حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي حَارِثَةُ بْنُ وَهْبٍ الْخُزَاعِيُّ وَكَانَتْ أُمُّهُ تَحْتَ عُمَرَ فَوَلَدَتْ لَهُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى وَالنَّاسُ أَكْثَرُ مَا كَانُوا، فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ . قَالَ أَبُو دَاوُد: حَارِثَةُ بْنُ خُزَاعَةَ وَدَارُهُمْ بِمَكَّةَ.
Narrated Harithah ibn Wahb al-Khuzai,: I prayed along with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم at Mina and the people gathered there in large numbers. He led us two rak'ahs in prayer in the Farewell Pilgrimage. Abu Dawud said: Harithah belonged to the tribe of Khuzaah, and they had their houses in Makkah.
ابواسحاق کہتے ہیں کہ مجھ سے حارثہ بن وہب خزاعی نے بیان کیا اور ان کی والدہ عمر رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں تو ان سے عبیداللہ بن عمر کی ولادت ہوئی، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے منیٰ میں نماز پڑھی، اور لوگ بڑی تعداد میں تھے، تو آپ نے ہمیں حجۃ الوداع میں دو رکعتیں پڑھائیں ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حارثہ کا تعلق خزاعہ سے ہے اور ان کا گھر مکہ میں ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ۲ (۱۰۸۳)، والحج ۸۴ (۱۶۵۶)، صحیح مسلم/المسافرین ۲ (۶۹۶)، سنن الترمذی/الحج ۵۲ (۸۸۲)، سنن النسائی/تقصیر الصلاة ۲ (۱۴۴۶)، ( تحفة الأشراف: ۳۲۸۴)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۳۰۶) (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : محقق علماء کا قول یہ ہے کہ اہل مکہ بھی منیٰ اور عرفات میں قصر کریں گے، یہ حج کے مسائل میں سے ہے، یہاں مسافر اور مقیم کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
1965
Sahih