It was narrated that ‘Aishah said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) used to bring his head towards me when he was next door (observing I’tikaf), and I would wash it and comb his hair, when I was in my apartment and I was menstruating, and he was in the mosque.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کی حالت میں مسجد سے اپنا سر میری طرف بڑھا دیتے تو میں اسے دھو دیتی اور کنگھی کر دیتی، اس وقت میں اپنے حجرے ہی میں ہوتی، اور حائضہ ہوتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں ہوتے ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۷۲۸۸)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض ۶ (۳۰۱)، الاعتکاف ۴ (۲۰۲۱)، اللباس ۷۶ (۵۹۲۵)، صحیح مسلم/الحیض ۳ (۲۹۷)، سنن ابی داود/الصوم ۷۹ (۲۴۶۸)، سنن النسائی/الطہارة ۱۷۶ (۲۷۶)، الحیض ۲۱ (۳۸۷)، موطا امام مالک/الاعتکاف ۱ (۱)، ۷ (۷) مسند احمد (۶/۳۲، ۵۵، ۸۶، ۱۷۰، ۲۰۴، سنن الدارمی/الطہارة ۱۰۸ (۱۰۹۸)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ۶۳۳)
Explanation
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ معتکف اعتکاف کی حالت میں اپنے بدن میں سے بعض اجزاء باہر نکال سکتا ہے، اور حجرے کا دروازہ مسجد کی طرف تھا تو آپ ﷺ مسجد کی اخیر میں بیٹھ جاتے ہوں گے اور سر مبارک حجرے کے اندر کر دیتے ہوں گے، اور ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا اس کو دھو دیتی ہوں گی،تو اس طرح ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا حجرے کے اندر رہتی ہوں گی ٕاور آپ ﷺ مسجد کے اندر۔
It was narrated from Safiyyah bint Huyai, the wife of the Prophet (ﷺ), that she came to visit the Messenger of Allah (ﷺ) when he was in I’tikaf during the last ten days of the month of Ramadan. She spoke with him for a while during the evening, then she stood up to go back. The Messenger of Allah (ﷺ) got up to take her home. When she reached the door of the mosque that was by the home of Umm Salamah, the wife of the Prophet (ﷺ), two men from among the Ansar passed by them. They greeted the Messenger of Allah (ﷺ) with peace, then went away. The Messenger of Allah (ﷺ) said:
“Take it easy, she is Safiyyah bint Huyai.” They said: “Glorious is Allah, O Messenger of Allah!” And they were very upset by that (i.e., that he thought they may have some doubts). The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The Satan flows through the son of Adam like blood, and I was afraid that he might cast some doubt into your hearts.”
ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لیے آئیں، اور آپ رمضان کے آخری عشرے میں مسجد کے اندر معتکف تھے، عشاء کے وقت کچھ دیر آپ سے باتیں کیں، پھر اٹھیں اور گھر جانے لگیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ انہیں پہنچانے کے لیے اٹھے، جب وہ مسجد کے دروازہ پہ پہنچیں جہاں پہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی رہائش گاہ تھی تو قبیلہ انصار کے دو آدمی گزرے، ان دونوں نے آپ کو سلام کیا، پھر چل پڑے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی جگہ ٹھہرو، یہ صفیہ بنت حیی ( میری بیوی ) ہیں ان دونوں نے کہا: سبحان اللہ، یا رسول اللہ! اور یہ بات ان دونوں پہ گراں گزری، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے، مجھے خدشہ ہوا کہ کہیں شیطان تمہارے دل میں کوئی غلط بات نہ ڈال دے ۱؎۔
یعنی شیطان آدمی کا دشمن ہے وہ ایسے مواقع کی تاک میں رہتا ہے، تم نے اس وقت رات میں مجھ کو اکیلی عورت کے ساتھ دیکھا ہے ممکن ہے کہ شیطان تمہارے دل میں یہ خیال ڈالے کہ نبی کریم ﷺ اتنی رات کو اس اجنبی عورت کے ساتھ ہیں تو ضرور کوئی نہ کوئی بات ہوگی - «معاذ اللہ» اس وجہ سے میں نے بتلا دیا کہ یہ میری بیوی صفیہ ہیں
Aishah said:
“One of the wives of the Messenger of Allah (ﷺ) observed I’tikaf with him, and she used to see red and yellow discharge, and sometime she would put a basin beneath her.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی بیویوں میں سے کسی نے اعتکاف کیا، تو وہ سرخی اور زردی دیکھتی تھیں، تو کبھی اپنے نیچے طشت رکھ لیتی تھیں ۱؎۔
Takhreej
صحیح البخاری/الحیض ۱۰ (۳۰۹)، الاعتکاف ۱۰ (۲۰۳۷)، سنن ابی داود/الصوم ۸۱ (۲۴۷۶)، (تحفة الأشراف: ۱۷۳۹۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۱۳۱)، سنن الدارمی/الطہارة ۹۳ (۹۰۶)
Explanation
جب خون حیض والے مقررہ دنوں سے زیادہ ہو جائے تو وہ استحاضہ ہے، مستحاضہ کو صوم و صلاۃ سب ادا کرنا چاہئے جیسا کہ اوپر گزرا، اس کا اعتکاف کرنا بھی صحیح ہے۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said concerning the person observing I’tikaf. “He is refraining from sin and he will be given a reward like that of one who does all kinds of good deeds.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معتکف کے بارے میں فرمایا: اعتکاف کرنے والا تمام گناہوں سے رکا رہتا ہے، اور اس کو ان نیکیوں کا ثواب جن کو وہ نہیں کر سکتا ان تمام نیکیوں کے کرنے والے کی طرح ملے گا ۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۵۵۹۷، ومصباح الزجاجة: ۶۳۷)
It was narrated from Abu Umamah that the Prophet (ﷺ) said:
“Whoever spends the nights of the two ‘Eid in praying voluntary prayers, seeking reward from Allah, his heart will not die on the Day when hearts will die.”
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص عیدین کی راتوں میں ثواب کی نیت سے اللہ کی عبادت کرے گا، تو اس کا دل نہیں مرے گا جس دن دل مردہ ہو جائیں گے ۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۴۸۵۷، ومصباح الزجاجة: ۶۳۸)