أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال: بَيْنَمَا النَّاسُ بِقُبَاءَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ، جَاءَهُمْ آتٍ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ اللَّيْلَةَ، وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ . فَاسْتَقْبِلُوهَا وَكَانَتْ وُجُوهُهُمْ إِلَى الشَّامِ فَاسْتَدَارُوا إِلَى الْكَعْبَةِ.
It was narrated that Ibn 'Umar said:
While the people were in Quba', praying the Subh prayer, someone came to them and said that revelation had come to the Messenger of Allah (ﷺ) the night before, and he has been commanded to face the Ka'bah. So they turned around, and they has been facing toward Ash-Sham, but now they turned to face toward the Ka'bah.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ لوگ قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ اسی دوران ایک آنے والا آیا، اور کہنے لگا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آج رات ( وحی ) نازل کی گئی ہے، اور آپ کو حکم ملا ہے کہ ( نماز میں ) کعبہ کی طرف رخ کریں، لہٰذا تم لوگ بھی اسی کی طرف رخ کر لو، ( اس وقت ) ان کے چہرے شام ( بیت المقدس ) کی طرف تھے، تو وہ لوگ کعبہ کی طرف گھوم گئے ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة ۳۲ (۴۰۳)، تفسیر البقرة ۱۴ (۴۴۸۸)، ۱۶ (۴۴۹۰)، ۱۷ (۴۴۹۱)، ۱۹ (۴۴۹۳)، ۲۰ (۴۴۹۴)، خبر الآحاد ۱ (۷۲۵۱)، صحیح مسلم/المساجد ۲ (۵۲۶)، موطا امام مالک/قبلة ۴ (۶)، (تحفة الأشراف: ۷۲۲۸)، مسند احمد ۲/۱۱۳، ویأتي عند المؤلف برقم: ۷۴۶ (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎: اس طرح پھر جانے سے لوگ آگے ہو جائیں گے، اور امام لوگوں کے پیچھے ہو جائے گا، إلا یہ کہ یہ کہا جائے کہ پہلے امام مسجد کے پچھلے حصہ میں چلا گیا ہو گا پھر لوگ اپنی جگہ پر گھوم گئے ہوں گے، اس طرح پہلے جو اگلی صف تھی اب وہ پچھلی ہو گئی ہو گی، اور حدیث کا مستفاد یہ ہے کہ جس کو حالت نماز میں صحیح قبلہ کے بارے میں علم ہو جائے وہ بھی اسی طرح قبلہ رخ ہو جائے۔
494
Sahih