أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ كَانُوا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، لِأَنَّهُمْ هَجَرُوا الْمُشْرِكِينَ، وَكَانَ مِنَ الْأَنْصَارِ مُهَاجِرُونَ، لِأَنَّ الْمَدِينَةَ كَانَتْ دَارَ شِرْكٍ، فَجَاءُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ .
It was narrated that Jabir bin Zaid said:
Ibn 'Abbas said: 'The Messenger of Allah (ﷺ), Abu Bakr and 'Umar were among the Muhajirin (emigrants), because they forsook (hajaru) the idolators, and some of the Ansar were Muhajirun because Al-Madinah was a land of shirk, and they came to the Messenger of Allah (ﷺ) on the Night of Al-'Aqabah. '
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر مہاجرین میں سے تھے۔ اس لیے کہ انہوں نے مشرکین ( ناطے داروں ) کو چھوڑ دیا تھا۔ انصار میں سے ( بھی ) بعض مہاجرین تھے اس لیے کہ مدینہ کفار و مشرکین کا گڑھ تھا اور یہ لوگ ( شرک کو چھوڑ کر ) عقبہ کی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ۵۳۹۰)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یعنی : ہجرت کے اصل معنی کے لحاظ سے مہاجرین و انصار دونوں ہی ” مہاجرین “ تھے۔ ترک وطن کا مقصد اصلی شرک کی جگہ چھوڑنا ہی تو ہے۔
4171
Sahih