أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ دِينَارٍ أَبُو خَلْدَةَ، قال: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ الْحَرُّ أَبْرَدَ بِالصَّلَاةِ، وَإِذَا كَانَ الْبَرْدُ عَجَّلَ .
Khalid bin Dinar Abu Khaldah said:
I heard Anas bin Malik say: 'When it was hot, the Messenger of Allah (ﷺ) would wait until it cooled down to pray, and when it was cold he would hasten to pray.'
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب گرمی ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ۱؎ ٹھنڈی کر کے پڑھتے ۲؎ اور جب جاڑا ہوتا تو جلدی پڑھتے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجمعة ۱۷ (۹۰۶)، وفیہ ’’یعنی الجمعة‘‘، (تحفة الأشراف: ۸۲۳) (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎: صحیح بخاری کی روایت میں کسی راوی نے «صلاة» کی تفسیر جمعہ سے کی ہے، کیونکہ اسی حدیث کی ایک روایت میں ہے کہ کسی سائل نے انس رضی اللہ عنہ سے جمعہ ہی کے بارے میں پوچھا تھا (فتح الباری) مؤلف نے اس کے مطلق لفظ «الصلاة» سے استدلال کیا ہے، نیز یہ کہ جمعہ اور ظہر کا وقت معتاد ایک ہی ہے۔ ۲؎: یعنی گرمی کی شدت کے سبب اس کے معتاد وقت سے اسے اتنا مؤخر کرتے کہ دیواروں کا اتنا سایہ ہو جاتا کہ اس میں چل کر لوگ مسجد آ سکیں، اور گرمی کی شدت کم ہو جائے۔
500
Sahih