۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے جہنم میں جھانکا اور دیکھا کہ اس کی اکثریت عورتوں پر مشتمل تھی اور پھر میں نے جنت میں جھانکا اور دیکھا کہ اس میں فقیر لوگوں کی اکثریت تھی۔
۔ ابو تیاح بیان کرتے ہیں کہ مطرف کی دو بیویاں تھیں، جب وہ ایک بیوی کے پاس گئے اور اس نے ان کی پگڑی اتاری تو اس نے کہا: آپ تو اپنی بیوی کے پاس سے آئے ہیں، انھوں نے کہا: میں سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے پاس سے آیا ہوں، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث بیان کی، میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت کے باسیوں میں عورتیں کم تعداد ہوں گی۔
۔ سیدنا نضلہ بن طریف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم میں ایک آدمی تھا، عام طور پر اس کو اعشی کہا جاتا تھا، اس کا نام عبد اللہ بن اعور تھا، اس کی معاذہ نامی ایک بیوی تھی، وہ اپنے اہل و عیال کے لیے کھانے لینے کی خاطر رجب میں ہجر گیا، پیچھے اس کی بیوی بغاوت کر کے کہیں بھاگ گئی اور مطرف بن بُہصُل نامی آدمی کے ہاں جا کر پناہ لی، اس نے اس کو اپنی کمر کے پیچھے بٹھا لیا، جب اعشی واپس آیا، اس نے اپنی بیوی کو اپنے گھر میں نہ پایا اور اس کو بتلایا گیا کہ وہ بغاوت کر گئی ہے اور مطرف بن بُہصُل کی پناہ میں ہے، چنانچہ وہ مطرف کے پاس گیا اور اس سے کہا: اے چچا زاد! کیا تیرے پاس میری بیوی معاذہ ہے؟ اگر ہے تو مجھے دے دے، اس نے کہا: وہ میرے پاس نہیں ہے اور اگر وہ میری پاس ہوتی تو میں نے تجھ کو نہیں دینی تھی۔ دراصل مطرف، اعشی سے زیادہ عزت و قوت والا تھا، پس اعشی نکل پڑا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پناہ طلب کی اور پھر یہ اشعار پڑھے:
اے لوگوں کے سردار! اور عربوںپر غالب آ جانے والے! میں آپ سے خائن عورتوں میں سے ایک خائن عورت کی شکایت کرتا ہوں
گہری سیاہی والی مادہ بھیڑیئے کی طرح، جو بِل کے سائے میں ہو، میں اس کے لیے غلہ طلب کرنے کے لیے رجب میں نکلا
اس نے جھگڑنے اور بھاگنے کی صورت میں اپنے حق میں میرے ظن کی مخالفت کی، اس نے وعدہ خلافی کی ہے اور اس نے اپنی دم کو بند کر لیا ہے
اس نے مجھے کثیر مقدار کے گھنے درختوں میں پھینک دیا ہے، یہ اس شخص کے حق میں بدترین غلبہ پا لینے والی ہیں، جس پر غلبہ پا لیں
یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ خواتین اس شخص کے حق میں بدترین غلبہ پانے والی ہیں، جس پر یہ غلبہ پا لیں۔ پھر اعشی نے اپنی بیوی اور اس کاروائی کا شکوہ کیا اور بتلایا کہ اب وہ ہمارے قبیلے کے مطرف بن بہصل نامی آدمی کے پاس ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مطرف کی طرف یہ خط لکھا: تو اس کی بیوی تلاش کر کے اس کو واپس کر دے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خط اُس آدمی کے پاس پہنچا اور اس پر پڑھا گیا تو اس نے اسی خاتون سے کہا: اے معاذہ! یہ تیرے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خط موصول ہوا ہے، اس کی وجہ سے میں تجھے اس کے سپرد کرنے والا ہوں۔ اس خاتون نے کہا: تو پھر تو میرے حق میں اس سے پختہ عہد اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امان لے لے، تاکہ وہ مجھے میرے کیے پر سزا نہ دے، پس مطرف نے اعشی سے یہ عہد و پیمان لیا اور پھر اس کی بیوی کو اس کے سپرد کر دیا، اعشی نے اپنی بیوی وصول کی اور یہ شعر پڑھنے لگا:
تیری عمر کی قسم! معاذہ سے میری محبت ایسی نہیں ہے کہ جس کو چغلخور اورزمانے کا گزرنا کم کر دے
نہ وہ برائی اس کو کم کر سکے گی، جو معاذہ نے کی ہے، کیونکہ گمراہ لوگوں نے اس کو پھسلا دیا تھا، جب وہ میرے جانے کے بعد اس سے سرگوشیاں کرتے تھے۔
۔ (دوسری سند) اعشی کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور یہ اشعا ر پڑھے:
اے لوگوں کے مالک اور عربوں پر غالب آ جانے والے! خائن عورتوں میں سے ایک خائن عورت سے میرا واسطہ پڑا ہے
میں اس کے لیے اناج لانے کے لیے رجب میں نکلا لیکن وہ جھگڑنے اور بھاگنے کی صورت میں میرا نائب بنی
اس نے وعدہ خلافی کی اور اپنی دُم کو بند کر دیایہ اس شخص کے حق میں بدترین غلبہ پا لینے والی ہیں، جس پر غلبہ پا لیں۔
۔ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھے کہ خوشخبری دینے والا ایک آدمییہ خوشخبری دینے کے لیے آیا کہ وہ دشمن پر کامیاب ہو گئے ہیں، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر مبارک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی گودی میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے، سجدہ کیا اور پھر خوشخبری دینے والے سے سوال جواب کرنے لگے، اس نے ایک بات یہ بھی بتلائی کہ اُن لوگوں کی ذمہ دار خاتون تھی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس وقت مرد ہلاک ہو جائیں گے، جب عورتوں کی اطاعت کریں گے، اس وقت مرد ہلاک ہو جائیں گے، جب عورتوں کی اطاعت کریں گے۔ تین بار ارشاد فرمایا۔
Takhreej
(۱۰۰۵۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف بکار بن عبد العزیز، وابوہ عبد العزیز روی عنہ جمع، وذکرہ ابن حبان والعجلی فی الثقات ، أخرجہ البزار: ۳۶۹۲، والحاکم: ۴/ ۲۹۱، وأخرج قصۃ سجود الشکر ابوداود: ۲۷۷۴، والترمذی: ۱۵۷۸، وابن ماجہ: ۱۳۹۴ (انظر: ۲۰۴۵۵)
۔ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل فارس کا ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: میرے ربّ نے تیرے رب کو ہلاک کر دیا ہے۔ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: وہ تو اپنی بیٹی اپنا نائب بنا گیا ہے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ قوم فلاح نہیں پا سکتی، جن کی حکمران عورت ہو۔
فوائد:… جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شاہِ ایران کسری کو دعوت ِ اسلام دینے کے لیے خط لکھا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نامۂ مبارک چاک کر دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر بد دعا کی تھی، جو قبول ہوئی۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت امارت اور قضا کی اہل نہیں ہے، بلکہ عورت تو خود اپنی شادی بھی نہیں کر سکتی۔
قارئین کرام! مرد اور عورت، دونوں اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہیں، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے دونوں کی ذمہ داریاں بھی بیان کی ہیں اور دونوں کے حقوق بھی اور عورت کو اس اعتبار سے منفرد اور بے فکر قرار دیا ہے کہ اس کے تمام اخراجات کا ذمہ دار مرد ہے، لیکن دیکھایہگیا ہے کہ عورت نے اپنے حقوق پر قناعت نہیں کی اور اپنے دائرۂ کار سے باہر نکلنے کی کوشش کی۔
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر داخل ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ آیات تلاوت کر رہے تھے: زیادتی کی چاہت نے تمہیں غافل کر دیا،یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم کہتا ہے : میرا مال، میرا مال، اے ابن آدم! تیرے مال میں سے تیرا مال نہیں ہے، مگر وہ جو تونے کھا کر ختم کر دیا،یا پہن کر بوسیدہ کر دیا،یا صدقہ کر کے آگے بھیج دیا۔ قتادہ کہا کرتے تھے: وہ صدقہ کچھ نہیں ہے، جس کو قبضے میں نہیں لیا گیا۔
۔ سیدنا کعب بن عیاض رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ہر امت کا فتنہ ہوتا ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے۔
فوائد:… وہ مال و دولت فتنہ ہے، جو عبادات، معاملات اور اخلاق کے واجبات و مستحبات میںکوتاہی کرنے پر اور محرمات و مکروہات کا ارتکاب کرنے پر آمادہ کرتا ہے اور مال داروں کی اکثریت اس فتنے میں مبتلا رہی ہے، لیکن وہ خود نہ اس نقطے کو سمجھ سکتے ہیں اور نہ سمجھنے کے لیے کوشش کرتے ہیں۔
قارئین کرام! کسی معاشرے پر تبصرہ کرتے وقت اس کی اکثریت کو دیکھا جاتا ہے، نہ کہ چند افراد کو۔ اس امت کا فتنہ مال ہے، اس ضمن میں درج ذیل چند اقتباسات پر غور کریں:
اس سلسلے میں یہ حقیقت ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ مال و دولت کی کثرت و بہتات نے زیادہ تر لوگوں کے مزاجوں کو تبدیل کیا ہے۔ ان کی ترجیحات تبدیل ہو کر رہ گئی ہیں، امیر لوگ اپنی امیری کی بنا پر ناز کرتے ہوئے اپنے آپ کو بلند مرتبت اور کم آمدنی والوں کو کم تر سمجھتے ہیں اور ان سے حسن سلوک سے پیش نہیں آتے، ان کے تعلق یا دوستی کی بنیاد روپے پیسے پر ہوتی ہے، یہ لوگ اپنے جیسے مالداروں، جاگیرداروں، بڑے سیاسی رہنماؤں اور اعلی منصب داروں کا خوشامد کی حد تک احترام کریں گے اور بھرپور انداز میں ان کی ضیافت کریں گے، لیکنجب کوئی غریب اور نیک آدمی ان کے دروازے پر آئے تو اپنے نوکروں چاکروں کے ذریعے ڈیل کرنے کو کافی سمجھ کر اس کو دروازے سے واپس کرنے کی کوشش کریں گے۔ کم ہی دیکھا گیا ہے کہ وہ کسی نیک آدمی کی عزت اس کی نیکی کی وجہ سے کریںیا اس سے مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ ملاقات ہی کر لیں، بلکہ زیادہ تر اِن کو مذہبی لوگوں پر کیچڑ اچھالتے ہوئے پایا جاتا ہے۔ اگر عبادات کے معاملے کو سامنے رکھیں تو عام لوگوں کی فتح نظر آتی ہے، کسی مسجد کے نمازیوں کی تعداد میں عام لوگوں اور سونے کا چمچ لے کر پیدا ہونے والوں کا تناسب دیکھا جا سکتا ہے، تلاوتِ قرآنِ اور حفظ ِ قرآن کے سلسلے میں موازنہ کیا جا سکتا ہے، میں نے اپنی زندگی میں چند امیرافراد پائے جنہوں نے قرآن مجید حفظ کیا اور اسے بھی آرام پرستی کی وجہ سے بھلا دیا۔ یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث کی درس و تدریس اور تحقیق و تفتیش کا معاملہ ہے۔ علی ہذا القیاس۔
چشم فلک اور ہر صاحب ِ بصارت کی بصیرت گواہ ہے کہ دنیوی آسائشوں کی وجہ سے عبادات کا سلسلہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا، یہی وجہ ہے کہ آج مساجد میں نمازیوں کی تعداد بہت کم ہو گئی ہے اور اچھے خاصے نمازی لوگ صرف اس وجہ سے نمازِ فجر کی ادائیگی کے لیے مسجد میںحاضر نہیں ہوتے کہ شام کو خوب پیٹ بھر کر کھاتے ہیں اور نرم گدے بچھا کر اور ملائم کمل اوڑھ کر اور پنکھے، روم کولر یا اے سی وغیرہ چلا کر سوتے ہیں، ایسے ماحول میں نیند کا کردار نشہ سے کم نہیں ہوتا،
نیند پورا ہونے کا نام نہیں لیتی، اعضا ڈھیلے پڑ جاتے ہیں،نتیجتاً فجر کی جماعت یا سرے سے نمازِ فجر سے ہی محروم ہو جاتے ہیں۔ میں بالیقین کہتا ہوں کہ بظاہر انتہائی پر سکون ماحول میں سونے والوں کی نیند کی مقدار کہیں زیادہ ہوتی ہے، جبکہ انہی کی طرح کے انسان دن میں چار، پانچ، چھ گھنٹے سو کر ان سے زیادہ صحت مند نظر آتے ہیں۔
رہا مسئلہ قلت ِ مال یا کثرتِ مال کے بہتر ہونے کا، تو یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس سے انکار کرنا ناممکن ہے کہ دین کی حفاظت کے لیے، ارکانِ اسلام کی ادائیگی کے لیے اور کئی مفاسد سے بچنے کے لیے قلت ِ مال بہترین ذریعہ ہے اور رہا ہے، یقین مانیے کہ اگر گزر بسر کے بقدر رزق نصیب ہو جائے تو دنیا کا حقیقی سکون مل جاتا ہے۔ یہ غربت ہی ہے جو بچوں کو دینی تعلیم دینے، قرآن مجید حفظ کرنے اور قرآن و حدیث کی تعلیم کے حصول پر آمادہ کرتی ہے اور یہی لوگ ہیں کہ دین کو اگلی نسلوں تک منتقل کرنے کے لیے جن کی اکثریت کو استعمال کیا گیا۔مزاج میں سادگی اور ہر آدمی سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملنا ان ہی لوگوں کا وطیرہ ہے۔ اس سے بڑا انعام کیا ہو سکتا ہے کہ مسکین لوگ امیر لوگوں سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ بہرحال یہ ایسے حقائق ہیں جو امیر زادوں اور مال و دولت کے طلبگاروں کے لیے ناقابل تسلیم ہیں۔
قارئین کرام! آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ مال و دولت کی کثرت و وسعت کا بندے کو جہاد سمیت شرعی واجبات سے روک دیناباعث ِ ہلاکت ہے، جس کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ} (سورۂ بقرہ: ۱۹۵) … اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو۔
بہرحال سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو ان کے مال کی وجہ سے ہی غنی کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے، وہ مالدار بڑے خوش بخت ہیں جو اپنی اوقات کو اور اپنے ماضی کو نہیں بھولتے اور اپنے مال و دولت کے تقاضے اور بلا تفریق اہل اسلام کے حقوق ادا کرتے ہیں۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندہ کہتا ہے: میرا مال، میرا مال، حالانکہ بندے کے مال کی صرف تین صورتیں ہیں،جو وہ کھا کر ختم کر دے، یا پہن کر بوسیدہ کر دے، یا وہ کسی کو دے کر ختم کر دے، اس کے علاوہ جو مال ہے، اس کو وہ لوگوں کے لیے چھوڑ کر چلا جانے والا ہے۔
۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: وہ لوگ جو سونے اور چاندی کا خزانہ کرتے ہیں اور اس کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔ اس وقت ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے، ہم میں سے بعض افراد نے بعض سے کہا: سونے اور چاندی کے بارے میں تو یہ کچھ نازل ہو چکا ہے، اب اگر ہمیں پتہ چل جائے کہ کون سا مال بہتر ہے، تاکہ اس کا اہتمام کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہترین مال ذکر کرنے والی زبان، شکر کرنے والا دل اور صاحب ِ ایمان بیوی، جو بندے کے ایمان پر اس کا تعاون کرے۔
Takhreej
(۱۰۰۵۶) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الترمذی: ۳۰۹۴، وابن ماجہ: ۱۸۵۶(انظر: ۲۲۳۹۲)
۔ عبد اللہ بن ابو ہذیل سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے ایک ساتھی نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سونے اور چاندی کے لیے ہلاکت ہے۔ یہ سن کر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے یہ فرما دیا ہے کہ سونے اور چاندی کے لیے ہلاکت ہے، اب ہم کیا خزانہ کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ذکر کرنے والی زبان، شکر کرنے والا دل اور ایسی بیوی، جوآخرت کے معاملے میں اپنے خاوند کا تعاون کرے۔
Takhreej
(۱۰۰۵۷) تخریج: حسن لغیرہ (انظر: ۲۳۱۰۱)
Explanation
فوائد:… ذکر کرنے والی زبان، شکر کرنے والا دل اور امورِ آخرت کو آسان بنا دینے والی بیوی، ان تین نعمتوں کی وجہ سے نہ صرف دنیا میں تسکین ملتی ہے، بلکہ آخرت بھی آسان ہو جاتی ہے۔
۔ مطرف بن عبد اللہ ، ایک صحابی سے بیان کرتے ہیں، وہ کوفہ کے امیر تھے، انھوں نے ایک دن خطاب کیا اور کہا: بیشک اس مال کو دینے میں بھی فتنہ ہے اور اس کو روکنے میں بھی فتنہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی موضوع پر اپنا خطبہ دیا،یہاں تک کہ اس سے فارغ ہوئے اور نیچے اتر آئے۔
۔ عبد اللہ بن حارث سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ، سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کے محل کے سائے میں کھڑے تھے، سیدنا ابی ّ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: کیا تو لوگوں کو نہیں دیکھتا کہ طلب ِ دنیا کے لیے ان کی گردنیں مختلف ہوئی ہوئی ہیں؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: قریب ہے کہ فرات سے سونے کا پہاڑ نکل آئے، جب لوگوں کو اس کا پتہ چلے گا تو وہ اس کی طرف جائیں گے، اس پہاڑ کے پاس موجودہ لوگ کہیں گے: اللہ کی قسم! اگر لوگوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیں تو یہ پہاڑ تو ختم ہو جائے گا، پس لوگ آپس میں لڑ پڑیں گے اور ہر سو میں سے ننانوے افراد قتل ہو جائیں گے۔
Takhreej
(۱۰۰۵۹) تخریج:أخرجہ مسلم: ۲۸۹۵(انظر: ۲۱۲۶۲)
Explanation
فوائد:… یہ سارا کچھ مال کو اکٹھا کرنے کی لالچ میں ہو گا۔
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اہل صفہ میں سے ایک آدمی دو دیناریا دو درہم چھوڑ کر فوت ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: یہ دو داغ ہیں، تم خود اپنے ساتھ کی نماز جنازہ پڑھ لو۔
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل صفہ میں ایک آدمی ایک دینار چھوڑ کر فوت ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: یہ ایک داغ ہے۔ پھر ایک اور آدمی دو دینار چھوڑ کر فوت ہو گیا، ایک روایت میں ہے: اس کے ازار میں دو دینار پائے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: یہ دو داغ ہیں۔
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدلا ہوا تھا، میں نے سمجھا کہ شاید آپ کو کوئی تکلیف ہو گی، پھر میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا وجہ ہے کہ آپ کے چہرے کا رنگ بدلا ہوا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان سات دیناروں کی وجہ سے ہے، جو کل ہمارے پاس آئے تھے اور ابھی تک بچھونے کے کونے میں پڑے ہیں۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مرض الموت کے دوران فرمایا: عائشہ! اس سونے کا کیا بنا؟ یہ سن کر سیدہ چھ سات یا آٹھ یا نو دینار نکال لائیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ہاتھ سے ان کو الٹ پلٹ کرنے لگے اور فرمایا: محمد کا اللہ کے بارے میں کیا گمان ہو گا، اگر وہ اس کو اس حال میں ملے کہ یہ دینار اس کے پاس ہوں، ان کو خرچ کر دو۔
Takhreej
(۱۰۰۶۳) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الحمیدی: ۲۸۳، وابن ابی شیبۃ: ۳/ ۲۳۸، وابن حبان: ۳۲۱۲ (انظر: ۲۴۲۲۲)
۔ شقیق کہتے ہیں: سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور کہا: اے ام المؤمنین! مجھے ڈر ہے کہ میں ہلاک ہو جاؤں گا، کیونکہ قریشیوں میں سب سے زیادہ مال میرے پاس ہے اور اب میں نے چالیس ہزار دینار کی ایک زمین بیچی ہے، سیدہ نے کہا: اے میرے بیٹے! اپنا مال خرچ کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا تھا: بیشک میرے بعض ساتھی ایسے ہیں کہ جب میں (وفات کے وقت) ان سے جدا ہوں گا تو وہ بعد میں مجھے نہیں مل سکیں گے۔ پس میں عبد الرحمن، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کو یہ حدیث سنائی، وہ سیدہ کے پاس پہنچے اور کہا: اللہ کی قسم! کیا میں ان میں سے ہوں؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، اور آپ کے بعد میں ہر گز کسی کو بری نہیں کروں گی۔
فوائد:… ہر ایک کو اس حقیقت کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ اس وقت منقبت و عظمت اور معرفت و شناخت کی بنیاد مال و دولت پر ہے، پچھلے ادوار میں اسلام اور نسب کو بڑائی کی علامت سمجھا جاتا تھا، لوگ مال سے متأثر نہیں ہوتے تھے، لیکن اب نظام مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے، اب مال و دولت اور سرمائے کا عروج ہے، یہی شان ہے، یہی آن ہے، یہی نسب ہے، یہی حسب ہے، غریب رشتہ دار کیا، محتاج بھائی کو بھی کوئی قریب نہیں پھٹکنے دیتا۔
۔ بنو سلیم کا ایک آدمی اپنے دادا سے بیان کرتا ہے کہ وہ چاندی لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: یہ ہماری ایک کان کی چاندی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب کانیں ہوں گی، لیکن بدترین لوگ ان پر حاضر ہوں گے۔
فوائد:… شیخ البانیjکہتے ہے: معادن (کانیں) ان مقامات کو کہتے ہیں، جہاں سے سونے، چاندی اور تانبے جیسے زمینی جواہر برآمد ہوتے ہیں، اس کی واحد معدِن ہے۔ کوئی شک نہیں کہ کافر لوگ ہی بدترین ہوتے ہیں۔ عربوں کے زمینی خزانے نکالنے کے لیےیورپیوں اور امریکیوں کو وہاں لانے کی وجہ سے مسلمان جس آزمائش میں مبتلا ہیں، اس حدیث میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ واللہ المستعان۔ (صحیحہ: ۱۸۸۵)