کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب - کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب - Book 167 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Book 167 of Musnad Ahmad, with 20 chapters and 112 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہوا کو برا بھلا نہ کہو، کیونکہیہ رحمت کو بھی لاتی ہے اور عذاب کو بھی، تم اللہ تعالیٰ سے اس کی خیر کا سوال کیا کرو اور اس کے شرّ سے پناہ طلب کیا کرو۔
Takhreej
(۱۰۲۴۵) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۷۲۷ (انظر: ۹۶۲۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگ مکہ مکرمہ کے راستے میں تھے، ہوا چلنے لگی، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حج کرنے جا رہے تھے، ہوا سخت ہو گئی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ارد گرد کے لوگوں سے پوچھا: کون ہمیں ہوا کے بارے میں بیان کرے گا؟ لوگوں نے کوئی جواب نہ دیا، جب مجھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سوال کا علم ہوا تو میں نے اپنی سواری کو تیزی سے چلایا،یہاں تک کہ ان کو پا لیا اور کہا: اے امیر المؤمنین! مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہوا کے بارے میں سوال کیا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس کے بارے میں یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: ہوا کی اصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے، یہ رحمت کے ساتھ بھی آتی ہے اور عذاب کے ساتھ بھی، پس جب تم اس کو دیکھو تو اس کو برا بھلا مت کہا کرو، بلکہ اللہ تعالیٰ سے اس کی خیر کا سوال کیا کرو اور اس کے شرّ سے پناہ طلب کیا کرو۔
فوائد:… ہوا اللہ تعالیٰ کے حکم کی پابند ہے، اس کے اندر خیر بھی ہوتی ہے اور شرّ بھی، بندے کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی پابند چیز کو برا بھلا نہ کہے، بلکہ اس سے خیر کا سوال کرے اور اس کے شرّ کی پناہ طلب کرے۔
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر میں تھے، بڑی سخت ہوا چلی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کسی منافق کی موت کی وجہ سے ہے۔ پس جب ہم مدینہ میں آئے تو دیکھا کہ بڑے منافقوں میں سے ایک بڑا منافق مر چکا تھا۔
Takhreej
(۱۰۲۴۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۷۸۲ (انظر: ۱۴۳۷۸)
Explanation
فوائد:… حدیث نمبر (۰۲۳۲ا، ۱۰۲۳۳) میں یہ بات گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نظام زمین پر ہونے والے موت و حیات اور خوشی و غمی کے واقعات سے متاثر نہیں ہوتا۔
اس حدیث میں جس ہوا کا ذکر ہے، یہ دراصل اللہ تعالیٰ کا کوئی لشکر تھا، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو
مدینہ میں داخل ہونے سے پہلے یہ بتلانا چاہتے تھے کہ فلاں منافق مر گیا ہے، اس طرح سے اس ہوا کو اس کی موت کی علامت قرار دینا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ تھا۔
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہوا چلتی تھی تو اس چیز کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے سے پتہ چل جاتا تھا (کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پریشان ہو رہے ہیں)۔
Takhreej
(۱۰۲۴۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۰۳۴(انظر: ۱۲۶۲۱)
Explanation
فوائد:… ہوا کے اندر خیر بھی ہو سکتی ہے اور شرّ بھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شرّ کے خطرے کی وجہ سے پریشان ہو جاتے تھے، اس سے معلوم ہوا کہ جب شرّ کا باعث بن سکنے والی چیز وجود پکڑے تو اللہ تعالیٰ کی مراقبت کی تیاری کی جائے اور اس کی طرف پناہ پکڑی جائے، اختلاف ِ حالات و ظروف سے بندے کو متاثر ہونا چاہیے۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بادل نظر آتا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے میں خوف اور گھبراہٹ کے آثار دیکھتی، جب وہ بارش برساتا تو تب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سکون میں آتے۔
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بادل دیکھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ بدل جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آنا جانا شروع کر دیتے تھے، جب بارش برسنا شروع ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کییہ کیفیت چھٹ جاتی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کی وجہ دریافت کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس بارے میں کوئی امن نہیں ہے کہ ممکن ہے کہ یہ وہی چیز ہو، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے کہا: {فَلَمَّا رَاَوْہُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِہِمْ قَالُوْا ھٰذَا عَارِض’‘ مُّمْطِرُنَا بَلْ ھُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِہٖرِیْح’‘ فِیْھَا عَذَاب’‘ اَلِیْم’‘۔} پھر جب انھوں نے عذاب کو بصورت بادل دیکھا اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے تو کہنے لگے، یہ بادل ہم پر برسنے والا ہے، (نہیں) بلکہ دراصل یہ وہ (عذاب) ہے، جس کی تم جلدی کر رہے تھے، ہوا ہے جس میں دردناک عذاب ہے ۔ (سورۂ احقاف: ۲۴)
Takhreej
(۱۰۲۵۰) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۸۹۱ (انظر: ۲۵۳۴۲)
Explanation
فوائد:… یہ آیت قوم ہود کے بارے میں ہے، وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ بارش آنے والی ہے، لیکن اس بادل کا انجام یہ نکلا کہ{ تُدَمِّرُکُلَّ شَیْئٍ بِاَمْرِ رَبِّھَا فَاَصْبَحُوْالَا یُرٰٓی اِلَّا مَسٰکِنُہُمْ کَذٰلِکَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ۔} … جو ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے برباد کر دے گی، پس وہ اس طرح ہو گئے کہ ان کے رہنے کی جگہوں کے سوا کوئی چیز دیکھائی نہ دیتی تھی، اسی طرح ہم مجرم لوگوں کو بدلہ دیتے ہیں۔ (سورۂ احقاف: ۲۵)
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یہ بھی بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب آسمان کے کسی افق میں کوئی بادل اٹھتے ہوئے دیکھتے تو اپنا کام چھوڑ دیتے، اگرچہ آپ نماز ادا کر رہے ہوتے اور پھر فرماتے: اے اللہ! میں اس شرّ سے تیری پناہ میں آتا ہوں، جو اس میں ہے۔ پس اگر اللہ تعالیٰ اس کو صاف کر دیتا تو اس کی حمد بیان کرتے اور اگر وہ بارش برسانا شروع کر دیتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: اے اللہ! نفع بخش بارش نازل کرنا۔
فوائد:… اس لیے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی بادل کو دیکھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ خوف لاحق ہو جاتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس میں عذاب ہو، جب وہ بارش برسانے لگتا، تب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بے فکر ہوتے۔
نماز کو چھوڑنے کا معنییہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو نماز ادا کر رہے ہوتے تھے، اس سے فارغ ہونے کے بعد مزید نماز نہ پڑھتے، بلکہ بادل کے شر سے پناہ مانگنا شروع کر دیتے۔
۔ سیدنا معاویہ لیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ قحط زدہ ہو جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ (بارش کی صورت میں) اپنا رزق نازل کرتا ہے تو وہ مشرک بن جاتے ہیں۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگ کہتے ہیں کہ فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی ہے۔
فوائد:… بارش اللہ تعالیٰ کے حکم اور مشیت سے نازل ہوتی ہے، اس میں کسی غیر کی رضا یا عدم رضا کا کوئی دخل نہیں ہے، جو شخص اس بارش کے نزول کو غیر اللہ کی طرف منسوب کرے گا، وہ کافر ہو جائے گا۔
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں بارش ہوئی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لے گئے، (اپنے جسم کے بعض حصے سے) کپڑا ہٹایا،یہاں تک کہ اس حصے پر بارش کا پانی لگا، کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیوں کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیونکہیہ اپنے ربّ کی طرف سے نئی نئی آئی ہے۔
Takhreej
(۱۰۲۵۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۸۹۸ (انظر: ۱۲۳۶۵)
Explanation
فوائد:… یعنی اللہ تعالیٰ ابھی ابھی اس بارش کو ایجاد کر کے نازل کر رہا ہے، جبکہ بارش رحمت ہے، اس لیے اس انداز میں تبرک حاصل کرنا چاہیے۔
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بارش میں اولے برسے، سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اولے کھانا شروع کر دیئے، جبکہ وہ روزے دار بھی تھے، کسی نے کہا: کیا تم روزے کی حالت میں یہ اولے کھاتے ہو؟ انھوں نے کہا: یہ تو برکت ہیں۔
فوائد:… عامر بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((الصَّوْمُ فِی الشِّتَائِ الْغَنِیْمَۃُ الْبَارِدَۃُ۔)) … سردیوں کے روزے مفت کی غنیمت ہیں۔ (ابن ابی شیبہ: ۲/ ۱۸۱، بیہقی: ۴/ ۴۹۶، صحیحہ: ۱۹۲۲) حدیث کا مفہوم واضح ہے کہ دن چھوٹے ہوتے ہیں اور پیاس کا کوئی تصور نہیں ہوتا، ایسے میںمسلمان کو مالِ غنیمت اکٹھا کر لینا چاہیے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک قحط سالییہ نہیں ہے کہ بارش نہ ہو، بلکہ قحط سالی تو یہ ہے کہ آسمان بارش برسائے، لیکن زمین کچھ نہ اگائے۔
Takhreej
(۱۰۲۵۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۹۰۴ (انظر: ۸۵۱۱)
Explanation
فوائد:… اس کا سبب نافرمانیوں کی کثرت اور ان کی پروا نہ کرنا ہو گی۔
بارش کا نہ ہونا بھی قحط سالی ہے، جیسا کہ دوسری نصوص سے ثابت ہوتا ہے، لیکنیہ قحط سالی کی خطرناک صورت ہے کہ بارش بھی ہو رہی ہو، لیکن زمین کچھ نہ اگا رہی ہو۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فرشتوں کو نور سے اور جنوں کو آگ کے دہکتے ہوئے شعلے سے پیدا کیا اور آدم علیہ السلام کو اس چیز سے پیدا کیا، جس کو تمہارے لیے واضح کیا جا چکا ہے۔
Takhreej
(۱۰۲۵۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۹۰۴ (انظر: ۸۵۱۱)
Explanation
فوائد:… یعنی آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا۔ شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: اس حدیث میں درج ذیل حدیث کے باطل ہونے کا اشارہ دیا گیا، جو لوگوں کے ہاں بڑی مشہور ہے: ((اَوَّلُ مَا خَلَقَ اللّٰہُ نُوْرُ نَبِیِّکَیَا جََابِرُ۔))… اے جابر! اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے تیرے نبی کا نور پیدا کیا۔
کیونکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف فرشتوں کو نور سے پیدا کیا گیا ہے، نہ کہ آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کو۔ آپ متنبہ رہیں اور غافلوں میں سے نہ ہو جائیں۔ (صحیحہ: ۴۵۸)
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک جو میں دیکھتا ہوں وہ تم نہیں دیکھ سکتے اور جو میں سنتا ہوں وہ تم نہیں سن سکتے۔ (سنو!) آسمان چرچراتا ہے اور اسے چرچرانا ہی زیب دیتا ہے، کیونکہ وہاں چار انگلیوں کے بقدر بھی جگہ خالی نہیں ہے، ہر جگہ فرشتے سجدہ ریز ہیں۔ اللہ کی قسم! اگر تمھیں اس کا علم ہو جائے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنسنا کم کر دو، رونا زیادہ کر دو، بچھونوں پر اپنی بیویوں سے لذتیں اٹھانا ترک کر دو اور (اللہ کی طرف) گڑگڑاتے ہوئے گھاٹیوں کی طرف نکل جاؤ۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں چاہتا ہوں کہ میں درخت ہوتا، جسے کاٹ دیا جاتا۔
Takhreej
(۱۰۲۵۸) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۱۹۰ (انظر: ۲۱۵۱۶)
Explanation
فوائد:… اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عظمت، نافرمانوں پر انتقامی کاروائیوں اور موت کے وقت کے اور قبر و قیامت کے ہولناک مناظر اور سخت مناقشوں کا جو علم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تھا، کسی امتی کو اس کا اندازہ بھی نہیں ہو سکتا۔ اگر ان حالات و واقعات کو مدنظر رکھا جائے تو مسلمان پر لرزہ طاری ہو جائے اور وہ اپنے حسنِ خاتمہ کے بارے میں سسکیاں بھرنا شروع کر دے۔ شریعت ِ اسلامیہ میں رہبانیت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کی جائے، کثرت سے اس کی عبادت کی جائے۔ اور گناہوں سے اجتناب کیا جائے۔
۔ (۱۰۲۵۹)۔ عَنْ جَابِرٍ رضی اللہ عنہ ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: ((عُرِضَ عَلَیَّ الْاَنْبِیَائُ، فَاِذَا مُوْسٰی علیہ السلام رَجُلٌ ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ، کَاَنَّہُ مِنْ رِجَالِ شَنُوْئَ ۃَ، فَرَاَیْتُ عِیْسٰی بْنَ مَرْیَمَ علیہ السلام فَاِذَا اَقْرَبُ مَنْ رَاَیْتُ بِہٖشَبَھًاعُرْوَۃُ بْنُ مَسْعُوْدٍ، وَرَاَیْتُ اِبْرَاھِیْمَ علیہ السلام فَاِذَا اَقْرَبُ مَنْ رَاَیْتُ بِہٖشُبْھًاصَاحِبُکُمْیَعْنِیْ نَفْسَہُ، وَرَاَیْتُ جِبْرِیْلَ علیہ السلام فَاِذَا اَقْرَبُ مَنْ رَاَیْتُ بِہٖشَبْھًادِحْیَۃُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۴۳)
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر انبیاء پیش کیے گئے، موسی علیہ السلام معتدل وجود کے آدمی تھے، وہ شنوء ۃ قبیلے کے لوگوں کی طرح لگتے تھے، میں نے عیسی رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ عروہ بن مسعود کے زیادہ مشابہ لگتے تھے، میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، وہ تمہارے اپنے ساتھی سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ذات مراد لے رہے تھے، اور میں نے جبریل علیہ السلام کو دیکھا، وہ دحیہ کے زیادہ مشابہ لگتے تھے۔
Takhreej
(۱۰۲۵۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۷ (انظر: ۱۴۵۸۹)
Explanation
فوائد:… حضرت جبریل علیہ السلام کی اپنی خاص شکل تھی، جب وہ انسانی روپ میں آتے تھے تو دحیہ کے مشابہ لگتے تھے۔
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کو ان کی اصلی حالت میں دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے، ان میں سے ہر پر نے افق کو پُر کر رکھا تھا، ان کے پروں سے مختلف رنگوں کی چیزیں، موتی اوریاقوت گر رہے تھے، جن کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔
Takhreej
(۱۰۲۶۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف شریک النخعی، وقولہ لہ ست مائۃ جناح ثابت باسناد صحیح (انظر: ۳۷۴۸)
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کو ان کی اصلی شکل میں دو بار دیکھا، ایک بار اس وقت جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ آپ کو اپنی اصلی صورت دکھائے، پس انھوں نے اپنی اصلی شکل دکھائی اور افق کو بھر دیا، دوسری مرتبہ اس وقت جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ساتھ چڑھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھا، پھر نزدیک ہوا اور اتر آیا، پس وہ دو کمانوں کے بقدر فاصلہ رہ گیا، بلکہ اس سے بھی کم، پس اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو بھی پہنچائی۔ پس جب حضرت جبریل علیہ السلام نے اپنے ربّ کو محسوس کیا تو اپنی اصلی شکل میں آ کر سجدہ کیا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اسے تو ایک مرتبہ اور بھی دیکھا تھا، سدرۃ المنتہی کے پاس، اسی کے پاس جنۃ الماوی ہے، جب کہ سدرہ کو چھپائے لیتی تھی، وہ چیز جو اس پر چھا رہی تھی، نہ تو نگاہ بہکی نہ حد سے بڑھی،یقینا اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیوں میں سے بعض نشانیاں دیکھ لیں۔اس نے کہا: یہ جبریل علیہ السلام کی تخلیق ہے۔
Takhreej
(۱۰۲۶۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ حال اسحاق بن ابی الکھتلۃ، وللشک فی وصلہ عن ابن مسعود (انظر:۳۸۶۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہودی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے کہا: ہر نبی کا ایک فرشتہ ہوتا ہے، جو اس کے پاس خیر لاتا ہے، آپ ہمیں بتائیں کہ آپ کے پاس آنے والا فرشتہ کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جبریل علیہ السلام ہے۔ انھوں نے کہا: جبریل،یہ تو لڑائی، قتال اور عذاب کے ساتھ نازل ہونے والا ہمارا دشمن فرشتہ ہے، اگر آپ نے میکائیل کا نام لیا ہوتا تو تب بات بنتی، وہ رحمت، انگوری اور بارش کے ساتھ نازل ہوتا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی: {قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّہ نَزَّلَہ عَلٰی قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللّٰہِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَیَدَیْہِ وَھُدًی وَّبُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ } … آپ کہہ دیجئے کہ جو جبریل کا دشمن ہے تو یقینا اس نے آپ کے دل پر پیغام باری تعالیٰ اتارا ہے، جو پیغام ان کے پاس کی کتاب کی تصدیق کرنے والا اور مومنوں کو ہدایت اور خوشخبری دینے والا ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۹۷)
فوائد:… امام طبری رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: اس پر تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ جب یہودیوں نے جبرائیل علیہ السلام کو اپنا دشمن اور میکائیل علیہ السلام کو اپنا دوست بتایا تھا تو اس وقت ان کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی ۔
لیکنیہ نہیں ہو سکتا کہ میکائیل سے دوستی ہو اور جبریل سے دشمنی، اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات، فرشتوں اور رسولوں کی دوستییا دشمنی کو ایک قرار دیتے ہوئے اس سے اگلی آیت میں فرمایا: {مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّلّٰہِ وَمَلٰیِکَتِہٖ وَرُسُلِہٖوَجِبْرِیْلَ وَمِیْکٰیلَفَاِنَّ اللّٰہَ عَدُوٌّ لِّلْکٰفِرِیْنَ۔} … جو کوئی اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبریل اور میکائل کا دشمن ہے تو بے شک اللہ کافروں کا دشمن ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۹۸)
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صور پھونکنے والے فرشتے کا ذکر کیا اور فرمایا: اس کی دائیں جانب جبریل علیہ السلام ہے اور بائیں جانب میکائیل علیہ السلام ۔
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبریل علیہ السلام سے فرمایا: کیا وجہ ہے کہ میں نے میکائیل کو کبھی بھی ہنستے ہوئے نہیں دیکھا؟ انھوں نے کہا: اس وقت سے میکائیل نہیںہنسے، جب سے جہنم کی آگ کو پیدا کیا گیا۔
Takhreej
(۱۰۲۶۴) تخریج:صحیح، قالہ الالبانی(انظر: ۱۳۳۷۶)
Explanation
فوائد:… میکائیل جہنم کی آگ کی وجہ سے اتنی دہشت میں ہے کہ ان کے چہرے سے مسکرانے اور ہنسنے کے آثار مٹ گئے۔