| Perfect Tense | Imperfect Tense | Imperative | Active Participle | Passive Participle | Noun Form |
مَدَّ |
يَمُدُّ |
اُمْدُدْ/مُدّ |
مَادّ |
مَمْدُوْد |
مَدّ |
اَلْمَدُّ کے اصل معنی (لمبائی میں ) کھینچنے اور بڑھانے کے ہیں اسی سے عرصہ دراز کو مُدَّۃٌ کہتے ہیں اور مِدَّۃُالْجَرْحِ کے معنی زخم کا گندہ مواد کے ہیں۔ مَدُّ النَّھْرِ: دریا کا چڑھائو۔ مَدَّہ نَھْرٌ اٰخَرُ۔ دوسرا دریا اس کا معاون بن گیا۔ قرآن پاک میں ہے: (اَلَمۡ تَرَ اِلٰی رَبِّکَ کَیۡفَ مَدَّ الظِّلَّ ) (۲۵۔۴۵) تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارا رب سائے کو کس طرح دراز کرکے پھیلا دیتا ہے۔مَدَدْتُ عَیْنِیْ اِلٰی کَذَا: کسی کی طرف حریصانہ... اور للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنا۔ چنانچہ قرآن پاک میں ہے: (لاتَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ) الایۃ (۱۵۔۸۸) تم ... للچائی نظروں سے نہ دیکھنا۔ مَدَدْتُہ فِیْ غَیْہ: گمراہی پر مہلت دینا اور فوراً گرفت نہ کرنا۔ مَدَدْتُ الْاَبِلَ: اونٹ کو مدید پلایا۔ اور مدید اس بیج اور آٹے کو کہتے ہیں جو پانی میں بھگوکر باہم ملا دیا گیا ہو۔ اَمْدَدْتُ الْجَیْشَ بِمَدَدٍ: لشکر مدد دینا۔ کمک بھیجنا۔ اَمْمدَدْتُ الْاِنْسَانَ بِطَعَامٍ: کسی کی طعام (غلہ) سے مدد کرنا۔ قرآن پاک میں عموماً اَمَدَّ (افعال) ( اچھی چیز کے لیے اور مَدٌّ (ثلاثی مجرد) بری چیز کے لیے استعمال ہوا ہے چنانچہ فرمایا: (وَاَمْدَدْنَا ھُمْ بِفَاکِھَۃٍ وَّلَحْمٍ مِّمَّا یَشْتَھُوْنَ) اور جس طرح کے میورے اور گوشت کو ان کا جی چاہے گا ہم ان کو عطا کریں گے۔ (۵۲۔۲۲) (اَیَحۡسَبُوۡنَ اَنَّمَا نُمِدُّہُمۡ بِہٖ مِنۡ مَّالٍ وَّ بَنِیۡنَ) (۲۳۔۵۵) کی یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ ہم جو دنیا میں ان کو مال اور بیٹوں سے مدد دیتے ہیں۔ (وَّ یُمۡدِدۡکُمۡ بِاَمۡوَالٍ وَّ بَنِیۡنَ) (۷۱۔۱۲) اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد فرمائے گا۔ ( یُمۡدِدۡکُمۡ رَبُّکُمۡ بِخَمۡسَۃِ اٰلٰفٍ) (۳۔۱۲۵) تمہارا پروردگار پانچ ہزار فرشتے تمہاری مدد کو بھیجے گا۔ (اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ ) (۲۷۔۳۶) کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو۔ (وَ نَمُدُّ لَہٗ مِنَ الۡعَذَابِ مَدًّا) (۱۹۔۷۹) اور اس کے لیے (آہستہ) عذاب بڑھاتے جاتے ہیں۔ (وَ یَمُدُّہُمۡ فِیۡ طُغۡیَانِہِمۡ یَعۡمَہُوۡنَ) (۲۔۱۵) اور انہیں مہلت دیئے جاتا ہے کہ شرارت اور سرکشی میں پڑے بہک رہے ہیں۔ (وَ اِخۡوَانُہُمۡ یَمُدُّوۡنَہُمۡ فِی الۡغَیِّ ) (۷۔۲۰۲) اور ان (کفار) کے بھائی انہیں گمراہی میں کھینچے جاتے ہیں لیکن آیت کریمہ: ( وَّ الۡبَحۡرُ یَمُدُّہٗ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ سَبۡعَۃُ اَبۡحُرٍ ) (۳۱۔۲۷) اور سمندر (کاتمام پانی) روشنائی ہو اور سات سمندر اور (روشنائی ہوجائیں) میں یَمُدُّہ کا صیغہ مَدَّہ نَھْرٌاٰخَرُ کے محاورہ سے ماخوذ ہے۔ اور یہ اِمْدَادٌ یامَدٌّ سے نہیں ہے جو کسی محبوب یا مکروہ چیز کے متعلق استعمال ہوتے ہیں بلکہ یہ مَدَدْتُ الدَّوَاۃَ اَمُدُّھَا کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی دوات میں روشنائی ڈالنا کے ہیں اسی طرح آیت کریمہ: ( (وَ لَوۡ جِئۡنَا بِمِثۡلِہٖ مَدَدًا) (۱۸۔۱۰۹) اگرچہ ہم ویسا ور سمندر اس کی مدد کو لائیں۔ میں بھی مدد سے مِدَادٌ یعنی روشنائی کے معنی مراد ہیں۔ اَلْمُدُّ: غلہ ناپنے کا ایک مشہور پیمانہ۔
Surah:2Verse:15 |
اور وہ ڈھیل دے رہا ہے ان کو
and prolongs them
|
|
Surah:7Verse:202 |
کھینچتے ہیں ان کو
they plunge them
|
|
Surah:13Verse:3 |
جس نے پھیلادیا
spread
|
|
Surah:15Verse:19 |
پھیلا دیا ہم نے اس کو
We have spread it
|
|
Surah:15Verse:88 |
تو لمبی کر۔ دراز کر
extend
|
|
Surah:19Verse:75 |
پس ضرور ڈھیل دیتا ہے
then surely will extend
|
|
Surah:19Verse:79 |
اور ہم لمبا کریں گے
and We will extend
|
|
Surah:20Verse:131 |
آپ دراز کریں۔ دوڑائیں
extend
|
|
Surah:22Verse:15 |
پس چاہیے کہ کھینچ لائے
then let him extend
|
|
Surah:25Verse:45 |
اس نے پھیلا دیا
He extends
|