حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِحْرَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ، وَلِإِحْلَالِهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ .
Aishah said ; I used to perfume the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم preparatory to his entering the sacred state before he put on Ihram, and preparatory to putting off Ihram before he made the circuits round the House (the Kaabah).
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب آپ احرام باندھتے تو احرام باندھنے سے پہلے اور احرام کھولنے کے بعد اس سے پہلے کہ آپ طواف کریں خوشبو لگایا کرتی تھی ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الغسل ۱۲(۲۶۷)، ۱۴ (۲۷۰)، والحج ۱۸ (۱۵۳۹)، ۱۴۳ (۱۷۵۴)، واللباس ۷۳ (۵۹۲۲)، ۷۴ (۵۹۲۳)، ۷۹ (۵۹۲۸)، ۸۱ (۵۹۳۰)، صحیح مسلم/الحج ۷ (۱۱۸۹)، سنن النسائی/الحج ۴۱ (۲۶۸۶)، سنن ابن ماجہ/المناسک ۱۸ (۲۹۲۶)، موطا امام مالک/الحج ۷ (۱۷)، مسند احمد ۶/۹۸، ۱۰۶، ۱۳۰، ۱۶۲، ۱۸۱، ۱۸۶، ۱۹۲، سنن الدارمی/المناسک ۱۰ (۱۸۴۴)، ( تحفة الأشراف: ۱۷۵۱۸، ۱۷۵۱۸)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج ۷۷ (۹۱۷) (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : حالت احرام میں کسی قسم کی خوشبو کا استعمال درست نہیں، لیکن اگر یہی خوشبو احرام باندھتے وقت لگائی جائے تو مستحب ہے ، چاہے یہ خوشبو بدن یا کپڑے میں احرام کے بعد بھی باقی رہے۔
1745
Sahih