أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، وَأَبُو فَرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ، قَالَ: اسْتَسْقَى حُذَيْفَةُ، فَأَتَاهُ دُهْقَانٌ بِمَاءٍ فِي إِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ، فَحَذَفَهُ، ثُمَّ اعْتَذَرَ إِلَيْهِمْ مِمَّا صَنَعَ بِهِ، وَقَالَ: إِنِّي نُهِيتُهُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا تَشْرَبُوا فِي إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَلَا تَلْبَسُوا الدِّيبَاجَ، وَلَا الْحَرِيرَ، فَإِنَّهَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَنَا فِي الْآخِرَةِ .
It was narrated that 'Abdullah bin 'Ukaim said:
Hudhaifah asked for some water and the chief brought water in a silver vessel. He threw it aside, then he apologized to them for what he had done, and said: 'I told him before not to do that. I heard the Messenger of Allah [SAW] say: Do not drink from vessels of gold and silver, and do not wear Ad-Dibaj or silk. They are for them in this world, and for you in the Hereafter.
عبداللہ بن عکیم سے روایت ہے کہ حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ نے پانی مانگا تو ایک اعرابی ( دیہاتی ) چاندی کے برتن میں پانی لے آیا، حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اسے پھینک دیا، پھر جو کیا اس کے لیے لوگوں سے معذرت کی اور کہا: مجھے اس سے روکا گیا ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”سونے اور چاندی کے برتن میں نہ پیو اور دیبا نامی ریشم نہ پہنو اور نہ ہی حریر نامی ریشم، کیونکہ یہ ان ( کفار و مشرکین ) کے لیے دنیا میں ہے اور ہمارے لیے آخرت میں ہیں“۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأطعمة ۲۹ (۵۴۲۶)، الأشربة ۲۷ (۵۶۳۲)، ۲۸ (۵۶۳۳)، اللباس ۲۵ (۵۸۳۱)، ۲۷ (۵۸۳۷)، صحیح مسلم/اللباس ۱ (۲۰۶۷)، سنن ابی داود/الأشربة ۱۷ (۳۷۲۳)، سنن الترمذی/الأشربة ۱۰ (۱۸۷۹)، سنن ابن ماجہ/الأشربة ۱۷ (۳۴۱۴)، (تحفة الأشراف: ۳۳۶۸، ۳۳۷۳)، مسند احمد (۵/۳۸۵، ۳۹، ۳۹۶، ۴۰۰، ۴۰۸)
5303
Sahih