TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب - کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب - Book 167 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 167 of Musnad Ahmad, with 20 chapters and 112 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

112 Hadith · 20 Chapters
جنین کی تخلیق اور رحم میں اس کی تکوین کا بیان
۔ (۱۰۳۰۵)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: مَرَّ یَھُوْدِیٌّ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یُحَدِّثُ اَصْحَابَہُ، فَقَالَتْ قُرَیْشٌ : یَایَھُوْدِیُّ! اِنَّ ھٰذَا یَزْعَمُ اَنَّہُ نَبِیٌّ، فَقَالَ: لَاَسْاَلَنَّہُ عَنْ شَیْئٍ لَا یَعْلَمُہُ اِلَّا نَبِیٌّ، قَالَ: فَجَائَ حَتّٰی جَلَسَ ثُمَّ قَالَ: یَامُحَمَّدُ! مِمَّ یُخْلَقُ الْاِنْسَانُ؟ قَالَ: ((یَایَھُوْدِیُّ! مِنْ کُلٍّ یُخْلَقُ، مِنْ نُطْفَۃِ الرَّجُلِ وَمِنْ نُطْفَۃِ الْمَرْاَۃِ، فَاَمَّا نُطْفَۃُ الرَّجُلِ فَنُطْفَۃٌ غَلِیْظَۃٌ مِنْھَا الْعَظَمُ، وَالْعَصَبُ، وَاَمَّا نُطْفَۃُ الْمَرْاَۃِ فَنُطْفَۃٌ رَقِیْقَۃٌ مِنْھَا اللَّحْمُ، وَالدَّمُ۔)) فَقَامَ الْیَھُوْدِیُّ فَقَالَ: ھٰکَذَا کَانَ یَقُوْلُ مَنْ قَبْلَکَ۔ (مسند احمد: ۴۴۳۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایکیہودی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے گزرا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے صحابہ کو احادیث بیان کر رہے تھے، قریشیوں نے یہودی سے کہا: اے یہودی! یہ آدمی اپنے آپ کو نبی خیال کرتا ہے، اس نے کہا: میں اس سے ایسی چیز کے بارے میں سوال کرتا ہوں کہ اس کو جاننے والا صرف نبی ہوتا ہے ، پس وہ آیا اور بیٹھ گیا، پھر اس نے کہا: اے محمد! انسان کو کس چیز سے پیدا کیا جاتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہودی! مرد و زن میں سے ہر ایک سے انسان کو پیدا کیا جاتا ہے، مرد کے نطفے سے بھی اور عورت کے نطفے سے بھی، مرد کا نطفہ گاڑھا ہوتا ہے، اس سے ہڈیاں اور پٹھے بنتے ہیں اور عورت کا نطفہ پتلا ہوتا ہے، اس سے گوشت اور خون بنایا جاتا ہے۔ یہودی نے کہا: آپ سے پہلے والے لوگ بھی اسی طرح کہتے تھے۔
Takhreej
(۱۰۳۰۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف حسین بن الحسن، وعطائُ بن السائب اختلط بأخرۃ، ولم نقف علی سماع ابی کدینۃ منہ، ھل کان قبل الاختلاط او بعدہ، وعبد الرحمن لم یثبت سماعہ لھذا الحدیث من ابیہ، فھو انما سمع من ابیہ شیئایسیرا، أخرجہ البزار: ۲۳۷۷، والطبرانی فی الکبیر : ۱۰۳۶۰(انظر: ۴۴۳۸)
10305
Zaeef
جنین کی تخلیق اور رحم میں اس کی تکوین کا بیان
۔ (۱۰۳۰۶)۔ وعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ النُّطْفَۃَ تَکُوْنُ فِیْ الرَّحِمِ اَرْبَعِیْنَیَوْمًا عَلٰی حَالِھَا لَا تَغَیَّرُ، فَاِذَا مَضَتِ الْاَرْبَعُوْنَ صَارَتْ عَلَقَۃً، ثُمَّ مُضْغَۃً کَذٰلِکَ، ثُمَّ عِظَامًا کَذٰلِکَ، فاِذَا اَرَادَ اللّٰہُ اَنْ یُسَوِّیَ خَلْقَہُ بَعَثَ اِلَیْھَا مَلَکًا، فَیَقُوْلُ الْمَلَکُ الَّذِیْیَلِیْہِ: اَیْ رَبِّ! اَذَکَرٌ اَمْ اُنْثٰی؟ اَشَقِیٌّ اَمْ سَعِیْدٌ؟ اَقَصِیْرٌ اَمْ طَوِیْلٌ؟ اَ نَاقِصٌ اَمْ زَائِدٌ؟ قُوْتُہُ وَاَجَلُہُ، اَ صَحِیْحٌ اَمْ سَقِیْمٌ؟ قَالَ: فَیُکْتَبُ ذٰلِکَ کُلُّہُ۔)) فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: فَفِیْمَ الْعَمَلُ اِذًا وَقَدْ فَزِعَ مِنْ ھٰذَا کُلِّہِ؟ قَالَ: ((اِعْمَلُوْا فَکُلٌّ سَیُوَجَّہُ لِمَا خُلِقَ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۳۵۵۳)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بشیک نطفہ چالیس ایام تک اپنی حالت پر رہتا ہے، اس میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، جب چالیس دن گزر جاتے ہیں تو وہ جمے ہوئے خون کا ایک ٹکڑا بن جاتا ہے، پھر چالیس دنوں کے بعد گوشت کا ٹکڑا بن جاتا ہے، پھر چالیس دنوں کے بعد ہڈیاں بنتی ہیں، پس جب اللہ تعالیٰ اس کی تخلیق کو برابر کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجتا ہے، اس کام کو سنبھالنے والا فرشتہ کہتا ہے: اے میرے ربّ! یہ مذکر ہے یا مؤنث؟ خوش بخت ہے یا بد بخت؟ کوتاہ قد ہے یا دراز قد؟ ناقص الخلقت ہے یا زائد الخلقت؟ نیز اس کی روزی اور موت؟ اور یہ تندرست ہے یا بیمار؟ پس یہ سب چیزیں لکھ لی جاتی ہیں۔ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: اگر اس سارے معاملے سے فارغ ہوا جا چکا ہے تو پھر عمل کا کیا تک ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم عمل کرو، پس جس شخص کو جس چیز کے لیے پیدا کیا گیا ہے، اس کو اس کی طرف متوجہ کر دیا جائے گا۔
Takhreej
(۱۰۳۰۶) تخریج: اسنادہ ضعیف و منقطع، ابو عبیدۃ لم یسمع من ابیہ عبد اللہ بن مسعود، وعلیُّ بن زید بن جدعان ضعیف (انظر: ۳۵۵۳)
Explanation
فوائد:… لیکن دوسری احادیث میں اس روایت سے ملتا جلتا مفہوم بیان کیا گیا ہے، ایک حدیث درج ذیل ہے: سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، جوکہ صادق و مصدوق ہیں، نے ہم کو بیان کیا اور فرمایا: ((اِنَّ أَحَدَکُمْ یُجْمَعُ خَلْقُہُ فِیْ بَطْنِ أُمِّہِ فِیْ أَرْبَعِیْنَیَوْمًا ثُمَّ یَکُوْنُ عَلَقَۃً مِثْلَ ذٰلِکَ ثُمَّ یَکُوْنُ مُضْغَۃً مِثْلَ ذٰلِکَ ثُمَّ یُرْسَلُ اِلَیْہِ الْمَلَکُ فَیَنْفَخُ فِیْہِ الرُّوْحَ وَیُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ کَلِمَاتٍ، رِزْقُہُ وَأَجَلُہُ وَعَمَلُہُ وَشَقِیٌّ أَمْ سَعِیْدٌ، فَوَالَّذِیْ لَا اِلٰہَ غَیْرُہُ اِنَّ أَحَدَکُمْ لَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَھْلِ الْجَنَّۃِ حَتّٰی مَا یَکُوْنُ بَیْنَہُ وَ بَیْنَہَا اِلَّا ذِرَاعٌ فَیَسْبِقُ عَلَیْہِ الْکِتَابُ فَیُخْتَمُ لَہُ بِعَمَلِ أَہْلِ النَّارِ فَیَدْخُلُہَا، وَ اِنَّ الرَّجُلَ لَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَہْلِ النَّارِ حَتّٰی مَا یَکُوْنُ بَیْنَہُ وَ بَیْنَہَا اِلَّا ذِرَاعٌ فَیَسْبِقُ عَلَیْہِ الْکِتَابُ فَیُخْتَمُ لَہُ بِعَمَلِ أَھْلِ الْجَنَّۃِ فَیَدْخُلُہَا۔))… بیشک تمہاری تخلیق اس طرح ہوتی ہے کہ ماں کے پیٹ میں چالیس دنوں تک نطفہ ہی رکھا جاتا ہے، پھر چالیس دن تک خون کا لوتھڑا رکھا جاتا ہے، پھر چالیس دن تک گوشت کا ٹکڑا رکھا جاتا ہے، پھر اس کی طرف فرشتے کو بھیجاجاتا ہے اور وہ اس میں روح پھونکتا ہے اور چار کلمات کا حکم دیا جاتا ہے۔ اس کے رزق، موت اور عمل اور اس کے بدبخت یا خوش بخت ہونے کا، پس اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں! بیشک تم میں سے ایک آدمی جنتی لوگوں والے عمل کرتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے مابین صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، لیکن کتابِ تقدیر اس پر سبقت لے جاتی ہے اور اس کی زندگی کا خاتمہ جہنمی لوگوں کے اعمال پر ہوتا ہے، پس وہ جہنم میں داخل ہو جاتا ہے، اسی طرح ایک آدمی جہنمی لوگوںکے اعمال کرتا رہتا ہے، حتی کہ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، لیکن کتابِ تقدیر اس پر غالب آ جاتی ہے اور اس کی زندگی کا خاتمہ اہل جنت کے اعمال پر کر دیا جاتا ہے، سو وہ جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔ (صحیح بخاری: ۳۲۰۸، ۳۳۳۲، صحیح مسلم: ۲۶۴۳، واللفظ لاحمد)
10306
Zaeef
آدم علیہ السلام کی خطا کے سبب، ان کے جنت سے نکلنے اور ان کی نبوت کی دلیل کا بیان
۔ (۱۰۳۰۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ لَا بَنُوْ اِسْرَائِیْلُ، لَمْ یَخْنَزِ الْلَحْمُ، وَلَمْ یَخْبُثِ الطَّعَامُ، وَ لَوْ لَا حَوَّائُ لَمْ تَخُنْ اُنْثٰی زَوْجَھَا۔)) (مسند احمد: ۸۰۱۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر بنو اسرائیل نہ ہوتے تو گوشت بدبودار نہ ہوتا اور کھانے میں فساد نہ آتا اور اگر سیدہ حوائ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نہ ہوتیں تو کوئی خاتون اپنے خاوند سے خیانت نہ کرتی۔
Takhreej
(۱۰۳۰۷) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الحاکم: ۴/ ۱۷۵ (انظر: ۸۰۳۲)
Explanation
فوائد:… بنواسرائیل پر من و سلوی نازل ہوتا تھا، امام قتادہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے کہا: بنو اسرائیل نے سلوی کا گوشت ذخیرہ کیا، جبکہ ان کو ایسا کرنے سے روکا گیا تھا، سو ان کو اس چیز کا بدلہ دیا گیا۔ جب ابلیس نے آدم علیہ السلام کے لیے بات کو مزین کیا تو سیدہ حوائ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے اس کو قبول کیا اور وہ اچھی شکل میں پیش کی گئی اس بدی کی طرف مائل ہو گئیں،یہاں تک کہ آدم علیہ السلام اور سیدہ حوائ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ دونوں نے جنت کے ممنوعہ درخت کا پھل کھا لیا، جس کی وجہ سے ان کو جنت سے زمین کی طرف نکال دیا گیا۔
10307
Sahih
آدم علیہ السلام کی خطا کے سبب، ان کے جنت سے نکلنے اور ان کی نبوت کی دلیل کا بیان
۔ (۱۰۳۰۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فِیْ حَدِیْثِ الشَّفَاعَۃِ، قَالَ: وَیَطُوْلُیَوْمُ الْقِیَامَۃِ عَلَی النَّاسِ، فَیَقُوْلُ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ اِنْطَلِقُوْا بِنَا اِلَی اَبِیْ الْبَشَرِ فَلْیَشْفَعْ لَنَا اِلٰی رَبِّنَا عَزَّوَجَلَّ فَلْیَقْضِ بَیْنَنَا، فَیَاْتُوْنَ آدَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ، فَیَقُوْلُ: یَا آدَمُ! اَنْتَ الَّذِیْ خَلَقَکَ اللّٰہُ بِیَدِہِ وَاَسْکَنَکَ جَنَّتَہُ وَاَسْجَدَ لَکَ مَلَائِکَتَہُ اشْفَعْ لَنَا اِلٰی رَبِّنَا فَلْیَقْضِ بَیْنَنَا، فَیَقُوْلُ : اِنِّیْ لَسْتُ ھُنَاکُمْ، اِنِّیْ قَدْ اُخْرِجْتُ مِنَ الْجَنَّۃِ بِخَطِیْئَتِیْ، وَ اِنَّہُ لَا یُھِمُّنِی الْیَوْمَ اِلَّا نَفْسِی۔)) اَلْحَدِیْثَ (مسند احمد: ۲۵۴۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، یہ سفارش والی طویل حدیث ہے، اس میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن جب لوگوں پر زمانہ طویل ہو گا تو وہ ایک دوسرے سے کہیں گے: چلو، ابو البشر کی طرف چلتے ہیں، تاکہ وہ ہمارے حق میں اللہ تعالیٰ کے سامنے سفارش کریں اور وہ ہمارا حساب کتاب شروع کرے، پس وہ آدم علیہ السلام کے پاس آکر کہیں گے: اے آدم! آپ وہ ہستی ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، آپ کو جنت میںٹھہرایا اور آپ کو فرشتوں سے سجدہ کروایا، پس آپ ہمارے حق میں اللہ تعالیٰ سے سفارش تو کر دیں، تا کہ وہ ہمارا حساب کتاب شروع کر دے، پس وہ جواب دیں گے: میں اس سفارش کا اہل نہیں ہوں، مجھے میری خطا کی وجہ سے جنت سے نکالا گیا تھا، آج تو میرے نفس نے مجھے بے چین کر رکھا ہے۔
Takhreej
(۱۰۳۰۸) تخریج: حسن لغیرہ، أخرج نحو ھذا الترمذی: ۳۱۴۸ (انظر: ۲۵۴۶)
Explanation
فوائد:… اگرچہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی اس خطا کو معاف کر دیا ہے، لیکن انبیائے کرام پر اللہ کا خوف اور خشیت ِ الہی کی ایسی فکر ہو گی، جس کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضری دینے سے خطرہ محسوس کریں گے۔
10308
Sahih
آدم علیہ السلام کی خطا کے سبب، ان کے جنت سے نکلنے اور ان کی نبوت کی دلیل کا بیان
۔ (۱۰۳۰۹)۔ وَمِمَّا رُوِیَ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فِیْ حَدِیْثِ الشَّفَاعَۃِ اَیْضًا، قَالَ: ((فَیَقُوْلُ آدَمُ عَلَیْہِ السَّلَامُ: اِنَّ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ قَدْ غَضِبَ الْیَوْمَ غَضْبًا لَمْ یَغْضَبْ قَبْلَہُ مِثْلَہُ، وَلَنْ یَغْضَبَ بَعْدَہُ مِثْلَہُ، وَاَنَّہُ نَھَانِیْ عَنِ الشَّجَرَۃِ فَعَصَیْتُہُ، نَفْسِیْ نَفْسِیْ نَفْسِیْ۔)) (مسند احمد: ۹۶۲۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں،یہ شفاعت سے متعلقہ طویل حدیث ہیں، اس میں ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس آدم علیہ السلام کہیں گے: بیشک میرا ربّ آج اتنے غصے میں ہے کہ نہ اس سے پہلے اتنے غصے میں آیا تھا اور نہ بعد میں اتنے غصے میں آئے گا، اور اس نے مجھے ایک درخت سے منع کیا تھا، لیکن میں نے اس کی نافرمانی کر دی تھی، ہائے میری جان، میری جان، میری جان۔
Takhreej
(۱۰۳۰۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۳۴۰، ۳۳۶۱،ومسلم: ۱۹۵ (انظر: ۹۶۲۳)
10309
Sahih
آدم علیہ السلام کی خطا کے سبب، ان کے جنت سے نکلنے اور ان کی نبوت کی دلیل کا بیان
۔ (۱۰۳۱۰)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ الْبَاھِلِیِّ، اَنَّ اَبَا ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قُلْتُ: یَانَبِیَّ اللّٰہِ! فَاَیُّ الْاَنْبِیَائِ کَانَ اَوَّلُ؟ قَالَ: ((آدَمُ عَلَیْہِ السَّلَامُ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَانَبِیَّ اللّٰہِ! اَوَ نَبِیٌّ کَانَ آدَمَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ،نَبِیٌّ مُکَلَّمٌ، خَلَقَہُ اللّٰہُ بِیَدِہِ، ثُمَّ نَفَخَ فِیْہِ رُوْحَہُ ثُمَّ قَالَ لَہُ: یَاآدَمُ قُبُلًا۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۴۴)
۔ سیدنا ابو امامہ باہلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! انبیاء میں سب سے پہلا نبی کون تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدم علیہ السلام ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، وہ نبی تھے، ان سے کلام کیا گیا، اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، پھر ان میں اپنی روح پھونکی اور ان کو آمنے سامنے کہا: اے آدم۔
Takhreej
(۱۰۳۱۰) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا من اجل علی بن یزید، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۸۷۷۱، وابن حبان: ۶۱۹۰ (انظر: ۲۲۲۸۸)
Explanation
فوائد:… شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے اس موضوع سے متعلقہ درج دو احادیث کو شواہد کی بنا پر صحیح قرار دیا ہے: سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے کہا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنَبِيٌّکَانَ آدَمَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، مُعَلَّمٌ، مُکَلَّمٌ۔)) قَالَ: کَمْ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ نُوْحٍ؟ قَالَ: ((عَشْرَۃُ قُرُوْنٍ۔)) قَالَ: کَمْ کَانَ بَیْنَ نُوْحٍ وَاِبْرَاھِیْمَ؟ قَالَ: ((عَشْرَۃُ قُرُوْنٍ۔)) قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کَمْ کَانَتِ الرُّسُلُ؟ قَالَ: ((ثَلَاثُ مِئَۃٍ وَخَمْسَۃَ عَشَرَ، جَمًّا غَفِیْرًا۔)) … اے اللہ کے رسول! کیا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، وہ تعلیم دیے گئے تھے اور ان سے (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) کلام بھی کیا گیا تھا۔ اس نے کہا: ان کے اور نوح علیہ السلام کے مابین کتنی مدت ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’دس صدیاں (یا دس زمانے)۔ اس نے کہا: نوح علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کے درمیان کتنی مدت ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دس صدیاں۔ پھر صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کل کتنے رسول ہو گزرے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین سو پندرہ ، جم غفیرہے۔ (حاکم: ۲/ ۲۶۲، معجم کبیر لطبرانی: ۸/ ۱۳۹، صحیحہ: ۳۲۸۹) شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے اس حدیث کا ایک موقوف شاہد ذکر کرتے ہوئے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عباس نے کہا: نوح اور آدم کے مابین دس صدیاں تھیں، سارے لوگ شریعت ِ حقہ پر تھے، پھر اختلاف پڑ گیا، پس اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو بھیجنا شروع کیا، تاکہ وہ خوشخبریاں دیں اور ڈرائیں، عبد اللہ بن مسعود کی قراء ت یوں تھی: {کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَاخْتَلَفُوْا} (تفسیرطبری: ۲/ ۱۹۴، حاکم: ۲/ ۵۴۶) اس میں ایک اہم فائدے کا بیان ہے کہ لوگ شروع میں ایک امت تھے، خالص توحید ان کا مذہب تھا، پھر بعد میں ان پر شرک کے آثار طاری ہوئے۔ اس سے ان فلسفیوں اور ملحدوں کا ردّ ہوتا ہے، جو کہتے ہیں کہ اصل میں شرک تھا، بعد میں توحید کو وجود ملا۔ (صحیحہ: ۳۲۸۹) سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَنَبِیًّا کَانَ آدَمُ؟ قَالَ: ((نَعَمْ مُکَلَّمٌ۔)) قَالَ: کَمْ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ نُوْحٍ؟ قَالَ: ((عَشْرَۃُ قُرُوْنٍ۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَمْ کَانَتِ الرُّسُلُ؟ قَاَل: ((ثَلَاثُ مِئَۃٍ وَّخَمَسْۃَ عَشَرَ۔)) … اے اللہ کے رسول! کیا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، ان سے کلام بھی کیا گیا تھا ۔ اس نے کہا: ان کے اور نوح علیہ السلام کے درمیان کتنی مدت تھی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دس صدیاں۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کل کتنے رسول تھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین سو پندرہ۔ (صحیح ابن حبان: ۲۰۸۵، حاکم: ۲/ ۲۶۲، صحیحہ:۲۶۶۸) شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے شواہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طویل حدیث کا ایک اقتباس یہ ہے: میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! پہلا نبی کون تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدم علیہ السلام ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا آدم نبی تھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاںہاں، وہ نبی تھے، جن سے کلام بھی کیا گیا، اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے ہاتھ سے بنایا اور پھر ان میں اپنی روح پھونکی، پھر ان سے کہا: آدم! پتلا بن جا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! انبیا کی تعداد کتنی تھی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی تھے، ان میں رسولوں کی تعداد (۳۱۵) تھی، جم غفیر ہے۔ (احمد: ۵/ ۲۶۵)
10310
Zaeef
آدم علیہ السلام کی خطا کے سبب، ان کے جنت سے نکلنے اور ان کی نبوت کی دلیل کا بیان
۔ (۱۰۳۱۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَیْرُیَوْمٍ طَلَعَتْ فِیْہِ الشَّمْسُ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ، فِیْہِ خُلِقَ آدَمُ وَفِیْہِ اُدْخِلَ الْجَنَّۃَ، وَفِیْہِ اُخْرِجَ مِنْھَا، (زَادَ فِیْ اُخْرٰی) وَاَھْبَطَ اللّٰہُ فِیْہِ آدَمَ اِلَی الْاَرْضِ، وَ فِیْہِ تَوَفَّیَ اللّٰہُ آدَمَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۶۵۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوتا ہے، وہ جمعہ کا دن ہے ، اس میں آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا، اسی میں ان کو جنت میں داخل کیا گیا، اسی دن میں ان کو اس سے نکالا گیا، ایک روایت میں ہے: اللہ تعالیٰ نے اسی دن آدم علیہ السلام کو زمین کی طرف اتارا اور اس دن کو ان کو وفات دی۔
Takhreej
(۱۰۳۱۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۸۵۴(انظر: ۱۰۶۴۵)
10311
Sahih
آدم علیہ السلام اور موسی علیہ السلام کے جھگڑے کا بیان
۔ (۱۰۳۱۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِحْتَجَّ آدَمُ وَ مُوْسٰی عَلَیْھِمَا السَّلَامُ فَقَالَ: مُوْسٰی: یَا آدَمُ! اَنْتَ اَبُوْنَا خَیَّبْتَنَا وَ اَخْرَجْتَنَا مِنَ الْجَنَّۃِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: اَنْتَ آدَمُ الَّذِیْاَخْرَجَتْکَ خَطِیْئَتُکَ مِنَ الْجَنَّۃِ) فَقَالَ لَہُ آدَمُ: یَا مُوْسٰی اَنْتَ الَّذِیْ اصْطَفَاکَ اللّٰہُ بِکَلَامِہِ، وَقَالَ مَرَّۃً: بِرِسَالَتِہِ وَخَطَّ لَکَ بِیَدِہِ اَتَلُوْمُنِیْ عَلٰی اَمْرٍ قَدَّرَہُ اللّٰہُ عَلَیَّ قَبْلَ اَنْ یَخْلُقَنِیْبِاَرْبَعِیْنَ سَنَۃً؟ قَالَ: حَجَّ آدَمُ مُوْسٰی حَجَّ آدَمُ مُوْسٰی۔)) (مسند احمد: ۷۳۸۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدم علیہ السلام اور موسی علیہ السلام نے ایک دوسرے پر اعتراض کیے، موسی علیہ السلام نے کہا: اے آدم! تم ہمارے باپ ہو، لیکن تم نے ہمیں ناکام کر دیا اور جنت سے نکال دیا، ایک روایت میں ہے: تم وہی آدم ہو، جس کو اس کی غلطی نے جنت سے نکال دیا، آگے سے آدم علیہ السلام نے کہا: اے موسی! تم وہی موسی ہو، جس کو اللہ تعالیٰ اپنے کلام اور اپنی رسالت کے ساتھ منتخب کیا اور تیرے لیے اپنے ہاتھ سے لکھا، کیا تو مجھے اس بات پر ملامت کرتا ہے، جو اللہ تعالیٰ نے میری تخلیق سے چالیس برس پہلے میرے حق میں لکھ دی تھی، پس آدم علیہ السلام ، موسی علیہ السلام پر غالب آگئے۔
Takhreej
(۱۰۳۱۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۶۱۴، ومسلم: ۲۶۵۲ (انظر: ۷۳۸۷)
Explanation
فوائد:… یہاں چند گزارشات کو بیان کرنا ضروری ہے: کسی آدمی کو تقدیر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اور لوگوں کے ہاں معذور نہیں سمجھا جائے گا، اللہ تعالیٰ کے ہاں مؤاخذہ کرنے کے اور معاف کرنے کے قوانین الگ ہیں اور لوگوں میں کون ہے کہ جس کو تھپڑ لگے یا اس کا کوئی اور نقصان ہو جائے اور وہ اس بنا پر معاف کر دے کہ چلو یہ تھپڑ میری تقدیر میں لکھا ہوا تھا۔ اگر کسی سے کوئی برائی ہو جائے اور پھر اس برائی کی وجہ سے اس کا نقصان بھی ہو جائے تو ایسے شخص کو اس کی برائی کی بنا پر طعنہ مارنا اور اس کی مذمت کرنا شرعا درست نہیں ہے، بالخصوص اس وقت کہ جب وہ توبہ تائب بھی ہو چکا ہو ۔ آدم علیہ السلام نے موسی علیہ السلام کو جو جواب دیا، وہ جواب الزامی تھا، بہرحال ان دونوں انبیاء کی بحث توعالم برزخ میں ہو رہی تھی، جو سرے سے تکلیف کا عالَم ہی نہیں ہے، اس لیے اس سلسلے میں کسی ایک پر بھی ملامت نہیں کی جا سکتی۔
10312
Sahih
آدم علیہ السلام کے بیٹوں قابیل اور ہابیل وغیرہ کا بیان
۔ (۱۰۳۱۳)۔ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِیْدٍ، اَنَّ سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ عِنْدَ فِتْنَۃِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: اَشْھَدُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّھَا سَتَکُوْنُ فَتَنَۃٌ الْقَاعِدُ فِیْھَا خَیْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ خَیْرٌ مِنَ الْمَاشِیْ، وَالْمَاشِیْ خَیْرٌ مِنَ السَّاعِیْ۔))، قَالَ: اَفَرَاَیْتَ اِنْ دَخَلَ عَلَیَّ بَیْتِیْ فَبَسَطَ اِلَیَّیَدَہُ لِیَقْتُلَنِیْ قَالَ: ((کُنْ کَابْنِ آدَمَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۰۹)
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عثمان بن عفان علیہ السلام کے فتنے کے دوران کہا: میں یہ شہادت دیتا ہوں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک عنقریب فتنے ہوں گے، اس میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے ، کھڑے ہونے والا چلنے والے سے اور اس میں چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا۔ ایک آدمی نے کہا: اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ وہ قاتل مجھ پر میرے گھر میں گھس آئے اور مجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ میری طرف بڑھا دے تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدم علیہ السلام کے بیٹے کی طرح ہو جانا۔‘
Takhreej
(۱۰۳۱۳) تخریج: أخرجہ ابوداود: ۴۲۵۷، والترمذی: ۲۱۹۴ (انظر: ۱۶۰۹)
Explanation
فوائد:… شریعت نے ہر مسلمان کو انتقام لینے کا اور اپنی جان، مال اور عزت کا دفاع کرنے کا حق دیا ہے، لیکن پرفتن دور کے احکام عام حالات سے مختلف ہیں، فتنوں کے دور میں ہر ظلم کا جواب دینا عقلمندی نہیں ہوتی، کیونکہ جواب کے مقابلے بڑا ظلم سہنا پڑتا ہے، پھر ایسا سلسلہ چلتا ہے کہ نسلیں تباہ ہو جاتی ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آدم علیہ السلام کے جس بیٹے کی مثال دی، اس کی تفصیل درج ذیل ہے: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَاتْلُ عَلَیْہِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِہِمَا وَلَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ قَالَ لَاَقْتُلَنَّکَ قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰہُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ۔ لَئِنْ بَسَطْتَّ اِلَیَّیَدَکَ لِتَقْتُلَنِیْ مَآ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیْکَ لِاَقْتُلَکَ اِنِّیْٓ اَخَافُ اللّٰہَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ۔ اِنِّیْٓ اُرِیْدُ اَنْ تَبُوْأَ بِاِثْمِیْ وَاِثْمِکَ فَتَکُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ وَذٰلِکَ جَزٰؤُ ا الظّٰلِمِیْنَ۔فَطَوَّعَتْ لَہ نَفْسُہ قَتْلَ اَخِیْہِ فَقَتَلَہُ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ۔} … اور ان پر آدم کے دو بیٹوں کی خبر کی تلاوت حق کے ساتھ کر، جب ان دونوں نے قربانی پیش کی تو ان میں سے ایک کی قبول کر لی گئی اور دوسرے کی قبول نہ کی گئی۔ اس نے کہا میں تجھے ضرور ہی قتل کر دوں گا۔ اس نے کہا بے شک اللہ متقی لوگوں ہی سے قبول کرتا ہے۔ اگر تو نے اپنا ہاتھ میری طرف اس لیے بڑھایا کہ مجھے قتل کرے تو میں ہرگز اپنا ہاتھ تیری طرف اس لیے بڑھانے والا نہیں کہ تجھے قتل کروں، بے شک میں اللہ سے ڈرتا ہوں، جو سارے جہانوں کا رب ہے۔ میں تو یہ چاہتا ہوں کہ تو میرا گناہ اور اپنا گناہ لے کر لوٹے، پھر تو آگ والوں میں سے ہو جائے اور یہی ظالموں کی جزا ہے۔ تو اس کے لیے اس کے نفس نے اس کے بھائی کا قتل پسندیدہ بنا دیا، سو اس نے اسے قتل کر دیا، پس وہ خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگیا۔ (سورۂ مائدہ: ۲۷ تا ۳۰) حسد، بغض اور سرکشی کا انجام برا ہوتا ہے، قتل کرنے والا قابیل اور قتل ہونے والا ہابیل تھا۔
10313
Sahih
آدم علیہ السلام کے بیٹوں قابیل اور ہابیل وغیرہ کا بیان
۔ (۱۰۳۱۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌،قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا اِلَّا کَانَ عَلَی ابْنِ آدَمَ الْاَوَّلِ کِفْلٌ مِنْ دَمِھَا لِاَنَّہُ کَانَ اَوَّل مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ۔)) (مسند احمد: ۳۶۳۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود علیہ السلام سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نفس کو بھی ظلماً قتل کیا جاتا ہے، آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے کو اس خون میں سے گناہ ملتا ہے، کیونکہ وہ پہلا آدمی ہے، جس نے قتل شروع کیا تھا۔
Takhreej
(۱۰۳۱۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۳۳۵، ۷۳۲۱، ومسلم: ۱۶۷۷(انظر: ۳۶۳۰)
Explanation
فوائد:… قابیل نے چونکہ ظالمانہ قتل کا جرم ایجاد کیا، اس لیے جو گناہ ہر قاتل کو ملے گا، وہ قابیل کو بھی ملے گا۔
10314
Sahih
آدم علیہ السلام کے بیٹوں قابیل اور ہابیل وغیرہ کا بیان
۔ (۱۰۳۱۵)۔ عَنْ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَمَّا حَمَلَتْ حَوَّائُ طَافَ بِھَا اِبْلِیْسُ وَ کَانَ لَا یَعِیْشُ لَھَا وَلَدٌ، فَقَالَ: سَمِّیْہ عَبْدَ الْحَارِثِ فَاِنَّہُ یَعِیْشُ فَسَمَّوْہُ عَبْدَ الْحَارِثِ فَعَاشَ وَکَانَ ذٰلِکَ مِنْ وَحْیِ الشَّیْطَانِ وَ اَمْرِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۳۷۸)
۔ سیدنا سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب سیدہ حوائ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کو حمل ٹھہرا تو ابلیس نے ان کا چکر لگایا، جبکہ ان کا بچہ زندہ نہیں رہتا تھا، اور اس نے کہا: اس کا نام عبد الحارث رکھو، تب یہ زندہ رہے گا، جب انھوں نے اس کا نام عبد الحارث رکھا تو وہ زندہ رہا، یہ دراصل شیطان کے اشارے اور اس کے حکم سے تھا۔
Takhreej
(۱۰۳۱۵) تخریج: اسنادہ ضعیف، عمر بن ابراہیم العبدی فی روایتہ عن قتادۃ ضعیف، والحسن مشہور بالتدلیس، ولم یذکر سماعہ من سمرۃ، أخرجہ الترمذی: ۳۰۷۷ (انظر: ۲۰۱۱۷)
10315
Zaeef
آدم علیہ السلام کی وفات، غسل، تکفین، نماز جنازہ اور تدفین کا بیان
۔ (۱۰۳۱۶)۔ عَنْ عُتَيٍّ، قَالَ: رَاَیْتُ شَیْخًا بِالْمَدِیْنَۃِیَتَکَلَّمُ فَسَاَلْتُ عَنْہُ، فَقَالُوْا: ھٰذَا اُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَقَالَ: اِنَّ آدَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ لَمَّا حَضَرَہُ الْمَوْتُ قَالَ لِبَنِیْہِ: اَیْ بَنِیَّ! اِنِّیْ اَشْتَھِی مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّۃِ فَذَھَبُوْا یَطْلُبُوْنَ لَہُ فَاسْتَقْبَلَتْھُمُ الْمَلَائِکَۃُ وَ مَعَھُمْ اَکْفَانُہُ وَحُنُوْطُہُ وَ مَعَھُمُ الْفُؤْسُ وَالْمَسَاحِیْ وَالْمَکَاتِلُ فَقَالُوْا لَھُمُ:یَا بَنِیْ آدَمَ! مَا تُرِیْدُوْنَ وَمَا تَطْلُبُوْنَ اَوْ مَا تُرِیْدُوْنَ وَاَیْنَ تَذْھَبُوْنَ؟ قَالُوْا: اَبُوْنَا مَرِیْضٌ قَالُوْا: فَاشْتَھٰی مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّۃِ، قَالُوْا لَھُمْ : ارْجِعُوْا فَقَدْ قُضِیَ قَضَائُ اَبِیْکُمْ فَجَاؤْا فَلَمَّا رَاَتْھُمْ حَوَّائُ عَرَفَتْھُمْ فَلَاذَتْ بِآدَمَ فَقَالَ: اِلَیْکِ عَنِّیْ فَاِنِّیْ اِنّمَا اُوْتِیْتُ مِنْ قِبَلِکِ خَلِّیْبَیْنِیْ وَ بَیْنَ مَلَائِکَۃِ رَبِّیْ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، فَقَبَضُوْہُ وَغَسَّلُوْہُ وَکَفَّنُوْہُ وَحَنَّطُوْہُ، وَحَفَرُوْا لَہُ وَاَلْحَدُوْا لَہُ وَصَلَّوْا عَلَیْہِ، ثُمَّ دَخَلُوْا قَبْرَہُ فَوَضَعُوْہُ فِیْ قَبْرِہِ وَ وَضَعُوْا عَلَیْہِ اللَّبِنَ ثُمَّ خَرَجُوْا مِنَ الْقَبَرِ ثُمَّ حَثَوْا عَلَیْہِ التُّرَابَ ثُمَّ قَالُوْا : یَابَنِیْ آدَمَ ھٰذِہِ سُنَّتُکُمْ۔ (مسند احمد: ۲۱۵۶۰)
۔ عُتَیّ کہتے ہیں: میں نے مدینہ منورہ میں ایک بزرگ دیکھا اور جب اس کے بارے پوچھا تو لوگوں نے کہا: یہ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں، انھوں نے کہا: بیشک جب آدم علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب آیا توا نھوں نے اپنے بیٹوں سے کہا: اے میرے بیٹو! میں جنت کے پھل چاہتا ہوں، پس وہ یہ پھل تلاش کرنے کے لیے نکل پڑے، آگے سے ان کو فرشتے ملے، ان کے پاس کفن، حنوط خوشبو، کلہاڑے، بیلچے اور ٹوکرے تھے، انھوں نے اِن سے پوچھا: اے بنو آدم! تمہارا کیا ارادہ ہے، تم کون سی چیز تلاش کر رہے ہو اور تم کہاں جا رہے ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہمارے ابو جان بیمار ہیں اور جنت کے پھل کھانا چاہتے ہیں، ان فرشتوں نے کہا: چلو واپس چلو، تمہارے باپ کی وفات کا وقت آ چکا ہے، پس جب وہ پہنچے اور سیدہ حوائ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے ان کو پہنچان لیا تو وہ آدم علیہ السلام کے ساتھ چمٹ گئیں، لیکن آدم علیہ السلام نے کہا: پرے ہٹ جا، پہلے بھی تیری وجہ سے مجھے مصیبت میں مبتلا کیا گیا، ہٹ جا میرے اور میرے ربّ کے فرشتوں کے درمیان سے، پس انھوں نے ان کی روح قبض کی، ان کو غسل دیا، تکفین کی، خوشبو لگائی، پھر گڑھا کھودا اور لحد بنائی اور ان کی نماز جنازہ ادا کی، پھر وہ قبر میں داخل ہوئے اور ان کو قبر میں رکھ کر کچی اینٹیں لگائیں، پھر وہ قبر سے باہر آ گئے اور ان پر مٹی ڈال دی اور کہا: آدم کے بیٹو! یہ تمہارا طریقہ ہے۔
Takhreej
(۱۰۳۱۶) تخریج: اسنادہ ضعیف، عتی بن ضمرۃ السعدی تفرد بہ، ومثلہ یضعف فیما تفرد بہ، وقد اختلف فی رفعہ ووقفہ، أخرجہ الحاکم: ۲/ ۵۴۵، والطیالسی: ۵۴۹ (انظر: ۲۱۲۴۰)
10316
Zaeef

Chapters

20
01
مخلوقات میں پہلی چیز کا بیان اور اس میںپانی، عرش، لوح محفوظ اور قلم کا ذکر ہو گا
8 Hadith
02
اس چیز کا بیان کہ جنت اور جہنم کو پیدا کیا گیا ہے اور وہ اب موجود ہیں
2 Hadith
03
ساتوں آسمانوں، ساتوں زمینوں اور ان کے درمیان والی چیزوں کا بیان
8 Hadith
04
پہاڑوں، لوہے، آگ، ہوا، زمانے، دن اور رات کو پیدا کرنے کا بیان
3 Hadith
05
سمندروں اور دریاؤں کا بیان
6 Hadith
06
سورج، چاند اور ستاروں کا بیان
9 Hadith
07
بادل، گرج اور ہواؤں کا بیان
8 Hadith
08
بادل، بارش، اولے اور موسم سردا کا بیان
8 Hadith
09
فرشتوں کی تخلیق کا بیان
15 Hadith
10
جنوں کی تخلیق اور ان سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان
14 Hadith
11
جنوں کے ایک گروہ کے اسلام لانے، ان کے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے آنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے قرآن سننے کا بیان
6 Hadith
12
ارواح، آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کی تخلیق کا بیان
8 Hadith
13
سیدہ حوائ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کی تخلیق کا بیان
1 Hadith
14
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کابیان کہ پہلے انکار کرنے والے آدم علیہ السلام ہیں
1 Hadith
15
اللہ تعالیٰ کے فرمان {وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْ آدَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ}کابیان
3 Hadith
16
جنین کی تخلیق اور رحم میں اس کی تکوین کا بیان
2 Hadith
17
آدم علیہ السلام کی خطا کے سبب، ان کے جنت سے نکلنے اور ان کی نبوت کی دلیل کا بیان
5 Hadith
18
آدم علیہ السلام اور موسی علیہ السلام کے جھگڑے کا بیان
1 Hadith
19
آدم علیہ السلام کے بیٹوں قابیل اور ہابیل وغیرہ کا بیان
3 Hadith
20
آدم علیہ السلام کی وفات، غسل، تکفین، نماز جنازہ اور تدفین کا بیان
1 Hadith
No chapter matched that.