن کی تو نے نگہبانی فرمائی، اور جو تو نے دیا ہے اس میں میرے لیے برکت عطا فرما، اور جس کا تو نے فیصلہ فرما دیا ہے اس کی برائی سے مجھے بچا، اس لیے کہ تو ہی فیصلہ کرتا ہے، اور تیرے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، اور تو جس سے دوستی کرے وہ ذلیل نہیں ہو سکتا، اے ہمارے رب! تو برکت والا اور بلند و بالا ہے ۔
It was narrated that Al-Hasan bin Ali said:
The Messenger of Allah (ﷺ) taught me these words in witr. He said: Say: Allahumma ihdini fiman hadayta wa 'afini fiman afayta wa tawallani fiman tawallayta wa barik li fima a'tayta, wa qini sharra ma qadayta, fa innaka taqdi wa la yuqda 'alayk, wa innahu la yadhilluman walayta, tabarakta Rabbana wa at'alayt. Wa salla Allahu ala al-Nabi Muhammad (O Allah, guide me among those whom You have guided, pardon me among those You have pardoned, turn to me in friendship among those on whom You have turned in friendship, and bless me in what You have bestowed, and save me from the evil of what You have decreed. For verily You decree and none can influence You; and he is not humiliated whom You have befriended. Blessed are You, O Lord, and Exalted. And may Allah (SWT) send salah upon the Prophet Muhammad)'
حسن بن علی رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر کے یہ کلمات سکھائے، آپ نے فرمایا: کہو: «اللہم اهدني فيمن هديت وبارك لي فيما أعطيت وتولني فيمن توليت وقني شر ما قضيت فإنك تقضي ولا يقضى عليك وإنه لا يذل من واليت تباركت ربنا وتعاليت وصلى اللہ على النبي محمد»۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (صحیح) (لیکن ’’وصلی اللہ …کا ٹکڑا صحیح نہیں ہے، اس کے راوی ’’عبداللہ بن علی زین العابدین‘‘ لین الحدیث ہیں، اوپر کی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
It was narrated from Ali bin Abi Talib that:
The Prophet (ﷺ) used to say at the end of witr: Allahumma inni audhu bi ridaka min sakhatika wa bi mu'afatika min uqubatika, wa audhu bika minka la uhsi thana'an 'alayka, anta kama athwart ala nafsik ( O Allah, I seek refuge in Your pleasure from Your wrath and in Your forgiveness from Your punishment. And I seek refuge in You from You; I cannot praise You enough; You are as You have praised Yourself.).
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وتر کے آخر میں یہ کلمات کہتے تھے: «اللہم إني أعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» اے اللہ! میں تیری خوشی کی تیرے غصے سے پناہ مانگتا ہوں، تیرے بچاؤ کی تیری پکڑ سے پناہ مانگتا ہوں، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں تجھ سے، میں تیری تعریف نہیں کر سکتا تو ویسے ہی ہے جیسے تو نے خود اپنی تعریف کی ہے ۔
It was narrated that Anas said:
The Prophet (ﷺ) would not raise his hands in any of his supplications except when praying for rain (Al-Istisqa'). (One of the narrators) Shu'bah said: I said to Thabit: 'Did you hear it from Anas?' He said: 'Subhan Allah!' I said: 'Did you hear it?' He said: 'Subhan Allah!'
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ استسقاء کے علاوہ کسی دعا میں نہیں اٹھاتے تھے۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے ثابت سے پوچھا: آپ نے اسے انس رضی اللہ عنہ سے سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: سبحان اللہ، میں نے کہا: آپ نے اسے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ ۱؎۔
وضاحت: ۱؎: یہ کہنا ان کا بطور تعجب تھا، مطلب یہ ہے کہ سنا کیوں نہیں ہے اگر نہیں سنا ہوتا تو بیان کیسے کرتا، اور یہ مؤلف کا قیاسی استنباط ہے، یہاں نہ اٹھانے سے مراد یہ ہے کہ اٹھانے میں مبالغہ نہیں کرتے تھے، نہ یہ کہ سرے سے اٹھاتے ہی نہیں تھے کیونکہ قنوت میں اور دوسرے موقعوں پر بھی آپ کا ہاتھ اٹھانا صحیح حدیثوں سے ثابت ہے۔
It was narrated that Aishah said:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray eleven rak'ahs at night between finishing Isha' prayer and Fajr, apart from the two rak'ahs of Fajr, and he would prostrate for as long as it takes one of you to recite fifty verses.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں عشاء کی نماز سے فارغ ہونے سے لے کر فجر ہونے تک فجر کی دو رکعتوں کے علاوہ گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے، اور اتنا لمبا سجدہ کرتے کہ تم میں سے کوئی پچاس آیتوں کے بقدر پڑھ لے۔
وضاحت: مؤلف نے اس سجدہ سے تہجد (مع وتر) کے سجدوں کے علاوہ سلام کے بعد ایک مستقل سجدہ سمجھا ہے، حالانکہ اس سے مراد تہجد کے سجدے ہیں، آپ یہ سجدے پچاس آیتیں پڑھنے کے بقدر لمبا کرتے تھے۔
It was narrated from Ibn Abdur-Rahman bin Abza from his father that:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to recite in witr: Glorify the Name of Your Lord, the Most High;' and Say: O you disbelievers!'; and 'Say: He is Allah, (the) One. And after he had said the salam, he would say: Subhanal-Malikil-Quddus (Glory be to the Sovereign, the Most Holy) raising his voice the third time.
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے، اور سلام پھیرنے کے بعد «سبحان الملك القدوس» تین بار کہتے، اور اس کے ساتھ اپنی آواز بلند کرتے۔
It was narrated from Sa'eed bin Abdur-Rahman bin Abza that:
His father said: The Messenger of Allah (ﷺ) used to recite in witr: Glorify the Name of Your Lord, the Most High;' and Say: O you disbelievers!'; and 'Say: He is Allah, (the) One. And after he had said the salam, he would say: Subhanal-Malikil-Quddus (Glory be to the Sovereign, the Most Holy) three times, raising his voice with it.
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے، اور سلام پھیرنے کے بعد «سبحان الملك القدوس» تین بار کہتے، اور اس کے ذریعہ اپنی آواز بلند کرتے۔ ابونعیم نے ان دونوں کی یعنی قاسم اور محمد بن عبید کی مخالفت کی ہے، چنانچہ انہوں نے اسے سفیان سے، اور سفیان نے زبید سے، زبید نے ذر سے، اور ذر نے سعید بن عبدالرحمٰن ابزیٰ سے روایت کیا ہے، ( یعنی سند میں ایک راوی ذر کا اضافہ کیا ہے ) ۔
It was narrated from Ibn Abdur-Rahman bin Abza that his father said:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to recite in witr: Glorify the Name of Your Lord, the Most High;' and Say: O you disbelievers!'; and 'Say: He is Allah, (the) One. And after he had said the salam, he would say: Subhanal-Malikil-Quddus (Glory be to the Sovereign, the Most Holy) three times, raising his voice with it.
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے، اور جب واپس ہونے کا ارادہ کرتے تو «سبحان الملك القدوس» تین مرتبہ کہتے، اور اس کے ذریعہ اپنی آواز بلند کرتے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ابونعیم ہمارے نزدیک محمد بن عبید اور قاسم بن یزید سے زیادہ ثقہ ہیں، اور ہمارے نزدیک سفیان ثوری کے تلامذہ میں سب سے زیادہ معتبر یحییٰ بن سعید قطان ہیں، پھر عبداللہ بن مبارک، پھر وکیع بن جراح، پھر عبدالرحمٰن بن مہدی، پھر ابونعیم، پھر اسود ہیں، واللہ اعلم، نیز اسے جریر بن حازم نے زبید سے روایت کیا، تو انہوں نے کہا کہ آپ تیسری بار میں اپنی آواز کھینچتے اور بلند کرتے تھے، ( جریر کی روایت آگے آ رہی ہے ) ۔
It was narrated from Sa'eed bin Abdur-Rahman bin Abza that his father said:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to recite in witr: Glorify the Name of Your Lord, the Most High;' and Say: O you disbelievers!'; and 'Say: He is Allah, (the) One. And after he had said the salam, he would say: Subhanal-Malikil-Quddus (Glory be to the Sovereign, the Most Holy) three times, elongating the words the third time, then raising it.
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے، اور جب سلام پھیرتے تو تین بار «سبحان الملك القدوس» کہتے، اور تیسری بار میں آواز کھینچتے اور بلند کرتے۔
It was narrated from Ibn Abdur-Rahman bin Abza from his father that:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to recite in witr: Glorify the Name of Your Lord, the Most High;' and Say: O you disbelievers!'; and 'Say: He is Allah, (the) One. And after he had said the salam, he would say: Subhanal-Malikil-Quddus (Glory be to the Sovereign, the Most Holy).
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے، اور جب فارغ ہوتے تو «سبحان الملك القدوس» کہتے۔ ہشام نے اسے مرسلاً روایت کیا، ان کی روایت آگے آ رہی ہے ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: ۱۷۳۲ (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎: یعنی انہوں نے «عن أبیہ» کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Abu Salamah bin Abdur-Rahman narrated that :
He asked Aishah about the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ) at night. She said: He used to pray thirteen rak'ahs: nine rak'ahs standing, one of which was witr, and two rak'ahs sitting. When he wanted to bow he would stand up, and bow and prostrate, and he did that after witr. Then when he heard the call for Subh, he stood up and prayed two brief rak'ahs.
یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں کہ مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ رکعت پڑھتے تھے، نو رکعت کھڑے ہو کر، اس میں وتر بھی ہوتی اور دو رکعت بیٹھ کر، تو جب آپ رکوع کرنے کا ارادہ کرتے تو کھڑے ہو جاتے، اور رکوع اور سجدہ کرتے، اور ایسا آپ وتر کے بعد کرتے تھے، پھر جب آپ فجر کی اذان سنتے تو کھڑے ہوتے، اور دو ہلکی ہلکی رکعتیں پڑھتے۔
It was narrated from Aishah that:
The Prophet (ﷺ) would not omit four rak'ahs before Zuhr and two rak'ahs before Fajr.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے کی چار رکعتیں اور فجر سے پہلے کی دو رکعتیں نہیں چھوڑتے تھے۔ شعبہ کے جن تلامذہ نے اس حدیث کو روایت کیا ہے ان میں سے اکثر نے عثمان بن عمر کی مخالفت کی ہے، ان لوگوں نے مسروق کا ذکر نہیں کیا ہے۔