أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قال: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ رُكُوعُهُ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَسُجُودُهُ وَمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ .
It was narrated from Al-Bara' bin 'Azib that:
The bowing of the Messenger of Allah (ﷺ), and when he raised his head from bowing, and his prostration, and the time between the two prostration, were almost equal in length.
براء بن عازب رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رکوع کرنا، اور رکوع سے سر اٹھانا اور سجدہ کرنا، اور دونوں سجدوں کے درمیان ٹھہرنا، تقریباً برابر برابر ہوتا تھا ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان ۱۲۱ (۷۹۲)، ۱۲۷ (۸۰۱)، ۱۴۰ (۸۲۰)، صحیح مسلم/الصلاة ۳۸ (۴۷۱) مطولاً، سنن ابی داود/الصلاة ۱۴۷ (۸۵۲، ۸۵۴)، سنن الترمذی/الصلاة ۹۲ (۲۷۹، ۲۸۰)، (تحفة الأشراف: ۱۷۸۱)، مسند احمد ۴/۲۸۰، ۲۸۵، ۲۸۸، ۲۹۴، ۲۹۸، سنن الدارمی/الصلاة ۸۰ (۱۳۷۲، ۱۳۷۳)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: ۱۱۹۴، ۱۳۳۳ (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎: اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان ارکان کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کامل اعتدال (اطمینان) کے ساتھ ادا کیا کرتے تھے، صحیحین کی انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں تو یہاں تک ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کے بعد یا دونوں سجدوں کے درمیان اتنا ٹھہرتے کہ کہنے والا یہ تک کہتا (یعنی سوچتا) کہ شاید آپ اگلے رکن میں جانا بھول گئے ہیں۔
1066
Sahih