عصر کے بعد نماز کی ممانعت کا بیان۔ - عصر کے بعد نماز کی ممانعت کا بیان۔ - The book of the times (of prayer) - Sunnan Nisai with Urdu and English Translation
Chapter 35 of The book of the times (of prayer) in Sunnan Nisai. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
It was narrated from Damrah bin Sa'eed that he heard Abu Sa'eed Al-Khudri say:
The Messenger of Allah (ﷺ) forbade praying after Subh until the sun had risen, and praying after 'Asr until the sun had set.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کے بعد سورج نکلنے تک، اور عصر کے بعد سورج ڈوبنے تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
It was narrated from 'Ata' bin Yazid that he heard Abu Sa'eed Al-Khudri say:
I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'There is no prayer after Fajr until the sun has clearly risen, and no prayer after 'Asr until the sun has fully set.'
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: فجر کے بعد کوئی نماز نہیں ہے یہاں تک کہ سورج نکل آئے، اور عصر کے بعد کوئی نماز نہیں ہے یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے ۔
It was narrated from Ibn Tawus that his father said:
'Aishah, may Allah be please with her, said: 'Umar, may Allah be please with him, is not correct, rather the Messenger of Allah (ﷺ) only prohibited, as he said: 'Do no deliberately seek to pray when the sun is rising or when it is setting, for it rises between the horns of a Shaitan.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ سے وہم ہوا ہے ۱؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو صرف یہ فرمایا ہے: سورج نکلتے یا ڈوبتے وقت تم اپنی نماز کا ارادہ نہ کرو، اس لیے کہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان نکلتا ہے ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین ۵۳ (۸۳۳)، (تحفة الأشراف: ۱۶۱۵۸)، مسند احمد ۶/ ۱۲۴، ۲۵۵ (کلاھما بدون قولہ ’’فإنھا…‘‘ (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎: ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا مقصود یہ ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ سمجھتے تھے کہ فجر اور عصر کے بعد مطلقاً نماز پڑھنے کی ممانعت ہے، یہ صحیح نہیں بلکہ ممانعت اس بات کی ہے کہ آدمی نماز کے لیے ان دونوں وقتوں کو خاص کر لے، اور یہ عقیدہ رکھے کہ ان دونوں وقتوں میں نماز پڑھنا اولیٰ و انسب ہے، یا یہ ممانعت سورج کے نکلنے یا ڈوبنے کے وقت کے ساتھ خاص ہے نہ کہ عصر اور فجر کے بعد مطلقاً، لیکن صحیح قول یہ ہے کہ یہ ممانعت مطلقاً ہے کیونکہ ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم کی روایات میں علی الاطلاق ممانعت وارد ہے، اور بعض روایات میں جو تقیید ہے وہ اطلاق کی نفی پر دلالت نہیں کر رہی ہیں، نووی نے دونوں روایتوں میں تطبیق اس طرح دی ہے کہ تحری والی روایت اس بات پر محمول ہو گی کہ فرض نماز کو اس قدر مؤخر کیا جائے کہ سورج کے نکلنے یا ڈوبنے کا وقت ہو جائے، اور مطلقاً ممانعت والی روایت ان صلاتوں پر محمول ہو گی جو سببی نہیں ہیں۔
Ibn 'Umar said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'When the edge of the sun rises, then delay prayer until it has fully risen, and when the edge of the sun starts to set, delay prayer until it has fully set.'
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب سورج کا کنارہ نکل آئے تو نماز کو مؤخر کرو، یہاں تک کہ وہ روشن ہو جائے، اور جب سورج کا کنارہ ڈوب جائے تو نماز کو مؤخر کرو یہاں تک کہ وہ ڈوب جائے ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المواقیت ۳۰ (۵۸۲)، بدء الخلق ۱۱ (۳۲۷۲)، صحیح مسلم/المسافرین ۵۱ (۸۲۹)، موطا امام مالک/القرآن ۱۰ (۴۵) (مرسلاً)، مسند احمد ۲/۱۳، ۱۹، ۲۴، ۱۰۶، (تحفة الأشراف: ۷۳۲۲) (صحیح)
Abu Yahya Sulaim bin 'Amir, Damrah bin Habib and Abu Talhah Nu'aim bin Ziyad said:
We heard Abu Umamah Al-Bahili say: 'I heard 'Amrah bin 'Abasah say: I said: 'O Messenger of Allah, is there any moment which brings one close to Allah than another, or any moment that should be sought out for remembering Allah? He said: 'Yes, the closest that the Lord is to His slave is in the last part of the night, so if you can be among those who remember Allah at that time, then do so. For prayer is attended and witnessed (by the angels) until the sun rises, then it rises between the two horns of the Shaitan, that is the time when the disbelievers pray, so do not pray until the sun had risen to the height of a spear and its rays have disappeared. Then prayer is attended and witness (by the angels) until the sun is directly overhead at midday, and that is the time when the gates of Hell are opened and it is stoked up. So do not pray until the shadows appear. Then prayer is attended and witnessed (by angels) until the sun sets, and it sets between the horns of a Shaitan, and that is the time when the disbelievers pray.'
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا کوئی ایسی گھڑی ہے جس میں دوسری گھڑیوں کی بنسبت اللہ تعالیٰ کا قرب زیادہ ہوتا ہو، یا کوئی ایسا وقت ہے جس میں اللہ کا ذکر مطلوب ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اللہ عزوجل بندوں کے سب سے زیادہ قریب رات کے آخری حصہ میں ہوتا ہے، اگر تم اس وقت اللہ عزوجل کو یاد کرنے والوں میں ہو سکتے ہو تو ہو جاؤ، کیونکہ فجر میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں، اور سورج نکلنے تک رہتے ہیں، ( پھر چلے جاتے ہیں ) کیونکہ وہ شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان نکلتا ہے، اور یہ کافروں کی نماز کا وقت ہے، لہٰذا ( اس وقت ) تم نماز نہ پڑھو، یہاں تک کہ سورج نیزہ کے برابر بلند ہو جائے، اور اس کی شعاع جاتی رہے پھر نماز میں فرشتے حاضر ہوتے، اور موجود رہتے ہیں یہاں تک کہ ٹھیک دوپہر میں سورج نیزہ کی طرح سیدھا ہو جائے، تو اس وقت بھی نماز نہ پڑھو، یہ ایسا وقت ہے جس میں جہنم کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، اور وہ بھڑکائی جاتی ہے، تو اس وقت بھی نماز نہ پڑھو یہاں تک کہ سایہ لوٹنے لگ جائے، پھر نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں، اور موجود رہتے ہیں یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے، کیونکہ وہ شیطان کی دو سینگوں کے درمیان ڈوبتا ہے، اور وہ کافروں کی نماز کا وقت ہے ۔