أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَ السُّودَانُ يَلْعَبُونَ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عِيدٍ فَدَعَانِي، فَكُنْتُ أَطَّلِعُ إِلَيْهِمْ مِنْ فَوْقِ عَاتِقِهِ فَمَا زِلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهِمْ حَتَّى كُنْتُ أَنَا الَّتِي انْصَرَفْتُ .
It was narrated that 'Aishah said:
The black people came and played in front of the Prophet (ﷺ) on the day of 'Eid. He called me and I watched them from over his shoulder, and I continued to watch them until I was the one who moved away.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ عید کے دن حبشی لوگ آئے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھیل کود رہے تھے، آپ نے مجھے بلایا، تو میں انہیں آپ کے کندھے کے اوپر سے دیکھ رہی تھی میں برابر دیکھتی رہی یہاں تک کہ میں ( خود ) ہی لوٹ آئی۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ۱۷۰۹۱) صحیح البخاری/الصلاة ۶۹ (۴۵۴)، العیدین ۲ (۹۵۰)، ۲۵ (۹۸۸)، الجھاد ۸۱ (۲۹۰۷)، المناقب ۱۵ (۲۵۳۰) النکاح ۸۲ (۵۱۹۰)، ۱۱۴ (۵۲۳۶)، صحیح مسلم/العیدین ۴ (۸۹۲)، مسند احمد ۶/۵۶، ۸۳، ۸۵، ۱۱۶، ۱۸۶، ۲۳۳، ۲۴۲، ۲۴۷، ۲۷۰ (صحیح)
1595
Sahih