It was narrated that Al-Mughirah bin Shu'bah said:
The Prophet (ﷺ) went out to relieve himself, and when he came back, I met him with a vessel (of water). I poured some for him and he washed his hands, then he washed his face. Then he wanted to wash his forearms but his Jubbah was too tight, so he brought them out from beneath the Jubbah to wash them, and he wiped over his Khuffs, then he led us in prayer.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلے، جب آپ لوٹے تو میں ایک لوٹے میں پانی لے کر آپ سے ملا، اور میں نے ( اسے ) آپ پر ڈالا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر اپنا چہرہ دھویا، پھر آپ اپنے دونوں بازو دھونے چلے تو جبہ تنگ پڑ گیا، تو آپ نے انہیں جبے کے نیچے سے نکالا اور انہیں دھویا، پھر اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا، پھر ہمیں نماز پڑھائی، ( پھر ہمیں نماز پڑھائی کا ٹکڑا صحیح نہیں ہے، جیسا کہ اوپر بیان ہوا ) ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة ۷ (۳۶۳)، ۲۵ (۳۸۸) مختصراً، الجہاد ۹۰ (۲۹۱۸)، اللباس ۱۰ (۵۷۹۸)، صحیح مسلم/الطہارة ۲۳ (۲۷۴)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ۳۹ (۳۸۹)، مسند احمد ۴/ ۲۴۷، ۲۵۰، (تحفة الأشراف: ۱۱۵۲۸) (صحیح الاسناد) (لیکن ’’صلى بنا‘‘ کا ٹکڑا صحیح نہیں ہے کیونکہ اس قصہ میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پیچھے صلاة پڑھی تھی)
It was narrated from Al-Mughirah bin Shu'bah that the Messenger of Allah (ﷺ) went out to relieve himself, and Al-Mughirah followed him, (carrying) a vessel of water. He poured water for him when he had finished relieving himself, and he performed Wudu' and wiped over his Khuffs.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلے، مغیرہ ایک برتن لے کر جس میں پانی تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے گئے، اور آپ پر پانی ڈالا، یہاں تک ۱؎ کہ آپ اپنی حاجت سے فارغ ہوئے، پھر وضو کیا، اور دونوں موزوں پر مسح کیا ۲؎۔
وضاحت: ۱؎: مسلم کی روایت میں «حتیٰ فرغ من حاجتہ» کے بجائے «حین فرغ من حاجتہ» ہے یعنی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حاجت سے فارغ ہوئے تو میں نے آپ پر پانی ڈالا تو آپ نے وضو کیا، اس کی روسے «حتی» کا لفظ راوی کا سہو ہے، صحیح «حین» ہے، اور نووی نے تاویل یہ کی ہے کہ یہاں حاجت سے مراد وضو ہے، لیکن اس صورت میں اس کے بعد «فتوضأ» کا جملہ بے موقع ہو گا۔ ۲؎: اس حدیث سے وضو میں تعاون لینے کا جواز ثابت ہوا، جن حدیثوں میں تعاون لینے کی ممانعت آئی ہے وہ حدیثیں صحیح نہیں ہیں۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: سَمِعْتُ إِسْمَاعِيلَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، قال: سَمِعْتُ حَمْزَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، قال: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ: تَخَلَّفْ يَا مُغِيرَةُ وَامْضُوا أَيُّهَا النَّاسُ، فَتَخَلَّفْتُ وَمَعِي إِدَاوَةٌ مِنْ مَاءٍ وَمَضَى النَّاسُ، فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ، فَلَمَّا رَجَعَ ذَهَبْتُ أَصُبُّ عَلَيْهِ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ رُومِيَّةٌ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ، فَأَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ يَدَهُ مِنْهَا فَضَاقَتْ عَلَيْهِ فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ .
أخبرنا إسحاق بن إبراهيم حدثنا وكيع أنبأنا سفيان عن أبي قيس عن هزيل بن شرحبيل عن المغيرة بن شعبة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مسح على الجوربين والنعلين . قال أبو عبد الرحمن ما نعلم أحدا تابع أبا قيس على هذه الرواية والصحيح عن المغيرة أن النبي صلى الله عليه وسلم مسح على الخفين .
Hamzah bin Al-Mughirah bin Shu'bah (narrated) that his father said:
I was with the Prophet (ﷺ) on a journey, and he said: 'Stay back O Mughirah! Go ahead, O people!' So I went back, and I had with me a vessel of water. The people went ahead, and there the Messenger of Allah (ﷺ) relieved himself. when he came back I went and poured water for him. He was wearing a Roman Jubbah with narrow sleeves, and he wanted to expose his hands (to wash them) but the sleeves were too tight, so he brought his hands out from beneath the Jubbah and washed his head, and wiped over his Khuffs.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا تو آپ نے فرمایا: مغیرہ! تم پیچھے ہو جاؤ اور لوگو! تم چلو ، چنانچہ میں پیچھے ہو گیا، میرے پاس پانی کا ایک برتن تھا، لوگ آگے نکل گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، جب واپس آئے تو میں آپ پر پانی ڈالنے لگا، آپ تنگ آستین کا ایک رومی جبہ پہنے ہوئے تھے، آپ نے اس سے اپنا ہاتھ نکالنا چاہا مگر جبہ تنگ ہو گیا، تو آپ نے جبہ کے نیچے سے اپنا ہاتھ نکال لیا، پھر اپنا چہرہ اور اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، اور اپنے سر کا مسح کیا، اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پاتابوں اور جوتوں پر مسح کیا۔
It was narrated that Safwan bin 'Assal said:
The Prophet (ﷺ) granted us a dispensation when traveling, allowing us not to take off our Khuffs for three days and three nights.
صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بحالت سفر ہم کو تین دن اور تین راتیں اپنے موزے نہ اتارنے کی اجازت دی تھی۔
It was narrated that Zirr said:
I asked Safwan bin 'Assal about wiping over the Khuffs, and he said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) used to tell us, when we were travelling, to wipe over our Khuffs and not take them off for three nights in the event of defecating, urinating or sleeping; only in the case of Janabah.'
زر کہتے ہیں کہ میں نے صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ سے موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھا؟ تو انہوں نے کہا: جب ہم مسافر ہوتے تو ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیتے کہ ہم اپنے موزوں پر مسح کریں، اور اسے تین دن تک پیشاب، پاخانہ اور نیند کی وجہ سے نہ اتاریں سوائے جنابت کے۔
It was narrated that 'Ali (may Allah be pleased with him) said:
The Messenger of Allah (ﷺ) set a time limit of three days and three nights for the traveler, and one day and one night for the resident - meaning, with regards to wiping (over the Khuffs).
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں، اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات کی تحدید فرمائی ہے ۱؎یعنی ( موزوں پر ) مسح کے سلسلے میں۔
It was narrated that Shuraih bin Hani' said:
I asked 'Aishah about wiping over the Khuffs and she said: 'Go to 'Ali, for he knows more about that than I do.' So I went to 'Ali and asked him about wiping (over the Khuffs) and he said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) used to tell us to wipe (over the Khuffs) for one day and one night for the resident, and three for the traveler.'
شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے موزوں پر مسح کے متعلق دریافت کیا، تو انہوں نے کہا: علی رضی اللہ عنہ سے جا کر پوچھو، وہ اس بارے میں مجھ سے زیادہ جانتے ہیں، چنانچہ میں علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے مسح کے متعلق دریافت کیا؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ مقیم ایک دن ایک رات، اور مسافر تین دن اور تین راتیں مسح کرے ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر: ما قبلہ (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎: مالک سے مشہور یہ روایت ہے کہ مسح کی کوئی مدت مقرر نہیں جب تک چاہے مسح کرے، ان کی دلیل ابی بن عمارہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جس کی تخریج ابوداؤد نے کی ہے لیکن وہ ضعیف ہے، لائق استدلال نہیں۔
An-Nazzal bin Sabrah said:
I saw 'Ali (may Allah be please with him) praying Zuhr, then he sat to tend to the people's needs, and when the time for 'Asr came, a vessel of water was brought to him. He took a handful of it and wiped his face, forearms, head and feet with it, then he took what was left and drank standing up. He said: 'People dislike this, but I saw the Messenger of Allah (ﷺ) doing it. This is the Wudu' of one who has not committed Hadath.
عبدالملک بن میسرہ کہتے ہیں کہ میں نے نزال بن سبرہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ نے ظہر کی نماز پڑھی، پھر لوگوں کی ضرورتیں پوری کرنے یعنی ان کے مقدمات نپٹانے کے لیے بیٹھے، جب عصر کا وقت ہوا تو پانی کا ایک برتن لایا گیا، آپ نے اس سے ایک ہتھیلی میں پانی لیا، پھر اسے اپنے چہرہ، اپنے دونوں بازو، سر اور دونوں پیروں پر ملا ۱؎، پھر بچا ہوا پانی لیا اور کھڑے ہو کر پیا، اور کہنے لگے کہ کچھ لوگ اسے ناپسند کرتے ہیں حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے، اور یہ ان لوگوں کا وضو ہے جن کا وضو نہیں ٹوٹا ہے۔
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی باوضو ہو اور نماز کا وقت آ جائے، اور وہ ثواب کے لیے تازہ وضو کرنا چاہے تو تھوڑا سا پانی لے کر سارے اعضاء پر مل لے تو کافی ہو گا، پورا وضو کرنا اور ہر عضو کے لیے الگ الگ پانی لینا ضروری نہیں۔
It was narrated from 'Amr bin 'Amir that Anas mentioned:
The Messenger of Allah (ﷺ) was brought a small vessel (of water) and he performed Wudu'. I said: Did the Messenger of Allah (ﷺ) perform Wudu' for every prayer? He said: Yes. He said: What about you? He said: We used to pray all the prayers so long as we did not commit Hadath. He said: And we used to pray all the prayers with (one) Wudu'.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چھوٹا سا برتن لایا گیا، تو آپ نے ( اس سے ) وضو کیا، عمرو بن عامر کہتے ہیں: میں نے پوچھا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں ۱؎! اس پر ( عمرو بن عامر ) نے پوچھا: اور آپ لوگ؟ کہا: ہم لوگ جب تک وضو نہیں توڑتے نماز پڑھتے رہتے تھے، نیز کہا: ہم لوگ کئی نمازیں ایک ہی وضو سے پڑھتے تھے۔
وضاحت: ۱؎: یعنی آپ کی عام عادت مبارکہ یہی تھی، اگرچہ کبھی کبھی ایک وضو سے دو اور اس سے زیادہ نمازیں بھی آپ نے پڑھی ہیں، نیز یہ بھی احتمال ہے کہ انس رضی اللہ عنہ نے اپنی معلومات کے مطابق جواب دیا ہو، شاید انہیں اس کا علم نہ رہا ہو کہ آپ نے ایک وضو سے کئی نمازیں بھی پڑھی ہیں۔
It was narrated from Ibn 'Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) came out from the toilet and food was brought to him. They said:
Shall we not bring water for Wudu'? He said: I have only been commanded to perform Wudu' when I want to pray.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کی جگہ سے نکلے تو آپ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا، تو لوگوں نے پوچھا: کیا ہم لوگ وضو کا پانی نہ لائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: مجھے وضو کرنے کا حکم اس وقت دیا گیا ہے جب میں نماز کے لیے کھڑا ہوں ۔
It was narrated from Ibn Buraidah that his father said:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to perform Wudu' for every prayer. One the day of the Conquest (of Makkah), he offered all the prayers with one Wudu'. 'Umar said to him: 'You have done something that you never did before.' He said: 'I did that deliberately, O 'Umar.'
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، تو جب فتح مکہ کا دن آیا تو آپ نے کئی نمازیں ایک ہی وضو سے ادا کیں، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا: آپ نے ایسا کام کیا ہے جو آپ نہیں کرتے تھے ۱؎؟ فرمایا: عمر! میں نے اسے عمداً ( جان بوجھ کر ) کیا ہے ۲؎۔
وضاحت: ۱؎: یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم عام طور سے ایسا نہیں کرتے تھے ورنہ فتح مکہ سے پہلے بھی آپ کا ایسا کرنا ثابت ہے۔ ۲؎: تاکہ میری امت کو یہ معلوم ہو جائے کہ ایک وضو سے کئی نمازیں ادا کرنا درست ہے۔
It was narrated from Al-Hakam, from his father, that when the Messenger of Allah (ﷺ) performed Wudu', he would take a handful of water and do this with it. Shu'bah described it:
He would sprinkle his private parts with it. [1] Shaikh Ibn As-Sunni said: Al-Hakam (one of the narrators) is Ibn Sufyan Ath-Thaqafi. [1] The purpose is to ward off devilish whispers lest the person think any emission has taken place, and thus think that his Wudu' has been invalidated.
سفیان ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تھے تو ایک چلو پانی لیتے اور اس طرح کرتے، اور شعبہ نے کیفیت بتائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنی شرمگاہ پر چھڑکتے، ( خالد بن حارث کہتے ہیں ) میں نے اس کا ذکر ابراہیم سے کیا تو انہیں یہ بات پسند آئی۔ ابن السنی کہتے ہیں کہ حکم سفیان ثقفی رضی اللہ عنہ کے بیٹے ہیں۔
It was narrated that Al-Hakam bin Sufyan said:
I saw the Messenger of Allah (ﷺ) performing Wudu' and sprinkling his private area (with water).
حکم بن سفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا، اور اپنی شرمگاہ پر پانی کا چھینٹا مارا۔ احمد کی روایت میں «و نضح فرجه» کی جگہ «فنضح فرجه» ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎: حکم بن سفیان ان کے نام میں اضطراب ہے، حکم بن سفیان، سفیان بن حکم، ابن ابی سفیان یا أبو الحکم کئی طرح سے آیا ہے، نیز کسی کی روایت میں «عن أبيه» ہے اور کسی کی روایت میں نہیں ہے، اس لیے ان کی یہ روایت اضطراب کے سبب ضعیف ہے،(تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: تحفۃ الأشراف:۳۴۲۰)لیکن ابن ماجہ میں مروی زید اور جابر رضی اللہ عنہم کی روایتوں سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہو جاتی ہے۔
It was narrated that Abu Hayyah said:
I saw 'Ali performing Wudu', washing each part twice. Then he stood up and drank the water that was left over from his Wudu' and said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) did as I have done.'
ابوحیہ کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا ( تو اپنے اعضاء ) تین تین بار ( دھوئے ) پھر وہ کھڑے ہوئے، اور وضو کا بچا ہوا پانی پیا، اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( بھی ) اسی طرح کیا ہے جیسے میں نے کیا۔
It was narrated from 'Awn bin Abi Juhaifah that his father said:
I saw the Prophet (ﷺ) in Al-Batha'. Bilal brought out the water left over from his Wudu' and the people rushed toward it and I got some of it. Then a short spear was planted in the ground and he led the people in prayer, while donkeys, dogs and women were passing in front of him.
ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بطحاء میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، بلال رضی اللہ عنہ نے آپ کے وضو کا پانی ( جو برتن میں بچا تھا ) نکالا، تو لوگ اسے لینے کے لیے جھپٹے، میں نے بھی اس میں سے کچھ لیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لکڑی نصب کی، تو آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور آپ کے سامنے سے گدھے، کتے اور عورتیں گزر رہی تھیں۔
Ibn Al-Munkadir said:
I heard Jabir say: 'I fell sick, and the Messenger of Allah (ﷺ) and Abu Bakr came to visit me. They found me unconscious, so the Messenger of Allah (ﷺ) performed Wudu' and poured his Wudu' water over me.'
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بیمار ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ میری عیادت کے لیے آئے، دونوں نے مجھے بیہوش پایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پھر آپ نے اپنے وضو کا پانی میرے اوپر ڈالا ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المرضی ۵ (۵۶۵۱) مطولاً، الفرائض ۱ (۶۷۲۳) مطولاً، الاعتصام ۸ (۷۳۰۹)، صحیح مسلم/الفرائض ۲ (۱۶۱۶) مطولاً، سنن ابی داود/فیہ ۲ (۲۸۸۶) مطولاً، سنن الترمذی/الفرائض ۷ (۲۰۹۷)، التفسیر ۵ (۳۰۱۵)، سنن ابن ماجہ/الفرائض، الجنائز ۱ (۱۴۳۶)، ۵ (۲۷۲۸)، (تحفة الأشراف: ۳۰۲۸)، مسند احمد ۳/۳۰۷، سنن الدارمی/الطہارة ۵۶ (۷۶۰) (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎: یعنی جو پانی وضو سے بچ رہا تھا اسے میرے اوپر ڈالا، یہ تفسیر باب کے مناسب ہے، یا جو پانی وضو میں استعمال ہوا تھا اس کو اکٹھا کر کے ڈالا، ایسی صورت میں کہا جائے گا کہ جب ماء مستعمل سے نفع اٹھانا جائز ہے تو بچے ہوئے پانی سے نفع اٹھانا بطریق اولیٰ جائز ہو گا۔
It was narrated from Abu Al-Malih, that his father said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Allah does not accept Salah without purification, nor charity from Ghulul.' [1] [1] That which is taken from the spoils of war prior to their distribution.
ابوالملیح کے والد (اسامہ بن عمیر) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ بغیر وضو کے کوئی نماز قبول نہیں کرتا، اور نہ خیانت کے مال کا صدقہ قبول کرتا ہے ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطہارة ۳۱ (۵۹)، سنن ابن ماجہ/فیہ ۲ (۲۷۱)، (تحفة الأشراف ۱۳۲)، مسند احمد ۵/۷۴، ۷۵، سنن الدارمی/الطہارة ۲۱ (۷۱۳)، ویأتي عندالمؤلف برقم: ۲۵۲۵، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة ۲ (۲۲۴)، عن ابن عمر، مسند احمد ۲/۲۰، ۳۹، ۵۱، ۵۷ وغیرہما (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎: یعنی مال غنیمت میں سے چرا کر اگر کوئی صدقہ دے تو وہ صدقہ مقبول نہ ہو گا، یہی حکم ہر مال حرام کا ہے۔
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, that his grandfather said:
A Bedouin came to the Prophet (ﷺ) to ask him about Wudu', so he showed him how to perform Wudu', washing each part three times, then he said: 'This is Wudu'. Whoever does more than that has done badly, done to extremes and done wrong.'
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دیہاتی آیا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وضو کے بارے میں پوچھ رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تین تین بار اعضاء وضو دھو کر کے دکھائے، پھر فرمایا: اسی طرح وضو کرنا ہے، جس نے اس پر زیادتی کی اس نے برا کیا، وہ حد سے آگے بڑھا اور اس نے ظلم کیا ۱؎۔