TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب - کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب - Book 167 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 167 of Musnad Ahmad, with 20 chapters and 112 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

112 Hadith · 20 Chapters
بادل، گرج اور ہواؤں کا بیان
۔ (۱۰۲۴۵)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَسُبُّوْا الرِّیْحَ فَاِنَّھَا تَجِیْئُ بِالرَّحْمَۃِ وَالْعَذَابِ، وَلٰکِنْ سَلُوْا اللّٰہَ خَیْرَھَا، وَتَعَوَّذُوْا بِہٖمِنْشَرِّھَا۔)) (مسنداحمد: ۹۶۲۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہوا کو برا بھلا نہ کہو، کیونکہیہ رحمت کو بھی لاتی ہے اور عذاب کو بھی، تم اللہ تعالیٰ سے اس کی خیر کا سوال کیا کرو اور اس کے شرّ سے پناہ طلب کیا کرو۔
Takhreej
(۱۰۲۴۵) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۷۲۷ (انظر: ۹۶۲۹)
10245
Sahih
بادل، گرج اور ہواؤں کا بیان
۔ (۱۰۲۴۶)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: اَخَذَتِ النَّاسَ رِیْحٌ بِطَرِیْقِ مَکَّۃَ، وَعَمَرُبْنُ الْخَطَّابِ حَاجٌ فَاشْتَدَّتْ عَلَیْھِمْ فَقَالَ عُمَرُ لِمَنْ حَوْلَہُ: مَنْ یُحَدِّثُنَا عَنِ الرِّیْحِ؟ فَلَمْ یُرْجِعُوْا اِلَیْہِ شَیْئًا، فَبَلَغَنِی الَّذِیْ سَاَلَ عَنْہُ عُمَرُ مِنْ ذٰلِکَ، فَاسْتَحْثَثْتُ رَاحِلَتِیْ حَتّٰی اَدْرَکْتُہُ، فَقُلْتُ: یَا اِمَیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! اُخْبِرْتُ اَنَّکَ سَاَلْتَ عَنِ الرِّیْحِ، وَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اَلرِّیْحُ مِنْ رَوْحِ اللّٰہِ، تَاْتِیْ بِالرَّحْمَۃِ وَتَاْتِیْ بِالْعَذَابِ، فَاِذَا رَاَیْتُمُوْھَا فَـلَا تَسُبُّوْھَا، وَسَلُوْا اللّٰہَ خَیْرَھَا، وَاسْتَعِیْذُوْا بِہٖمِنْشَرِّھَا۔)) (مسنداحمد: ۷۶۱۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ لوگ مکہ مکرمہ کے راستے میں تھے، ہوا چلنے لگی، سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ حج کرنے جا رہے تھے، ہوا سخت ہو گئی، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے ارد گرد کے لوگوں سے پوچھا: کون ہمیں ہوا کے بارے میں بیان کرے گا؟ لوگوں نے کوئی جواب نہ دیا، جب مجھے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سوال کا علم ہوا تو میں نے اپنی سواری کو تیزی سے چلایا،یہاں تک کہ ان کو پا لیا اور کہا: اے امیر المؤمنین! مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہوا کے بارے میں سوال کیا ہے، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس کے بارے میں یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: ہوا کی اصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے، یہ رحمت کے ساتھ بھی آتی ہے اور عذاب کے ساتھ بھی، پس جب تم اس کو دیکھو تو اس کو برا بھلا مت کہا کرو، بلکہ اللہ تعالیٰ سے اس کی خیر کا سوال کیا کرو اور اس کے شرّ سے پناہ طلب کیا کرو۔
Takhreej
(۱۰۲۴۶) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۵۰۹۷ (انظر: ۷۶۳۱)
Explanation
فوائد:… ہوا اللہ تعالیٰ کے حکم کی پابند ہے، اس کے اندر خیر بھی ہوتی ہے اور شرّ بھی، بندے کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی پابند چیز کو برا بھلا نہ کہے، بلکہ اس سے خیر کا سوال کرے اور اس کے شرّ کی پناہ طلب کرے۔
10246
Sahih
بادل، گرج اور ہواؤں کا بیان
۔ (۱۰۲۴۷)۔ عَنْ جَابِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَفَرٍ قَالَ: فَھَبَّتْ رِیْحٌ شَدِیْدَۃٌ فَقَالَ: ((ھٰذِہِ لِمَوْتِ مُنَافِقٍ۔)) قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِیْنَۃَ، اِذَا ھُوَ قَدْ مَاتَ مُنَافِقٌ عَظِیْمٌ مِنْ عُظَمَائِ الْمُنَافِقِیْنَ۔ (مسند احمد: ۱۴۴۳۱)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک سفر میں تھے، بڑی سخت ہوا چلی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کسی منافق کی موت کی وجہ سے ہے۔ پس جب ہم مدینہ میں آئے تو دیکھا کہ بڑے منافقوں میں سے ایک بڑا منافق مر چکا تھا۔
Takhreej
(۱۰۲۴۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۷۸۲ (انظر: ۱۴۳۷۸)
Explanation
فوائد:… حدیث نمبر (۰۲۳۲ا، ۱۰۲۳۳) میں یہ بات گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نظام زمین پر ہونے والے موت و حیات اور خوشی و غمی کے واقعات سے متاثر نہیں ہوتا۔ اس حدیث میں جس ہوا کا ذکر ہے، یہ دراصل اللہ تعالیٰ کا کوئی لشکر تھا، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مدینہ میں داخل ہونے سے پہلے یہ بتلانا چاہتے تھے کہ فلاں منافق مر گیا ہے، اس طرح سے اس ہوا کو اس کی موت کی علامت قرار دینا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معجزہ تھا۔
10247
Sahih
بادل، گرج اور ہواؤں کا بیان
۔ (۱۰۲۴۸)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا ھَبَّتِ الرِّیْحُ عُرِفَ ذٰلِکَ فِیْ وَجْھِہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۶۴۸)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب ہوا چلتی تھی تو اس چیز کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے سے پتہ چل جاتا تھا (کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پریشان ہو رہے ہیں)۔
Takhreej
(۱۰۲۴۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۰۳۴(انظر: ۱۲۶۲۱)
Explanation
فوائد:… ہوا کے اندر خیر بھی ہو سکتی ہے اور شرّ بھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شرّ کے خطرے کی وجہ سے پریشان ہو جاتے تھے، اس سے معلوم ہوا کہ جب شرّ کا باعث بن سکنے والی چیز وجود پکڑے تو اللہ تعالیٰ کی مراقبت کی تیاری کی جائے اور اس کی طرف پناہ پکڑی جائے، اختلاف ِ حالات و ظروف سے بندے کو متاثر ہونا چاہیے۔
10248
Sahih
بادل، بارش، اولے اور موسم سردا کا بیان
۔ (۱۰۲۴۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: مَا رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاٰی غَیْمًا اِلَّا رَاَیْتُ فِیْ وَجْھِہِ الْھَیْجَ فَاِذَا اَمْطَرَتْ سَکَنَ۔ (مسند احمد: ۲۴۹۷۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جب بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بادل نظر آتا تو میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے میں خوف اور گھبراہٹ کے آثار دیکھتی، جب وہ بارش برساتا تو تب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سکون میں آتے۔
Takhreej
(۱۰۲۴۹) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۲۴۴۷۴)
10249
Sahih
بادل، بارش، اولے اور موسم سردا کا بیان
۔ (۱۰۲۵۰)۔ (وَعَنْھَا مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا رَاٰی مَخِیْلَۃً تَغَیَّرَ وَجَھُہُ، وَدَخَلَ وَخَرَجَ وَاَقْبَلَ وَاَدْبَرَ، فَاِذَا اَمْطَرَتْ سُرِّیَ عَنْہُ فَذُکِرَ ذٰلِکَ لَہُ فَقَالَ: ((مَا اَمِنْتُ اَنْ یَکُوْنَ کَمَا قَالَ اﷲُ : {فَلَمَّا رَاَوْہُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِھِمْ} اِلٰی {رِیْحٍٍ فِیْھَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ}۔)) (مسند احمد: ۲۵۸۵۶)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب بادل دیکھتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ بدل جاتا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آنا جانا شروع کر دیتے تھے، جب بارش برسنا شروع ہوتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کییہ کیفیت چھٹ جاتی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس چیز کی وجہ دریافت کی گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اس بارے میں کوئی امن نہیں ہے کہ ممکن ہے کہ یہ وہی چیز ہو، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے کہا: {فَلَمَّا رَاَوْہُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِہِمْ قَالُوْا ھٰذَا عَارِض’‘ مُّمْطِرُنَا بَلْ ھُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِہٖرِیْح’‘ فِیْھَا عَذَاب’‘ اَلِیْم’‘۔} پھر جب انھوں نے عذاب کو بصورت بادل دیکھا اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے تو کہنے لگے، یہ بادل ہم پر برسنے والا ہے، (نہیں) بلکہ دراصل یہ وہ (عذاب) ہے، جس کی تم جلدی کر رہے تھے، ہوا ہے جس میں دردناک عذاب ہے ۔ (سورۂ احقاف: ۲۴)
Takhreej
(۱۰۲۵۰) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۸۹۱ (انظر: ۲۵۳۴۲)
Explanation
فوائد:… یہ آیت قوم ہود کے بارے میں ہے، وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ بارش آنے والی ہے، لیکن اس بادل کا انجام یہ نکلا کہ{ تُدَمِّرُکُلَّ شَیْئٍ بِاَمْرِ رَبِّھَا فَاَصْبَحُوْالَا یُرٰٓی اِلَّا مَسٰکِنُہُمْ کَذٰلِکَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ۔} … جو ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے برباد کر دے گی، پس وہ اس طرح ہو گئے کہ ان کے رہنے کی جگہوں کے سوا کوئی چیز دیکھائی نہ دیتی تھی، اسی طرح ہم مجرم لوگوں کو بدلہ دیتے ہیں۔ (سورۂ احقاف: ۲۵)
10250
Sahih
بادل، بارش، اولے اور موسم سردا کا بیان
۔ (۱۰۲۵۱)۔ وَعَنْھَا اَیْضًا، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا رَاٰی نَاشِئًا مِنْ اُفُقٍ مِنْ آفَاقِ السَّمَائِ، تَرَکَ عَمَلَہُ، وَاِنْ کَانَ فِیْ صَلَاتِہِ ثُمَّ یَقُوْلُ : ((اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا فِیْہِ۔)) فَاِنْ کَشَفَ اللّٰہُ حَمِدَ اللّٰہَ، وَاِنْ مَطَرَتْ قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ صَیِّبًا نَافِعًا۔)) (مسند احمد: ۲۶۰۸۷)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا یہ بھی بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب آسمان کے کسی افق میں کوئی بادل اٹھتے ہوئے دیکھتے تو اپنا کام چھوڑ دیتے، اگرچہ آپ نماز ادا کر رہے ہوتے اور پھر فرماتے: اے اللہ! میں اس شرّ سے تیری پناہ میں آتا ہوں، جو اس میں ہے۔ پس اگر اللہ تعالیٰ اس کو صاف کر دیتا تو اس کی حمد بیان کرتے اور اگر وہ بارش برسانا شروع کر دیتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے: اے اللہ! نفع بخش بارش نازل کرنا۔
Takhreej
(۱۰۲۵۱) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابوداود: ۵۰۹۹(انظر: ۲۵۵۷۰)
Explanation
فوائد:… اس لیے جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی بادل کو دیکھتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ خوف لاحق ہو جاتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس میں عذاب ہو، جب وہ بارش برسانے لگتا، تب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بے فکر ہوتے۔ نماز کو چھوڑنے کا معنییہ ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جو نماز ادا کر رہے ہوتے تھے، اس سے فارغ ہونے کے بعد مزید نماز نہ پڑھتے، بلکہ بادل کے شر سے پناہ مانگنا شروع کر دیتے۔
10251
Sahih
بادل، بارش، اولے اور موسم سردا کا بیان
۔ (۱۰۲۵۲)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ اللَّیْثِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَکُوْنُ النَّاسُ مُجْدِبِیْنَ فَیَنْزِلُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عَلَیْھِمْ رِزْقًا مِنْ رِزْقِہِ فَیُصْبِحُوْنَ مُشْرِکِیْنَ۔)) فَقِیْلَ لَہُ: وَکَیْفَ ذَاکَ؟ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِِ! قَالَ: ((یَقُوْلُوْنَ: مُطِرْنَا بِنَوْئِ کَذَا۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۲۲)
۔ سیدنا معاویہ لیثی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب لوگ قحط زدہ ہو جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ (بارش کی صورت میں) اپنا رزق نازل کرتا ہے تو وہ مشرک بن جاتے ہیں۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیسے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگ کہتے ہیں کہ فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی ہے۔
Takhreej
(۱۰۲۵۲) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الطیالسی: ۱۲۶۲، والطبرانی فی الکبیر : ۱۹/ ۱۰۴۳(انظر: ۱۵۵۳۷)
Explanation
فوائد:… بارش اللہ تعالیٰ کے حکم اور مشیت سے نازل ہوتی ہے، اس میں کسی غیر کی رضا یا عدم رضا کا کوئی دخل نہیں ہے، جو شخص اس بارش کے نزول کو غیر اللہ کی طرف منسوب کرے گا، وہ کافر ہو جائے گا۔
10252
Sahih
بادل، بارش، اولے اور موسم سردا کا بیان
۔ (۱۰۲۵۳)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: مُطِرْنَا عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَخَرَجَ فَحَسَرَ ثَوْبَہُ حَتّٰی اَصَابَہُ الْمَطَرُ، قَالَ: فَقِیْلَ لَہُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لِمَ صَنَعْتَ ھٰذَا؟ قَالَ: ((لِاَنَّہُ حَدِیْثُ عَھْدٍ بِرَبِّہِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۳۹۲)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد میں بارش ہوئی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر تشریف لے گئے، (اپنے جسم کے بعض حصے سے) کپڑا ہٹایا،یہاں تک کہ اس حصے پر بارش کا پانی لگا، کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیوں کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیونکہیہ اپنے ربّ کی طرف سے نئی نئی آئی ہے۔
Takhreej
(۱۰۲۵۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۸۹۸ (انظر: ۱۲۳۶۵)
Explanation
فوائد:… یعنی اللہ تعالیٰ ابھی ابھی اس بارش کو ایجاد کر کے نازل کر رہا ہے، جبکہ بارش رحمت ہے، اس لیے اس انداز میں تبرک حاصل کرنا چاہیے۔
10253
Sahih
بادل، بارش، اولے اور موسم سردا کا بیان
۔ (۱۰۲۵۴)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: مُطِرْنَا بَرَدًا، وَ اَبُوْ طَلْحَۃَ صَائِمٌ فَجَعَلَ یَاْکُلُ مِنْہُ، قِیْلَ لَہُ: اَتَاْکُلُ مِنْہُ وَ اَنْتَ صَائِمٌ؟ فَقَالَ: اِنّمَا ھٰذَا بَرَکَۃٌ۔ (مسند احمد: ۱۴۰۱۶)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بارش میں اولے برسے، سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اولے کھانا شروع کر دیئے، جبکہ وہ روزے دار بھی تھے، کسی نے کہا: کیا تم روزے کی حالت میں یہ اولے کھاتے ہو؟ انھوں نے کہا: یہ تو برکت ہیں۔
Takhreej
(۱۰۲۵۴) تخریج: اسنادہ صحیح أخرجہ البزار: ۱۰۲۲، وابویعلی: ۱۴۲۴، ۳۹۹۹(انظر: ۱۳۹۷۱)
Explanation
فوائد:… یہ سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ذاتی اجتہاد ہے، اولے کھانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
10254
Sahih
بادل، بارش، اولے اور موسم سردا کا بیان
۔ (۱۰۲۵۵)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((الشِّتَائُ رَبِیْعُ الْمُؤْمِنِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۳۹)
۔ سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: موسم سرما، مؤمن کے لیے بہار ہے۔
Takhreej
(۱۰۲۵۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابن لھیعۃ، ولضعف دراج فی روایتہ عن ابی الھیثم، أخرجہ ابویعلی: ۱۳۸۶، والبیھقی: ۴/ ۲۹۷ (انظر: ۱۱۷۱۶)
Explanation
فوائد:… عامر بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((الصَّوْمُ فِی الشِّتَائِ الْغَنِیْمَۃُ الْبَارِدَۃُ۔)) … سردیوں کے روزے مفت کی غنیمت ہیں۔ (ابن ابی شیبہ: ۲/ ۱۸۱، بیہقی: ۴/ ۴۹۶، صحیحہ: ۱۹۲۲) حدیث کا مفہوم واضح ہے کہ دن چھوٹے ہوتے ہیں اور پیاس کا کوئی تصور نہیں ہوتا، ایسے میںمسلمان کو مالِ غنیمت اکٹھا کر لینا چاہیے۔
10255
Zaeef
بادل، بارش، اولے اور موسم سردا کا بیان
۔ (۱۰۲۵۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ السَّنَۃَ لَیْسَ بِاَنْ لَا یَکُوْنَ فِیْھَا مَطَرٌ، وَلٰکِنَّ السَّنَۃَ اَنْ تُمْطِرَنَا السَّمَائُ وَلَا تُنْبِتَ الْاَرْضُ۔)) (مسند احمد: ۸۴۹۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک قحط سالییہ نہیں ہے کہ بارش نہ ہو، بلکہ قحط سالی تو یہ ہے کہ آسمان بارش برسائے، لیکن زمین کچھ نہ اگائے۔
Takhreej
(۱۰۲۵۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۹۰۴ (انظر: ۸۵۱۱)
Explanation
فوائد:… اس کا سبب نافرمانیوں کی کثرت اور ان کی پروا نہ کرنا ہو گی۔ بارش کا نہ ہونا بھی قحط سالی ہے، جیسا کہ دوسری نصوص سے ثابت ہوتا ہے، لیکنیہ قحط سالی کی خطرناک صورت ہے کہ بارش بھی ہو رہی ہو، لیکن زمین کچھ نہ اگا رہی ہو۔
10256
Sahih
فرشتوں کی تخلیق کا بیان
۔ (۱۰۲۵۷)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خُلِقَتِ الْمَلَائِکَۃُ مِنْ نُوْرٍ، وَخُلِقَتِ الْجَانُّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ، وَخُلِقَ آدَمُ عَلَیْہِ السَّلَامُ مِمَّا وُصِفَ لَکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۰۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فرشتوں کو نور سے اور جنوں کو آگ کے دہکتے ہوئے شعلے سے پیدا کیا اور آدم علیہ السلام کو اس چیز سے پیدا کیا، جس کو تمہارے لیے واضح کیا جا چکا ہے۔
Takhreej
(۱۰۲۵۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۹۰۴ (انظر: ۸۵۱۱)
Explanation
فوائد:… یعنی آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا۔ شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کہتے ہیں: اس حدیث میں درج ذیل حدیث کے باطل ہونے کا اشارہ دیا گیا، جو لوگوں کے ہاں بڑی مشہور ہے: ((اَوَّلُ مَا خَلَقَ اللّٰہُ نُوْرُ نَبِیِّکَیَا جََابِرُ۔))… اے جابر! اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے تیرے نبی کا نور پیدا کیا۔ کیونکہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف فرشتوں کو نور سے پیدا کیا گیا ہے، نہ کہ آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کو۔ آپ متنبہ رہیں اور غافلوں میں سے نہ ہو جائیں۔ (صحیحہ: ۴۵۸)
10257
Sahih
فرشتوں کی تخلیق کا بیان
۔ (۱۰۲۵۸)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنِّیْ اَرٰی مَا لَا تَرَوْنَ، وَاَسْمَعُ مَا لَا تَسْمَعُوْنَ، اَطَّتِ السَّمَائُ وَحَقَّ لَھَا اَنْ تَئِطَّ، مَا فِیْھَا مَوْضِعُ اَرْبَعِ اَصَابِعَ، اِلَّا عَلَیْہِ مَلَکٌ سَاجِدٌ، لَوْ عَلِمْتُمْ مَا اَعْلَمُ لَضَحِکْتُمْ قَلِیْلًا وَلَبَکَیْتُمْ کَثِیْرًا، وَلَا تَلَذَّذْتُمْ بِالنِّسَائِ عَلَی الْفُرُشَاتِ، وَلَخَرَجْتُمْ عَلَی، اَوْ اِلَی الصُّعُدَاتِ تَجْاَرُوْنَ اِلَی اللّٰہِ۔)) قَالَ اَبُوْ ذَرٍّ: وَاللّٰہِ لَوَدِدْتُ اَنِّیْ شَجَرَۃٌ تُعْضَدُ۔ (مسند احمد: ۲۱۸۴۸)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک جو میں دیکھتا ہوں وہ تم نہیں دیکھ سکتے اور جو میں سنتا ہوں وہ تم نہیں سن سکتے۔ (سنو!) آسمان چرچراتا ہے اور اسے چرچرانا ہی زیب دیتا ہے، کیونکہ وہاں چار انگلیوں کے بقدر بھی جگہ خالی نہیں ہے، ہر جگہ فرشتے سجدہ ریز ہیں۔ اللہ کی قسم! اگر تمھیں اس کا علم ہو جائے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنسنا کم کر دو، رونا زیادہ کر دو، بچھونوں پر اپنی بیویوں سے لذتیں اٹھانا ترک کر دو اور (اللہ کی طرف) گڑگڑاتے ہوئے گھاٹیوں کی طرف نکل جاؤ۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں چاہتا ہوں کہ میں درخت ہوتا، جسے کاٹ دیا جاتا۔
Takhreej
(۱۰۲۵۸) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۱۹۰ (انظر: ۲۱۵۱۶)
Explanation
فوائد:… اس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزات کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عظمت، نافرمانوں پر انتقامی کاروائیوں اور موت کے وقت کے اور قبر و قیامت کے ہولناک مناظر اور سخت مناقشوں کا جو علم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تھا، کسی امتی کو اس کا اندازہ بھی نہیں ہو سکتا۔ اگر ان حالات و واقعات کو مدنظر رکھا جائے تو مسلمان پر لرزہ طاری ہو جائے اور وہ اپنے حسنِ خاتمہ کے بارے میں سسکیاں بھرنا شروع کر دے۔ شریعت ِ اسلامیہ میں رہبانیت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کی جائے، کثرت سے اس کی عبادت کی جائے۔ اور گناہوں سے اجتناب کیا جائے۔
10258
Sahih
فرشتوں کی تخلیق کا بیان
۔ (۱۰۲۵۹)۔ عَنْ جَابِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((عُرِضَ عَلَیَّ الْاَنْبِیَائُ، فَاِذَا مُوْسٰی علیہ السلام رَجُلٌ ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ، کَاَنَّہُ مِنْ رِجَالِ شَنُوْئَ ۃَ، فَرَاَیْتُ عِیْسٰی بْنَ مَرْیَمَ علیہ السلام فَاِذَا اَقْرَبُ مَنْ رَاَیْتُ بِہٖشَبَھًاعُرْوَۃُ بْنُ مَسْعُوْدٍ، وَرَاَیْتُ اِبْرَاھِیْمَ علیہ السلام فَاِذَا اَقْرَبُ مَنْ رَاَیْتُ بِہٖشُبْھًاصَاحِبُکُمْیَعْنِیْ نَفْسَہُ، وَرَاَیْتُ جِبْرِیْلَ علیہ السلام فَاِذَا اَقْرَبُ مَنْ رَاَیْتُ بِہٖشَبْھًادِحْیَۃُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۴۳)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھ پر انبیاء پیش کیے گئے، موسی علیہ السلام معتدل وجود کے آدمی تھے، وہ شنوء ۃ قبیلے کے لوگوں کی طرح لگتے تھے، میں نے عیسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا، وہ عروہ بن مسعود کے زیادہ مشابہ لگتے تھے، میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، وہ تمہارے اپنے ساتھی سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے، اس سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی ذات مراد لے رہے تھے، اور میں نے جبریل علیہ السلام کو دیکھا، وہ دحیہ کے زیادہ مشابہ لگتے تھے۔
Takhreej
(۱۰۲۵۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۷ (انظر: ۱۴۵۸۹)
Explanation
فوائد:… حضرت جبریل علیہ السلام کی اپنی خاص شکل تھی، جب وہ انسانی روپ میں آتے تھے تو دحیہ کے مشابہ لگتے تھے۔
10259
Sahih
فرشتوں کی تخلیق کا بیان
۔ (۱۰۲۶۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: رَاٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جِبْرِیْلَ وَلَہُ سِتُّ مِائَۃِ جَنَاحٍ، کُلٌّ مِنْھَا قَدْ سَدَّ الْاُفُقَ، یَسْقُطُ مِنْ جَنَاحِہِ مِنَ التَّھَاوِیْلِ وَالدُّرِّ وَالْیَاقُوْتِ مَااللّٰہُ اَعْلَمُ بِہٖ۔ (مسنداحمد: ۳۷۴۸)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جبریل علیہ السلام کو ان کی اصلی حالت میں دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے، ان میں سے ہر پر نے افق کو پُر کر رکھا تھا، ان کے پروں سے مختلف رنگوں کی چیزیں، موتی اوریاقوت گر رہے تھے، جن کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔
Takhreej
(۱۰۲۶۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف شریک النخعی، وقولہ لہ ست مائۃ جناح ثابت باسناد صحیح (انظر: ۳۷۴۸)
10260
Zaeef
فرشتوں کی تخلیق کا بیان
۔ (۱۰۲۶۱)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: اِنَّ مُحَمَّدًا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ یَرَ جِبْرِیْلَ فِیْ صُوْرَتِہِ اِلَّا مَرَّتَیْنِ، (اَمَّا مَرَّۃً) فَاِنَّہُ سَاَلَہُ اَنْ یُرِیَہُ نَفْسَہُ فِیْ صُوْرَتِہِ فَاَرَاہُ صُوْرَتَہُ فَسَدَّ الْاُفُقَ،(وَ اَمَّا الْاُخْرٰی) فَاِنَّہُ صَعِدَ مَعَہُ حِیْنَ صَعِدَ بِہٖوَقَوْلُہُ: {وَھُوَبِالْاُفُقِالْاَعْلٰی ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰی فَاَوْحٰی اِلٰی عَبْدِہِ مَا اَوْحٰی} قَالَ: فَلَمَّا اَحَسَّ جِبْرِیْلُ رَبَّہُ عَادَ فِیْ صُوْرَتِہِ وَسَجَدَ، فَقَوْلُہُ: {وَلَقَدْ رَآہُ نَزْلَۃً اُخْرٰی عِنْدَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَھٰی عِنْدَھَا جَنَّۃُ الْمَاْوٰی اِذْ یَغْشَی السِّدْرَۃَ مَا یَغْشٰی مَازَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰی لَقَدْ رَاٰی مِنْ آیَاتِ رَبِّہِ الْکُبْرٰی} قَالَ: خَلْقَ جِبْرِیْلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ۔ (مسند احمد: ۳۸۶۴)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جبریل علیہ السلام کو ان کی اصلی شکل میں دو بار دیکھا، ایک بار اس وقت جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ آپ کو اپنی اصلی صورت دکھائے، پس انھوں نے اپنی اصلی شکل دکھائی اور افق کو بھر دیا، دوسری مرتبہ اس وقت جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے ساتھ چڑھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھا، پھر نزدیک ہوا اور اتر آیا، پس وہ دو کمانوں کے بقدر فاصلہ رہ گیا، بلکہ اس سے بھی کم، پس اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو بھی پہنچائی۔ پس جب حضرت جبریل علیہ السلام نے اپنے ربّ کو محسوس کیا تو اپنی اصلی شکل میں آ کر سجدہ کیا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اسے تو ایک مرتبہ اور بھی دیکھا تھا، سدرۃ المنتہی کے پاس، اسی کے پاس جنۃ الماوی ہے، جب کہ سدرہ کو چھپائے لیتی تھی، وہ چیز جو اس پر چھا رہی تھی، نہ تو نگاہ بہکی نہ حد سے بڑھی،یقینا اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیوں میں سے بعض نشانیاں دیکھ لیں۔اس نے کہا: یہ جبریل علیہ السلام کی تخلیق ہے۔
Takhreej
(۱۰۲۶۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ حال اسحاق بن ابی الکھتلۃ، وللشک فی وصلہ عن ابن مسعود (انظر:۳۸۶۴)
10261
Zaeef
فرشتوں کی تخلیق کا بیان
۔ (۱۰۲۶۲)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: جَائَ تْ یَھُوْدُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا: اِنَّہُ لَیْسَ مِنْ نَبِیٍّ اِلَّا لَہُ مَلَکٌ یَاْتِیْہِ بِالْخَیْرِ، فَاَخْبِرْنَا مَنْ صَاحِبُکَ؟ قَالَ: ((جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ۔)) قَالُوْا: جِبْرِیْلُ ذَاکَ الَّذِیْیَنْزِلُ بِالْحَرْبِ، وَالْقِتَالِ، وَالْعَذَابِ، عَدُوُّنَا، لَوْ قُلْتَ مِیْکَائِیْلُ الَّذِیْیَنْزِلُ بِالرَّحْمَۃِ وَالنَّبَاتِ وَالْقَطْرِ لَکَانَ، فَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ {مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِیْلَ} اِلٰی آخِرِ الْآیَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ یہودی لوگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے کہا: ہر نبی کا ایک فرشتہ ہوتا ہے، جو اس کے پاس خیر لاتا ہے، آپ ہمیں بتائیں کہ آپ کے پاس آنے والا فرشتہ کون سا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ جبریل علیہ السلام ہے۔ انھوں نے کہا: جبریل،یہ تو لڑائی، قتال اور عذاب کے ساتھ نازل ہونے والا ہمارا دشمن فرشتہ ہے، اگر آپ نے میکائیل کا نام لیا ہوتا تو تب بات بنتی، وہ رحمت، انگوری اور بارش کے ساتھ نازل ہوتا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی: {قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّہ نَزَّلَہ عَلٰی قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللّٰہِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَیَدَیْہِ وَھُدًی وَّبُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ } … آپ کہہ دیجئے کہ جو جبریل کا دشمن ہے تو یقینا اس نے آپ کے دل پر پیغام باری تعالیٰ اتارا ہے، جو پیغام ان کے پاس کی کتاب کی تصدیق کرنے والا اور مومنوں کو ہدایت اور خوشخبری دینے والا ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۹۷)
Takhreej
(۱۰۲۶۲) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الترمذی: ۳۱۱۷ (انظر: ۲۴۸۳)
Explanation
فوائد:… امام طبری ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌کہتے ہیں: اس پر تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ جب یہودیوں نے جبرائیل علیہ السلام کو اپنا دشمن اور میکائیل علیہ السلام کو اپنا دوست بتایا تھا تو اس وقت ان کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی ۔ لیکنیہ نہیں ہو سکتا کہ میکائیل سے دوستی ہو اور جبریل سے دشمنی، اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات، فرشتوں اور رسولوں کی دوستییا دشمنی کو ایک قرار دیتے ہوئے اس سے اگلی آیت میں فرمایا: {مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّلّٰہِ وَمَلٰیِکَتِہٖ وَرُسُلِہٖوَجِبْرِیْلَ وَمِیْکٰیلَفَاِنَّ اللّٰہَ عَدُوٌّ لِّلْکٰفِرِیْنَ۔} … جو کوئی اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبریل اور میکائل کا دشمن ہے تو بے شک اللہ کافروں کا دشمن ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۹۸)
10262
Sahih
فرشتوں کی تخلیق کا بیان
۔ (۱۰۲۶۳)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: ذَکَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَاحِبَ الصُّوْرِ فَقَالَ: ((عَنْ یَمِیْنِہِ جِبْرِیْلُ، وَ عَنْ یَسَارِہِ مِیْکَائِیْلُm ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۸۵)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صور پھونکنے والے فرشتے کا ذکر کیا اور فرمایا: اس کی دائیں جانب جبریل علیہ السلام ہے اور بائیں جانب میکائیل علیہ السلام ۔
Takhreej
(۱۰۲۶۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عطیۃ العوفی، أخرجہ ابوداود: ۳۹۹۹ (انظر: ۱۱۰۶۹)
10263
Zaeef
فرشتوں کی تخلیق کا بیان
۔ (۱۰۲۶۴)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ لِجِبْرِیْلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ: ((مَالِیْ لَمْ اَرَ مِیْکَائِیْلُ ضَاحِکًا قَطُّ؟)) قَالَ: مَا ضَحِکَ مِیْکَائِیْلُ مُنْذُ خُلِقَتِ النَّارُ۔ (مسند احمد: ۱۳۳۷۶)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جبریل علیہ السلام سے فرمایا: کیا وجہ ہے کہ میں نے میکائیل کو کبھی بھی ہنستے ہوئے نہیں دیکھا؟ انھوں نے کہا: اس وقت سے میکائیل نہیںہنسے، جب سے جہنم کی آگ کو پیدا کیا گیا۔
Takhreej
(۱۰۲۶۴) تخریج:صحیح، قالہ الالبانی(انظر: ۱۳۳۷۶)
Explanation
فوائد:… میکائیل جہنم کی آگ کی وجہ سے اتنی دہشت میں ہے کہ ان کے چہرے سے مسکرانے اور ہنسنے کے آثار مٹ گئے۔
10264
Sahih

Chapters

20
01
مخلوقات میں پہلی چیز کا بیان اور اس میںپانی، عرش، لوح محفوظ اور قلم کا ذکر ہو گا
8 Hadith
02
اس چیز کا بیان کہ جنت اور جہنم کو پیدا کیا گیا ہے اور وہ اب موجود ہیں
2 Hadith
03
ساتوں آسمانوں، ساتوں زمینوں اور ان کے درمیان والی چیزوں کا بیان
8 Hadith
04
پہاڑوں، لوہے، آگ، ہوا، زمانے، دن اور رات کو پیدا کرنے کا بیان
3 Hadith
05
سمندروں اور دریاؤں کا بیان
6 Hadith
06
سورج، چاند اور ستاروں کا بیان
9 Hadith
07
بادل، گرج اور ہواؤں کا بیان
8 Hadith
08
بادل، بارش، اولے اور موسم سردا کا بیان
8 Hadith
09
فرشتوں کی تخلیق کا بیان
15 Hadith
10
جنوں کی تخلیق اور ان سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان
14 Hadith
11
جنوں کے ایک گروہ کے اسلام لانے، ان کے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے آنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے قرآن سننے کا بیان
6 Hadith
12
ارواح، آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کی تخلیق کا بیان
8 Hadith
13
سیدہ حوائ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کی تخلیق کا بیان
1 Hadith
14
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کابیان کہ پہلے انکار کرنے والے آدم علیہ السلام ہیں
1 Hadith
15
اللہ تعالیٰ کے فرمان {وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْ آدَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ}کابیان
3 Hadith
16
جنین کی تخلیق اور رحم میں اس کی تکوین کا بیان
2 Hadith
17
آدم علیہ السلام کی خطا کے سبب، ان کے جنت سے نکلنے اور ان کی نبوت کی دلیل کا بیان
5 Hadith
18
آدم علیہ السلام اور موسی علیہ السلام کے جھگڑے کا بیان
1 Hadith
19
آدم علیہ السلام کے بیٹوں قابیل اور ہابیل وغیرہ کا بیان
3 Hadith
20
آدم علیہ السلام کی وفات، غسل، تکفین، نماز جنازہ اور تدفین کا بیان
1 Hadith
No chapter matched that.