CHAPTER: Visiting Graves. - باب: قبروں کی زیارت کا بیان ۔ - The rites of hajj (kitab al-manasik wa'l-hajj) - Sunnan Abu Dawood with Urdu and English Translation
Chapter 98 of The rites of hajj (kitab al-manasik wa'l-hajj) in Sunnan Abu Dawood. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
Narrated Abu Hurairah: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If any one of you greets me, Allah returns my soul to me and I respond to the greeting.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر جب بھی کوئی سلام بھیجتا ہے تو اللہ تعالیٰ میری روح مجھے لوٹا دیتا ہے یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ۱۴۸۳۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۵۲۷) (حسن)
Narrated Abu Hurairah: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Do not make your houses graves, and do not make my grave a place of festivity. But invoke blessings on me, for your blessings reach me wherever you may be.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ ۱؎ اور میری قبر کو میلا نہ بناؤ ( کہ سب لوگ وہاں اکٹھا ہوں ) ، اور میرے اوپر درود بھیجا کرو کیونکہ تم جہاں بھی رہو گے تمہارا درود مجھے پہنچایا جائے گا ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ۱۳۰۳۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۳۶۷) (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یعنی اس میں نماز پڑھنا اور عبادت کرنا نہ چھوڑو کہ تم اس میں مردوں کی طرح ہو جاؤ اس سے معلوم ہوا کہ جس گھر میں نماز اور عبادت نہیں ہوتی وہ قبرستان کے مانند ہے۔
Narrated Rabiah ibn al-Hudayr: Rabiah ibn al-Hudayr said: I did not hear Talhah ibn Ubaydullah narrating any tradition from the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم except one tradition. I (Rabiah ibn Abu Abdur Rahman) asked: What is that? He said: We went out along with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم who was going to visit the graves of the martyrs. When we ascended Harrah Waqim, and then descended from it, we found there some graves at the turning of the valley. We asked: Messenger of Allah, are these the graves of our brethren? He replied: Graves of our companions. When we came to the graves of martyrs, he said: These are the graves of our brethren.
ربیعہ بن ہدیر کہتے ہیں کہ میں نے طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کو سوائے اس ایک حدیث کے کوئی اور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے نہیں سنا، میں نے عرض کیا: وہ کون سی حدیث ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، آپ شہداء کی قبروں کا ارادہ رکھتے تھے جب ہم حرۂ واقم ( ایک ٹیلے کا نام ہے ) پر چڑھے اور اس پر سے اترے تو دیکھا کہ وادی کے موڑ پر کئی قبریں ہیں، ہم نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا ہمارے بھائیوں کی قبریں یہی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے صحابہ کی قبریں ہیں ۱؎ ، جب ہم شہداء کی قبروں کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ہمارے بھائیوں کی قبریں ہیں ۲؎ ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ۴۹۹۷)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۱۶۱) (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : جن کی موت اسلام پر ہوئی ہے اور وہ شہداء کا مقام نہیں پا سکے ہیں۔ ۲؎ : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اخوت کی نسبت ان کی طرف کی یہ ان کے لئے بڑے شرف کی بات ہے۔
Nafi reported on the authority of Abdullah bin Umar “The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم made his Camel kneel down at Al Batha which lies in Dhu Al Hulaifa and prayed there. Abdullah bin Umar too used to do so. ”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطحاء میں جو ذی الحلیفہ میں ہے اونٹ بٹھایا اور وہاں نماز پڑھی، چنانچہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
Narrated Malik: One should not exceed al-Muarras when one returns to Madina until one prays there as much as one wishes, for I have been informed that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم halted there at night. Abu Dawud said: I heard Muhammad bin Ishaq al-Madini say: Al-Muarras lies at a distance of six miles from Madina.
مالک کہتے ہی جب کوئی مدینہ واپس لوٹے اور معرس پہنچے تو اس کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ آگے بڑھے جب تک کہ نماز نہ پڑھ لے جتنا اس کا جی چاہے اس لیے کہ مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں رات کو قیام کیا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے محمد بن اسحاق مدنی کو کہتے سنا: معرس مدینہ سے چھ میل کے فاصلے پر ایک مقام ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، موطا امام مالک/الحج/ عقب حدیث (۲۰۶) (صحیح)