CHAPTER: Performing The Ifrad Hajj - باب: حج افراد کا بیان ۔ - The rites of hajj (kitab al-manasik wa'l-hajj) - Sunnan Abu Dawood with Urdu and English Translation
Chapter 22 of The rites of hajj (kitab al-manasik wa'l-hajj) in Sunnan Abu Dawood. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
Aishah said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم performed Hajj exclusively (without performing Umrah in the beginning).
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج افراد کیا ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج ۱۷ (۱۲۱۱)، سنن الترمذی/الحج ۱۰ (۸۲۰)، سنن النسائی/الحج ۴۸ (۲۷۱۶)، سنن ابن ماجہ/المناسک ۳۷ (۲۹۶۴)، ( تحفة الأشراف: ۱۷۵۱۷)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج ۱۱(۳۷)، مسند احمد (۶/۲۴۳)، سنن الدارمی/المناسک ۱۶ (۱۸۵۳) (صحیح الإسناد)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : حج کے مہینے میں میقات سے صرف حج کی نیت سے احرام باندھنے کو افراد کہتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں صحیح یہ ہے کہ آپ نے حج قِران کیا تھا، اس لئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہدی کے جانور تھے، ورنہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا تھا کہ جن کے ساتھ ہدی کا جانور نہ ہو وہ عمرہ پورا کر کے احرام کھول دیں، یعنی حج قران کو حج تمتع میں بدل دیں، دیکھئے حدیث نمبر: (۷۹۵)۔
Aishah said: We went out along with The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم when the moon of the month of Dhu al-Hijja was going to appear shortly. When he reached Dhu al-Hulaifah he said: Anyone who wants to perform Hajj should raise his voice in Talbiyah for Hajj (after wearing Ihram); and he who wants to perform Umrah should raise his voice in talbiyah for an Umrah. The narrator Musa in the version of Wuhaib reported him (the Prophet) as saying if there were no sacrificial animals with me, I would raise my voice in talbiyah for an Umrah. But according to the version of Hammad bin Salamah, he said as for myself, I shall raise my voice in talbiyah for Hajj because I have sacrificial animal with me. The agreed version goes I (Aishah) was one of those persons who wore Ihram for an ‘Umrah. But on my way (to Makkah) I menstruated. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم entered upon me while I was weeping. He asked why are you weeping? I wished I would not come out (for Hajj) this year. He said give up your Umrah; untie your hair and comb. The version of Musa said and raise your voice in talbiyah for Hajj (after wearing Ihram). Sulaiman’s version goes and do as all the Muslims do during their Hajj. When the night for performing the obligatory circumambulation (tawaf al-Ziyarah) came, the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم commanded Abdur-Rahman. He took her to al-Tan’im (instead of the words “her ‘Umrah”). She went round the Kaabah. Allah thus completed both her ‘Umrah and Hajj. Hisham said: No sacrificial animal was offered during all this time. In the version of Hammad bin Salamah, the narrator Musa added when the night of al-Batha came Ai’ shah was purified.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب ذی الحجہ کا چاند نکلنے کو ہوا تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، جب آپ ذی الحلیفہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو حج کا احرام باندھنا چاہے وہ حج کا احرام باندھے، اور جو عمرہ کا احرام باندھنا چاہے وہ عمرہ کا باندھے ۔ موسیٰ نے وہیب والی روایت میں کہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں ہدی نہ لے چلتا تو میں بھی عمرہ کا احرام باندھتا ۔ اور حماد بن سلمہ کی حدیث میں ہے: رہا میں تو میں حج کا احرام باندھتا ہوں کیونکہ میرے ساتھ ہدی ہے ۔ آگے دونوں راوی متفق ہیں ( ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ) میں عمرے کا احرام باندھنے والوں میں تھی، آپ ابھی راستہ ہی میں تھے کہ مجھے حیض آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میں رو رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیوں رو رہی ہو؟ ، میں نے عرض کیا: میری خواہش یہ ہو رہی ہے کہ میں اس سال نہ نکلتی ( تو بہتر ہوتا ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا عمرہ چھوڑ دو، سر کھول لو اور کنگھی کر لو ۔ موسیٰ کی روایت میں ہے: اور حج کا احرام باندھ لو ، اور سلیمان کی روایت میں ہے: اور وہ تمام کام کرو جو مسلمان اپنے حج میں کرتے ہیں ۔ تو جب طواف زیارت کی رات ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن کو حکم دیا چنانچہ وہ انہیں مقام تنعیم لے کر گئے۔ موسیٰ نے یہ اضافہ کیا ہے کہ انہوں نے اپنے اس عمرے کے عوض ( جو ان سے چھوٹ گیا تھا ) دوسرے عمرے کا احرام باندھا اور بیت اللہ کا طواف کیا، اس طرح اللہ نے ان کے عمرے اور حج دونوں کو پورا کر دیا۔ ہشام کہتے ہیں: اور اس میں ان پر اس سے کوئی ہدی لازم نہیں ہوئی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: موسیٰ نے حماد بن سلمہ کی حدیث میں یہ اضافہ کیا ہے کہ جب بطحاء ۱؎ کی رات آئی تو عائشہ رضی اللہ عنہا حیض سے پاک ہو گئیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: حدیث سلیمان بن حرب عن حماد بن زید قد أخرجہ: سنن النسائی/الحج ۱۸۵ (۲۹۹۳)، ۱۸۶ (۲۹۹۴)، ( تحفة الأشراف: ۱۶۸۶۳، ۱۶۸۸۲)، وحدیث موسی بن اسماعیل عن حماد بن سلمة وموسی بن اسماعیل عن وہیب، قد تفرد بہما أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۷۲۹۵) ، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض ۱ (۲۹۴)، ۷ (۳۰۵)، ۱۵(۳۱۶)، ۱۶ (۳۱۷)، ۱۸ (۳۱۹)، الحج/۳۱ (۱۵۵۶)، ۳۳ (۱۵۶۰)، ۳۴ (۱۵۶۲)، ۷۷ (۱۶۳۸)، ۱۱۵ (۱۷۰۹)، ۱۲۴ (۱۷۲۰)، ۱۴۵ (۱۷۵۷)، العمرة ۷ (۱۷۸۶)، ۹ (۱۷۸۸)، الجھاد ۱۰۵ (۲۹۵۲)، المغازي ۷۷ (۴۳۹۵)، صحیح مسلم/الحج ۱۷ (۱۲۱۱)، سنن النسائی/الطھارة ۱۸۳ (۲۹۱) سنن ابن ماجہ/الحج ۳۶ (۲۹۶۳) (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : بطحاء سے مراد منیٰ ہے، یعنی قیام منیٰ کے ایام کی کسی رات میں وہ پاک ہو گئیں، علامہ عینی کہتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا حیض تین ذی الحجہ بروز سنیچر مقام سرف میں شروع ہوا تھا، اور دسویں ذی الحجہ کو سنیچر کے روز پاک ہوئیں۔
Aishah wife the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم narrated we went out with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم at the farewell pilgrimage. Some of us had put on Ihram for Umrah and some both for Hajj and Umrah, when the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم had put on Ihram for Hajj only. He who had put on Ihram for Umrah, put off Ihram after performing Umrah and he who had worn Ihram both for Hajj and Umrah or only for Hajj did not take it off till the tenth (of the month).
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم لوگ حجۃ الوداع کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ہم میں کچھ ایسے لوگ تھے جنہوں نے عمرے کا احرام باندھا، اور کچھ ایسے تھے جنہوں نے حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھا، اور کچھ ایسے تھے جنہوں نے صرف حج کا احرام باندھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا احرام باندھا، چنانچہ جن لوگوں نے حج کا یا حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا انہوں نے یوم النحر ( یعنی دسویں ذی الحجہ ) تک احرام نہیں کھولا۔
The aforesaid tradition has also been narrated by Abu al-Aswad through a different chain of narrators. This version adds he who raises his voice in talbiyah for Umrah (and wearing Ihram for it) should put off Ihram after performing Umrah.
اس سند سے بھی ابوالاسود سے اسی طریق سے اسی کے مثل مروی ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے: رہے وہ لوگ جنہوں نے صرف عمرے کا احرام باندھا تھا تو ان لوگوں نے ( عمرہ کر کے ) احرام کھول دیا ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: ۱۶۳۸۹) (صحیح)
Aishah the wife of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: We went out with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم at the farewell pilgrimage and raised the voice in talbiyah for an ‘Umrah. The Apostel of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said those who have brought the sacrificial animals with them should raise their voices in talbiyah for Hajj along with an ‘Umrah and they should not put off their Ihram till they do so after performing them both. I came to Makkah while I was menstruating and I did not go round the House (the Kaabah) or run between al-Safa and al-Marwah. I complained about this to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم he said: Undo your hair, comb it and raise your voice in talbiyah for Hajj and let Umrah go. She said I did so. When we performed Hajj, the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم sent me along with Abdur-Rahman bin Abu Bakr to al-Ta’nim and I performed Umrah. He said, this is Umrah in place of the one you had missed. She said those who had raised their voices in talbiyah for Umrah put off Ihram after circumambulating the House (the Kaabah) and after running between al-Safa and al-Marwa. Then they performed another circumambulation for their Hajj after they returned from Mina but those who combined Hajj and Umrah performed only one circumambulation.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حجۃ الوداع میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تو ہم نے عمرے کا احرام باندھا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے ساتھ ہدی ہو تو وہ عمرے کے ساتھ حج کا احرام باندھ لے پھر وہ حلال نہیں ہو گا جب تک کہ ان دونوں سے ایک ساتھ حلال نہ ہو جائے ، چنانچہ میں مکہ آئی، میں حائضہ تھی، میں نے بیت اللہ کا طواف نہیں کیا اور نہ صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، لہٰذا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا: اپنا سر کھول لو، کنگھی کر لو، حج کا احرام باندھ لو، اور عمرے کو ترک کر دو ، میں نے ایسا ہی کیا، جب میں نے حج ادا کر لیا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( میرے بھائی ) عبدالرحمٰن بن ابی بکر کے ساتھ مقام تنعیم بھیجا ( تو میں وہاں سے احرام باندھ کر آئی اور ) میں نے عمرہ ادا کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے عمرے کی جگہ پر ہے ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: چنانچہ جنہوں نے عمرے کا احرام باندھ رکھا تھا انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، پھر ان لوگوں نے احرام کھول دیا، پھر جب منیٰ سے لوٹ کر آئے تو حج کا ایک اور طواف کیا، اور رہے وہ لوگ جنہوں نے حج و عمرہ دونوں کو جمع کیا تھا تو انہوں نے ایک ہی طواف کیا ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابراہیم بن سعد اور معمر نے ابن شہاب سے اسی طرح روایت کیا ہے انہوں نے ان لوگوں کے طواف کا جنہوں نے عمرہ کے طواف کا احرام باندھا، اور ان لوگوں کے طواف کا جنہوں نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا ذکر نہیں کیا۔
وضاحت: ۱؎ : اسی طرح حج افراد کا احرام باندھنے والوں نے بھی ایک ہی طواف کیا، واضح رہے کہ مفرد ہو یا متمتع یا قارن سب کے لئے طوافِ زیارت فرض ہے، اور متمتع پر صفا و مروہ کی دو سعی واجب ہے، جب کہ قارن کے لئے صرف ایک سعی کافی ہے، خواہ طواف قدوم (یا عمرہ ) کے وقت کرلے یا طواف زیارت کے بعد، یہی مسئلہ مفرد حاجی کے لئے بھی ہے، واضح رہے کہ بعض حدیثوں میں ’’سعی‘‘ کے لئے بھی ’’ طواف ‘‘ کا لفظ وارد ہوا ہے۔
Aishah said: We raised our voices in talbiyah for Hajj. When we reached Sarif, I menstruated. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم came upon me while I was weeping. He asked, why are your weeping, Aishah? I replied, I menstruated. Would that I had not come out for performing Hajj. He said: Glory be to Allah, this is a thing prescribed by Allah on the daughters of Adam. He said perform all the rites of Hajj but do not go round the House (the Kaabah). When we entered Makkah, the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said he who desires to make (his Hajj) an Umrah may do so, except those who have sacrificial animals with them. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم sacrificed a cow on behalf of his wives on the day of sacrifice. When the night of al-Batha came, and Aishah was purified she said to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم my fellow female pilgrims will return after performing Hajj and Umrah and I shall return after performing only Hajj? He therefore, ordered Abdur-Rahman bin Abu Bakr who took her to al-Ta’nim. She uttered there talbiyah for Umrah.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم نے حج کا تلبیہ پڑھا یہاں تک کہ جب ہم مقام سرف میں پہنچے تو مجھے حیض آ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں رو رہی تھی، آپ نے پوچھا: عائشہ! تم کیوں رو رہی ہو؟ ، میں نے کہا: مجھے حیض آ گیا کاش میں نے ( امسال ) حج کا ارادہ نہ کیا ہوتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی ذات پاک ہے، یہ تو بس ایسی چیز ہے جو اللہ نے آدم کی بیٹیوں کے واسطے لکھ دی ہے ، پھر فرمایا: تم حج کے تمام مناسک ادا کرو البتہ تم بیت اللہ کا طواف نہ کرو ۱؎ پھر جب ہم مکہ میں داخل ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اسے عمرہ بنانا چاہے تو وہ اسے عمرہ بنا لے ۲؎ سوائے اس شخص کے جس کے ساتھ ہدی ہو ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر ( دسویں ذی الحجہ ) کو اپنی ازواج مطہرات کی جانب سے گائے ذبح کی۔ جب بطحاء کی رات ہوئی اور عائشہ رضی اللہ عنہا حیض سے پاک ہو گئیں تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میرے ساتھ والیاں حج و عمرہ دونوں کر کے لوٹیں گی اور میں صرف حج کر کے لوٹوں گی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کو حکم دیا وہ انہیں لے کر مقام تنعیم گئے پھر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے وہاں سے عمرہ کا تلبیہ پڑھا۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج ۱۷ (۱۲۱۱)، ( تحفة الأشراف: ۱۷۴۷۷)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۲۱۹) (صحیح)(لیکن یہ جملہ «من شاء أن يجعلها...الخ» صحیح نہیں ہے جو اس روایت میں ہے، صحیح جملہ یوں ہے «اجعلوها عمرة» یعنی حکم دیا کہ عمرہ بنا ڈالو)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : طواف ایک ایسی عبادت ہے جس میں طہارت شرط ہے اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو طواف سے روک دیا، طواف کے علاوہ حائضہ حج کے تمام ارکان ادا کرے گی۔ ۲؎ : جیسا کہ مذکور ہوا یہ جملہ جو اس روایت میں ہے صحیح نہیں ہے، صحیح جملہ یوں ہے: ’’تم اپنے حج کو عمرہ بنا ڈالو سوائے اس شخص۔۔۔ الخ‘‘
Aishah said “We went out with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and we thought it nothing but a Hajj. When we came, we circumambulated the House (the Kaabah). The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم then commanded those who did not bring the sacrificial animals with them to take off their ihram. Therefore those who did not bring the sacrificial animals with them took off their ihram.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہمارے پیش نظر صرف حج تھا، جب ہم ( مکہ ) آئے تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جو اپنے ساتھ ہدی نہ لایا ہو وہ حلال ہو جائے ۱؎، چنانچہ وہ تمام لوگ حلال ہو گئے جو ہدی لے کر نہیں آئے تھے۔
Aishah reported the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying “If I had known beforehand about my affair what I have come to know later, I would not have brought the sacrificial animals with me. The narrator Muhammad (bin Yahya) said “ I think he (’Uthman bin Umar) said and I would have taken off my ihram with those who have put their ihram after performing ‘Umrah. He said “By this he intended that all the people might have performed equal rites (of Hajj)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے پہلے یہ بات معلوم ہو گئی ہوتی جواب معلوم ہوئی ہے تو میں ہدی نہ لاتا ، محمد بن یحییٰ ذہلی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اور میں ان لوگوں کے ساتھ حلال ہو جاتا جو عمرہ کے بعد حلال ہو گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ سب لوگوں کا معاملہ یکساں ہو ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ۱۶۷۴۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۲۴۷) (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : کہ جو حج کا احرام باندھ کر آئے اور ہدی ساتھ نہ لائے تو وہ طواف اور سعی کرکے احرام کھول دیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں لوگوں کی آسانی کے لئے ایسا حکم فرمایا تاکہ اس سے مشرکین کی مخالفت ہو، بعض لوگوں کو اس میں تردد ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر ناراض ہوئے، اس حدیث کی بنا پر بعض ائمہ کے یہاں حج تمتع ہی واجب اور افضل ہے، (ملاحظہ ہو: زاد المعاد)۔
Jabir said “We went out along with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم raising our voices in talbiyah for Hakk alone (Ifrad) while Aishah raised her voice in talbiyah for an ‘Umrah. When she reached Sarif, she menstruated. When we came to (Makkah) we circumambulated the Kaabah and ran between al Safa’ and al Marwah. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم then commanded us that those who had not brought sacrificial animals withthem should put off their ihram (after ‘Umrah). We asked “Which acts are lawful (and which not)? He replied All acts are lawful (that are permissible usually). We had therefore intercourse with our wives, used perfumes, put on our clothes. There remained only four days to perform Hajj at ‘Arafah. We then raised our voice in talbiyah (wearing Ihram for Hajj) on the eighth of Dhu al Hijjah. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم entered upon Aishah and found her weeping. He said What is the matter with you? My problem is that I have menstruated, while the people have put on their ihram but I have not done so, nor did I go round the House (the Kaabah). Now the people are proceeding for Hajj. He said This is a thing destined by Allah to the daughters of Adam. Take a bath, then raise your voice in talbiyah for Hajj (i. e, wear ihram for Hajj). She took a abtah and performed all the rites of the Hajj (lit. she stayed at all those places where the pilgrims stay). When she was purified, she circumambulated the House (the Kaabah), and ran between al Safa’ and al Marwah. He (the Prophet) said “Now you have performed both your Hajj and your ‘Umrah. She said Messenger of Allah, I have some misgiving in my mind that I did not go round the Kaabah when I performed Hajj (in the beginning). He said Abd al Rahman (her brother), take her and have her perform ‘Umrah from Al Tan’im. This happened on the night of Al Hasbah (i. e., the fourteenth of Dhu Al Hijjah).
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج افراد کا احرام باندھ کر آئے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا عمرے کا احرام باندھ کر آئیں، جب وہ مقام سرف میں پہنچیں تو انہیں حیض آ گیا یہاں تک کہ جب ہم لوگ مکہ پہنچے تو ہم نے کعبۃ اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم میں سے جن کے پاس ہدی نہ ہو وہ احرام کھول دیں، ہم نے کہا: کیا کیا چیزیں حلال ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر چیز حلال ہے ، چنانچہ ہم نے عورتوں سے صحبت کی، خوشبو لگائی، اپنے کپڑے پہنے حالانکہ عرفہ میں صرف چار راتیں باقی تھیں، پھر ہم نے یوم الترویہ ( آٹھویں ذی الحجہ ) کو احرام باندھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو انہیں روتے پایا، پوچھا: کیا بات ہے؟ ، وہ بولیں: مجھے حیض آ گیا لوگوں نے احرام کھول دیا لیکن میں نے نہیں کھولا اور نہ میں بیت اللہ کا طواف ہی کر سکی ہوں، اب لوگ حج کے لیے جا رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ( حیض ) ایسی چیز ہے جسے اللہ نے آدم کی بیٹیوں کے لیے لکھ دیا ہے لہٰذا تم غسل کر لو پھر حج کا احرام باندھ لو ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، اور سارے ارکان ادا کئے جب حیض سے پاک ہو گئیں تو بیت اللہ کا طواف کیا، اور صفا و مروہ کی سعی کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب تم حج اور عمرہ دونوں سے حلال ہو گئیں ، وہ بولیں: اللہ کے رسول! میرے دل میں خیال آتا ہے کہ میں بیت اللہ کا طواف ( قدوم ) نہیں کر سکی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبدالرحمٰن! انہیں لے جاؤ، اور تنعیم سے عمرہ کرا لاؤ ، یہ واقعہ حصبہ ۱؎ کی رات کا تھا۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج ۱۶ (۱۲۱۰)، ۱۷ (۱۲۱۳)، سنن النسائی/الحج ۵۸ (۲۷۶۴)، سنن ابن ماجہ/المناسک ۱۲ (۲۹۱۱)، ( تحفة الأشراف: ۲۹۰۸)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج ۴۱(۱۲۶)، مسند احمد (۳/۳۹۴)، سنن الدارمی/المناسک ۱۱ (۱۸۴۵) (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یعنی ذی الحجہ کی چودہویں رات کو، جس رات کو محصب میں اترتے ہیں یا تیرہویں رات کو اگر بارہویں تاریخ کو منیٰ سے واپسی ہو، محصب: ایّام تشریق کے بعد منیٰ سے لوٹتے وقت راستے میں مکہ سے قریب ایک مقام کا نام ہے۔
The aforesaid tradition has also been transmitted by Jabir through a different chain of narrators. This version has The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said “Raise your voice in talbiyah for Hajj and then perform Hajj, and do so all the pilgrims do, except that you should not circumambulate the Hose (the Kaabah) and should not pray.
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے آگے اسی قصہ کا کچھ حصہ مروی ہے، اس میں ہے کہ اپنے قول «وأهلي بالحج» یعنی حج کا احرام باندھ لو کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر حج کرو اور وہ تمام کام کرو جو ایک حاجی کرتا ہے البتہ تم بیت اللہ کا طواف نہ کرنا اور نماز نہ پڑھنا ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/ الحج ۱۷ (۱۲۱۳)، ( تحفة الأشراف: ۲۸۱۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۳۰۹) (صحیح)
Jabir bin Abdullah said “We raised our voices in talbiyah along with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم exclusively for Hajj, not combining anything with it. When we came to Makkah four days of Dhu al Hijjah had already passed. We the circumambulated (the Kaabah) and ran between Al Safa’ and Al Marwah. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم then commanded us to put off ihram. He said if I had not brought the sacrificial animals, I would have taken off Ihram. Suraqah bin Malik then stood up and said Messenger of Allah, what do you think, have you provided this facility to us for this year alone or forever? The Messenger of Allah said No, this forever and forever. Al Awza’l said I heard Ata bin Abi Rabah narrating this tradition, but I did not memorize it till I met Ibn Juraij who confirmed it for me.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف حج کا احرام باندھا اس میں کسی اور چیز کو شامل نہیں کیا، پھر ہم ذی الحجہ کی چار راتیں گزرنے کے بعد مکہ آئے تو ہم نے طواف کیا، سعی کی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں احرام کھولنے کا حکم دے دیا اور فرمایا: اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتا تو میں بھی احرام کھول دیتا ، پھر سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور بولے: اللہ کے رسول! یہ ہمارا متعہ ( حج کا متعہ ) اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( نہیں ) بلکہ یہ ہمیشہ کے لیے ہے ۱؎۔ اوزاعی کہتے ہیں: میں نے عطا بن ابی رباح کو اسے بیان کرتے سنا تو میں اسے یاد نہیں کر سکا یہاں تک کہ میں ابن جریج سے ملا تو انہوں نے مجھے اسے یاد کرا دیا۔
وضاحت: ۱؎ : اس حدیث سے امام احمد کے اس قول کی تائید ہوتی ہے کہ جو حج کا احرام باندھ کر آئے اور ہدی ساتھ نہ لائے وہ طواف اور سعی کرکے احرام کھول سکتا ہے، یعنی حج کو عمرہ میں تبدیل کر سکتا ہے۔
Jabir said The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and his companions came to Makkah on the fourth of Dhu Al Hijjah. When they circumambulated the Kaabah and ran between al Safa’ and al Marwah the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said Change this (Hajj) into ‘Umrah, except those who have brought the sacrificial animals with them. When the eighth of Dhul Al Hijjah came, they raised their voices in talbiyah for Hall. When the tenth of Dhul Al Hijjah came, they circumambulated the Kaabah, but did not run between al Safa’ and Al Marwah.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام ذی الحجہ کی چار راتیں گزرنے کے بعد ( مکہ ) آئے، جب انہوں نے بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کر لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سب اسے عمرہ بنا لو سوائے ان لوگوں کے جن کے ساتھ ہدی ہو ، پھر جب یوم الترویہ ( آٹھواں ذی الحجہ ) ہوا تو لوگوں نے حج کا احرام باندھا، جب یوم النحر ( دسواں ذی الحجہ ) ہوا تو وہ لوگ ( مکہ ) آئے اور انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی نہیں کی ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ۲۴۷۳)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۳۶۲) (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : کیونکہ پہلی سعی کافی تھی البتہ جو شخص حج سے پہلے سعی نہ کر سکا ہو اس کو طواف زیارت کے بعد سعی کرنا ضروری ہو گا۔
Jabir bin Abdullah said The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and his companions raised their voices in talbiyah for Hajj. No one of them had brought the sacrificial animals with them except the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and Talhah. Ali (may Allaah be pleased with him) had returned from Yemen and had brought sacrificial animals with him. He said I raised my voice in talbiyah for which the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم raised his voice. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم commanded his companions to change it into ‘Umrah and clip their hair after running (between Al Safa’ and Al Marwah), and then take off their ihram except those who brought the sacrificial animals with them. They remarked should we go to Mina with our penises dripping with prostatic fluid? These remarks reached the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. Thereupon he said “had I known before hand about my affair what I have come to know later, I would not have brought sacrificial animals. Had I not brought sacrificial animals with me, I would have put off my ihram. “
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام نے حج کا احرام باندھا ان میں سے اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور طلحہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی کے پاس ہدی کے جانور نہیں تھے اور علی رضی اللہ عنہ یمن سے ساتھ ہدی لے کر آئے تھے تو انہوں نے کہا: میں نے اسی کا احرام باندھا ہے جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ حج کو عمرہ میں بدل لیں یعنی وہ طواف کر لیں پھر بال کتروا لیں اور پھر احرام کھول دیں سوائے ان لوگوں کے جن کے ساتھ ہدی ہو، تو لوگوں نے عرض کیا: کیا ہم منیٰ کو اس حال میں جائیں کہ ہمارے ذکر منی ٹپکا رہے ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: اگر مجھے پہلے سے یہ معلوم ہوتا جو اب معلوم ہوا ہے تو میں ہدی نہ لاتا، اور اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتا تو میں بھی احرام کھول دیتا ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج ۸۱ (۱۶۵۱)، ( تحفة الأشراف: ۲۴۰۵)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۳۰۵) (صحیح)
Ibn Abbas reported the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying This is an ‘Umrah from which we have benefitted. Anyone who has brought sacrificial animal with him should take off ihram totally. ‘Umrah has been included in Hajj till the Day of Judgment. Abu Dawud said This is a munkar (uncommon) tradition. This is in fact the statement of Ibn Abbas himself.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ عمرہ ہے، ہم نے اس سے فائدہ اٹھایا لہٰذا جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ پوری طرح سے حلال ہو جائے، اور عمرہ حج میں قیامت تک کے لیے داخل ہو گیا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ( مرفوع حدیث ) منکر ہے، یہ ابن عباس کا قول ہے نہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ۱؎۔
Explanation
وضاحت: ۱؎ : ابوداود کا یہ قول صحیح نہیں ہے، اس کو کئی راویوں نے مرفوعا روایت کیا ہے جن میں امام احمد بن حنبل بھی ہیں (منذری)۔
Ibn Abbas reported the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying If a man raises his voice in talbiya for Hajj, then he comes to Makkah, goes round the House (the Kaabah) and runs between Al Safa’ and Al Marwah he may take off his ihram. That will be considered as ihram for ‘Umrah. Abu Dawud said Ibn Juraij narrated from a man on the authority of Ata that the companions of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم entered Makkah raising their voices in talbiyah for Hajj alone, but the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم changed it to ‘Umrah.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جب آدمی حج کا احرام باندھ کر مکہ آئے اور بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کر لے تو وہ حلال ہو گیا اور یہ عمرہ ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جریج نے ایک شخص سے انہوں نے عطا سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ خالص حج کا احرام باندھ کر مکہ میں داخل ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے عمرہ سے بدل دیا۔
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم raised his voice in talbiyah for hajj. When he came (to Makkah) he went round the House (the Kabah) and ran between as-Safa and al-Marwah. The narrator Ibn Shawkar said: He did not clip his hair, nor did he take off his ihram due to sacrificial animals. But he commanded those who did not bring sacrificial animals with them to go round the Kabah, to run between as-Safa and al-Marwah, to clip their hair, and then put off their ihram. The narrator Ibn Mani' added: Or shave their heads, then take off their ihram.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا احرام باندھا جب آپ ( مکہ ) آئے تو آپ نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کی سعی کی ( ابن شوکر کی روایت میں ہے کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بال نہیں کتروائے ( پھر ابن شوکر اور ابن منیع دونوں کی روایتیں متفق ہیں کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدی کی وجہ سے احرام نہیں کھولا، اور حکم دیا کہ جو ہدی لے کر نہ آیا ہو طواف اور سعی کر لے اور بال کتروا لے پھر احرام کھول دے، ( ابن منیع کی حدیث میں اتنا اضافہ ہے ) : یا سر منڈوا لے پھر احرام کھول دے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ۶۴۲۹)، وقد أخرجہ: (حم ۱/۲۴۱، ۳۳۸) (صحیح)
Narrated Saeed ibn al-Musayyab: A man from the Companions of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم came to Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him). He bore witness before him that when he (the Prophet) was suffering from a disease of which he died he heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم prohibiting performing of Umrah before hajj.
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے ایک شخص عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے ان کے پاس گواہی دی کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مرض الموت میں حج سے پہلے عمرہ کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ۱۵۵۸۲) (ضعیف) (سعید بن مسیب کا سماع عمر فاروق سے ثابت نہیں، نیز یہ حدیث صحیح احادیث کے خلاف ہے)
Narrated Muawiyah ibn Abu Sufyan: Muawiyah said to the Companions of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم: Do you know that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم prohibited from doing so and so (and he prohibited from) riding on the skins of leopards? They said: Yes. He again said: You know that he prohibited combining hajj and Umrah. They replied: This we do not (know). He said: This was prohibited along with other things, but you forgot.
ابوشیخ ہنائی خیوان بن خلدہ ( جو اہل بصرہ میں سے ہیں اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہیں ) سے روایت ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام سے کہا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں فلاں چیز سے روکا ہے اور چیتوں کی کھال پر سوار ہونے سے منع فرمایا ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں، پھر معاویہ نے پوچھا: تو کیا یہ بھی معلوم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( قران ) حج اور عمرہ دونوں کو ملانے سے منع فرمایا ہے؟ لوگوں نے کہا: رہی یہ بات تو ہم اسے نہیں جانتے، تو انہوں نے کہا: یہ بھی انہی ( ممنوعات ) میں سے ہے لیکن تم لوگ بھول گئے ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الحج ۵۰ مختصراً (۲۷۳۵)، ( تحفة الأشراف: ۱۱۴۵۶)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۹۲، ۹۵، ۹۸، ۹۹)، (ضعیف) (اس کی سند میں اضطراب ہے، نیز صحیح روایات کے خلاف ہے)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : قران بعض علماء کے نزدیک افضل ہے، پھر تمتع، پھر افراد، اور بعض کے نزدیک افراد سب سے افضل ہے، پھر قران پھر تمتع، اور صحیح قول یہ ہے کہ تمتع سب سے افضل ہے، امام ابن قیم اور علامہ البانی کے بقول تمتع کے سوا حج کی دونوں قسمیں (یعنی افراد اور قران) منسوخ ہیں، کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ’’ جو بات مجھے اب معلوم ہوئی ہے وہ اگر پہلے معلوم ہوتی تو میں بھی ہدی کے جانور لے کر نہیں آتا، (تاکہ میں بھی اپنے حج کو عمرہ بنا دیتا) ‘‘، تو اب امت کے لئے یہ پیغام ملا کہ آئندہ کوئی ہدی لے کر آئے ہی نہیں۔
Anas said The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم passed the night at Dhu al Hulaifah till the morning came. He then rode (on his she Camel) which stood up with him on her back. When he reached al Baida, he praied Allaah, glorified Him and expressed His greatness. He then raised his voice in talbiyah for Hajj and ‘Umrah. The people too raised their voices in talbiyah for both of them. When we came (to Makkah), he ordered the people to take off their ihram and they did so. When the eight of Dhu Al Hijjah came, they again raised their voices in talbiyah for Hajj (i. e., wore ihram for Hajj). The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم sacrificed seven Camels standing with his own hand. Abu Dawud said The version narrated by Anas alone has the words. He began with the praise, glorification and exaltation of Allaah, then he raised his voice in talbiyah for Hajj.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات ذی الحلیفہ میں گزاری، یہاں تک کہ صبح ہو گئی پھر سوار ہوئے یہاں تک کہ جب سواری آپ کو لے کر بیداء پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی تحمید، تسبیح اور تکبیر بیان کی، پھر حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھا، اور لوگوں نے بھی ان دونوں کا احرام باندھا، پھر جب ہم لوگ ( مکہ ) آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ( احرام کھولنے کا ) حکم دیا، انہوں نے احرام کھول دیا، یہاں تک کہ جب یوم الترویہ ( آٹھویں ذی الحجہ ) آیا تو لوگوں نے حج کا احرام باندھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات اونٹنیاں کھڑی کر کے اپنے ہاتھ سے نحر کیں ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جو بات اس روایت میں منفرد ہے وہ یہ کہ انہوں نے ( یعنی انس رضی اللہ عنہ نے ) کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے «الحمدلله، سبحان الله والله أكبر» کہا پھر حج کا تلبیہ پکارا۔
Narrated Al-Bara ibn Azib: I was with Ali (may Allah be pleased with him) when the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم appointed him to be the governor of the Yemen. I collected some ounces of gold during my stay with him. When Ali returned from the Yemen to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم he said: I found that Fatimah had put on coloured clothes and the smell of the perfume she had used was pervading the house. (He expressed his amazement at the use of coloured clothes and perfume. ) She said: What is wrong with you? The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم has ordered his companions to put off their ihram and they did so. Ali said: I said to her: I raised my voice in talbiyah for which the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم raised his voice (i. e. I wore ihram for qiran). Then I came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. He asked (me): How did you do? I replied: I raised my voice in talbiyah, for which the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم raised his voice. He said: I have brought the sacrificial animals with me and combined Umrah and hajj. He said to me: Sacrifice sixty-seven or sixty-six camels (for me) and withhold for yourself thirty-three or thirty-four, and withhold a piece (of flesh) for me from every camel.
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو یمن کا امیر مقرر کر کے بھیجا، میں ان کے ساتھ تھا تو مجھے ان کے ساتھ ( وہاں ) کئی اوقیہ سونا ملا، جب آپ یمن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو دیکھا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رنگین کپڑے پہنے ہوئے ہیں، اور گھر میں خوشبو بکھیر رکھی ہے، وہ کہنے لگیں: آپ کو کیا ہو گیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو حکم دیا تو انہوں نے احرام کھول دیا ہے، علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے فاطمہ سے کہا: میں نے وہ نیت کی ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تو آپ نے مجھ سے پوچھا: تم نے کیا نیت کی ہے؟ ، میں نے کہا: میں نے وہی احرام باندھا ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو ہدی ساتھ لایا ہوں اور میں نے قِران کیا ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم سڑسٹھ ( ۶۷ ) ۱؎ یا چھیاسٹھ ( ۶۶ ) اونٹ ( میری طرف سے ) نحر کرو اور تینتیس ( ۳۳ ) یا چونتیس ( ۳۴ ) اپنے لیے روک لو، اور ہر اونٹ میں سے ایک ایک ٹکڑا گوشت میرے لیے رکھ لو ۔
وضاحت: ۱؎ : ابوداود کی روایت میں اسی طرح وارد ہے جو وہم سے خالی نہیں، قیاس یہ ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ تم (۶۷) یا (۶۶) اونٹ میری طرف سے نحر کرو اور باقی اپنی طرف سے کرنے کے لئے روک لو، اس معنی کے اعتبار سے علی رضی اللہ عنہ سارے اونٹوں کے نحر کرنے والے ہوں گے، حالانکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ ان میں سے اکثر کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے نحر کیا تھا، لہٰذا ’’ تم نحر کرو ‘‘ کے معنی یہ ہوں گے کہ انہیں نحر کے لئے تیار کرو اور انہیں منحر میں لے چلو تاکہ میں اپنے ہاتھ سے انہیں نحر کروں۔