TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

باب: ضب کا بیان۔ - باب: ضب کا بیان۔ - The book of hunting and slaughtering - Sunnan Nisai with Urdu and English Translation

Chapter 26 of The book of hunting and slaughtering in Sunnan Nisai. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 26 of 38 · 9 Hadith
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ سُئِلَ عَنِ الضَّبِّ ؟، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَا آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ .
It was narrated from Ibn 'Umar that: the Messenger of Allah was asked about mastigures when he was on the Minbar and he said? I do not eat them, but I do not say that they are Haram.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تھے تو ضب کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”میں اسے نہ کھاتا ہوں اور نہ ہی اسے حرام قرار دیتا ہوں“ ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الأطعمة ۳ (۱۷۹۰)، (تحفة الأشراف: ۷۲۴۰)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصید ۳۳ (۵۵۳۶)، صحیح مسلم/الصید ۷ (۱۹۴۳)، موطا امام مالک/الاستئذان ۴ (۱۱)، مسند احمد (۲/۹، ۱۰، ۳۳، ۴۱، ۴۶، ۶۰، ۶۲، ۷۴، ۱۱۵)، سنن الدارمی/الصید ۸ (۲۰۵۸)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : ضب : گوہ ایک رینگنے والا جانور جو چھپکلی کے مشابہ ہوتا ہے، اس کو سوسمار بھی کہتے ہیں، سانڈا بھی گوہ کی قسم کا ایک جانور ہے جس کا تیل نکال کر گٹھیا کے درد کے لیے یا طلاء کے لیے استعمال کرتے ہیں، یہ جانور نجد کے علاقہ میں بہت ہوتا ہے، حجاز میں نہ ہونے کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو نہ کھایا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر یہ کھایا گیا اس لیے حلال ہے۔ جس جانور کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کھایا اس کو عربی میں ضب کہتے ہیں اور خود حدیث میں اس کی صراحت ہے کہ یہ نجد کے علاقہ میں پایا جانے والا جانور ہے، جو بلاشبہ حلال ہے۔ احناف اور شیعی فرقوں میں امامیہ کے نزدیک گوہ کا گوشت کھانا حرام ہے، فرقہء زیدیہ کے یہاں یہ مکروہ ہے، لیکن صحیح بات اس کی حلت ہے۔ نجد کے علاقے میں پایا جانے والا یہ جانور برصغیر (ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش) میں پائے جانے والے گوہ یا سانڈے سے بہت سی چیزوں میں مختلف ہے : ضب نامی یہ جانور صحرائے عرب میں پایا جاتا ہے، اور ہندوستان میں پایا جانے والا گوہ یا سانڈاز رعی اور پانی والے علاقوں میں عام طور پر پایا جاتا ہے۔ - نجدی ضب (گوہ) پانی نہیں پیتا اور بلا کھائے اپنے سوراخ میں ایک لمبی مدت تک رہتا ہے، کبھی طویل صبر کے بعد اپنے بچوں کو کھا جاتا ہے، جب کہ برصغیر کا گوہ پانی کے کناروں پر پایا جاتا ہے، اور خوب پانی پیتا ہے۔ - نجدی ضب (گوہ) شریف بلکہ سادہ لوح جانور ہے، جلد شکار ہو جاتا ہے، جب کہ ہندوستانی گوہ کا پکڑنا نہایت مشکل ہوتا ہے۔ - ہندوستانی گوہ سانپ کی طرح زبان نکالتی اور پھنکارتی ہے، جب کہ نجدی ضب (گوہ) ایسا نہیں کرتی۔ نجدی ضب (گوہ) کی کھال کو پکا کر عرب اس کی کپی میں گھی رکھتے تھے، جس کو ” ضبة “ کہتے ہیں اور ہندوستانی گوہ کی کھال کا ایسا استعمال کبھی سننے میں نہیں آیا اس لیے کہ وہ بدبودار ہوتی ہے۔ ضب اور ورل میں کیا فرق ہے ؟ صحرائے عرب میں ضب کے مشابہ اور اس سے بڑا بالو، اور صحراء میں پائے جانے والے جانور کو ” وَرَل “ کہتے ہیں، تاج العروس میں ہے : ورل ضب کی طرح زمین پر رینگنے والا ایک جانور ہے، جو ضب کی خلقت پر ہے، إلا یہ کہ وہ ضب سے بڑا ہوتا ہے، بالو اور صحراء میں پایا جاتا ہے، چھپکلی کی شکل کا بڑا جانور ہے، جس کی دم لمبی اور سر چھوٹا ہوتا ہے، ازہری کہتے ہیں : ” وَرَل “ عمدہ قامت اور لمبی دم والا جانور ہے، گویا کہ اس کی دم سانپ کی دم کی طرح ہے، بسا اوقات اس کی دم دو ہاتھ سے بھی زیادہ لمبی ہوتی ہے، اور ضب (گوہ) کی دم گانٹھ دار ہوتی ہے، اور زیادہ سے زیادہ ایک بالشت لمبی، عرب ورل کو خبیث سمجھتے اور اس سے گھن کرتے ہیں، اس لیے اسے کھاتے نہیں ہیں، رہ گیا ضب تو عرب اس کا شکار کرنے اور اس کے کھانے کے حریص اور شوقین ہوتے ہیں، ضب کی دم کھُردری، سخت اور گانٹھ والی ہوتی ہے، دم کا رنگ سبز زردی مائل ہوتا ہے، اور خود ضب مٹ میلی سیاہی مائل ہوتی ہے، اور موٹا ہونے پر اس کا سینہ پیلا ہو جاتا ہے، اور یہ صرف ٹڈی، چھوٹے کیڑے اور سبز گھاس کھاتی ہے، اور زہریلے کیڑوں جیسے سانپ وغیرہ کو نہیں کھاتی، اور ورل بچھو، سانپ، گرگٹ اور گوبریلا سب کھاتا ہے، ورل کا گوشت بہت گرم ہوتا ہے، تریاق ہے، بہت تیز موٹا کرتا ہے، اسی لیے عورتیں اس کو استعمال کرتی ہیں، اور اس کی بیٹ (کا سرمہ) نگاہ کو تیز کرتا ہے، اور اس کی چربی کی مالش سے عضو تناسل موٹا ہوتا ہے (ملاحظہ ہو : تاج العروس : مادہ ورل، و لسان العرب) سابقہ فروق کی وجہ سے دونوں جگہ کے نجدی ضب اور ورل اور ہندوستان پائے جانے والے جانور جس کو گوہ یا سانڈا کہتے ہیں، ان میں واضح فرق ہے، بایں ہمہ نجدی ضب (گوہ) کھانا احادیث نبویہ اور اس علاقہ کے مسلمانوں کے رواج کے مطابق حلال ہے، اور اس میں کسی طرح کی قباحت اور کراہت کی کوئی بات نہیں، رہ گیا ہندوستانی گوہ کی حلت وحرمت کا مسئلہ تو سابقہ فروق کو سامنے رکھ کر اس کا فیصلہ کرنا چاہیئے، اگر ہندوستانی گوہ نجاست کھاتا اور اس نجاست کی وجہ سے اس کے گوشت سے یا اس کے جسم سے بدبو اٹھتی ہے تو یہ چیز علماء کے غور کرنے کی ہے، جب گندگی کھانے سے گائے بکری اور مرغیوں کا گوشت متاثر ہو جائے تو اس کا کھانا منع ہے، اس کو اصطلاح میں ” جلالہ “ کہتے ہیں، تو نجاست کھانے والا جانور گوہ ہو یا کوئی اور وہ بھی حرام ہو گا، البتہ برصغیر کے صحرائی علاقوں میں پایا جانے والا گوہ نجد کے ضب (گوہ) کے حکم میں ہو گا۔ ضب اور ورل کے سلسلے میں نے اپنے دوست ڈاکٹر محمد احمد المنیع پروفیسر کنگ سعود یونیورسٹی، ریاض جو زراعت اور غذا سے متعلق کالج میں پڑھاتے ہیں، اور صحرائے نجد کے جانوروں کے واقف کار ہیں، سوال کیا تو انہوں نے اس کی تفصیل مختصراً یوں لکھ کر دی : نجدی ضب نامی جانور کھایا جاتا ہے، اور ” ورل “ نہیں کھایا جاتا ہے ضب کا شکار آسانی سے کیا جا سکتا ہے اور ورل کا شکار مشکل کام ہے، ضب گھاس کھاتا ہے، اور ورل گوشت کھاتا ہے، ضب چیر پھاڑ کرنے والا جانور نہیں ہے، جب کہ ورل چیر پھاڑ کرنے والا جانور ہے، ضب کا ایک ہی رنگ ہوتا ہے، اور ورل دھاری دھار ہوتا ہے، ضب کی جلد کھُردری ہوتی ہے اور ورل کی جلد نرم ہوتی ہے، ضب کا سر چوڑا ہوتا ہے، اور وَرل کا سر دم نما ہوتا ہے، ضب کی گردن چھوتی ہوتی ہے، اور ورل کی گردن لمبی ہوتی ہے، ضب کی دم چھوٹی ہوتی ہے اور ورل کی دم لمبی ہوتی ہے، ضب کھُردرا اور کانٹے دار ہوتا ہے، اور ورل نرم ہوتا ہے، ضب اپنی دم سے اپنا دفاع کرتا ہے، اور ورل بھی اپنی دم سے اپنا دفاع کرتا ہے، اور دم سے شکار بھی کرتا ہے، ضب گوشت بالکل نہیں کھاتا، اور ورل ضب اور گرگٹ سب کھا جاتا ہے، ضب تیز جانور ہے، اور ورل تیز ترضب میں حملہ آوری کی صفت نہیں پائی جاتی جب کہ ورل میں یہ صفت موجود ہے، وہ دانتوں سے کاٹتا ہے، اور دم اور ہاتھ سے حملہ کرتا ہے، ضب ضرورت پڑنے پر اپنا دفاع کاٹ کر اور ہاتھوں سے نوچ کر یا دم سے مار کرتا ہے، اور وَرل بھی ایسا ہی کرتا ہے، ضب میں کچلی دانت نہیں ہے، اور وَرل میں کچلی دانت ہے، ضب حلال ہے، اور ورل حرام، ورل کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ زہریلا جانور ہے۔ صحرائے عرب کا ضب، وَرل اور ہندوستانی گوہ یا سانڈا سے متعلق اس تفصیل کا مقصد صرف یہ ہے کہ اس جانور کے بارے میں صحیح صورت حال سامنے آ جائے، حنفی مذہب میں بھینس کی قربانی جائز ہے اور دوسرے فقہائے کے یہاں بھی اس کی قربانی اس بنا پر جائز ہے کہ یہ گائے کی ایک قسم ہے، جب کہ گائے کے بارے میں یہ مشہور ہے اور مشاہدہ بھی کہ وہ پانی میں نہیں جاتی جب کہ بھینس ایسا جانور ہے جس کو پانی سے پیار اور کیچڑ سے محبت ہے اور جب یہ تالاب میں داخل ہو جائے تو اس کو باہر نکالنا مشکل ہوتا ہے، اگر بھینس کی قربانی کو گائے پر قیاس کر کے فقہاء نے جائز کہا ہے تو دونوں جگہ گوہ کے بعض فرق کا اعتبار نہ کرتے ہوئے اس جنس کے جانوروں کو حلال ہونا چاہیئے، اہل علم کو فقہی تنگنائے سے ہٹ کر نصوص شرعیہ کی روشنی میں اس مسئلہ پر غور کرنا چاہیئے اور عاملین حدیث کے نقطہٰ نظر کو صحیح ڈھنگ سے سمجھنا چاہیئے۔ گوہ کی کئی قس میں ہیں اور ہو سکتا ہے کہ بہت سی چیزیں سب میں قدر مشتر کہوں جیسے کہ قوت باہ میں اس کا مفید ہونا اس کی چربی کے طبی فوائد وغیرہ وغیرہ۔ حکیم مظفر حسین اعوان گوہ کے بارے میں لکھتے ہیں : نیولے کے مانند ایک جنگلی جانور ہے، دم سخت اور چھوٹی، قد بلی کے برابر ہوتا ہے، اس کے پنجے میں اتنی مضبوط گرفت ہوتی ہے کہ دیوار سے چمٹ جاتا ہے، رنگ زرد سیاہی مائل، مزاج گرم وخشک بدرجہ سوم … اس کی کھال کے جوتے بنائے جاتے ہیں۔ (کتاب المفردات : ۴۲۷)، ظاہر ہے کہ یہ برصغیر میں پائے جانے والے جانور کی تعریف ہے۔ گوہ کی ایک قسم سانڈہ بھی ہے جس کے بارے میں حکیم مظفر حسین اعوان لکھتے ہیں : مشہور جانور ہے، جو گرگٹ یا گلہری کی مانند لیکن اس سے بڑا ہوتا ہے، اس کی چربی اور تیل دواء مستعمل ہے، مزاج گرم و تر بدرجہ اول، افعال و استعمال بطور مقوی جاذب رطوبت، معظم ذکر، اور مہیج باہ ہے (کتاب المفردات : صفحہ ۲۷۵)
4319
Sahih
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ،‏‏‏‏ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَجُلًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَرَى فِي الضَّبِّ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَسْتُ بِآكِلِهِ وَلَا مُحَرِّمِهِ .
It was narrated from Ibn 'Umar that a man said: O Messenger of Allah what do you think about mastigures? He said: I do not eat them but I do not say that they arte Haram.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! ضب کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ آپ نے فرمایا: ”میں نہ اسے کھاتا ہوں اور نہ ہی اسے حرام قرار دیتا ہوں“۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: ۷۲۴۰، ۸۳۹۹)
4320
Sahih
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَرْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِضَبٍّ مَشْوِيٍّ،‏‏‏‏ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَهْوَى إِلَيْهِ بِيَدِهِ لِيَأْكُلَ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ لَهُ مَنْ حَضَرَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ،‏‏‏‏ فَرَفَعَ يَدَهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ أَحَرَامٌ الضَّبُّ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ ، ‏‏‏‏‏‏فَأَهْوَى خَالِدٌ إِلَى الضَّبِّ فَأَكَلَ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ.
It was narrated form Khaild bin Al-Walid that: a grilled mastigure was brought ot the Messenger of Allah and was placed near to him. He reached out his hand to eat it,m and someone who was present said: O Messenger of Allah, it is the meat of a mastigure: He withdrew his hand and Khaild bin Al-Walid said to him: O Messenger of Allah, is mastigure Haram? He said: No, but it is not found in the land of my p0eople, and I find it distasteful. He said: Then Khalid bent over the mastigure and ate some of it, and the Messenger of Allah was looking at him.
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھنا ہوا ضب لایا گیا اور آپ کے قریب رکھا گیا، آپ نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا تاکہ اس سے کھائیں، تو وہاں موجود کچھ لوگوں نے آپ سے کہا: اللہ کے رسول! یہ تو ضب کا گوشت ہے، آپ نے اس سے اپنا ہاتھ اٹھا لیا، اس پر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا کہ اللہ کے رسول! کیا ضب حرام ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، لیکن میری قوم کی زمین میں نہیں تھا، لہٰذا مجھے اس سے گھن آ رہی ہے“، پھر خالد رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ ضب کی طرف بڑھایا اور اس میں سے کھایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأطعمة ۱۰ (۵۳۹۱)، ۱۴ (۵۴۰۰)، الذبائح ۳۳ (۵۵۳۷)، صحیح مسلم/الذبائح ۷ (۱۹۴۶)، سنن ابی داود/الأطعمة ۲۸ (۳۷۹۴)، سنن ابن ماجہ/الصید ۱۶ (۳۲۴۱)، (تحفة الأشراف: ۳۵۰۴)، موطا امام مالک/الإستئذان ۴ (۱۰)، مسند احمد (۴/۸۸، ۸۹)، سنن الدارمی/الصید ۸ (۲۰۶۰)
4321
Sahih
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبِي، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ وَهِيَ خَالَتُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقُدِّمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمُ ضَبٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَأْكُلُ شَيْئًا حَتَّى يَعْلَمَ مَا هُوَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ بَعْضُ النِّسْوَةِ:‏‏‏‏ أَلَا تُخْبِرْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَأْكُلُ ؟، ‏‏‏‏‏‏فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ،‏‏‏‏ فَتَرَكَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ خَالِدٌ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَحَرَامٌ هُوَ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنَّهُ طَعَامٌ لَيْسَ فِي أَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ . قَالَ خَالِدٌ:‏‏‏‏ فَاجْتَرَرْتُهُ إِلَيَّ،‏‏‏‏ فَأَكَلْتُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ. وَحَدَّثَهُ ابْنُ الْأَصَمِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَيْمُونَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ فِي حِجْرِهَا.
It was narrated from Ibn ' Abbas that: Khalid bin Al-Walid said that he entered upon Maimunah bint Al-Harith, who was his maternal aunt, with the Messenger of Allah, and some meat of a mastigure was offered to the Messenger of Allah The Messenger of Allah would not eat anything until he knew what it was. One of the women said: Why don't you tell the Messenger of Allah what he is eating? So she told him that it was the meat of a mastigure, and he stopped eating. Khalid said: I asked the Messenger of Allah 'Is it Haram?' He said: No but it is a food that is no9t known in the land of my people, and I find it distasteful. Khalid said: I pulled it over toward myself and ate it, and the Messenger of Allah was watching me. And Ibn Al-Asamm narrated it from Maimunah, and he was in her apartment.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہیں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ۱؎ نے بتایا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے ( یہ ان کی خالہ تھیں ) ۲؎، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ضب کا گوشت پیش کیا گیا، آپ کا معمول تھا کہ آپ کوئی چیز نہ کھاتے جب تک معلوم نہ ہو جائے کہ وہ کیا ہے، تو امہات المؤمنین رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے کہا: کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں بتاؤ گی کہ آپ کیا کھا رہے ہیں؟ تو انہوں نے آپ کو بتایا کہ یہ ضب کا گوشت ہے، چنانچہ آپ نے اسے چھوڑ دیا، خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا وہ حرام ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، لیکن وہ ایسا کھانا ہے جو میری قوم کی زمین میں نہیں ہوتا، اس لیے مجھے اس سے گھن آ رہی ہے“۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں نے اسے اپنی طرف کھینچا اور اسے کھایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے۔ اس حدیث کو ابن الاصم نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، ابن الاصم آپ کی گود میں پلے تھے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ
Explanation
وضاحت: ۱؎ : ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا ابن عباس کے دونوں بیٹے عبداللہ اور فضل اور خالد بن الولید تین کی خالہ ہیں، عبداللہ بن عباس کی والدہ کا نام لبابۃ الکبری ام الفضل ہے، اور خالد کی والدہ کا نام لبابۃ الصغریٰ بنت حارث بن حزن الھلالی ہے، رضی اللہ عنھن۔ ۲؎ : ام المؤمنین خالد بن ولید رضی اللہ عنہما کی خالہ تھیں، ابن الاصم یہ یزید بن الاصم، عمرو بن عبید بن معاویہ ہیں اور یزید میمونہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے ہیں۔
4322
Sahih
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بِشْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَهْدَتْ خَالَتِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقِطًا، ‏‏‏‏‏‏وَسَمْنًا، ‏‏‏‏‏‏وَأَضُبًّا، ‏‏‏‏‏‏فَأَكَلَ مِنَ الْأَقِطِ، ‏‏‏‏‏‏وَالسَّمْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَتَرَكَ الْأَضُبَّ تَقَذُّرًا، ‏‏‏‏‏‏وَأُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَوْ كَانَ حَرَامًا مَا أُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
It was narrated that Ibn 'Abbas said: My maternal aunt gave some cottage cheese, cooking fat, and mastigures to the Messenger of Allah He ate some of the cottage cheese and cooking fat, and left the mastigures, as he found them distasteful. But they were eaten upon the table-spread of the Messenger of Allah and if they were Haram they would not have been eaten upon the table-spread of the Messenger of Allah and he would not have told others to eat them.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میری خالہ ( ام حفید رضی اللہ عنہا ) نے مجھے پنیر، گھی اور ضب دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، آپ نے پنیر اور گھی میں سے کھایا اور کراہت کی وجہ سے ضب چھوڑ دی، لیکن وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر کھائی گئی ۱؎ اگر وہ حرام ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر نہ کھائی جاتی اور نہ ہی آپ اسے کھانے کا حکم فرماتے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الہبة ۷ (۲۵۷۵)، الأطعمة ۸ (۵۷۸۹)، ۱۶ (۵۴۰۲)، الاعتصام ۲۴ (۷۳۵۸)، صحیح مسلم/الذبائح ۷ (۱۹۴۵)، سنن ابی داود/الأطعمة ۲۸ (۳۷۹۳)، (تحفة الأشراف: ۵۴۴۸)، مسند احمد (۱/۲۵۴، ۳۲۲، ۳۲۸، ۳۴۰، ۲۴۷
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یعنی دوسروں نے ضب بھی کھایا۔
4323
Sahih
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا أَبُو بِشْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ أَكْلِ الضِّبَابِ ؟، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَهْدَتْ أُمُّ حُفَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا، ‏‏‏‏‏‏وَأَقِطًا، ‏‏‏‏‏‏وَأَضُبًّا، ‏‏‏‏‏‏فَأَكَلَ مِنَ السَّمْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْأَقِطِ، ‏‏‏‏‏‏وَتَرَكَ الضِّبَابَ تَقَذُّرًا لَهُنَّ، ‏‏‏‏‏‏فَلَوْ كَانَ حَرَامًا مَا أُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا أَمَرَ بِأَكْلِهِنَّ .
It was narrated from Ibn 'Abbas that: he was asked about eating mastigures. He said: Umm Hufaid gave some cooking fat, cottage cheese, and mastigures to the Messenger of Allah and the ate some of the cooking fat and cottage cheese, but he did not eat the mastigures because he found them distasteful. If they were Haram they would not have been eaten at the table-spread of the Messenger of Allah and the would not have told others to eat them.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان سے ضب کھانے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: ام حفید ( ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خالہ ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گھی پنیر اور ضب بھیجا تو آپ نے گھی اور پنیر کھایا اور کراہت کی وجہ سے ضب چھوڑ دیا، لیکن اگر وہ حرام ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر نہ کھائی جاتی اور نہ آپ اسے کھانے کا حکم دیتے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ
4324
Sahih
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مَنْصُورٍ الْبَلْخِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ثَابِتِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا، ‏‏‏‏‏‏فَأَصَابَ النَّاسُ ضِبَابًا، ‏‏‏‏‏‏فَأَخَذْتُ ضَبًّا فَشَوَيْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَأَخَذَ عُودًا يَعُدُّ بِهِ أَصَابِعَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ،‏‏‏‏ مُسِخَتْ دَوَابَّ فِي الْأَرْضِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنِّي لَا أَدْرِي أَيُّ الدَّوَابِّ هِيَ ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ إِنَّ النَّاسَ قَدْ أَكَلُوا مِنْهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَمَا أَمَرَ بِأَكْلِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا نَهَى.
It was narrated that Thabit bin Yazid Al-Ansari said: We were with the Prophet on a journey. We stopped to camp and the people caught some mastigures. I took a mastigure and grilled it, and brought it to the Prophet. He took a palm stalk, and started counting his fingers with it, and said: 'A nation from among the children of Israel was turned into beasts of the Earth, and I do not know what kind of animals they were, I said: 'O Messenger of Allah, the people have eaten some of them.' He did not tell them to eat it, and he did not forbid them from eating it.
ثابت بن یزید انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ہم ایک جگہ ٹھہرے، لوگوں کو ضب ملی، میں نے ایک ضب پکڑی اور اسے بھونا، پھر اسے لے کر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے ایک لکڑی لی اور اس کی انگلیاں گنیں، پھر فرمایا: ”بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں کی شکل مسخ کر کے زمین کے کچھ جانوروں کی طرح بنا دی گئی، مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون سا جانور ہے“ ۱؎، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگوں نے اس میں سے کھا لیا ہے، تو پھر نہ آپ نے کھانے کا حکم دیا اور نہ ہی روکا۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الأطعمة ۲۸ (۳۷۹۵)، سنن ابن ماجہ/الصید ۱۶ (۳۲۳۸)، (تحفة الأشراف: ۲۰۶۹)، مسند احمد (۴/۲۲۰)، ویأتي فیما یلي: ۴۳۲۶، ۴۳۲۷
Explanation
وضاحت: ۱؎ : احتمال ہے کہ آپ کا یہ فرمان اس وقت کا ہو جب آپ کو یہ علم نہیں تھا کہ مسخ کی ہوئی مخلوق تین دن سے زیادہ مدت تک باقی نہیں رہتی۔
4325
Sahih
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ثَابِتِ بْنِ وَدِيعَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ، ‏‏‏‏‏‏فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ وَيُقَلِّبُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ أُمَّةً مُسِخَتْ لَا يُدْرَى مَا فَعَلَتْ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلَّ هَذَا مِنْهَا .
It was narrated that Thabit bin Wadi ah said: A man brought a mastigure to the Messenger of Allah and he started looking at it, and turning it over. He said: 'A nation was transformed, it is not known what they did, and I do not know if this is one of them.
ثابت بن یزید بن ودیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ضب لایا۔ آپ اسے دیکھنے لگے اور اسے الٹا پلٹا اور فرمایا: ”ایک امت کی صورت مسخ کر دی گئی تھی، نہ معلوم اس کا کیا ہوا، اور میں اس کا علم نہیں، شاید یہ اسی میں سے ہو“۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ
4326
Sahih
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْحَكَمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ثَابِتِ ابْنِ وَدِيعَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ أُمَّةً مُسِخَتْ وَاللَّهُ أَعْلَمُ .
It was narrated from al-Bara bin Azib, from Thabnit bin Wadiah, that: a man brought a mastigure to the Prophet and he said? A nation was transformed, and Allah knows best
ثابت بن یزید بن ودیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ضب لایا، آپ نے فرمایا: ”ایک امت مسخ کر دی گئی تھی“، واللہ اعلم۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر رقم ۴۲۲۵
4327
Sahih

Chapters

38
01
باب: شکار کرتے وقت «بسم اللہ» پڑھنے کے حکم کا بیان۔
1 Hadith
02
باب: جس شکار پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اسے کھانے کی ممانعت کا بیان۔
1 Hadith
03
باب: سدھائے ہوئے کتے کے شکار کے حکم کا بیان۔
1 Hadith
04
باب: غیر سدھائے ہوئے کتے کے شکار کے حکم کا بیان۔
1 Hadith
05
باب: اگر کتا شکار کو مار ڈالے تو کیا کرے؟
1 Hadith
06
باب: جب کوئی اپنے کتے کے ساتھ کسی اور کتے کو شریک پائے جس پر اس نے «بسم اللہ» نہ پڑھی ہو؟
1 Hadith
07
باب: جب اپنے کتے کے ساتھ کسی اور کتے کو پائے تو کیا کرے؟
5 Hadith
08
باب: کتا شکار میں سے کچھ کھا لے تو کیا حکم ہے؟
2 Hadith
09
باب: کتوں کو مار ڈالنے کے حکم کا بیان۔
4 Hadith
10
باب: کس قسم کے کتوں کو مارنے کا حکم دیا گیا۔
1 Hadith
11
باب: جس گھر میں کتا ہو وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔
3 Hadith
12
باب: جانوروں کی دیکھ بھال کے لیے کتا پالنے کی رخصت کا بیان۔
2 Hadith
13
باب: شکار کے لیے کتا پالنے کی رخصت کا بیان۔
2 Hadith
14
باب: کھیت کی رکھوالی کے لیے کتا پالنے کی رخصت کا بیان۔
4 Hadith
15
باب: کتے کی قیمت لینے کی ممانعت کا بیان۔
3 Hadith
16
باب: شکاری کتے کی قیمت لینے کی رخصت کا بیان۔
2 Hadith
17
باب: اگر مانوس اور پالتو جانور وحشی ہو جائے تو کیا کرے؟
1 Hadith
18
باب: تیر کھا کر پانی میں گر جانے والے شکار کا بیان۔
2 Hadith
19
باب: شکار تیر کھا کر غائب ہو جائے تو کیا کیا جائے؟
3 Hadith
20
باب: جب شکار سے بدبو آنے لگے تو کیا کرے؟
2 Hadith
21
باب: معراض کا شکار۔
1 Hadith
22
باب: معراض (آڑے نیزہ اور تیر) سے کئے گئے شکار کے حکم کا بیان۔
1 Hadith
23
باب: معراض (آڑے نیزہ اور تیر) کی نوک لگے ہوئے شکار کے حکم کا بیان۔
2 Hadith
24
باب: شکار کا پیچھا کرنے کا بیان۔
1 Hadith
25
باب: خرگوش کا بیان۔
4 Hadith
26
باب: ضب کا بیان۔
9 Hadith
27
باب: لکڑ بگھا کا بیان۔
1 Hadith
28
باب: درندہ کھانے کی حرمت کا بیان۔
3 Hadith
29
باب: گھوڑے کا گوشت کھانے کی اجازت کا بیان۔
4 Hadith
30
باب: گھوڑے کا گوشت کھانے کی حرمت کا بیان۔
3 Hadith
31
باب: پالتو گدھوں کا گوشت کھانے کی حرمت کا بیان۔
9 Hadith
32
باب: نیل گائے کا گوشت کھانے کی اباحت کا بیان۔
3 Hadith
33
باب: مرغی کے گوشت کے حلال ہونے کا بیان۔
3 Hadith
34
باب: گوریا کھانے کی اباحت کا بیان۔
1 Hadith
35
باب: مردہ سمندری جانوروں کی حلت کا بیان۔
5 Hadith
36
باب: مینڈک کا بیان۔
1 Hadith
37
باب: ٹڈی کا بیان۔
2 Hadith
38
باب: چیونٹیوں کو مارنے کا بیان۔
3 Hadith
No chapter matched that.