TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

باب: جو کسی امام سے بیعت کر لے اور اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دیدے اور اخلاص کا عہد کرے تو اس پر کیا لازم ہے۔ - باب: جو کسی امام سے بیعت کر لے اور اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دیدے اور اخلاص کا عہد کرے تو اس پر کیا لازم ہے۔ - The book of al-bay'ah - Sunnan Nisai with Urdu and English Translation

Chapter 25 of The book of al-bay'ah in Sunnan Nisai. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 25 of 39 · 1 Hadith
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ انْتَهَيْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ،‏‏‏‏ وَالنَّاسُ عَلَيْهِ مُجْتَمِعُونَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَسَمِعْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ بَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ إِذْ نَزَلْنَا مَنْزِلًا، ‏‏‏‏‏‏فَمِنَّا مَنْ يَضْرِبُ خِبَاءَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمِنَّا مَنْ يَنْتَضِلُ، ‏‏‏‏‏‏وَمِنَّا مَنْ هُوَ فِي جَشْرَتِهِ إِذْ نَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ، ‏‏‏‏‏‏فَاجْتَمَعْنَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَنَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنْ يَدُلَّ أُمَّتَهُ عَلَى مَا يَعْلَمُهُ خَيْرًا لَهُمْ،‏‏‏‏ وَيُنْذِرَهُمْ مَا يَعْلَمُهُ شَرًّا لَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ أُمَّتَكُمْ هَذِهِ جُعِلَتْ عَافِيَتُهَا فِي أَوَّلِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ آخِرَهَا سَيُصِيبُهُمْ بَلَاءٌ وَأُمُورٌ يُنْكِرُونَهَا تَجِيءُ فِتَنٌ، ‏‏‏‏‏‏فَيُدَقِّقُ بَعْضُهَا لِبَعْضٍ فَتَجِيءُ الْفِتْنَةُ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ:‏‏‏‏ هَذِهِ مُهْلِكَتِي، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَنْكَشِفُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَجِيءُ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ هَذِهِ مُهْلِكَتِي، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَنْكَشِفُ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ، ‏‏‏‏‏‏أَنْ يُزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏وَيُدْخَلَ الْجَنَّةَ، ‏‏‏‏‏‏فَلْتُدْرِكْهُ مَوْتَتُهُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، ‏‏‏‏‏‏وَلْيَأْتِ إِلَى النَّاسِ مَا يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَلْيُطِعْهُ مَا اسْتَطَاعَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ جَاءَ أَحَدٌ يُنَازِعُهُ،‏‏‏‏ فَاضْرِبُوا رَقَبَةَ الْآخَرِ ، ‏‏‏‏‏‏فَدَنَوْتُ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
It was narrated that 'Abdur-Rahman bin 'Abd Rabb Al-Kabah said: I came to 'Abdullah bin Amr bin Al-As while he was sitting in the shade of Kabah, and the people were gathered around him, and I heard him say: 'While we were with the Messenger of Allah on a journey, we stopped to camp, and some of us were pitching tents, some were competing in shooting arrows, and some were taking the animals out to race them. Then the caller of the Prophet called out: As-Salatu Jamiah (prayer is about to begin). So we gathered, and the Messenger of Allah stood up and addressed us. He said: There has a never been a prophet before me who was not obliged to tell his nation of what he knew was good for them, and to warn against that he knew was bad for them. With regard to Ummah of yours, soundness (of religious commitment) has been placed in its earlier generations, and the last of them will be afflicted with calamities and things that you dislike. Then there will come tribulations which will make the earlier ones pale into significances, and the believer will say: This will be then end of me, then relief will come. Then (more) tribulations will come and the believer will say: this will be the end of me, then relief will come. Whoever would like to be taken far away from the Fire and admitted to Paradise, let him die believing in Allah and the Last Day, and let him treat people as he would like to be treated. Whoever pledges to a ruler and gives him the grasp of his hand and the sincerity of his heart, the let him obey him as much as he can, and if another comes and challenges him, let them strike the neck of (i.e., kill) the second one. ' He said: I drew near to him and said: 'Did you hear the Messenger of Allah say that? He 'Yes, and quoted the Hadith without interruption (in the chain)
عبدالرحمٰن بن عبد رب الکعبہ کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس گیا، وہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے، لوگ ان کے پاس اکٹھا تھے، میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا: اسی دوران جب کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا، تو ہم میں سے بعض لوگ خیمہ لگانے لگے، بعض نے تیر اندازی شروع کی، بعض جانور چرانے لگے، اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے پکارا: نماز کھڑی ہونے والی ہے، چنانچہ ہم اکٹھا ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر ہمیں مخاطب کیا اور آپ نے فرمایا: ”مجھ سے پہلے کوئی نبی ایسا نہ تھا جس پر ضروری نہ رہا ہو کہ جس چیز میں وہ بھلائی دیکھے اس کو وہ اپنی امت کو بتائے، اور جس چیز میں برائی دیکھے، انہیں اس سے ڈرائے، اور تمہاری اس امت کی خیر و عافیت شروع ( کے لوگوں ) میں ہے، اور اس کے آخر کے لوگوں کو طرح طرح کی مصیبتیں اور ایسے مسائل گھیر لیں گے جن کو یہ ناپسند کریں گے، فتنے ظاہر ہوں گے جو ایک سے بڑھ کر ایک ہوں گے، پھر ایک ایسا فتنہ آئے گا کہ مومن کہے گا: یہی میری ہلاکت و بربادی ہے، پھر وہ فتنہ ٹل جائے گا، پھر دوبارہ فتنہ آئے گا، تو مومن کہے گا: یہی میری ہلاکت و بربادی ہے۔ پھر وہ فتنہ ٹل جائے گا۔ لہٰذا تم میں سے جس کو یہ پسند ہو کہ اسے جہنم سے دور رکھا جائے اور جنت میں داخل کیا جائے تو ضروری ہے کہ اسے موت ایسی حالت میں آئے جب وہ اللہ، اور آخرت ( کے دن ) پر ایمان رکھتا ہو اور چاہیئے کہ وہ لوگوں سے اس طرح پیش آئے جس طرح وہ چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ پیش آیا جائے۔ اور جو کسی امام سے بیعت کرے اور اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دیدے اور اخلاص کے ساتھ دے تو طاقت بھر اس کی اطاعت کرے، اب اگر کوئی اس سے ( اختیار چھیننے کے لیے ) جھگڑا کرے تو اس کی گردن اڑا دو، یہ سن کر میں نے ان سے قریب ہو کر کہا: کیا یہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے؟ کہا: ہاں، پھر ( پوری ) حدیث ذکر کی ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإمارة (۱۸۴۴)، سنن ابی داود/الفتن ۱(۴۲۴۸)، سنن ابن ماجہ/الفتن ۹(۳۹۵۶)، (تحفة الأشراف: ۸۸۸۱) مسند احمد (۲/۱۶۱، ۱۹۱، ۱۹۲، ۱۹۳)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اس حدیث کا آخری حصہ مؤلف نے نہیں ذکر کیا، امام مسلم نے اس کو ذکر کیا ہے، وہ یہ ہے کہ ” عبدالرحمٰن بن عبد رب کعبہ نے عرض کیا : معاویہ رضی اللہ عنہ ایسا ویسا کر رہے ہیں، اس پر عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے فرمایا : ” تم معروف (بھلی بات) میں ان کی اطاعت کرتے رہو، اگر کسی منکر (برے کام) کا حکم دیں تو تم انکار کر دو، لیکن ان کے خلاف بغاوت مت کرو (خلاصہ) یہ کہ یہ حدیث سلف صالحین کے اس منہج اور طریقے کی تائید کرتی ہے کہ کسی مسلمان حاکم کے بعض منکر کاموں کی وجہ سے ان کو اختیار سے بے دخل کر دینے کے لیے ان کے خلاف تحریک نہیں چلائی جا سکتی، معروف کے سارے کام اس کی ماتحتی میں کئے جاتے رہیں گے۔ اور منکر کے سلسلے میں صرف زبانی نصیحت کی جائے گی۔
4196
Sahih

Chapters

39
01
باب: حاکم اور امیر کی فرماں برداری اور اطاعت پر بیعت کا بیان۔
2 Hadith
02
باب: امیر کی مخالفت نہ کرنے پر بیعت کا بیان۔
1 Hadith
03
باب: حق بات کہنے پر بیعت کا بیان۔
1 Hadith
04
باب: عدل و انصاف کی بات کہنے پر بیعت کا بیان۔
1 Hadith
05
باب: اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دئیے جانے پر بیعت کا بیان۔
2 Hadith
06
باب: ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی پر بیعت کا بیان۔
2 Hadith
07
باب: میدان جنگ سے نہ بھاگنے پر بیعت کا بیان۔
1 Hadith
08
باب: موت پر بیعت کا بیان۔
1 Hadith
09
باب: جہاد پر بیعت کا بیان۔
3 Hadith
10
باب: ہجرت پر بیعت کا بیان۔
1 Hadith
11
باب: ہجرت کے معاملہ کا بیان۔
1 Hadith
12
باب: اعرابی (دیہاتی) کی ہجرت کا بیان۔
1 Hadith
13
باب: ہجرت کی شرح و تفسیر۔
1 Hadith
14
باب: ہجرت کی ترغیب دینے کا بیان۔
1 Hadith
15
باب: ہجرت کے ختم ہو جانے کے سلسلے میں اختلاف روایات کا بیان۔
6 Hadith
16
باب: (امیر کے) ہر پسندیدہ اور ناپسندیدہ حکم کو بجا لانے پر بیعت کرنا۔
1 Hadith
17
باب: کافر و مشرک سے ترک تعلق پر بیعت کا بیان۔
4 Hadith
18
باب: عورتوں کی بیعت کا بیان۔
3 Hadith
19
باب: کسی بھیانک بیماری والے کی بیعت کا بیان۔
1 Hadith
20
باب: نابالغ لڑکے کی بیعت کا بیان۔
1 Hadith
21
باب: غلاموں کی بیعت کا بیان۔
1 Hadith
22
باب: بیعت توڑنے کا بیان۔
1 Hadith
23
باب: ہجرت کے بعد کسی کا اپنے گاؤں لوٹ آنے کا بیان۔
1 Hadith
24
باب: طاقت بھر حاکم کی سمع و طاعت (سننے اور حکم بجا لانے) کی بیعت کا بیان۔
4 Hadith
25
باب: جو کسی امام سے بیعت کر لے اور اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دیدے اور اخلاص کا عہد کرے تو اس پر کیا لازم ہے۔
1 Hadith
26
باب: امام کی اطاعت پر ابھارنے کا بیان۔
1 Hadith
27
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4192
1 Hadith
28
باب: آیت کریمہ: ”اور فرمانبرداری کو رسول (صلی للہ علیہ وسلم) کی اور تم میں سے اختیار والوں کی“ کی تفسیر۔
1 Hadith
29
باب: امام اور حاکم کی نافرمانی کی شناعت کا بیان۔
1 Hadith
30
باب: امام اور حاکم کے حقوق و واجبات اور ذمہ داریوں کا بیان۔
1 Hadith
31
باب: امام اور حاکم کے لیے خیر خواہی کا بیان۔
4 Hadith
32
باب: امام اور حاکم کے راز دار اور مشیر کا بیان۔
3 Hadith
33
باب: حکمراں کے وزیر کا بیان۔
1 Hadith
34
باب: اس شخص کی سزا جسے گناہ کے کام کا حکم دیا جائے اور وہ اسے بجا لائے۔
2 Hadith
35
باب: ظلم میں امیر کی مدد کرنے والے پر وعید کا بیان۔
1 Hadith
36
باب: ظلم میں امیر کی مدد نہ کرنے والے کا بیان۔
1 Hadith
37
باب: ظالم حکمراں کے پاس حق بات کہنے والے کی فضیلت کا بیان۔
1 Hadith
38
باب: بیعت کی پابندی کرنے والے کے ثواب کا بیان۔
1 Hadith
39
باب: منصب اور سرداری کی خواہش ناپسندیدہ عمل ہے۔
1 Hadith
No chapter matched that.