TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3594 - باب: گھوڑوں سے محبت و رغبت کا بیان۔ - The book of horses, races and shooting - Sunnan Nisai in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 1 in this chapter
Whole chapter
Previous Hadith Next Hadith
باب: گھوڑوں سے محبت و رغبت کا بیان۔
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ النِّسَاءِ مِنَ الْخَيْلِ .
It was narrated that Anas said: There was nothing dearer to the Messenger of Allah after women than horses.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عورت کے بعد گھوڑوں سے زیادہ کوئی چیز محبوب اور پسندیدہ نہ تھی۔
3594
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan an-Nasa'i 3564 In-book reference : Book 28, Hadith 4 English translation : Vol. 4, Book 28, Hadith 3594
(سند میں قتادہ بن دعامہ مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے)
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ۱۲۲۱)

Related Chapters

90
1
مسلمان کی پشت پناہی کرنے، اس سے محبت کرنے، اس پر شفقت کرنے اور اس کی تکلیف کی وجہ سے تکلیف محسوس کرنے کی رغبت کا بیان
Musnad Ahmad
2
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Horses
باب: گھوڑوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About What Is Recommend Regarding Horses
باب: اچھی نسل کے گھوڑوں کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About What Is Disliked In Horses
باب: ناپسندیدہ گھوڑوں کا بیان
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About Bells On Horses (Being Disliked)
باب: گھوڑوں کے گلے میں گھنٹیاں لٹکانے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Ben Related About: The Prophet (saws) LIked Sweets And Honey
باب: میٹھی چیز اور شہد سے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی رغبت اور پسند کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About The Love Of A Parent For His Child
باب: اولاد کی محبت کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About Being Merciful With The Children
باب: بچوں سے پیار محبت کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related Concerning Being Moderate In Loving And Hating
باب: محبت اور نفرت میں میانہ روی اختیار کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About Anxiety Over The World And Love For It
باب: دنیا سے محبت اور اس کے غم و فکر میں رہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: The Hadith:
باب: زمین جائیداد نہ بناؤ کہ اس سے تمہیں دنیا کی رغبت ہو جائے گی
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About : 'The Heart Of an Old Man Remains Young Because of Love For Two Things'
باب: دو چیزوں کی محبت میں بوڑھے کا دل جوان ہوتا ہے: عمر اور مال
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About Abstinence in The world
باب: دنیا سے بے رغبتی کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About Loving For The Sake Of Allah
باب: اللہ کی خاطر محبت کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About Making One's Love Known
باب: محبت سے باخبر کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
16
باب: جنت کے گھوڑوں کا بیان
Jam e Tirmazi
17
بَابُ التَّحْرِيضِ عَلَى قِيَامِ اللَّيْلِ
رات کے قیام پر رغبت دلانے کا بیان
Mishkat
18
بَابُ الْحُبِّ فِي
اللہ کے لیے اور اللہ کی طرف سے محبت کا بیان
Mishkat
19
بَابُ اسْتِحْبَابِ الْمَالِ وَالْعُمُرِ لِلطَّاعَةِ
اللہ کی اطاعت و عبادت کے لیے مال اور عمر سے محبت رکھنے کا بیان
Mishkat
20
مشرکوں کو قبولیت ِ اسلام کی رغبت دلانا اور ان پر رحم کرتے ہوئے ان کی تالیف قلبی کرنا
Musnad Ahmad
21
علم سکھانے پر رغبت دلانے اور معلم کے آداب کا بیان
Musnad Ahmad
22
صفوں کو درست کرنے اور ملانے پر رغبت دلانے کا بیان اور ان میں سے سب سے اچھی اور سب سے بری صفوں کا بیان
Musnad Ahmad
23
غلاموں، گھوڑوں اور گدھوں میں زکوۃ کے نہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
24
حسین نام رکھنے کی رغبت دلانا اور بعض فرشتوں کے ناموں کا بیان
Musnad Ahmad
25
جہاد کا واجب ہونا اور اس کی رغبت دلانا
Musnad Ahmad
26
گھوڑوں کی قابل تعریف اور قابل مذمت صفات کا بیان
Musnad Ahmad
27
گھوڑوںکی نسل کو زیادہ کرنے اور اس کی فضیلت کا اورگھوڑوں کو خصی کرنے کی ممانعت اور گدھوں سے گھوڑیوں کی جفتی کروانے کی کراہت کا بیان
Musnad Ahmad
28
گھوڑوں کی عزت کرنے، ان کو چارہ کھلانے اور ان کی تضمیر کا بیان، نیز لمبے ہو جانے والے بالوں کو کاٹنے کی ممانعت
Musnad Ahmad
29
ذرائع آمدنی کے ابواب کسب مال کی رغبت دلانے، پست ہمتی سے گریزکرنے، نیز حلال کی ترغیب اور حرام سے نفرت دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
30
عاریۃً چیز کے جائز ہونے اور اس میں رغبت دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
31
وصیت کرنے پر رغبت دلانے، اس میںظلم کرنے کی ممانعت اور زندگی میں ہی اس کا اہتمام کرلینے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
32
دین اور پسندیدہ اخلاق والی خاتون سے شادی کرنے کی رغبت کا بیان، اگرچہ وہ فقیریا بدصورت ہو
Musnad Ahmad
33
سلام کہنے پر رغبت، اس کی فضیلت اور اس کو ترک کرنے کی کراہت کا بیان
Musnad Ahmad
34
قرآن پاک کو سیکھنے سکھانے، اس کو حفظ کرنے پر رغبت دلانے اور اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
35
نیکی کے افضل اعمال میں سے اجتماعی خصائل کی رغبت دلانے اور ان کے متناقض امور سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
36
دنیا اور اس کی زینت و سجاوٹ اور نعمتوں سے بے رغبتی اختیار کرنے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
37
فقراء مساکین کی فضیلت اور ان سے محبت کرنے اور ان کے ساتھ بیٹھنے کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
38
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرنے کے وجوب اور اس کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
39
نیک بندوں سے اللہ تعالیٰ کی محبت کا بیان
Musnad Ahmad
40
نیکوکاروں سے محبت کرنے، ان کی صحبت اختیار کرنے، ان کے ساتھ بیٹھنے، ان کی زیارت کرنے اور ان کی عزت کرنے اور ان کو تکلیف نہ دینے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
41
اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرنے اور بغض رکھنے کی ترغیب اور ایساکرنے پر برانگیختہ کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
42
اللہ تعالیٰ کے لیے آپس میں محبت کرنے والوں کے ثواب اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں تیار کیے گئے اجر ِ عظیم اور ہمیشہ کی نعمت کا بیان
Musnad Ahmad
43
آدمی کا اپنے محبوب کو محبت کے بارے میں بتلانے کا بیان
Musnad Ahmad
44
اس امر کا بیان کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اللہ کی طرف سے دنیوی مال و دولت عطا کرنے کی پیش کش کی گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے بے رغبتی کا اظہار کیا اور معمولی مال پر قناعت فرمائی
Musnad Ahmad
45
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں مقبولیت، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ان سے محبت اور مباح کاموں میںآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنی اہلیہ کی خواہش کو پورا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
46
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے محبت پر دیگر ازواج کی غیرت نیز سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے دیگر ازواج پر غلبہ کا بیان
Musnad Ahmad
47
ام المؤمنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ محبت، آپ کے بارے میں ان کی غیرت اور سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا آپ کی حیات ِ مبارکہ میں جو جو عمل کیا کرتی تھیں، بعد میں بھی ان کی حفاظت کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
48
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے جانورں، اونٹوں ، اونٹنیوں، گھوڑوں اور اسلحہ وغیرہ کا بیان
Musnad Ahmad
49
فصل ہفتم: شیعہ لو گوں کاسیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے محبت کرنا اور خارجی لوگوں کا ان سے بغض رکھنا
Musnad Ahmad
50
باب دوم: اہل بیت کے متعلق پہلے ذکر کردہ فضائل کے علاوہ سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مزید مناقب کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اور ان سے محبت کرنے والے سے محبت کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

4,386
Sunnan Nisai
3393
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ النِّسَاءِ،‏‏‏‏ مِنَ الْخَيْلِ .
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عورتوں کے بعد گھوڑوں سے زیادہ کوئی چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو محبوب نہ تھی۔
Sunnan Nisai
2834
أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبِي، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ امْرَأَةً دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ وَبِيَدِهَا عُكَّازٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ مَا هَذَا ؟ فَقَالَتْ:‏‏‏‏ لِهَذِهِ الْوَزَغِ، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ شَيْءٌ إِلَّا يُطْفِئُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا هَذِهِ الدَّابَّةُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَنَا بِقَتْلِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَنَهَى عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُمَا يَطْمِسَانِ الْبَصَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَيُسْقِطَانِ مَا فِي بُطُونِ النِّسَاءِ .
It was narrated from Saeed bin Al-Musayyab that: a woman enter upon Aishah, and in her hand was an iron-footed stick. She said: What is this? she (Aishah) Said: It is for these geckos, because the Prophet of Allah told us, that there was nothing that did not try to extinguish the fire for Ihram except for this animals, so he told us to kill it. And he forbade us to kill harmless snakes, except for the snake with two lines on its back, and the snake with a short tail, for the snatch away the eyesight and cause tat which is in women's wombs to be miscarried.
تابعی سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ ایک عورت ام المؤمنین عائشہ کے پاس آئی، اور ان کے ہاتھ میں لوہے کی پھلی لگی ہوئی لاٹھی تھی، اس عورت نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ کہا: یہ ان چھپکلیوں ( کے مارنے ) کے لیے ہے۔ اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کی آگ کو اس جانور کے سوا سبھی جانور بجھاتے تھے اسی وجہ سے آپ نے ہمیں اسے مارنے کا حکم دیا ہے۔ اور گھروں میں رہنے والے سانپ کے مارنے سے روکا ہے سوائے دو دھاریوں والے، اور دم بریدہ سانپ کے کیونکہ یہ دونوں بصارت کو زائل کر دیتے ہیں، اور حاملہ عورت کا حمل گرا دیتے ہیں۔
Jam e Tirmazi
1368
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ،‏‏‏‏ عَنْ سَعِيدٍ،‏‏‏‏ عَنْ قَتَادَةَ،‏‏‏‏ عَنْ الْحَسَنِ،‏‏‏‏ عَنْ سَمُرَةَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِالدَّارِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب،‏‏‏‏ عَنْ الشَّرِيدِ،‏‏‏‏ وَأَبِي رَافِعٍ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ،‏‏‏‏ وَرَوَى عِيسَى بْنُ يُونُسَ،‏‏‏‏ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ،‏‏‏‏ عَنْ قَتَادَةَ،‏‏‏‏ عَنْ أَنَسٍ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ،‏‏‏‏ وَرُوِيَ عَنْ سَعِيدٍ،‏‏‏‏ عَنْ قَتَادَةَ،‏‏‏‏ عَنْ الْحَسَنِ،‏‏‏‏ عَنْ سَمُرَةَ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّحِيحُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ حَدِيثُ الْحَسَنِ،‏‏‏‏ عَنْ سَمُرَةَ،‏‏‏‏ وَلَا نَعْرِفُ حَدِيثَ قَتَادَةَ،‏‏‏‏ عَنْ أَنَسٍ،‏‏‏‏ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عِيسَى بْنِ يُونُسَ،‏‏‏‏ وَحَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيِّ،‏‏‏‏ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْبَابِ،‏‏‏‏ هُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ،‏‏‏‏ وَرَوَى إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ،‏‏‏‏ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي رَافِعٍ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَقُولُ:‏‏‏‏ كِلَا الْحَدِيثَيْنِ عِنْدِي صَحِيحٌ
Narrated Samurah: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: The neighbor of a home has more right to the home.
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھر کا پڑوسی گھر ( خریدنے ) کا زیادہ حقدار ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سمرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور عیسیٰ بن یونس نے سعید بن ابی عروبہ سے انہوں نے قتادہ سے اور قتادہ نے انس سے اور انس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ نیز سعید بن ابی عروبہ سے مروی ہے انہوں نے قتادہ سے انہوں نے حسن بصری سے اور حسن بصری نے سمرہ سے اور سمرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں شرید، ابورافع اور انس سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- اور اہل علم کے نزدیک صحیح حسن کی حدیث ہے جسے انہوں نے سمرہ سے روایت کی ہے۔ اور ہم قتادہ کی حدیث کو جسے انہوں نے انس سے روایت کی ہے، صرف عیسیٰ بن یونس ہی کی روایت سے جانتے ہیں اور عبداللہ بن عبدالرحمٰن الطائفی کی حدیث جسے انہوں نے عمرو بن شرید سے اور عمرو نے اپنے والد سے اور ان کے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، اس باب میں حسن حدیث ہے۔ اور ابراہیم بن میسرہ نے عمرو بن شرید سے اور عمرو نے ابورافع سے اور ابورافع نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ میرے نزدیک دونوں حدیثیں صحیح ہیں۔
Jam e Tirmazi
1705
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ أَلَا كُلُّكُمْ رَاعٍ، ‏‏‏‏‏‏وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَالْأَمِيرُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ بَعْلِهَا وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَبْدُ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا فَكُلُّكُمْ رَاعٍ، ‏‏‏‏‏‏وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ أَبِي مُوسَى غَيْرُ مَحْفُوظٍ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ أَنَسٍ غَيْرُ مَحْفُوظٍ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَكَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي بِذَلِكَ مُحَمَّدٌ بِنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَرَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بُرَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا وَهَذَا أَصَحُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مُحَمَّدٌ:‏‏‏‏ وَرَوَى إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ سَائِلٌ كُلَّ رَاعٍ عَمَّا اسْتَرْعَاهُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْت مُحَمَّدًا، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ هَذَا غَيْرُ مَحْفُوظٍ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا الصَّحِيحُ عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا.
Ibrahim bin Bash-shar Ar-Ramadi reported it from Sufyan bin 'Uyainah, from Buraid bin 'Abdullah bin Abu Burdah, from Abu Burdah, from Abu Musa, from the Prophet (ﷺ). Muhammad informed me of that, from Ibrahim bin Bash-Shar [Ar-Ramadi]. Muhammad said: More than one has reported it from Sufyan, from Buraid bin Abu Burdah [from Abu Burdah] from the Prophet (ﷺ) in Mursal form. This is more correct. Muhammad said: Ishaq bin Ibrahim reported from Mu'adh bin Hisham, from his father, from Qatadah, from Anas, from the Prophet (ﷺ) who said: 'Indeed Allah will question everyone who is responsible about his charge.' I heard Muhammad saying: This is not preserved. It is only correct from Mu'adh bin Hisham from his father, from Qatadah, from Al-Hasan, from the Prophet (ﷺ), in Mursal form.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر آدمی نگہبان ہے اور اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہے، چنانچہ لوگوں کا امیر ان کا نگہبان ہے اور وہ اپنی رعایا کے بارے میں جواب دہ ہے، اسی طرح مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور ان کے بارے میں جواب دہ ہے، عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگہبان ہے اور اس کے بارے میں جواب دہ ہے، غلام اپنے مالک کے مال کا نگہبان ہے اور اس کے بارے میں جواب دہ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، انس اور ابوموسیٰ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- ابوموسیٰ کی حدیث غیر محفوظ ہے، اور انس کی حدیث بھی غیر محفوظ ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اسے ابراہیم بن بشار رمادی نے بسند «سفيان بن عيينة عن بريد بن عبد الله بن أبي بردة عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، اس حدیث کو کئی لوگوں نے بسند «سفيان عن بريد عن أبي بردة عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسل طریقہ سے روایت کی ہے، مگر یہ مرسل روایت زیادہ صحیح ہے۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: اسحاق بن ابراہیم نے بسند «معاذ بن هشام عن أبيه عن قتادة عن أنس عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے: بیشک اللہ تعالیٰ ہر نگہبان سے پوچھے گا اس چیز کے بارے میں جس کی نگہبانی کے لیے اس کو رکھا ہے، امام ترمذی کہتے ہیں: میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: یہ روایت غیر محفوظ ہے، صحیح وہی ہے جو «عن معاذ بن هشام عن أبيه عن قتادة عن الحسن عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے مرسل طریقہ سے آئی ہے۔
Sahih Bukhari
2494
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَامِرِيُّ الْأُوَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا . وَقَالَ اللَّيْثُ : حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا إِلَى وَرُبَاعَ سورة النساء آية 3 ، فَقَالَتْ : يَا ابْنَ أُخْتِي ، هِيَ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا تُشَارِكُهُ فِي مَالِهِ فَيُعْجِبُهُ مَالُهَا وَجَمَالُهَا ، فَيُرِيدُ وَلِيُّهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بِغَيْرِ أَنْ يُقْسِطَ فِي صَدَاقِهَا ، فَيُعْطِيهَا مِثْلَ مَا يُعْطِيهَا غَيْرُهُ ، فَنُهُوا أَنْ يُنْكِحُوهُنَّ إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ وَيَبْلُغُوا بِهِنَّ أَعْلَى سُنَّتِهِنَّ مِنَ الصَّدَاقِ ، وَأُمِرُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا طَابَ لَهُمْ مِنَ النِّسَاءِ سِوَاهُنَّ . قَالَ عُرْوَةُ : قَالَتْ عَائِشَةُ : ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اسْتَفْتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ هَذِهِ الْآيَةِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ إِلَى قَوْلِهِ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127 ، وَالَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ أَنَّهُ يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ الْآيَةُ الْأُولَى الَّتِي قَالَ فِيهَا وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ سورة النساء آية 3 ، قَالَتْ عَائِشَةُ : وَقَوْلُ اللَّهِ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى : وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127 يَعْنِي هِيَ رَغْبَةُ أَحَدِكُمْ لِيَتِيمَتِهِ الَّتِي تَكُونُ فِي حَجْرِهِ حِينَ تَكُونُ قَلِيلَةَ الْمَالِ وَالْجَمَالِ ، فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا رَغِبُوا فِي مَالِهَا وَجَمَالِهَا مِنْ يَتَامَى النِّسَاءِ ، إِلَّا بِالْقِسْطِ مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنَّ .
Narrated `Urwa bin Az-Zubair: That he had asked `Aisha about the meaning of the Statement of Allah: If you fear that you shall not Be able to deal justly With the orphan girls, then Marry (Other) women of your choice Two or three or four. (4.3) She said, O my nephew! This is about the orphan girl who lives with her guardian and shares his property. Her wealth and beauty may tempt him to marry her without giving her an adequate Mahr (bridal-money) which might have been given by another suitor. So, such guardians were forbidden to marry such orphan girls unless they treated them justly and gave them the most suitable Mahr; otherwise they were ordered to marry any other woman. `Aisha further said, After that verse the people again asked the Prophet (about the marriage with orphan 'girls), so Allah revealed the following verses:-- 'They ask your instruction Concerning the women. Say: Allah Instructs you about them And about what is Recited unto you In the Book, concerning The orphan girls to whom You give not the prescribed portions and yet whom you Desire to marry... (4.127) What is meant by Allah's Saying:-- 'And about what is Recited unto you is the former verse which goes:-- 'If you fear that you shall not Be able to deal justly With the orphan girls, then Marry (other) women of your choice.' (4.3) `Aisha said, Allah's saying in the other verse:--'Yet whom you desire to marry' (4.127) means the desire of the guardian to marry an orphan girl under his supervision when she has not much property or beauty (in which case he should treat her justly). The guardians were forbidden to marry their orphan girls possessing property and beauty without being just to them, as they generally refrain from marrying them (when they are neither beautiful nor wealthy).
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ عامری اویسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی اور انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تھا (دوسری سند) اور لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے ( سورۃ نساء میں ) اس آیت کے بارے میں پوچھا «وإن خفتم‏» سے «ورباع‏» ”اگر تم کو یتیموں میں انصاف نہ کرنے کا ڈر ہو تو جو عورتیں پسند آئیں دو دو تین تین چار چار نکاح میں لاؤ“ انہوں نے کہا میرے بھانجے یہ آیت اس یتیم لڑکی کے بارے میں ہے جو اپنے ولی ( محافظ رشتہ دار جیسے چچیرا بھائی، پھوپھی زاد یا ماموں زاد بھائی ) کی پرورش میں ہو اور ترکے کے مال میں اس کی ساجھی ہو اور وہ اس کی مالداری اور خوبصورتی پر فریفتہ ہو کر اس سے نکاح کر لینا چاہے لیکن پورا مہر انصاف سے جتنا اس کو اور جگہ ملتا وہ نہ دے، تو اسے اس سے منع کر دیا گیا کہ ایسی یتیم لڑکیوں سے نکاح کرے۔ البتہ اگر ان کے ساتھ ان کے ولی انصاف کر سکیں اور ان کی حسب حیثیت بہتر سے بہتر طرز عمل مہر کے بارے میں اختیار کریں ( تو اس صورت میں نکاح کرنے کی اجازت ہے ) اور ان سے یہ بھی کہہ دیا گیا کہ ان کے سوا جو بھی عورت انہیں پسند ہو ان سے وہ نکاح کر سکتے ہیں۔ عروہ بن زبیر نے کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا، پھر لوگوں نے اس آیت کے نازل ہونے کے بعد ( ایسی لڑکیوں سے نکاح کی اجازت کے بارے میں ) مسئلہ پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «ويستفتونك في النساء‏» ”اور آپ سے عورتوں کے بارے میں یہ لوگ سوال کرتے ہیں“۔ آگے فرمایا اور تم ان سے نکاح کرنا چاہتے ہو۔ یہ جو اس آیت میں ہے اور جو قرآن میں تم پر پڑھا جاتا ہے اس سے مراد پہلی آیت ہے یعنی ”اگر تم کو یتیموں میں انصاف نہ ہو سکنے کا ڈر ہو تو دوسری عورتیں جو بھلی لگیں ان سے نکاح کر لو“۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا یہ جو اللہ نے دوسری آیت میں فرمایا اور تم ان سے نکاح کرنا چاہتے ہو اس سے یہ غرض ہے کہ جو یتیم لڑکی تمہاری پرورش میں ہو اور مال اور جمال کم رکھتی ہو اس سے تو تم نفرت کرتے ہو، اس لیے جس یتیم لڑکی کے مال اور جمال میں تم کو رغبت ہو اس سے بھی نکاح نہ کرو مگر اس صورت میں جب انصاف کے ساتھ ان کا پورا مہر ادا کرو۔
Sahih Bukhari
3954
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ ، أَنَّهُ سَمِعَ مِقْسَمًا مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ : لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95 عَنْ بَدْرٍ وَالْخَارِجُونَ إِلَى بَدْرٍ .
Narrated Ibn `Abbas: The believers who failed to join the Ghazwa of Badr and those who took part in it are not equal (in reward).
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، ہم کو ہشام نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے عبدالکریم نے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن حارث کے مولیٰ مقسم سے سنا، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے، انہوں نے بیان کیا کہ ( سورۃ نساء کی اس آیت سے ) «لا يستوي القاعدون من المؤمنين‏» جہاد میں شرکت کرنے والے اور اس میں شریک نہ ہونے والے برابر نہیں ہو سکتے۔ وہ لوگ مراد ہیں جو بدر کی لڑائی میں شریک ہوئے اور جو اس میں شریک نہیں ہوئے۔
Sahih Bukhari
4573
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : أَنَّ رَجُلًا كَانَتْ لَهُ يَتِيمَةٌ فَنَكَحَهَا ، وَكَانَ لَهَا عَذْقٌ ، وَكَانَ يُمْسِكُهَا عَلَيْهِ وَلَمْ يَكُنْ لَهَا مِنْ نَفْسِهِ شَيْءٌ ، فَنَزَلَتْ فِيهِ : وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى سورة النساء آية 3 ، أَحْسِبُهُ قَالَ : كَانَتْ شَرِيكَتَهُ فِي ذَلِكَ الْعَذْقِ وَفِي مَالِهِ .
Narrated Aisha: There was an orphan (girl) under the care of a man. He married her and she owned a date palm (garden). He married her just because of that and not because he loved her. So the Divine Verse came regarding his case: If you fear that you shall not be able to deal justly with the orphan girls... (4.3) The sub-narrator added: I think he (i.e. another sub-narrator) said, That orphan girl was his partner in that datepalm (garden) and in his property.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، ان سے ابن جریج نے کہا، کہا مجھ کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک آدمی کی پرورش میں ایک یتیم لڑکی تھی، پھر اس نے اس سے نکاح کر لیا، اس یتیم لڑکی کی ملکیت میں کھجور کا ایک باغ تھا۔ اسی باغ کی وجہ سے یہ شخص اس کی پرورش کرتا رہا حالانکہ دل میں اس سے کوئی خاص لگاؤ نہ تھا۔ اس سلسلے میں یہ آیت اتری «وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى‏» کہ ”اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم یتیموں کے حق میں انصاف نہ کر سکو گے۔“ ہشام بن یوسف نے کہا میں سمجھتا ہوں، ابن جریج نے یوں کہا یہ لڑکی اس درخت اور دوسرے مال اسباب میں اس مرد کی حصہ دار تھی۔
Sahih Bukhari
4574
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ ، عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى سورة النساء آية 3 ، فَقَالَتْ : يَا ابْنَ أُخْتِي ، هَذِهِ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا ، تَشْرَكُهُ فِي مَالِهِ وَيُعْجِبُهُ مَالُهَا وَجَمَالُهَا ، فَيُرِيدُ وَلِيُّهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بِغَيْرِ أَنْ يُقْسِطَ فِي صَدَاقِهَا ، فَيُعْطِيَهَا مِثْلَ مَا يُعْطِيهَا غَيْرُهُ ، فَنُهُوا عَنْ أَنْ يَنْكِحُوهُنَّ إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ ، وَيَبْلُغُوا لَهُنَّ أَعْلَى سُنَّتِهِنَّ فِي الصَّدَاقِ ، فَأُمِرُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا طَابَ لَهُمْ مِنَ النِّسَاءِ سِوَاهُنَّ ، قَالَ عُرْوَةُ : قَالَتْ عَائِشَةُ : وَإِنَّ النَّاسَ اسْتَفْتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ هَذِهِ الْآيَةِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ سورة النساء آية 127 ، قَالَتْ عَائِشَةُ : وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى فِي آيَةٍ أُخْرَى : وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127 رَغْبَةُ أَحَدِكُمْ عَنْ يَتِيمَتِهِ حِينَ تَكُونُ قَلِيلَةَ الْمَالِ وَالْجَمَالِ ، قَالَتْ : فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوا عَنْ مَنْ رَغِبُوا فِي مَالِهِ وَجَمَالِهِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ إِلَّا بِالْقِسْطِ ، مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنَّ إِذَا كُنَّ قَلِيلَاتِ الْمَالِ وَالْجَمَالِ .
Narrated `Urwa bin Az-Zubair: That he asked `Aisha regarding the Statement of Allah: If you fear that you shall not be able to deal justly with the orphan girls... (4.3) She said, O son of my sister! An Orphan girl used to be under the care of a guardian with whom she shared property. Her guardian, being attracted by her wealth and beauty, would intend to marry her without giving her a just Mahr, i.e. the same Mahr as any other person might give her (in case he married her). So such guardians were forbidden to do that unless they did justice to their female wards and gave them the highest Mahr their peers might get. They were ordered (by Allah, to marry women of their choice other than those orphan girls. `Aisha added, The people asked Allah's Messenger his instructions after the revelation of this Divine Verse whereupon Allah revealed: They ask your instruction regarding women (4.127) `Aisha further said, And the Statement of Allah: And yet whom you desire to marry. (4.127) as anyone of you refrains from marrying an orphan girl (under his guardianship) when she is lacking in property and beauty. `Aisha added, So they were forbidden to marry those orphan girls for whose wealth and beauty they had a desire unless with justice, and that was because they would refrain from marrying them if they were lacking in property and beauty.
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے، انہوں نے کہا مجھ کو عروہ بن زبیر نے خبر دی انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے آیت «وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى‏» کا مطلب پوچھا۔ انہوں نے کہا میرے بھانجے اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک یتیم لڑکی اپنے ولی کی پرورش میں ہو اور اس کی جائیداد کی حصہ دار ہو ( ترکے کی رو سے اس کا حصہ ہو ) اب اس ولی کو اس کی مالداری خوبصورتی پسند آئے۔ اس سے نکاح کرنا چاہے پر انصاف کے ساتھ پورا مہر جتنا مہر اس کو دوسرے لوگ دیں، نہ دینا چاہے، تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں لوگوں کو ایسی یتیم لڑکیوں کے ساتھ جب تک ان کا پورا مہر انصاف کے ساتھ نہ دیں، نکاح کرنے سے منع فرمایا اور ان کو یہ حکم دیا کہ تم دوسری عورتوں سے جو تم کو بھلی لگیں نکاح کر لو۔ ( یتیم لڑکی کا نقصان نہ کرو ) عروہ نے کہا عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں، اس آیت کے اترنے کے بعد لوگوں نے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں مسئلہ پوچھا، اس وقت اللہ نے یہ آیت «ويستفتونك في النساء‏» اتاری۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا دوسری آیت میں یہ جو فرمایا «وترغبون أن تنكحوهن‏» یعنی وہ یتیم لڑکیاں جن کا مال و جمال کم ہو اور تم ان کے ساتھ نکاح کرنے سے نفرت کرو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تم ان یتیم لڑکیوں سے جن کا مال و جمال کم ہو نکاح کرنا نہیں چاہتے تو مال اور جمال والی یتیم لڑکیوں سے بھی جن سے تم کو نکاح کرنے کی رغبت ہے نکاح نہ کرو، مگر جب انصاف کے ساتھ ان کا مہر پورا ادا کرو۔
Sahih Bukhari
4577
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَهُمْ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : عَادَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ فِي بَنِي سَلِمَةَ مَاشِيَيْنِ ، فَوَجَدَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَعْقِلُ شَيْئًا ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهُ ، ثُمَّ رَشَّ عَلَيَّ فَأَفَقْتُ ، فَقُلْتُ : مَا تَأْمُرُنِي أَنْ أَصْنَعَ فِي مَالِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَنَزَلَتْ يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلادِكُمْ سورة النساء آية 11 .
Narrated Jabir: The Prophet and Abu Bakr came on foot to pay me a visit (during my illness) at Banu Salama's (dwellings). The Prophet found me unconscious, so he asked for water and performed the ablution from it and sprinkled some water over it. I came to my senses and said, O Allah's Messenger ! What do you order me to do as regards my wealth? So there was revealed:-- Allah commands you as regards your children's (inheritance): (4.11)
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا کہ انہیں ابن جریج نے خبر دی، بیان کیا کہ مجھے ابن منکدر نے خبر دی اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ قبیلہ بنو سلمہ تک پیدل چل کر میری عیادت کے لیے تشریف لائے۔ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ مجھ پر بے ہوشی طاری ہے، اس لیے آپ نے پانی منگوایا اور وضو کر کے اس کا پانی مجھ پر چھڑکا، میں ہوش میں آ گیا، پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کا کیا حکم ہے، میں اپنے مال کا کیا کروں؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «يوصيكم الله في أولادكم‏» کہ ”اللہ تمہیں تمہاری اولاد ( کی میراث ) کے بارے میں حکم دیتا ہے۔“