It was narrated that Ibn 'Abbas said:
I saw the Messenger of Allah (ﷺ) performing Wudu'. He washed his hands, then he rinsed his mouth and nose with one handful of water, washed his face, washed each hand once, and wiped his head and ears once. (One of the narrators) 'Abdul-'Aziz said: Someone who heard from Ibn 'Ajlan told me that he said concerning that: 'And he washed his feet.'
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا، تو اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر ایک ہی چلو سے کلی کی، اور ناک میں پانی ڈالا ۱؎، اور اپنا چہرہ دھویا، اور اپنے دونوں ہاتھ ایک ایک بار دھوئے، اور اپنے سر اور اپنے دونوں کانوں کا ایک بار مسح کیا۔
It was narrated that Ibn 'Abbas said:
The Messenger of Allah (ﷺ) performed Wudu', and he scooped up one handful (of water) and rinsed his mouth and nose. Then he scooped up another handful and washed his face. Then he scooped up another handful and washed his right hand, then another handful and washed his left hand. Then he wiped his head and his ears, the inside with his forefinger and the outside with his thumb. Then he scooped up a handful of water and washed his right foot, and scooped up another handful and washed his left foot.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، تو آپ نے ایک چلو پانی لیا، اور کلی کی، اور ناک میں ڈالا، پھر دوسرا چلو لیا، اور اپنا چہرہ دھویا، پھر ایک اور چلو لیا، اور اپنا دایاں ہاتھ دھویا، پھر ایک اور چلو لیا، اور اپنا بایاں ہاتھ دھویا، پھر اپنے سر اور اپنے دونوں کانوں کے اندرونی حصہ کا شہادت کی انگلی سے، اور ان دونوں کے بیرونی حصہ کا انگوٹھے سے مسح کیا، پھر ایک اور چلو لیا، اور اپنا دایاں پاؤں دھویا، پھر ایک اور چلو لیا، اور اپنا بایاں پاؤں دھویا۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر رقم: ۱۰۱، (تحفة الأشراف: ۵۹۷۸) (حسن صحیح)
It was narrated from 'Abdullah As-Sunabihi that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
When the believing slave performs Wudu' and rinses his mouth, his sins come out from his mouth. When he sniffs water into his nose and blows it out, his sins come from his nose. When he washes his face, his sins come out from his face, even from beneath his eyelashes. When he washes his hands, his sins come out from his hands, even from beneath his fingernails. When he wipes his head, his sins come out from his head, even from his ears. When washes his feet, his sins come from his feet, even from beneath his toenails. Then his walking to the Masjid and his Salah will earn extra merit for him.
عبداللہ صنابحی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بندہ مومن وضو کرتے ہوئے کلی کرتا ہے تو اس کے منہ کے گناہ نکل جاتے ہیں، جب ناک جھاڑتا ہے تو اس کی ناک کے گناہ نکل جاتے ہیں، جب اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے کے گناہ نکل جاتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اس کی دونوں آنکھ کے پپوٹوں سے نکلتے ہیں، پھر جب اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے ہاتھ کے گناہ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ اس کے دونوں ہاتھ کے ناخنوں کے نیچے سے نکلتے ہیں، پھر جب اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو گناہ اس کے سر سے نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ اس کے دونوں کانوں سے نکل جاتے ہیں پھر جب وہ اپنے دونوں پاؤں دھوتا ہے تو اس کے دونوں پاؤں سے گناہ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ اس کے دونوں پاؤں کے ناخن کے نیچے سے نکلتے ہیں، پھر اس کا مسجد تک جانا اور اس کا نماز پڑھنا اس کے لیے نفل ہوتا ہے ۔ قتیبہ کی روایت میں «عن الصنابحي أن رسول اللہ رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم قال» کے بجائے «عن الصنابحي أن النبي صلى اللہ عليه وسلم قال» ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الطہارة ۶ (۲۸۲)، موطا امام مالک/فیہ ۶ (۳۰)، (تحفة الأشراف: ۹۶۷۷)، مسند احمد ۴/۳۴۸، ۳۴۹ (صحیح)
Explanation
وضاحت: گناہ نکل جاتے ہیں اس سے مراد صغائر (گناہ صغیرہ) ہیں نہ کہ کبائر (گناہ کبیرہ) اس لیے کہ کبائر بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتے۔ مصنف نے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ دونوں کان سر ہی کا حصہ ہیں کیونکہ سر پر مسح کرنے سے دونوں کانوں سے خطاؤں کا نکلنا اسی صورت میں صحیح ہو گا جب وہ سر ہی کا حصہ ہوں، اس باب میں مصنف کو «الأذنان من الرأس» والی مشہور روایت ذکر کرنی چاہیئے تھی لیکن مصنف نے اس سے صرف نظر کیا کیونکہ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ حماد کو اس روایت کے سلسلہ میں شک ہے کہ یہ مرفوع ہے یا موقوف، نیز اس کی سند بھی قوی نہیں ہے، گرچہ متعدد طرق سے مروی ہونے کی وجہ سے حسن درجہ کو پہنچ گئی ہے، مصنف کا اس روایت سے اعراض کر کے مذکورہ بالا روایت سے استدلال کرنا ان کی دقت نظری کی دلیل ہے۔
It was narrated that Bilal said:
I saw the Prophet (ﷺ) wiping over the Khuff and the Khimar. [1] A head covering not limited to the common usage of turban as is clear from the first narration.
بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چمڑے کے موزوں اور پگڑی پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔
وضاحت: ۱؎: حدیث میں لفظ «خمار» آیا ہے اس سے مراد پگڑی ہی ہے، اس لیے کہ «خمار» کے معنی ہیں جس سے سر ڈھانپا جائے اور مرد اپنا سر پگڑی ہی سے ڈھانپتا ہے لہٰذا یہاں پگڑی ہی مراد ہے۔
It was narrated from Hamzah bin Al-Mughirah bin Shu'bah that his father said:
The Messenger of Allah (ﷺ) stayed behind, and I stayed with him. When he had relieved himself he said: 'Do you have any water with you?' I brought some water to him, and he washed his hands and face, then he started trying to uncover his arms, but the sleeves of his Jubbah were too tight, so he threw it over his shoulders and washed his arms and wiped over his forehead and 'Imamah, and over his Khuff.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کسی سفر میں ) لشکر سے پیچھے ہو گئے، تو میں بھی آپ کے ساتھ پیچھے ہو گیا، تو جب آپ قضائے حاجت سے فارغ ہوئے تو پوچھا: کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ تو میں لوٹے میں پانی لے کر آپ کے پاس آیا، تو آپ نے اپنی دونوں ہتھیلیاں دھوئیں اور اپنا چہرہ دھویا، پھر آپ اپنے دونوں بازؤوں کو کھولنے لگے تو جبہ کی آستین تنگ ہو گئی، تو آپ نے ( ہاتھ کو اندر سے نکالنے کے بعد ) اسے ( آستین کو ) اپنے دونوں کندھوں پر ڈال لیا، پھر اپنے دونوں بازو دھوئے، اور اپنی پیشانی، پگڑی اور موزوں پر مسح کیا۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الطہارة ۲۳ (۲۷۴)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ۱۴۳ (۱۲۳۶)، (تحفة الأشراف: ۱۱۴۹۵)، موطا امام مالک/الطہارة ۸ (۴۲)، مسند احمد ۴/۲۴۸، ۲۵۱، سنن الدارمی/الصلاة ۸۱ (۱۳۷۵) (صحیح)
Al-Mughirah bin Shu'bah said:
There are two things which I never asked anyone about after I saw the Messenger of Allah (ﷺ). He was with us on a journey and he went away to relieve himself, then he came and performed Wudu', and he wiped over his forehead and two sides of his 'Imamah, and he wiped over his Khuffs. He said: And (the other issue) the Imam's Salah behind one of his followers. I saw the Messenger of Allah (ﷺ) when he was on a journey and time for prayer came. The Prophet (ﷺ) could not join them, so they called the Iqamah and they asked Ibn 'Awf to lead them in prayer. Then the Messenger of Allah (ﷺ) came and offered the remainder of the prayer behinf Ibn 'Awf, then when Ibn 'Awf said the Salah, the Prophet (ﷺ) stood up and completed what he had missed (of the prayer).
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: دو باتیں ایسی ہیں کہ میں ان کے متعلق کسی سے نہیں پوچھتا، اس کے بعد کہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں کرتے ہوئے دیکھ لیا ہے، ( پہلی چیز یہ ہے کہ ) ایک سفر میں ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تو آپ قضائے حاجت کے لیے جنگل کی طرف نکلے، پھر واپس آئے تو آپ نے وضو کیا، اور اپنی پیشانی اور پگڑی کے دونوں جانب کا مسح کیا، اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا، ( دوسری چیز ) حاکم کا اپنی رعایا میں سے کسی آدمی کے پیچھے نماز پڑھنا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ ایک سفر میں تھے کہ نماز کا وقت ہو گیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکے رہ گئے، چنانچہ لوگوں نے نماز کھڑی کر دی اور ابن عوف رضی اللہ عنہ کو آگے بڑھا دیا، انہوں نے نماز پڑھائی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اور ابن عوف رضی اللہ عنہ کے پیچھے جو نماز باقی رہ گئی تھی پڑھی، جب ابن عوف رضی اللہ عنہ نے سلام پھیرا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور جس قدر نماز فوت ہو گئی تھی اسے پوری کی۔
It was narrated that 'Abdullah bin 'Amr said:
The Messenger of Allah (ﷺ) saw some people whose heels were still dry, so he said: 'Woe to the heels from the Fire. Perform Wudu' properly.'
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو وضو کرتے دیکھا، تو دیکھا کہ ان کی ایڑیاں ( خشک ہونے کی وجہ سے ) چمک رہی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو میں ایڑیوں کے دھونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے جہنم کی تباہی ہے، وضو کامل طریقہ سے کرو ۔
It was narrated that 'Aishah (may Allah be pleased with her) mentioned:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to like to start with the right whenever he could, when purifying himself and when putting on shoes or combing his hair. (One of the narrators) Shu'bah said: Then I heard Al-Ash'ath in Wasit, saying that he liked to start with the right, and he preferred that in all his affaris. Then I heard him in Al-Kufah saying that he liked to start with the right whenever he could.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ذکر کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وضو کرنے میں، جوتا پہننے میں، اور کنگھی کرنے میں طاقت بھر داہنی جانب کو پسند کرتے تھے۔ شعبہ کہتے ہیں: پھر میں نے اشعث سے مقام واسط میں سنا وہ کہہ رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام امور کو داہنے سے شروع کرنے کو پسند فرماتے تھے، پھر میں نے کوفہ میں انہیں کہتے ہوئے سنا کہ آپ حتیٰ المقدور داہنے سے شروع کرنے کو پسند کرتے تھے ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الوضوء ۳۱ (۱۶۸)، الصلاة ۴۷ (۴۲۶)، الأطعمة ۵ (۵۳۸۰)، اللباس ۳۸ (۵۸۵۴)، و ۷۷ (۵۹۲۶)، صحیح مسلم/الطہارة ۱۹ (۲۶۸)، سنن ابی داود/اللباس ۴۴ (۴۱۴۰)، سنن الترمذی/الصلاة۳۱۶ (۶۰۸)، ۱۰ (۸۰)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ۴۲ (۴۰۱)، (تحفة الأشراف: ۱۷۶۵۷)، مسند احمد ۶/۹۴، ۱۳۰، ۱۴۷، ۱۸۷، ۱۸۸، ۲۰۲، ۲۱۰، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ۴۲۱، ۵۰۶۲، ۵۲۴۲ (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎: شعبہ کے اس قول کا ماحصل یہ ہے کہ میں نے اس روایت کو اشعث سے درج ذیل تینوں طرح سے سنا ہے۔
Al-Qaisi narrated that he was with the Messenger of Allah (ﷺ) on a journey, and some water was brought to him. He poured some onto his hands from the vessel and washed them once, then he washed his face and each arm once, and he washed his feet with both hands.
عمارہ کہتے ہیں: مجھ سے قیسی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ کے پاس پانی لایا گیا تو آپ نے اسے برتن سے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈالا ۱؎ اور انہیں ایک بار دھویا، پھر اپنے چہرے اور دونوں بازؤوں کو ایک ایک بار دھویا، پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے دونوں پیروں کو دھویا۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ۱۵۶۴۸) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ‘’عمارہ بن عثمان بن حنیف ‘‘ لین الحدیث ہیں)
Explanation
وضاحت: ۱؎: حدیث میں «فقال على يديه» وارد ہے عرب قول کو مختلف افعال و اعمال کے لیے استعمال کرتے ہیں مثلاً «قال بيده» سے لیا «قال برجله» سے چلا اور «قالت له العينان» سے اشارہ کیا مراد لیتے ہیں، اسی طرح «قال على يديه من الإنائ» سے برتن سے پانی دونوں ہاتھوں پر انڈیلا مراد ہے۔
It was narrated from 'Asim bin Laqit that his father said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: When you perform Wudu', do so properly, and wash in between the fingers (Al-Asabi'). [2] [1] Al-Asabi' is plural meaning fingers as well as toes, and the author mentioned only one narration on the topic whereas some of them clarify of the hands and feet. So he mentioned the general wording amids chapters how to wash the feet. [2] Part of this narration preceded under No. 87.
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم وضو کرو تو کامل وضو کرو، اور انگلیوں کے درمیان خلال کرو ۔
It was narrated that Abu Hayyah Al-Wadi'i said:
I saw 'Ali performing Wudu'. He washed his hands three times, and rinsed his mouth three times and his nose three times, and he washed his face three times and each forearm three times. Then he wiped his head and washed each foot three times. Then he said: 'This is the Wudu' of the Prophet (ﷺ).'
ابوحیہ وادعی کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے وضو کیا تو اپنے دونوں پہنچوں کو تین بار دھویا، تین بار کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، تین بار اپنا چہرہ اور تین تین بار اپنے دونوں بازو دھوئے، اور اپنے سر کا مسح کیا، اور تین تین بار اپنے دونوں پاؤں دھوئے، پھر کہا: یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو ہے۔
It was narrated that Humran the freed slave of 'Uthman said:
Uthman called for water for Wudu'. He washed his hands three times, then he rinsed his mouth and nose, then he washed his face three times, then washed his right hand up to the elbow three times. Then he washed his left hand likewise. Then he washed his left hand likewise. Then he wiped his head, then he washed his right foot up to the ankle three times, and he washed his left foot likewise, and he washed his left foot likewise. Then he said: 'I saw the Messenger of Allah (ﷺ) performing Wudu' as I have just done.' Then he said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever performs Wudu' as I have just done, then prayes two Rak'ahs without letting his thoughts wander, his previous sins will be forgiven.'
حمران مولی عثمان سے روایت ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کا پانی مانگا، اور وضو کیا، تو انہوں نے اپنے دونوں ہتھیلی تین بار دھو لی، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر اپنا چہرہ تین بار دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ کہنی تک تین بار دھویا، پھر اسی طرح اپنا بایاں ہاتھ دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنا دایاں پاؤں ٹخنے تک تین بار دھویا، پھر اسی طرح بایاں پاؤں دھویا، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے میرے اسی وضو کی طرح وضو کیا، پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو میرے اس وضو کی طرح وضو کرے، پھر کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پڑھے، اور اپنے دل میں دوسرے خیالات نہ لائے تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیئے جائیں گے ۱؎۔
It was narrated that 'Ubaid bin Juraih said:
I said to Ibn 'Umar: 'I see you are wearing Sibtiyyah sandals, [1] and you performed Wudu' in them.' He said: 'I saw the Messenger of Allah (ﷺ) wearing then and performing Wudu' in them.' [1] Made of hairless, tanned leather.
عبید بن جریج کہتے ہیں: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میں دیکھتا ہوں کہ آپ چمڑے کی ان سبتی جوتوں کو پہنتے ہیں، اور اسی میں وضو کرتے ہیں؟ ۱؎ تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں پہنتے اور ان میں وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے، سبتی جوتوں سے مراد بالوں کے بغیر نری کے چمڑے کی جوتیاں ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الوضوء ۳۰ (۱۶۶) مطولاً، اللباس ۳۷ (۵۸۵۱) مطولاً، صحیح مسلم/الحج ۵ (۱۱۸۷)، سنن ابی داود/الحج ۲۱ (۱۷۷۲) مطولاً، سنن الترمذی/الشمائل ۱۰ (۷۴)، سنن ابن ماجہ/اللباس ۳۴ (۳۶۲۶)، موطا امام مالک/الحج ۹ (۳۱)، مسند احمد ۲/۱۷، ۶۶، ۱۱۰، ۱۳۸ (تحفة الأشراف: ۷۳۱۶) (صحیح) (یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: ۲۷۶۱، ۲۹۵۳، ۵۲۴۵)
It was narrated from Jarir bin 'Abdullah that he performed Wudu' and wiped over his Khuffs. it was said to him:
Are you wiping (over you Khuffs)? He said: I saw the Messenger of Allah (ﷺ) wiping (over his Khuffs). The companions of 'Abdullah liked what Jarir said, because Jarir became Muslim shortly before the Prophet (ﷺ) died.[1] [1]In the narration recorded by At-Tirmidhi Nos. 93,94) this comment is attributed to Ibrahim, one of the narrators.
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے وضو کیا، اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا، تو ان سے کہا گیا: کیا آپ مسح کرتے ہیں؟ اس پر انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسح کرتے دیکھا ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة ۲۵ (۳۸۷)، صحیح مسلم/الطہارة ۲۲ (۲۷۲)، سنن الترمذی/فیہ ۷۰ (۹۳)، سنن ابن ماجہ/فیہ ۸۴ (۵۴۳)، (تحفة الأشراف: ۳۲۳۵)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/فیہ ۵۹ (۱۵۴)، مسند احمد ۴/۳۵۸، ۳۶۱، ۳۶۴، ویأتي عند المؤلف برقم: ۷۷۵ (صحیح)
It was narrated that Usamah bin Zaid said:
The Messenger of Allah (ﷺ) and Bilal entered Al-Aswaf [1] and he went to relieve himself and then came out. Usamah said: I asked Bilal: 'What did he do?' Bilal said: 'The Prophet (ﷺ) went to relieve himself, then he performed Wudu', so he washed his hands and face, and wiped his head and he wiped over his Khuffs, then prayed.'
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور بلال رضی اللہ عنہ اسواف ۱؎ میں داخل ہوئے، تو آپ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، پھر نکلے، اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تو میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا؟ بلال رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، چنانچہ اپنا چہرہ اور اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، اور اپنے سر کا مسح کیا، اور دونوں موزوں پر مسح کیا، پھر نماز ادا کی۔