أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ هُوَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَغْلِبَنَّكُمُ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمْ هَذِهِ، فَإِنَّهُمْ يُعْتِمُونَ عَلَى الْإِبِلِ وَإِنَّهَا الْعِشَاءُ .
It was narrated that Ibn 'Umar said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Do not let the Bedouin make you change the name of this prayer of yours, for they delay the prayer until it is very dark because of their preoccupation with camels and milking them. Verily, it is 'Isha'.'
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے اس نماز کے نام کے سلسلہ میں اعراب تم پر غالب نہ آ جائیں ۱؎ وہ لوگ اپنی اونٹنیوں کو دوہنے کے لیے دیر کرتے ہیں ( اسی بنا پر دیر سے پڑھی جانے والی اس نماز کو عتمہ کہتے ہیں ) حالانکہ یہ عشاء ہے ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساجد ۳۹ (۶۴۴)، سنن ابی داود/الأدب ۸۶ (۴۹۸۴)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ۱۳ (۷۰۴)، (تحفة الأشراف: ۸۵۸۲)، مسند احمد ۲/۱۰، ۱۸، ۴۹، ۱۴۴ (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎: یعنی تم ان کی پیروی میں اسے عتمہ نہ کہنے لگو بلکہ اسے عشاء کہو۔
542
Sahih