TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

باب: لکڑ بگھا کا بیان۔ - باب: لکڑ بگھا کا بیان۔ - The book of hunting and slaughtering - Sunnan Nisai with Urdu and English Translation

Chapter 27 of The book of hunting and slaughtering in Sunnan Nisai. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 27 of 38 · 1 Hadith
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ الضَّبُعِ ؟ فَأَمَرَنِي بِأَكْلِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ أَصَيْدٌ هِيَ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ أَسَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ.
It was narrated that Ibn Abi 'Ammar said: I asked Jabir bin 'Abdullah about hyenas and he told me to eat them. I said: 'Are they game that can be hunted)? He said: 'Yes,' I said: 'Did you hear that form the Messenger of Allah He said: 'Yes,
ابن ابی عمار کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے لکڑ بگھا کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے اسے کھانے کا حکم دیا، میں نے کہا: کیا وہ شکار ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے کہا: کیا آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ کہا: ”ہاں“۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: ۲۸۳۹
Explanation
وضاحت: ۱؎ : «ضبع» : ایک درندہ ہے، جو کتے سے بڑا اور اس سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے، اس کا سربڑا اور جبڑے مضبوط ہوتے ہیں، اس کی جمع «اضبع» ہے (المعجم الوسیط : ۵۳۳-۵۳۴) ہند و پاک میں اس درندے کو لکڑ بگھا کہتے ہیں، جو بھیڑیئے کی قسم کا ایک جنگلی جانور ہے، اور جسامت میں اس سے بڑا ہوتا ہے، اور اس کے کیچلی کے دانت بڑے ہوتے ہیں، اس کے جسم کے بال کالے اور راکھ کے رنگ کے رنگ دھاری دار ہوتے ہیں، پیچھے بائیں پاؤں دوسرے پاؤں سے چھوٹا ہوتا ہے، اس کا سر چیتے کے سر کی طرح ہوتا ہے، لیکن اس سے چھوٹا ہوتا ہے، وہ اپنے چوڑے چکلے مضبوط جبڑوں سے شیر اور چیتوں کے سر کو توڑ سکتا ہے، اکثر رات میں نکلتا ہے، اور اپنے مجموعے کے ساتھ رہتا ہے، یہ جانور زمین میں سوراخ کر کے مختلف چھوٹے چھوٹے کمرے بناتے ہیں، اور بیچ میں ایک ہال ہوتا ہے، جس میں سارے کمروں کے دروازے ہوتے ہیں، اور ایک دروازہ اس ہال سے باہر کو جاتا ہے، نجد میں ان کی اس رہائش کو «مضبعہ» یا «مجفرہ» کہتے ہیں، ماں پورے خاندان کی نگران ہوتی ہے، اور سب کے کھانے پینے کا انتظام کرتی ہے، اور نر سوراخ کے کنارے پر چھوٹوں کی نگرانی کرتا ہے، یہ جانور مردہ کھاتا ہے، لیکن شکار کبھی نہیں کرتا اور کسی پر حملہ بھی نہیں کرتا إلا یہ کہ کوئی اس پر حملہ آور ہو، یہ جانوروں کے پیچھے رہتا ہے، اس کی گردن سیدھی ہوتی ہے، اس لیے دائیں بائیں جسم موڑے بغیر نہیں ہو سکتا۔ اہل نجد کے یہاں یہ جانور کھایا جاتا تھا اور لوگ اس کا شکار کرتے تھے، میں نے اس کے بارے میں اپنے ایک دوست ڈاکٹر محمد احمد المنیع پروفیسر کنگ سعود یونیورسٹی، ریاض جو زراعت اور غذا سے متعلق کالج میں پڑھاتے ہیں، اور بذات خود صحرائی جانور کا تجربہ رکھتے ہیں، سے پوچھا تو انہوں نے مذکورہ بالا تفصیلات سے مجھے آگاہ کیا اور اس کے زمین کے اندر کے گھر کا نقشہ بھی بنا کر دکھایا۔ اس کے گھر کو ماند اور کھوہ سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ یہ تفصیل اس واسطے درج کی جاری ہے کہ مولانا وحیدالزماں نے «ضبع» کا ترجمہ بجو سے کیا ہے، فرماتے ہیں : فارسی زبان میں اسے ” کفتار “ اور ہندی میں بجو کہتے ہیں، یہ گوشت خور جانور ہے، جو بلوں میں رہتا ہے، مولانا محمد عبدہ الفلاح فیروز پوری کہتے ہیں کہ «ضبع» سے مراد بجو نہیں ہے بلکہ اس نوع کا ایک جانور ہے جسے شکار کیا جاتا ہے، اور اس کو لکڑ بگڑ کھا کہا جاتا ہے، جو سابقہ ریاست سندھ اور بہاولپور میں پایا جاتا ہے۔ اوپر کی تفصیل سے پتہ چلتا ہے کہ حدیث میں مذکور ضبع سے مراد لکڑ بگھا ہے، بجو نہیں، شاید مولانا وحیدالزماں کے سامنے دمیری کی حیاۃ الحیوان تھی جس میں «ضبع» کی تعریف بجو سے کی گئی ہے، اور شیخ صالح الفوزان نے بھی حیاۃ الحیوان سے نقل کر کے یہی لکھا ہے، مولانا وحیدالزماں بجو کے بارے میں فرماتے ہیں : ” اس سے صاف نکلتا ہے کہ بجو حلال ہے، امام شافعی کا یہی قول ہے، اور ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ وہ دانت والا درندہ ہے، تو اور درندوں کی طرح حرام ہو گا، اور جب حلت اور حرمت میں تعارض ہو تو اس سے باز رہنا بھی احتیاط ہے “، سابقہ تفصیلات کی روشنی میں ہمارے یہاں لکڑ بگھا ہی «ضبع» کا صحیح مصداق ہے، اور اس کا شکار کرنا اور اس کو کھانا صحیح حدیث کی روشنی میں جائز ہے۔ واضح رہے کہ چیر پھاڑ کرنے والے حیوانات حرام ہے، یعنی جس کی کچلی ہوتی ہے، اور جس سے وہ چیر پھاڑ کرتا ہے، جیسے : کتا، بلی جن کا شمار گھریلو یا پالتو جانور میں ہے اور وحشی جانور جیسے : شیر، بھیڑیا، چیتا، تیندوا، لومڑی، جنگلی بلی، گلہری، بھالو، بندر، ہاتھی، سمور (نیولے کے مشابہ اور اس سے کچھ بڑا اور رنگ سرخ سیاہی مائل) گیدڑ وغیرہ وغیرہ۔ حنفیہ، شافعیہ اور حنابلہ کے یہاں یہ سارے جانور حرام ہیں، اور مالکیہ کا ایک قول بھی ایسے ہی ہے، لکڑ بگھا اور لومڑی ابویوسف اور محمد بن حسن کے نزدیک حلال ہے، جمہور علماء ان حیوانات کی حرمت کے دلیل میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث پیش کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر کچلی والے درندے کا کھانا حرام ہے “ (صحیح مسلم و موطا امام مالک)۔ لکڑ بگھا حنابلہ کے یہاں صحیح حدیث کی بنا پر حلال ہے، کچلی والے درندے میں سے صرف لکڑ بگھا کو حرمت کے حکم سے مستثنی کرنے والوں کی دلیل اس سلسلے میں وارد احادیث و آثار ہیں، جن میں سے زیر نظر جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، جو صحیح ہے بلکہ امام بخاری نے بھی اس کی تصحیح فرمائی ہے (کمافي التلخیص الحبیر۴/۱۵۲)، نافع مولیٰ ابن عمر سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ابن عمر کو یہ بتایا کہ سعد بن ابی وقاص لکڑ بگھا کھاتے ہیں تو ابن عمر نے اس پر نکیر نہیں فرمائی۔ مالکیہ کے یہاں ان درندوں کا کھانا حلال ہے، ان کا استدلال اس آیت کریمہ سے ہے : «قل لا أجد في ما أوحي إلي محرما على طاعم يطعمه إلا أن يكون ميتة أو دما مسفوحا أو لحم خنزير فإنه رجس أو فسقا أهل لغير الله به فمن اضطر غير باغ ولا عاد فإن ربك غفور رحيم» (سورة الأنعام : 145) ان آیات میں درندوں کے گوشت کا ذکر نہیں کیا گیا ہے، اس لیے یہ حلال ہوں گے اور ہر کچلی والے درندے کے گوشت کھانے سے ممانعت والی حدیث کراہت پر محمول کی جائے گی۔ خلاصہ یہ کہ مالکیہ کے علاوہ صرف حنبلی مذہب میں صحیح حدیث کی بنا پر لکڑ بگھا حلال ہے (ملاحظہ ہو : الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ : ۵/۱۳۳-۱۳۴)۔
4328
Sahih

Chapters

38
01
باب: شکار کرتے وقت «بسم اللہ» پڑھنے کے حکم کا بیان۔
1 Hadith
02
باب: جس شکار پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اسے کھانے کی ممانعت کا بیان۔
1 Hadith
03
باب: سدھائے ہوئے کتے کے شکار کے حکم کا بیان۔
1 Hadith
04
باب: غیر سدھائے ہوئے کتے کے شکار کے حکم کا بیان۔
1 Hadith
05
باب: اگر کتا شکار کو مار ڈالے تو کیا کرے؟
1 Hadith
06
باب: جب کوئی اپنے کتے کے ساتھ کسی اور کتے کو شریک پائے جس پر اس نے «بسم اللہ» نہ پڑھی ہو؟
1 Hadith
07
باب: جب اپنے کتے کے ساتھ کسی اور کتے کو پائے تو کیا کرے؟
5 Hadith
08
باب: کتا شکار میں سے کچھ کھا لے تو کیا حکم ہے؟
2 Hadith
09
باب: کتوں کو مار ڈالنے کے حکم کا بیان۔
4 Hadith
10
باب: کس قسم کے کتوں کو مارنے کا حکم دیا گیا۔
1 Hadith
11
باب: جس گھر میں کتا ہو وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔
3 Hadith
12
باب: جانوروں کی دیکھ بھال کے لیے کتا پالنے کی رخصت کا بیان۔
2 Hadith
13
باب: شکار کے لیے کتا پالنے کی رخصت کا بیان۔
2 Hadith
14
باب: کھیت کی رکھوالی کے لیے کتا پالنے کی رخصت کا بیان۔
4 Hadith
15
باب: کتے کی قیمت لینے کی ممانعت کا بیان۔
3 Hadith
16
باب: شکاری کتے کی قیمت لینے کی رخصت کا بیان۔
2 Hadith
17
باب: اگر مانوس اور پالتو جانور وحشی ہو جائے تو کیا کرے؟
1 Hadith
18
باب: تیر کھا کر پانی میں گر جانے والے شکار کا بیان۔
2 Hadith
19
باب: شکار تیر کھا کر غائب ہو جائے تو کیا کیا جائے؟
3 Hadith
20
باب: جب شکار سے بدبو آنے لگے تو کیا کرے؟
2 Hadith
21
باب: معراض کا شکار۔
1 Hadith
22
باب: معراض (آڑے نیزہ اور تیر) سے کئے گئے شکار کے حکم کا بیان۔
1 Hadith
23
باب: معراض (آڑے نیزہ اور تیر) کی نوک لگے ہوئے شکار کے حکم کا بیان۔
2 Hadith
24
باب: شکار کا پیچھا کرنے کا بیان۔
1 Hadith
25
باب: خرگوش کا بیان۔
4 Hadith
26
باب: ضب کا بیان۔
9 Hadith
27
باب: لکڑ بگھا کا بیان۔
1 Hadith
28
باب: درندہ کھانے کی حرمت کا بیان۔
3 Hadith
29
باب: گھوڑے کا گوشت کھانے کی اجازت کا بیان۔
4 Hadith
30
باب: گھوڑے کا گوشت کھانے کی حرمت کا بیان۔
3 Hadith
31
باب: پالتو گدھوں کا گوشت کھانے کی حرمت کا بیان۔
9 Hadith
32
باب: نیل گائے کا گوشت کھانے کی اباحت کا بیان۔
3 Hadith
33
باب: مرغی کے گوشت کے حلال ہونے کا بیان۔
3 Hadith
34
باب: گوریا کھانے کی اباحت کا بیان۔
1 Hadith
35
باب: مردہ سمندری جانوروں کی حلت کا بیان۔
5 Hadith
36
باب: مینڈک کا بیان۔
1 Hadith
37
باب: ٹڈی کا بیان۔
2 Hadith
38
باب: چیونٹیوں کو مارنے کا بیان۔
3 Hadith
No chapter matched that.