TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Surat Younus - سورة يونس | Verse 12 Translations

Every available translation of Surat Younus, verse 12, side by side - Urdu, English, Hindi and Roman - with the Arabic text above them.

وَ اِذَا مَسَّ الۡاِنۡسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنۡۢبِہٖۤ اَوۡ قَاعِدًا اَوۡ قَآئِمًا ۚ فَلَمَّا کَشَفۡنَا عَنۡہُ ضُرَّہٗ مَرَّ کَاَنۡ لَّمۡ یَدۡعُنَاۤ اِلٰی ضُرٍّ مَّسَّہٗ ؕ کَذٰلِکَ زُیِّنَ لِلۡمُسۡرِفِیۡنَ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۲﴾
And when affliction touches man, he calls upon Us, whether lying on his side or sitting or standing; but when We remove from him his affliction, he continues [in disobedience] as if he had never called upon Us to [remove] an affliction that touched him. Thus is made pleasing to the transgressors that which they have been doing
اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہم کو پکارتا ہے لیٹے بھی بیٹھے بھی کھڑے بھی ۔ پھر جب ہم اس کی تکلیف اس سے ہٹا دیتے ہیں تو وہ ایسا ہو جاتا ہے کہ گویا اس نے اپنی تکلیف کے لئے جو اسے پہنچی تھی کبھی ہمیں پکارا ہی نہیں تھا ان حد سے گزرنے والوں کے اعمال کو ان کے لئے اسی طرح خوش نما بنا دیا گیا ہے ۔
Bookmark
Word by Word by

Dr Farhat Hashmi

Info
وَاِذَا
اور جب
مَسَّ
پہنچتی ہے
الۡاِنۡسَانَ
انسان کو
الضُّرُّ
تکلیف
دَعَانَا
وہ پکارتا ہے ہمیں
لِجَنۡۢبِہٖۤ
اپنی کروٹ پر
اَوۡ
یا
قَاعِدًا
بیٹھے ہوئے
اَوۡ
یا
قَآئِمًا
کھڑے ہوئے
فَلَمَّا
پھر جب
کَشَفۡنَا
ہم ہٹا دیتے ہیں
عَنۡہُ
اس سے
ضُرَّہٗ
تکلیف اس کی
مَرَّ
وہ چل دیتا ہے
کَاَنۡ
گویا کہ
لَّمۡ
نہیں
یَدۡعُنَاۤ
پکارا تھا اس نے ہمیں
اِلٰی ضُرٍّ
طرف کسی تکلیف کے
مَّسَّہٗ
جو پہنچی اسے
کَذٰلِکَ
اسی طرح
زُیِّنَ
مزین کر دئیے گئے
لِلۡمُسۡرِفِیۡنَ
حد سے بڑھنے والوں کے لیے
مَا
جو
کَانُوۡا
تھے وہ
یَعۡمَلُوۡنَ
وہ عمل کرتے
Word by Word by

Nighat Hashmi

Info
وَاِذَا
اور جب
مَسَّ
پہنچتی ہے
الۡاِنۡسَانَ
انسان کو
الضُّرُّ
تکلیف
دَعَانَا
وہ پکارتا ہے ہمیں
لِجَنۡۢبِہٖۤ
اپنے پہلو پر
اَوۡقَاعِدًا
یا بیٹھے ہوئے
اَوۡقَآئِمًا
یا کھڑے ہوئے
فَلَمَّا
پھر جب
کَشَفۡنَا
ہم دور کر دیتے ہیں
عَنۡہُ
اس سے
ضُرَّہٗ
تکلیف اس کی
مَرَّ
وہ چل دیتا ہے
کَاَنۡ
گویا کہ
لَّمۡ یَدۡعُنَاۤ
اس نے ہمیں نہیں پکارا تھا
اِلٰی ضُرٍّ
اس تکلیف میں
مَّسَّہٗ
جو اسے پہنچی
کَذٰلِکَ
ایسےہی
زُیِّنَ
خوشنما بنا دیا گیا
لِلۡمُسۡرِفِیۡنَ
حد سے گزر جانے والوں کے لیے
مَا
جو
کَانُوۡا
تھے وہ
یَعۡمَلُوۡنَ
عمل کیا کرتے
Translated by

Juna Garhi

Info

And when affliction touches man, he calls upon Us, whether lying on his side or sitting or standing; but when We remove from him his affliction, he continues [in disobedience] as if he had never called upon Us to [remove] an affliction that touched him. Thus is made pleasing to the transgressors that which they have been doing

اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہم کو پکارتا ہے لیٹے بھی بیٹھے بھی کھڑے بھی ۔ پھر جب ہم اس کی تکلیف اس سے ہٹا دیتے ہیں تو وہ ایسا ہو جاتا ہے کہ گویا اس نے اپنی تکلیف کے لئے جو اسے پہنچی تھی کبھی ہمیں پکارا ہی نہیں تھا ان حد سے گزرنے والوں کے اعمال کو ان کے لئے اسی طرح خوش نما بنا دیا گیا ہے ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Info

اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں اپنے پہلو پر یا بیٹھے ہوئے یا کھڑے ہر حالت میں پکارتا ہے پھر جب ہم اس سے وہ تکلیف دور کردیتے ہیں تو ایسے گزر جاتا ہے جیسے اس نے تکلیف کے وقت ہمیں پکارا ہی نہ تھا۔ ایسے حد سے بڑھے ہوئے لوگوں کو وہی کام اچھے معلوم ہونے لگتے ہیں جو وہ کرتے ہیں

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Info

اورانسان کوجب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تووہ ہمیں اپنے پہلوپریابیٹھے ہوئے یاکھڑے ہوئے پکارتاہے پھر جب ہم اس کی وہ تکلیف اس سے دورکردیتے ہیں تووہ چل دیتاہے گویا کہ اِس نے ہمیں اس تکلیف میں پکاراہی نہ تھا جواسے پہنچی ہو۔ایسے ہی حد سے گزر جانے والوں کے لیے خوش نما بنا دیاگیاجووہ عمل کیا کرتے تھے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Info

And when hardship hits a person, he prays to Us lying or sitting or standing. Later, when We remove from him the hardship, he walks away as though he had nev¬er prayed to Us in any hardship that hit him. This is how their deeds appear beautified to the transgressors.

اور جب پہنچے انسان کو تکلیف، پکارے ہم کو پڑا ہوا یا بیٹھا یا کھڑا، پھر جب ہم کھول دیں اس سے وہ تکلیف چلا جائے گویا کبھی نہ پکارا تھا ہم کو کسی تکلیف پہنچنے پر، اسی طرح پسند آیا بےباک لوگوں کو جو کچھ کر رہے ہیں،

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Info

اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہمیں پکارتا ہے پہلو کے بل (لیٹے ہوئے) یا بیٹھے ہوئے یا کھڑے ہوئے ۔ پھر جب ہم اس سے اس کی تکلیف کو دور کردیتے ہیں تو وہ ایسے چل دیتا ہے جیسے اس نے ہمیں کبھی پکارا ہی نہ تھا کوئی تکلیف پہنچنے پر۔ ایسے ہی مزین کردیا گیا ہے ان حد سے بڑھنے والوں کے لیے ان کے اعمال کو۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Info

And (such is man that) when an affliction befalls him, he cries out to Us, reclining and sitting and standing. But no sooner than We have removed his affliction, he passes on as though he had never cried out to Us to remove his affliction. Thus it is that the misdeeds of the transgressors are made fair-seeming to them.

انسان کا یہ حال ہے کہ جب اس پر کوئی سخت وقت آتا ہے تو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے ہم کو پکارتا ہے ، مگر جب ہم اس کی مصیبت ٹال دیتے ہیں تو ایسا چل نکلتا ہے کہ گویا اس نے کبھی اپنے کسی برے وقت پر ہم کو پکارا ہی نہ تھا ۔ اس طرح حد سے گزر جانے والوں کے لیے ان کے کرتوت خوشنما بنا دیے گئے ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Info

اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ لیٹے بیٹھے اور کھڑے ہوئے ( ہرحالت میں ) ہمیں پکارتے ہیں ۔ پھر جب ہم اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں تو اس طرح چل کھڑا ہوتا ہے جیسے کبھی اپنے آپ کو پہنچنے والی کسی تکلیف میں ہمیں پکارا ہی نہ تھا ۔ جو لوگ حد سے گذر جاتے ہیں ، انہیں اپنے کرتوت اسی طرح خوشنما معلوم ہوتے ہیں ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Info

اور جب آدمی کو کسی قسم کی تکلیف پہنچتی ہے تو بڑا یا بیٹھا یا کھڑا ہرحال میں ہم کو پکارتا ہے پھر جب ہم اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں تو وہی چال چلتا ہے جیسے کسی تکلیف میں جو اس کو پہنچی تھی ہم کو اس نے پکارا ہی نہ تھا ایسے 6 ہی حد سے بڑھ جانے والوں کو ان کے کام بھلے معلوم ہوتے ہیں 7

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Info

اور جب انسان پر کوئی تکلیف آتی ہے تو لیٹا یا بیٹھا یا کھڑا (ہرحال میں) ہمیں پکارتا ہے پھر جب ہم اس کی تکلیف کو اس سے دور کردیتے ہیں تو وہ ایسے چلا جاتا ہے جیسے اس نے کسی تکلیف کے پہنچنے پر ہمیں پکارا ہی نہ تھا۔ اسی طرح حد سے نکل جانے والوں کے اعمال انہیں بھلے محسوس ہوتے ہیں

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Info

اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ لیٹے، بیٹھے اور کھڑے ہر حال میں ہمیں ہی پکارتا ہے۔ پھر جب ہم اس سے تکلیف اور پریشانی دور کردیتے ہیں تو پھر وہ (منہ پھیر کر) اس طرح چلتا ہے جیسے اسنے ہمیں پکارا ہی نہ تھا اور اس طرح حد سے گذر جانے والوں کی نظر میں ان کے اعمال کو خوبصورت بنا دیا جاتا ہے۔

Translated by

Fateh Muhammad Jalandhari

Info

اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو لیٹا اور بیٹھا اور کھڑا (ہر حال میں) ہمیں پکارتا ہے۔ پھر جب ہم اس تکلیف کو اس سے دور کر دیتے ہیں تو (بےلحاظ ہو جاتا ہے اور) اس طرح گزر جاتا ہے گویا کسی تکلیف پہنچنے پر ہمیں کبھی پکارا ہی نہ تھا۔ اسی طرح حد سے نکل جانے والوں کو ان کے اعمال آراستہ کرکے دکھائے گئے ہیں

Translated by

Abdul Majid Daryabadi

Info

And when harm toucheth man, he calleth us on his side, or sitting or standing; then when We have removed his harm from him, he passeth on as though he had never called Us to a harm that touched him. In this wise is made fairseeming unto the extravagant that which they have been working.

اور انسان کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہم کو پکارتا ہے لیٹے بھی اور بیٹھے بھی اور کھڑے بھی ۔ پھر جب ہم اس سے اس کو تکلیف کو دور کردیتے ہیں تو وہ ایسا ہوجاتا ہے کہ گویا جو تکلیف اسے پہنچی ہے اس کے لئے ہم کو پکاراہی نہ تھا ۔ اسی طرح فضول کاروں کو ان کے اعمال خوشنما کردکھائے جاتے ۔

Translated by

Amin Ahsan Islahi

Info

اور انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تب تو لیٹے ، بیٹھے یا کھڑے ہم کو پکارتا ہے ۔ پھر جب ہم اس کی تکلیف اس سے دور کردیتے ہیں تو اس طرح چل دیتا ہے گویا کسی تکلیف کیلئے ، جو اس کو پہنچی ، اس نے ہم کو پکارا ہی نہیں تھا ۔ اسی طرح حدود سے تجاوز کرنے والوں کی نگاہوں میں ان کے اعمال کبھا دیے گئے ہیں ۔

Translated by

Mufti Naeem

Info

اور جب کوئی تکلیف انسان کو پہنچتی ہے تو ہمیں لیٹے ہوئے اور بیٹھے ہوئے اور کھڑے ہوئے ( ہر حال میں ) پکارتا ہے پھر جب ہم اس سے اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں تو اس طرح گزر جاتا ہے جسے اس نے کسی تکلیف کے پہنچنے پر ہمیں پکارا ہی نہیں تھا حد سے گزار جانے والوں کیلئے اسی طرح ان کے اعمال مزین کر دیے گئے ہیں ۔

Translated by

Muhtrama Riffat Ijaz

Info

اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہم کو پکارتا ہے لیٹے، بیٹھے اور کھڑے پھر جب ہم اس کی تکلیف اس سے ہٹا دیتے ہیں تو وہ ایسا ہوجاتا ہے گویا اس نے اپنی تکلیف کے لیے جو اسے پہنچی تھی کبھی ہمیں پکارا ہی نہ تھا، ان حد سے گزرنے والوں کے اعمال کو ان کے لیے اسی طرح خوش نما بنا دیا گیا ہے۔

Translated by

Mulana Ishaq Madni

Info

اور انسان (کی تنگ ظرفی اور ناشکری) کا عالم یہ ہے کہ جب چھو جاتی ہے اس کو کوئی تکلیف، تو یہ (رہ رہ کر) ہم کو پکارتا ہے، لیٹے، بیٹھے اور کھڑے، (ہر حال میں) لیکن جب ہم دور کردیتے ہیں، اس سے تکلیف کو، تو یہ (اپنے غرور میں) ایسے چل دیتا ہے کہ گویا اس نے کبھی ہم کو پکارا ہی نہیں تھا، کسی ایسی تکلیف کے لئے جو اس کو پہنچی تھی، اسی طرح خوشنما بنا دیے جاتے ہیں حد سے بڑھنے والوں کے لئے ان کے وہ کرتوت جو وہ کر رہے ہوتے ہیں

Translated by

Noor ul Amin

Info

جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے توہم کو پکارتا ہے لیٹے بھی ، بیٹھے بھی ، کھڑے ہرحالت میں پکارتا ہے پھرجب ہم اس سے تکلیف دور کردیتے ہیں توایسے گزرجاتا ہے جیسے اس نے تکلیف کے وقت ہمیں پکارا ہی نہ تھاایسے حد سے بڑھے ہوئے لوگوں کے لئے وہی کام اچھے لگتے ہیںجو وہ کرتے ہیں

Kanzul Eman by

Ahmad Raza Khan

Info

اور جب آدمی کو ( ف۲۲ ) تکلیف پہنچتی ہے ہمیں پکارتا ہے لیٹے اور بیٹھے اور کھڑے ( ف۲۳ ) پھر جب ہم اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں چل دیتا ہے ( ف۲٤ ) گویا کبھی کسی تکلیف کے پہنچنے پر ہمیں پکارا ہی نہ تھا یونہی بھلے کر دکھائے ہیں حد سے بڑھنے والے کو ( ف۲۵ ) ان کے کام ( ف۲٦ )

Translated by

Tahir ul Qadri

Info

اور جب ( ایسے ) انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہمیں اپنے پہلو پر لیٹے یا بیٹھے یا کھڑے پکارتا ہے ، پھر جب ہم اس سے اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں تو وہ ( ہمیں بھلا کر اس طرح ) چل دیتا ہے گویا اس نے کسی تکلیف میں جو اسے پہنچی تھی ہمیں ( کبھی ) پکارا ہی نہیں تھا ۔ اسی طرح حد سے بڑھنے والوں کے لئے ان کے ( غلط ) اَعمال آراستہ کر کے دکھائے گئے ہیں جو وہ کرتے رہے تھے

Translated by

Hussain Najfi

Info

جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ کروٹ کے بل لیٹے یا بیٹھے یا کھڑے ہوئے ( ہر حال میں ) ہمیں پکارتا ہے اور جب ہم اس کی تکلیف دور کر دیتے ہیں تو وہ اس طرح ( منہ موڑ کے ) چل دیتا ہے جیسے اس نے کسی تکلیف میں جو اسے پہنچی تھی کبھی ہمیں پکارا ہی نہ تھا اسی طرح حد سے گزرنے والوں کے لیے ان کے وہ عمل خوشنما بنا دیئے گئے ہیں جو وہ کرتے رہے ہیں ۔

Translated by

Abdullah Yousuf Ali

Info

When trouble toucheth a man, He crieth unto Us (in all postures)- lying down on his side, or sitting, or standing. But when We have solved his trouble, he passeth on his way as if he had never cried to Us for a trouble that touched him! thus do the deeds of transgressors seem fair in their eyes!

Translated by

Muhammad Sarwar

Info

When the human being is affected by hardship, he starts to pray while lying on his side, sitting or standing, but when We relieve him from hardship, he starts to act as though he had never prayed to Us to save him from the misfortune. This is how transgressors' deeds are made attractive to them.

Translated by

Safi ur Rehman Mubarakpuri

Info

And when harm touches man, he invokes Us, lying on his side, or sitting or standing. But when We have removed his harm from him, he passes on as if he had never invoked Us for a harm that touched him! Thus it is made fair seeming to the wasteful that which they used to do.

Translated by

Muhammad Habib Shakir

Info

And when affliction touches a man, he calls on Us, whether lying on his side or sitting or standing; but when We remove his affliction from him, he passes on as though he had never called on Us on account of an affliction that touched him; thus that which they do is made fair-seeming to the extravagant.

Translated by

William Pickthall

Info

And if misfortune touch a man he crieth unto Us, (while reclining) on his side, or sitting or standing, but when We have relieved him of the misfortune he goeth his way as though he had not cried unto Us because of a misfortune that afflicted him. Thus is what they do made (seeming) fair unto the prodigal.

Translated by

Moulana Younas Palanpuri

Info

और इंसान को जब कोई तकलीफ़ पहुँचती है तो वे खड़े और बैठे और लेटे हमको पुकारता है, फिर जब हम उससे उसकी तकलीफ़ दूर कर देते हैं तो वह ऐसा हो जाता है गोया उसने कभी अपने किसी बुरे वक़्त पर हमको पुकारा ही न था, इस तरह हद से गुज़र जाने वालों के लिए उनके आमाल ख़ुशनुमा बना दिए गए हैं।

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Info

اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو ہم کو پکارنے لگتا ہے لیٹے بھی بیٹھے بھی کھڑے بھی (3) پھر جب ہم اس کی وہ تکلیف اس سے ہٹا دیتے ہیں تو پھر اپنی پہلی حالت پر آجاتا ہے کہ گویا جو تکلیف اس کو پہنچی تھی اس کے ہٹانے کے لیے کبھی ہم کو پکارا ہی نہ تھا ان حد سے نکلنے والوں کے اعمال (بد) ان کو اسی طرح مستحسن معلوم ہوتے ہیں (جس طرح سے ہم نے بیان کیا ہے) ۔ (12)

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Info

” اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پہلو پر بیٹھا یا کھڑا ہوا ہمیں پکارتا ہے پھر جب ہم اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں تو اس طرح چل دیتا ہے جیسے اس نے ہمیں کسی تکلیف کے وقت، جو اسے پہنچی ہو، پکارا ہی نہیں۔ اسی طرح حد سے بڑھ جانے والوں کے لیے عمل مزین کردیے گئے جو وہ کیا کرتے تھے۔ “ (١٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Info

انسان کا حال یہ ہے کہ جب ان پر کوئی سخت وقت آتا ہے تو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے ہم کو پکارتا ہے ، مگر جب ہم اس کی مصیبت ٹال دیتے ہیں تو ایسا چل نکلتا ہے کہ گویا اس نے کبھی اپنے برے وقت پر ہم کو پکارا ہی نہ تھا۔ اس طرح حد سے گزر جانے والوں کے لئے ان کے کرتوت خوشنما بنا دیئے گئے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Info

اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے لیٹے ہوئے اور بیٹھے ہوئے اور کھڑے ہوئے پھر جب ہم اس کی تکلیف ہٹا دیتے ہیں تو وہ اس حال میں گزر جاتا ہے کہ گویا اس نے ہمیں کسی تکلیف کے پہنچ جانے پر پکارا ہی نہ تھا اسی طرح حد سے بڑھ جانے والوں کیلئے ان کے اعمال مزین کر دئیے گئے ہیں

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Info

اور جب پہنچے انسان کو تکلیف پکارے ہم کو پڑا ہوا یا بیٹھا یا کھڑا پھر جب ہم کھول دیں اس سے وہ تکلیف چلا جائے گویا کبھی نہ پکارا تھا ہم کو کسی تکلیف پہنچنے پر اسی طرح پسند آیا ہے بیباک لوگوں کو جو کچھ کر رہے ہیں

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

Info

اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ لیٹے یا بیٹھے یا کھڑے ہر حال میں ہم کو پکارا کرتا ہے۔ پھر جب ہم اس انسان سے اس کی تکلیف کو زائل کردیتے ہیں تو وہ ایسا گزر جاتا ہے کہ گویا اس نے کسی تکلیف کے پہنچنے پر کبھی ہم کو پکارا ہی نہیں تھا اسی طرح حد سے بڑھنے والوں کی نظر میں ان کے وہ اعمال جو وہ کررہے ہیں خوشنما کردیئے جاتے ہیں۔

Related Verses

56
Surat uz Zumur
39:49
فَاِذَا مَسَّ الۡاِنۡسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا ۫ ثُمَّ اِذَا خَوَّلۡنٰہُ نِعۡمَۃً مِّنَّا ۙ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوۡتِیۡتُہٗ عَلٰی عِلۡمٍ ؕ بَلۡ ہِیَ فِتۡنَۃٌ وَّ لٰکِنَّ اَکۡثَرَہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۴۹﴾
And when adversity touches man, he calls upon Us; then when We bestow on him a favor from Us, he says, "I have only been given it because of [my] knowledge." Rather, it is a trial, but most of them do not know.
انسان کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارنے لگتا ہے ، پھر جب ہم اسے اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا فرما دیں تو کہنے لگتا ہے کہ اسے تو میں محض اپنے علم کی وجہ سے دیا گیا ہوں بلکہ یہ آزمائش ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ بے علم ہیں ۔
Surat un Nissa
4:28
یُرِیۡدُ اللّٰہُ اَنۡ یُّخَفِّفَ عَنۡکُمۡ ۚ وَ خُلِقَ الۡاِنۡسَانُ ضَعِیۡفًا ﴿۲۸﴾
And Allah wants to lighten for you [your difficulties]; and mankind was created weak.
اللہ چاہتا ہے کہ تم سے تخفیف کر دے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے ۔
Surat Hood
11:9
وَ لَئِنۡ اَذَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنَّا رَحۡمَۃً ثُمَّ نَزَعۡنٰہَا مِنۡہُ ۚ اِنَّہٗ لَیَئُوۡسٌ کَفُوۡرٌ ﴿۹﴾
And if We give man a taste of mercy from Us and then We withdraw it from him, indeed, he is despairing and ungrateful.
اگر ہم انسان کو اپنی کسی نعمت کا ذائقہ چکھا کر پھر اسے اس سے لے لیں تو وہ بہت ہی ناامید اور بڑا ہی نا شکرا بن جاتا ہے ۔
Surat Ibrahim
14:34
وَ اٰتٰىکُمۡ مِّنۡ کُلِّ مَا سَاَلۡتُمُوۡہُ ؕ وَ اِنۡ تَعُدُّوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ لَا تُحۡصُوۡہَا ؕ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَظَلُوۡمٌ کَفَّارٌ ﴿۳۴﴾٪  17
And He gave you from all you asked of Him. And if you should count the favor of Allah , you could not enumerate them. Indeed, mankind is [generally] most unjust and ungrateful.
اسی نے تمہیں تمہاری منہ مانگی کل چیزوں میں سے دے رکھا ہے اگر تم اللہ کے احسان گننا چاہو تو انہیں پورے گن بھی نہیں سکتے یقیناً انسان بڑا ہی بے انصاف اور ناشکرا ہے ۔
Surat ul Hijir
15:26
وَ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴿ۚ۲۶﴾
And We did certainly create man out of clay from an altered black mud.
یقیناً ہم نے انسان کو کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا فرمایا ہے ۔
Surat un Nahal
16:4
خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ فَاِذَا ہُوَ خَصِیۡمٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۴﴾
He created man from a sperm-drop; then at once, he is a clear adversary.
اس نے انسان کو نطفے سے پیدا کیا پھر وہ صریح جھگڑالو بن بیٹھا ۔
Surat Bani Isareel
17:11
وَ یَدۡعُ الۡاِنۡسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآءَہٗ بِالۡخَیۡرِ ؕ وَ کَانَ الۡاِنۡسَانُ عَجُوۡلًا ﴿۱۱﴾
And man supplicates for evil as he supplicates for good, and man is ever hasty.
اور انسان برائی کی دعائیں مانگنے لگتا ہے بالکل اس کی اپنی بھلائی کی دعا کی طرح انسان ہے ہی بڑا جلد باز ۔
Surat Bani Isareel
17:67
وَ اِذَا مَسَّکُمُ الضُّرُّ فِی الۡبَحۡرِ ضَلَّ مَنۡ تَدۡعُوۡنَ اِلَّاۤ اِیَّاہُ ۚ فَلَمَّا نَجّٰىکُمۡ اِلَی الۡبَرِّ اَعۡرَضۡتُمۡ ؕ وَ کَانَ الۡاِنۡسَانُ کَفُوۡرًا ﴿۶۷﴾
And when adversity touches you at sea, lost are [all] those you invoke except for Him. But when He delivers you to the land, you turn away [from Him]. And ever is man ungrateful.
اور سمندروں میں مصیبت پہنچتے ہی جنہیں تم پکارتے تھے سب گم ہو جاتے ہیں صرف وہی اللہ باقی رہ جاتا ہے پھر جب وہ تمہیں خشکی کی طرف بچا لاتا ہے تو تم منہ پھیر لیتے ہو اور انسان بڑا ہی ناشکرا ہے ۔
Surat Bani Isareel
17:83
وَ اِذَاۤ اَنۡعَمۡنَا عَلَی الۡاِنۡسَانِ اَعۡرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِہٖ ۚ وَ اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ کَانَ یَـئُوۡسًا ﴿۸۳﴾
And when We bestow favor upon the disbeliever, he turns away and distances himself; and when evil touches him, he is ever despairing.
اور انسان پر جب ہم اپنا انعام کرتے ہیں تو وہ منہ موڑ لیتا ہے اور کروٹ بدل لیتا ہے اور جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ مایوس ہو جاتا ہے ۔