حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ الْغَازِ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ يَوْمَ النَّحْرِ بَيْنَ الْجَمَرَاتِ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي حَجَّ، فَقَالَ: أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ ، قَالُوا: يَوْمُ النَّحْرِ، قَالَ: هَذَا يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ .
Narrated Abdullah ibn Umar: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم halted on the day of sacrifice between the jamrahs (pillars at Mina) during hajj which he performed. He asked: Which is this day? They replied: This is the day of sacrifice. He said: This is the day of greater hajj.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نحر کے روز ( دسویں ذی الحجہ کو ) حجۃ الوداع میں جمرات کے درمیان کھڑے ہوئے اور لوگوں سے پوچھا: یہ کون سا دن ہے؟ ، لوگوں نے جواب دیا: یوم النحر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی حج اکبر کا دن ہے ۱؎ ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/ الحج ۱۳۲ (۱۷۴۲ تعلیقًا)، سنن ابن ماجہ/المناسک ۷۶ (۳۰۵۸)، ( تحفة الأشراف: ۸۵۱۴) (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یعنی قرآن مجید میں جو «يوم الحج الأكبر» آیا ہے اس سے مراد یوم نحر ہی ہے، حج کو حج اکبر کہا جاتا ہے اور عمرہ کو حج اصغر، اور وہ جو عوام میں مشہور ہے کہ ’’ جمعہ کے دن یوم عرفہ پڑے تو حج اکبر ہے ‘‘ تو یہ بات بے دلیل اور بے اصل ہے۔
1945
Sahih