TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

باب: «اعراب» ”(دیہاتیوں) نے کہا ہم ایمان لائے اے رسول! آپ کہہ دیجئیے تم لوگ ایمان نہیں لائے لیکن تم یہ کہو کہ ہم اسلام لے آئے ہیں“ کی تفسیر۔ - باب: «اعراب» ”(دیہاتیوں) نے کہا ہم ایمان لائے اے رسول! آپ کہہ دیجئیے تم لوگ ایمان نہیں لائے لیکن تم یہ کہو کہ ہم اسلام لے آئے ہیں“ کی تفسیر۔ - The book of faith and its signs - Sunnan Nisai with Urdu and English Translation

Chapter 7 of The book of faith and its signs in Sunnan Nisai. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 7 of 33 · 3 Hadith
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ ثَوْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مَعْمَرٌ:‏‏‏‏ وَأَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَعْطَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجَالًا وَلَمْ يُعْطِ رَجُلًا مِنْهُمْ شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ سَعْدٌ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ أَعْطَيْتَ فُلَانًا وَفُلَانًا وَلَمْ تُعْطِ فُلَانًا شَيْئًا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَوْ مُسْلِمٌ ،‏‏‏‏ حَتَّى أَعَادَهَا سَعْدٌ ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ أَوْ مُسْلِمٌ ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنِّي لَأُعْطِي رِجَالًا وَأَدَعُ مَنْ هُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُمْ لَا أُعْطِيهِ شَيْئًا مَخَافَةَ أَنْ يُكَبُّوا فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ .
It was narrated from 'Amir bin Sa'd bin Abi Waqqas that his father said: The Prophet [SAW] gave a share (of some spoils of war) to some men and not to others. Sa'd said: 'O Messenger of Allah [SAW], you gave to so-and-so and so-and-so, but you did not give anything to so-and-so, and he is a believer.' The Prophet [SAW] said: 'Or a Muslim,' until Sa'd had repeated it three times, and the Prophet [SAW] said: 'I give to some men, and leave those who are dearer to me, without giving them anything, lest (the former) be thrown into Hell on their faces.'
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو عطیہ دیا اور ان میں سے ایک شخص کو کچھ نہیں دیا، سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے فلاں فلاں کو دیا اور فلاں کو کچھ نہیں دیا حالانکہ وہ مومن ہے؟ تو نبی آپ نے فرمایا: ”بلکہ وہ مسلم ہے“ ۱؎، سعد رضی اللہ عنہ نے تین بار دہرایا ( یعنی وہ مومن ہے ) اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( ہر بار ) کہتے رہے: ”وہ مسلم ہے“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بعض لوگوں کو عطیہ دیتا ہوں اور بعض ایسے لوگوں کو محروم کر دیتا ہوں جو مجھے ان سے زیادہ محبوب ہیں، میں اسے اس اندیشے سے انہیں دیتا ہوں کہ کہیں وہ اپنے چہروں کے بل جہنم میں نہ ڈال دیئے جائیں“ ۲؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الإیمان ۱۹ (۲۷)، الزکاة ۵۳ (۱۴۷۸)، صحیح مسلم/الإیمان ۶۷ (۲۳۶)، الزکاة ۴۵ (۲۳۶)، سنن ابی داود/السنة ۱۶ (۴۶۸۳، ۴۶۸۵)، (تحفة الأشراف: ۳۸۹۱)، مسند احمد (۱/۱۸۲)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : چونکہ ایمان کی جگہ دل ہے اور وہ کسی دوسرے پر ظاہر نہیں ہو سکتا ہے اس لیے کسی کے بارے میں یقینی طور پر یہ دعویٰ کرنا کہ وہ صحیح معنوں میں مومن ہے “ جائز نہیں اس کو صرف اللہ عالم الغیوب ہی جانتا ہے، اور ” اسلام “ چونکہ ظاہری ارکان پر عمل کا نام ہے اس لیے کسی آدمی کو ” مسلم “ کہا جا سکتا ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد رضی اللہ عنہ کو ” مومن “ کی بجائے ” مسلم “ کہنے کی تلقین کی۔ ۲؎ : یعنی : جن کو نہیں دیتا ہوں ان کے بارے میں یہ یقین سے جانتا ہوں کہ دینے نہ دینے سے ان کے ایمان میں کچھ فرق پڑنے والا نہیں ہے، اور جن کو دیتا ہوں ان کے بارے میں اندیشہ ہوتا ہے کہ اگر (تالیف قلب کے طور پر) نہ دوں تو ایمان سے پھر کر جہنم میں جا سکتے ہیں۔
4995
Sahih
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ مَعْمَرًا، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ قَسْمًا،‏‏‏‏ فَأَعْطَى نَاسًا وَمَنَعَ آخَرِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ أَعْطَيْتَ فُلَانًا وَمَنَعْتَ فُلَانًا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا تَقُلْ،‏‏‏‏ مُؤْمِنٌ وَقُلْ مُسْلِمٌ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ابْنُ شِهَابٍ:‏‏‏‏ قَالَتِ الأَعْرَابُ آمَنَّا سورة الحجرات آية 14.
It was narrated from Sa'd that : The Messenger of Allah [SAW] distributed (some spoils of war) and gave to some people but withheld from others. I said: O Messenger of Allah, you gave to so-and-so and so-and-so, and you withheld from so-and-so, who is a beliver. He said: Do not say 'a believer,' say 'a Muslim.' Ibn Shihab (one of the narrators) said: The Bedouins say: We believe .
سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال تقسیم کیا تو کچھ لوگوں کو دیا اور کچھ لوگوں کو نہیں دیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے فلاں فلاں کو دیا اور فلاں کو نہیں دیا حالانکہ وہ مومن ہے۔ آپ نے فرمایا: ”مومن نہ کہو، مسلم کہو“۔ ابن شہاب زہری نے یہ آیت پڑھی: «قالت الأعراب آمنا» ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ
4996
Sahih
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بِشْرِ بْنِ سُحَيْمٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يُنَادِيَ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ:‏‏‏‏ أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ،‏‏‏‏ وَهِيَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ .
It was narrated from Bishr bin Suhaim that: The Prophet [SAW] commanded him to call out on the days of At-Tashriq that no one would enter Paradise except a believer, and that these were the days of eating and drinking.
بشر بن سحیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ایام تشریق ( ۱۰، ۱۱، ۱۲، ۱۳ ذی الحجہ ) میں اعلان کر دیں کہ جنت میں مومن کے سوا کوئی نہیں داخل ہو گا ۱؎، اور یہ کہ یہ کھانے پینے کے دن ہیں ۲؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الصیام ۳۵ (۱۷۲۰)، (تحفة الأشراف: ۲۰۱۹)، مسند احمد (۳/۴۱۵، ۴/۳۳۵)، سنن الدارمی/الصوم ۴۸ (۱۸۰۷)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یعنی : جنت میں پہلی مرتبہ ہی داخل ہونے کا شرف کامل ایمان والوں کو ہی حاصل ہو گا۔ ۲؎ : سال کے سارے ہی دن کھانے پینے کے دن ہوں یہاں مراد یہ ہے کہ خاص طور سے کھانے پینے کے دن ہیں، یعنی ایام تشریق، قربانی کے دن ہیں۔
4997
Sahih

Chapters

33
01
باب: سب سے بہتر عمل کا بیان۔
1 Hadith
02
باب: ایمان کے مزہ کا بیان۔
1 Hadith
03
باب: ایمان کی مٹھاس کا بیان۔
1 Hadith
04
باب: اسلام کی مٹھاس کا بیان۔
1 Hadith
05
باب: اسلام کا تفصیلی بیان۔
1 Hadith
06
باب: ایمان اور اسلام کی تعریف۔
1 Hadith
07
باب: «اعراب» ”(دیہاتیوں) نے کہا ہم ایمان لائے اے رسول! آپ کہہ دیجئیے تم لوگ ایمان نہیں لائے لیکن تم یہ کہو کہ ہم اسلام لے آئے ہیں“ کی تفسیر۔
3 Hadith
08
باب: مومن کی صفات۔
1 Hadith
09
باب: مسلم کی صفات۔
2 Hadith
10
باب: آدمی کے اسلام کی اچھائی کا بیان۔
1 Hadith
11
باب: کون سا اسلام سب سے بہتر ہے؟
1 Hadith
12
باب: کون سا اسلام بہتر ہے؟
1 Hadith
13
باب: اسلام کی بنیاد کن چیزوں پر ہے؟
1 Hadith
14
باب: اسلام پر بیعت کرنے کا بیان۔
1 Hadith
15
باب: کس بات پر لوگوں سے لڑنا صحیح ہے؟
1 Hadith
16
باب: ایمان کی شاخوں کا بیان۔
3 Hadith
17
باب: ایمان میں ایک مسلمان کا دوسرے سے زیادہ ہونے کا بیان۔
3 Hadith
18
باب: ایمان کے گھٹنے بڑھنے کا بیان۔
3 Hadith
19
باب: ایمان کی نشانی۔
7 Hadith
20
باب: منافق کی پہچان۔
4 Hadith
21
باب: ماہ رمضان میں قیام اللیل (تہجد پڑھنے) کا بیان۔
3 Hadith
22
باب: شب قدر میں تہجد پڑھنے کا بیان۔
1 Hadith
23
باب: زکاۃ کا بیان۔
1 Hadith
24
باب: جہاد کے شرائع ایمان ہونے کا بیان۔
2 Hadith
25
باب: مال غنیمت کا پانچواں حصہ (خمس) رسول اکرم صلی للہ علیہ وسلم کو لا کر دینے کا بیان۔
1 Hadith
26
باب: جنازے میں حاضر ہونے کا بیان۔
1 Hadith
27
باب: شرم و حیا۔
1 Hadith
28
باب: دین (اسلام) آسان ہے۔
1 Hadith
29
باب: اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ دینی کام کا بیان۔
1 Hadith
30
باب: دین بچانے کے لیے فتنوں سے بھاگنے اور دور رہنے کا بیان۔
1 Hadith
31
باب: منافق کی مثال۔
1 Hadith
32
باب: قرآن پڑھنے والے مومن اور منافق کی مثال۔
1 Hadith
33
باب: مومن کی پہچان۔
1 Hadith
No chapter matched that.