باب: قتل کی حرمت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ لَا يُؤْخَذُ الرَّجُلُ بِجِنَايَةِ أَبِيهِ، وَلَا جِنَايَةِ أَخِيهِ . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ، وَالصَّوَابُ مُرْسَلٌ.
It was narrated that Ibn 'Umar said:
The Messenger of Allah [SAW] said: 'Do not revert to disbelievers after I am gone, striking the necks of one another (killing one another). No man is to be punished for the sins of his father, or for the sins of his brother.'
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ تم آپس میں ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو، آدمی کو نہ اس کے باپ کے گناہ کی وجہ سے پکڑا جائے گا اور نہ ہی اس کے بھائی کے گناہ کی وجہ سے“۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ غلط ہے ( کہ یہ متصل ہے ) صحیح یہ ہے کہ یہ مرسل ہے ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ۷۴۵۲)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ۴۱۳۲-۴۱۳۴)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یعنی : جس سند میں مسروق ہیں اس سند سے اس روایت کا مرسل ہونا ہی صواب ہے، مسروق کے واسطے سے جس نے اس روایت کو متصل کر دیا ہے اس نے غلطی کی ہے، یہ مطلب نہیں ہے کہ سرے سے یہ حدیث ہی مرسل ہے، دیگر محدثین کی سندیں متصل ہیں۔
4131
Sahih