It was narrated from Anas that the Prophet (ﷺ) allowed Ruqyah for the scorpion’s sting, the evil eye, and Namlah (sores or small pustules ulcers or sores on a person’s sides).
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زہریلے ڈنک، نظر بد اور نملہ ۱؎ پر جھاڑ پھونک کی اجازت دی ہے۔
Takhreej
«صحیح مسلم/السلام ۲۱ (۲۱۹۶)، سنن الترمذی/الطب ۱۵ (۲۰۵۶،۲۰۵۷)،(تحفة الأشراف:۱۷۰۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۱۱۸،۱۱۹،۱۲۷)
Explanation
نملہ: ایک بیماری ہے جس کے سبب پسلی میں دانے نکل آتے ہیں، اور زخم پڑ جاتے ہیں
It was narrated that Abu Hurairah said:
“A scorpion stung a man and he did not sleep all the night. It was said to the Prophet (ﷺ): ‘So- and-so was stung by a scorpion and he did not sleep all the night.’ He said: ‘If he had said, last night: A’udhu bikalimatil-lahit-tammati min sharri ma khalaq (I seek refuge in the Perfect Words of Allah from the evil of that which He has created), the scorpion sting would not have harmed him, until morning.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی کو بچھو نے ڈنک مار دیا تو وہ رات بھر نہیں سو سکا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ فلاں شخص کو بچھو نے ڈنک مار دیا ہے، اور وہ رات بھر نہیں سو سکا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ شام کے وقت ہی یہ دعا پڑھ لیتا «أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق» یعنی میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کے ذریعہ پناہ مانگتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کیا ، تو بچھو کا اسے ڈنک مارنا صبح تک ضرر نہ پہنچاتا ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۲۶۶۳، ومصباح الزجاجة:۱۲۲۷)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطب ۱۹ (۳۸۹۹)، مسند احمد (۲/۳۷۵)
Explanation
پھر صبح کو یہ کہہ لیتا تو شام تک کوئی کیڑا ضررنہ پہنچا سکتا سبحان اللہ کیا عمدہ موثر اور مختصر دعا ہے۔
It was narrated that ‘Amr bin Hazm said:
“I recited the Ruqyah for snakebite to the Messenger of Allah (ﷺ), or it was recited to him, and he commanded that it be used.”
عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سانپ کے ڈسے ہوئے کو پیش کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر دم ( جھاڑ پھونک ) کرنے کی اجازت دے دی۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۰۷۲۹، ومصباح الزجاجة:۱۲۲۸)
It was narrated that ‘Aishah said:
“When the Messenger of Allah (ﷺ) came to a sick person, he would make supplication for him, and would say: Adhhibil-bas, Rabban-nas, washfi Antash-Shafi, la shifa’a illa shifa’uka shifa’an la yughadiru saqama (Take away the pain, O Lord of mankind, and grant healing, for You are the Healer, and there is no healing but Your healing that leaves no trace of sickness).’”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مریض کے پاس آتے تو آپ اس کے لیے دعا فرماتے، اور کہتے: «أذهب الباس رب الناس واشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما» اے لوگوں کے رب! تو بیماری دور فرما، اور صحت عطا کر، تو ہی صحت عطا کرنے والا ہے، شفاء اور صحت وہی ہے جو تو عطا کرے، تو ایسی شفاء عطا کر کہ پھر کوئی بیماری باقی نہ رہ جائے ۔
It was narrated from ‘Aishah that one of the things that the Prophet (ﷺ) used to say for the sick person, with saliva on his finger (dipped in dust), was:
“Bismillah, turbatu ardina, biriqati ba’dina, liyushfa saqimuna. Bi’dhni Rabbina (In the Name of Allah, the dust of our land mixed with the saliva of one of us, to cure our sick one by the permission of our Lord).”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلی میں تھوک لگا کر بیمار کے لیے یوں کہتے: «بسم الله بتربة أرضنا بريقة بعضنا ليشفى سقيمنا بإذن ربنا» اللہ کے نام سے، ہماری زمین کی مٹی سے، ہم میں سے بعض کے لعاب سے ملی ہوئی ہے تاکہ ہمارا مریض ہمارے رب کے حکم سے شفاء پا جائے ۱؎۔
Takhreej
«صحیح البخاری/الطب ۳۸ (۵۷۴۵،۵۷۴۶)، صحیح مسلم/السلام ۲۱ (۲۱۹۴)، سنن ابی داود/الطب ۱۹ (۳۸۹۵)،(تحفة الأشراف:۱۷۹۰۶)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۹۳)
Explanation
اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دم کو پڑھتے وقت آپ ﷺ کلمہ شہادت کی انگلی پر تھوکتے اور اس کو مٹی سے لگا کر بیمار کے بدن پر یا بیماری کے مقام پر ملتے، اور یہ دم پڑھتے۔
It was narrated that ‘Uthman bin Abul-‘As Thaqafi said:
“I came to the Prophet (ﷺ) and I was suffering pain that was killing me. The Prophet (ﷺ) said to me: ‘Put your right hand on it and say: Bismillah, a’udhu bi’izzatil-lahi wa qudratihi min sharri ma ajidu wa uhadhiru. (In the Name of Allah, I seek refuge in the might and power of Allah from the evil of what I feel and what I fear),” seven times.’ I said that, and Allah healed me.”
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، مجھے ایسا درد تھا کہ لگ رہا تھا وہ مجھے ہلاک کر دے گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اپنا دایاں ہاتھ اس پر رکھ کر «أعوذ بعزة الله وقدرته من شر ما أجد وأحاذر» اللہ کے نام سے میں اللہ تعالیٰ کی عزت اور اس کی قدرت کی پناہ مانگتا ہوں اس تکلیف کے شر سے جو میں محسوس کرتا ہوں اور جس سے ڈرتا ہوں سات مرتبہ پڑھو ، میں نے یہ دعا پڑھی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے شفاء عطا کی
Takhreej
«صحیح مسلم/السلام ۲۴ (۲۲۰۲)، سنن ابی داود/الطب ۱۹ (۳۸۹۱)، سنن الترمذی/الطب ۲۹ (۲۰۸۰)،(تحفة الأشراف:۹۷۷۴)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العین ۴ (۹)، مسند احمد (۴/۲۱،۲۱۷)
It was narrated from Abu Sa’eed that Jibra’il came to the Prophet (ﷺ) and said:
“O Muhammad, you are ill. He said: ‘Yes.’ He said: Bismillahi arqika, min kulli shay’in yu’dhika, min sharri kulli nafsin aw ‘aynin aw hasidin. Allahu yashfika, bismillahi arqika (In the Name of Allah I perform Ruqyah for you, from everything that is harming you, from the evil of every soul or envious eye, may Allah heal you. In the Name of Allah I perform Ruqyah for you).
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اے محمد! کیا آپ بیمار ہو گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرض کیا: ہاں ، جبرائیل علیہ السلام نے کہا: «بسم الله أرقيك من كل شيء يؤذيك من شر كل نفس أو عين أو حاسد الله يشفيك بسم الله أرقيك» اللہ کے نام سے میں آپ پر دم کرتا ہوں، ہر اس چیز سے جو آپ کو اذیت پہنچائے، ہر جاندار، نظر بند، اور حاسد کے شر سے، اللہ تعالیٰ آپ کو شفاء دے، میں اللہ کے نام سے آپ پر دم کرتا ہوں۔
Takhreej
«صحیح مسلم/السلام ۱۶ (۲۱۸۶)، سنن الترمذی/الجنائز۴ (۹۷۲)،(تحفة الأشراف:۴۳۶۳)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۲۸،۵۶،۵۸،۷۵)
It was narrated that Abu Hurairah said:
“The Prophet (ﷺ) came to visit me (when I was sick), and said to me: ‘Shall I not recite for you a Ruqyah that Jibra’il brought to me?’ I said: ‘May my father and mother be ransomed for you! Yes, O Messenger of Allah!’ He said: Bismillah arqika, wallahu yashfika, min kulli da’in fika, min sharrin- naffathati fil-‘uqad, wa min sharri hasidin idha hasad (In the Name of Allah I perform Ruqyah for you, from every disease that is in you, and from the evil of those who (practice witchcraft when they) blow in the knots, and from the evil of the envier when he envies), three times.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے، تو آپ نے مجھ سے فرمایا: کیا میں تم پر وہ دم نہ کروں جو میرے پاس جبرائیل لے کر آئے؟ ، میں نے عرض کیا: ضرور یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار یہ پڑھا: «بسم الله أرقيك والله يشفيك من كل داء فيك من شر النفاثات في العقد ومن شر حاسد إذا حسد» اللہ کے نام سے میں تم پر دم کرتا ہوں، اللہ ہی تمہیں شفاء دے گا، تمہارے ہر مرض سے، گرہوں پر پھونکنے والیوں کے شر سے، اور حاسد کے حسد سے جب وہ حسد کرے ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۲۹۰۱، ومصباح الزجاجة:۱۲۲۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۴۴۶)
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:
“The Prophet (ﷺ) used to seek refuge for Hasan and Husain and say: A’udhu bi kalimatil-lahil- tammati, min kulli shaitanin wa hammah, wa min kulli ‘aynin lammah (I seek refuge for you both in the Perfect Words of Allah, from every devil and every poisonous reptile, and from every evil eye).’ And he would say: ‘Thus Ibrahim used to seek refuge with Allah for Isma’il and Ishaq,’ or he said: ‘for Isma’il and Ya’qub.’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حسن اور حسین ( رضی اللہ عنہما ) پر دم فرماتے تو کہتے: «أعوذ بكلمات الله التامة من كل شيطان وهامة ومن كل عين لامة» میں اللہ کے مکمل کلمات کے ذریعہ پناہ مانگتا ہوں ہر شیطان سے، ہر زہریلے کیڑے ( سانپ، بچھو وغیرہ ) اور ہر نظر بد والی آ نکھ سے ، اور فرماتے: ہمارے والد ابراہیم علیہ السلام بھی اسی کے ذریعہ اسماعیل و اسحاق علیہما السلام پر دم فرماتے تھے یا کہا: اسماعیل اور یعقوب علیہما السلام پر ۔ یہ حدیث وکیع کی ہے۔
Takhreej
«صحیح البخاری/الأنبیاء ۱۰ (۳۳۷۱)، سنن ابی داود/السنة ۲۲ (۴۷۳۷)، سنن الترمذی/الطب ۱۸ (۲۰۶۰)،(تحفة الأشراف:۵۶۲۷)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۲۳۶،۲۷۰)
It was narrated from Ibn ‘Abbas that, for fever and all kinds of pain, the Prophet (ﷺ) used to teach them to say:
“Bismillahil-kabir, a’udhu billahil-‘Azim min sharri ‘irqin na’ar wa, min sharri harrin- nar (In the Name of Allah the Great, I seek refuge with Allah the Almighty from the evil of a vein gushing (with blood) and the evil of the heat of the Fire.” (One of the narrators) Abu `Ammar said: “I differed with the people on this, I said: ‘Screaming.’” Another chain from Ibn `Abbas, from the Prophet (ﷺ) with similar wording, and he said: “From the evil of a vein screaming (with blood).”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بخار اور ہر طرح کے درد کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو سکھاتے کہ اس طرح کہیں: «بسم الله الكبير أعوذ بالله العظيم من شر عرق نعار ومن شر حر النار» یعنی اللہ عظیم کے نام سے، جوش مارنے والی رگ کے شر سے، اور جہنم کی گرمی کے شر سے میں اللہ عظیم کی پناہ مانگتا ہوں ۔ ابوعامر کہتے ہیں کہ میں اس میں لوگوں کے برخلاف «یعّار» کہتا ہوں ۱؎۔
Takhreej
«سنن الترمذی/الطب ۲۶ (۲۰۷۵)،(تحفة الأشراف:۶۰۷۶)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳۰۰۱)
Explanation
اور لوگ «نعارنون» سے کہتے ہیں یعنی جوش مارنے والا، اور «یعار» کے معنی بدخلق، سخت اور سرکش کے ہیں۔
It was narrated from ‘Umair that he heard Junadah bin Abu Umayyah say:
“I heard ‘Ubadah bin Samit say: ‘Jibra’il (as) came to the Prophet (ﷺ) when he was suffering from fever and said: ‘Bismillahi arqika, min kulli shay’in yu’dhika, min hasadi hasidin, wa min kulli ‘aynin, Allahu yashfika (In the Name of Allah I perform Ruqyah for you, from everything that is harming you; from the envy of the envier and from every evil eye, may Allah heal you).’”
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بخار تھا، تو انہوں نے کہا: «بسم الله أرقيك من كل شيء يؤذيك من حسد حاسد ومن كل عين الله يشفيك» یعنی اللہ کے نام سے میں آپ پر دم کرتا ہوں، ہر اس چیز سے جو آپ کو اذیت دے، حاسد کے حسد سے، اور ہر نظر بد سے، اللہ تعالیٰ آپ کو شفاء عطا کرے ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۵۰۸۱، ومصباح الزجاجة:۱۲۳۰)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۳۲۳)
It was narrated from ‘Aishah that the Prophet (ﷺ) used to blow when performing Ruqyah.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دعا پڑھ کر ( منتر ) کو پھونکا کرتے تھے ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۶۶۰۳)
Explanation
یعنی دعا پڑھ کر اپنے اوپر پھونک لیتے تھے، یا دوسرے پر پڑھ کر پھونکتے تھے، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جھاڑ پھونک جائزہے، بشرطیکہ وہ کتاب و سنت سے ثابت دعاؤوں کے ذریعے ہو۔
It was narrated from ‘Aishah:
“Whenever the Prophet (ﷺ) fell ill, he would recite the Mu’awwidhat and blow, and when his pain grew worse, I would recite over him and wipe his hand over him, hoping for its blessing.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار پڑے تو اپنے اوپر معوذات پڑھتے اور پھونک لیتے، لیکن جب آپ کا مرض شدت اختیار کر گیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر پڑھتی اور برکت کی امید سے آپ ہی کا ہاتھ آپ پر پھیرتی۔
Takhreej
«صحیح البخاری/فصل القرآن ۱۴ (۵۰۱۶)، صحیح مسلم/السلام ۲۰ (۲۱۹۲)، سنن ابی داود/الطب ۱۹ (۳۹۰۲)،(تحفة الأشراف:۱۶۵۸۹)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العین ۴ (۱۰)، مسند احمد (۶/۱۰۴،۱۸۱،۲۵۶،۲۶۳)
It was narrated that Zainab said:
“There was an old woman who used to enter upon us and perform Ruqyah from erysipelas: Contagious disease which causes fever and leaves a red coloration of the skin. We had a bed with long legs, and when ‘Abdullah entered he would clear his throat and make noise. He entered one day and when she heard his voice she veiled herself from him. He came and sat beside me, and touched me, and he found a sting. He said: ‘What is this?’ I said: ‘An amulet against erysipelas.’ He pulled it, broke it and threw it away, and said: ‘The family of ‘Abdullah has no need of polytheism.’ I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: “Ruqyah (i.e., which consist of the names of idols and devils etc.), amulets and Tiwalah (charms) are polytheism.’” “I said: ‘I went out one day and so-and-so looked at me, and my eye began to water on the side nearest him. When I recited Ruqyah for it, it stopped, but if I did not recite Ruqyah it watered again.’ He said: ‘That is Satan, if you obey him he leaves you alone but if you disobey him he pokes you with his finger in your eye. But if you do what the Messenger of Allah (ﷺ) used to do, that will be better for you and more effective in healing. Sprinkle water in your eye and say: Adhhibil-bas Rabban-nas, washfi Antash-Shafi, la shifa’a illa shafi’uka, shafi’an la yughadiru saqaman (Take away the pain, O Lord of mankind, and grant healing, for You are the Healer, and there is no healing but Your healing that leaves no trace of sickness).’”
زینب زوجہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ ہمارے پاس ایک بڑھیا آیا کرتی تھیں، وہ «حمرہ» ۱؎ کا دم کرتی تھیں، ہمارے پاس بڑے پایوں کی ایک چارپائی تھی، اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ جب گھر آتے تو کھنکھارتے اور آواز دیتے، ایک دن وہ گھر کے اندر آئے جب اس بڑھیا نے ان کی آواز سنی تو ان سے پردہ کر لیا، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آ کر میری ایک جانب بیٹھ گئے اور مجھے چھوا تو ان کا ہاتھ ایک گنڈے سے جا لگا، پوچھا: یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: یہ سرخ بادے ( «حمرہ» ) کے لیے دم کیا ہوا گنڈا ہے، یہ سن کر انہوں نے اسے کھینچا اور کاٹ کر پھینک دیا اور کہا: عبداللہ کے گھرانے کو شرک کی حاجت نہیں ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: دم، تعویذ، گنڈے اور ٹونا شرک ہیں ۱؎، ایک دن میں باہر نکلی تو مجھ پر فلاں شخص کی نظر پڑ گئی، تو میری اس آنکھ سے جو اس سے قریب تر تھی آنسو بہہ نکلے، جب میں اس پر دم کرتی تو اس کے آنسو رک جاتے، اور جب میں دم کرنا چھوڑ دیتی تو آنسو بہنے لگتے، انہوں نے کہا: یہی تو شیطان ہے، جب تم اس کی اطاعت کرتی ہو تو وہ تم کو چھوڑ دیتا ہے، اور جب تم اس کی نافرمانی کرتی ہو تو وہ تمہاری آنکھ میں اپنی انگلی چبھو دیتا ہے، لیکن اگر تم وہ عمل کرتیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے موقع پر کیا تو تمہارے حق میں بہتر ہوتا، اور تم ٹھیک ہو جاتیں، تم اپنی آنکھ میں پانی کے چھینٹے مارا کرو، اور یہ دعا پڑھا کرو: «أذهب الباس رب الناس اشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما» اے لوگوں کے رب، مصیبت دور فرما، شفاء عطا کر، تو ہی شفاء عطا کرنے والا ہے، تیری شفاء کے سوا اور کوئی شفاء ہے بھی نہیں، ایسی شفاء دے کہ کوئی بیماری باقی رہ نہ جائے ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۹۶۴۳، مصباح الزجاجة:۱۲۳۱)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطب ۱۷ (۳۸۸۳)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۳۸۱)
Explanation
«حمرۃ»: ایک بیماری جس میں جسم پر سرخ دانے نکل آتے ہیں۔
It was narrated from ‘Imran bin Husain that the Prophet (ﷺ) saw a man with a brass ring on his hand. He said:
“What is this ring?” He said: “It is for Wahinah.”* He said: “Take it off, for it will only increase you in weakness.”
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں پیتل کا ایک کڑا ہے، پوچھا: یہ کیسا کڑا ہے، اس نے جواب دیا: یہ واہنہ ۱؎ کی بیماری سے بچنے کے لیے ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اتارو، اس لیے کہ یہ تمہارے اندر مزید وہن ( کمزوری ) پیدا کر دے گا ۲؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۰۸۰۷، ومصباح الزجاجة:۱۲۳۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۴۴۵
Explanation
«واہنہ»: وہ ریاحی درد ہے جو بازو وغیرہ میں ہوتا ہے جس سے کمزوری محسوس ہوتی ہے۔ ۲؎: تعویذ گنڈا، جادو منتر اور اسی طرح کا ہر وہ عمل جو کتاب اللہ اور سنت رسول سے ثابت نہ ہو حرام و ناجائز ہے۔
It was narrated that Umm Jundub said:
“I saw the Messenger of Allah (ﷺ) stoning the ‘Aqabah Pillar from the bottom of the valley on the Day of Sacrifice, then he went away. A woman from Khath’am followed him, and with her was a son of hers who had been afflicted, he could not speak. She said: ‘O Messenger of Allah! This is my son, and he is all I have left of my family. He has been afflicted and cannot speak.’ The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Bring me some water.’ So it was brought, and he washed his hands and rinsed out his mouth. Then he gave it to her and said: ‘Give him some to drink, and pour some over him, and seek Allah’s healing for him.’” She (Umm Jundub) said: “I met that woman and said: ‘Why don’t you give me some?’ She said: ‘It is only for the sick one.’ I met that woman one year later and asked her about the boy. She said: ‘He recovered and became (very) smart, not like the rest of the people.’”
ام جندب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوم النحر کو بطن وادی میں جمرہ عقبہ کی رمی کرتے دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے تو آپ کے پیچھے پیچھے قبیلہ خثعم کی ایک عورت آئی، اس کے ساتھ ایک بچہ تھا جس پر آسیب تھا، وہ بولتا نہیں تھا، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ میرا بیٹا ہے اور یہی میرے گھر والوں میں باقی رہ گیا ہے، اور اس پر ایک بلا ( آسیب ) ہے کہ یہ بول نہیں پاتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تھوڑا سا پانی لاؤ ، پانی لایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے اور اس میں کلی کی، پھر وہ پانی اسے دے دیا، اور فرمایا: اس میں سے تھوڑا سا اسے پلا دو، اور تھوڑا سا اس کے اوپر ڈال دو، اور اللہ تعالیٰ سے اس کے لیے شفاء طلب کرو ، ام جندب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اس عورت سے ملی اور اس سے کہا کہ اگر تم اس میں سے تھوڑا سا پانی مجھے بھی دے دیتیں، ( تو اچھا ہوتا ) تو اس نے جواب دیا کہ یہ تو صرف اس بیمار بچے کے لیے ہے، ام جندب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اس عورت سے سال بھر بعد ملی اور اس بچے کے متعلق پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ ٹھیک ہو گیا ہے، اور اسے ایسی عقل آ گئی جو عام لوگوں کی عقل سے بڑھ کر ہے۔
It was narrated that ‘Aishah said:
“The Prophet (ﷺ) enjoined killing Dhit-Tufytain* for it takes away the sight and causes miscarriage.” *That means a wicked snake.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دھاری سانپ کو مار ڈالنے کا حکم دیا، اس لیے کہ وہ آنکھ کی بینائی کو زائل کرنے اور عورتوں کے حمل کو گرا دیتا ہے، یہ ایک خبیث سانپ ہے ۱؎۔
it was narrated from Salim, from his father, that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“Kill snakes, and kill Dhit-Tufytain* and the Abtar**, for they take away the sight and cause miscarriage.” *A snake that has two white stripes on its back. **A snake with a short or mutilated tail.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سانپوں کو مار ڈالو، دو دھاری اور دم کٹے سانپ کو ضرور مارو، اس لیے کہ یہ دونوں آنکھ کی بینائی زائل کر دیتے اور حمل کو گرا دیتے ہیں ۔
Takhreej
«صحیح البخاری/بدء الخلق ۱۴ (۳۲۹۷ تعلیقاً)، صحیح مسلم/السلام ۳۷ (۲۲۳۳)،(تحفة الأشراف:۶۹۸۵)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأدب ۱۷۴ (۵۲۵۲)، موطا امام مالک/الإستئذان ۱۲ (۳۷)، مسند احمد (۳/۴۳۰،۴۵۲،۴۵۳)