أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ وَهَوَ بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ: مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ .
It was narrated that Abu Musa said:
I said: 'O Messenger of Allah, whose Islam is most virtuous?' He said: 'The one from whose tongue and hand the Muslims are safe.'
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا اسلام بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں“ ۲؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الإیمان ۵ (۱۱)، صحیح مسلم/الإیمان ۱۴ (۴۲)، سنن الترمذی/القیامة ۵۲ (۲۵۰۴)، (تحفة الأشراف: ۹۰۴۱)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یعنی : ” کون سا مسلمان سب سے اچھا ہے ؟ “ یا ” اسلام والا کون آدمی سب سے اچھا ہے “۔ ۲؎ : یہ کئی بار گزر چکا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر سائل کے اپنے خاص احوال، یا سوال کے خاص تناظر میں اسی کے حساب سے جواب دیا کرتے تھے، کسی کے لیے کسی عمل پر تنبیہ مقصود تھی تو کسی کے لیے کسی اور عمل کی۔
5002
Sahih