کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب - کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب - Book 167 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Book 167 of Musnad Ahmad, with 20 chapters and 112 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بنو تمیم! خوشخبری قبول کرو۔ انھوں نے کہا: خوشخبری تو آپ نے ہمیں دے دی ہے، اب ہمیں (کچھ مال و متاع) دیں،یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کا رنگ تبدیل ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر بنو تمیم خوشخبری قبول نہیں کرنا چاہتے تو اے اہل یمن! تم قبول کر لو۔ ہم نے کہا: جی ہم نے قبول کی، پس آپ ہمیں اس عالم کی ابتدا کے بارے میں بتائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہر چیز سے پہلے تھا، اس وقت اس کا عرش پانی پر تھا، اس نے لوح محفوظ میں ہر چیز کا ذکر لکھا۔ اتنے میں ایک آنے والے نے کہا: اے عمران! تیری اونٹنی رسی کھلا گئی ہے، پس میں اس کو پکڑنے کے لیے نکل پڑا، (وہ اتنی دور جا چکی تھی کہ) اس کے اور میرے درمیان ایک سراب نظر آ رہا تھا، پس میں اس کے پیچھے چلا گیا اور یہ نہ جان سکا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے بعد کیا ارشاد فرمایا۔
۔ سیدنا ابو رزین عقیلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! زمین و آسمان کی تخلیق سے قبل ہمارا ربّ کہاں تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ باریک بادل میں تھا، اس کے نیچے بھی ہوا تھی اور اوپر بھی ہوا تھی، پھر اس نے پانی پر اپنا عرش پیدا کیا۔
Takhreej
(۱۰۲۰۶) تخریج: اسنادہ ضعیف،وکیع بن حدس مجھول الحال، أخرجہ الترمذی: ۳۱۰۹، وابن ماجہ: ۱۸۲ (انظر: ۱۶۲۰۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب میں آپ کو دیکھتا ہوں تو میرا نفس خوش ہو جاتا ہے اور میری آنکھ ٹھنڈی ہو جاتی ہے، پس آپ مجھے ہر چیز کے بارے میں بتائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر چیز کو پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے ایسے حکم کے بارے میں بتلائیں کہ اگر میں اس پر عمل کروں، تو جنت میں داخل ہو جاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سلام کو عام کر، کھانا کھلا، صلہ رحمی کر اور رات کو جب لوگ سو رہے ہوں تو قیام کر اور پھر جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جا۔
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور پھر اس سے کہا: لکھ، پس وہ اسی گھڑی میں چلی اور قیامت تک ہونے والے امور لکھ دیئے۔
فوائد:… اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سب سے پہلی مخلوق قلم ہے، شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ رقمطراز ہیں: کئی لوگوں کے دلوں میں یہ عقیدہ مضبوط ہوچکا ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نور پیدا کیا، لیکنیہ عقیدہ بے بنیاد ہے او رعبد الرزاقl کی حدیث کی سند معروف نہیں ہے۔ نیز اس حدیث میں ان لوگوں کا بھی ردّ ہے جو اللہ تعالیٰ کے عرش کو پہلی مخلوق تصور کرتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس اس دعوی کی کوئی واضح نص موجود نہیں ہے، سب کچھ استنباط و اجتہاد کی روشنی میں کہا گیا۔
قلم کے پہلی مخلوق ہونے کے دلائل واضح ہیں، ایسی واضح نصوص کے موجودگی میں کسی دوسرے اجتہاد کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
ان احادیث کا یہ مطلب بیان کرنا کہ عرش کے بعد پہلی مخلوق قلم ہے، باطل ہے۔ اگر عرش کے اول المخلوق ہونے پر کوئی قطعی نص ہوتی تو ایسی تاویل کی گنجائش مل سکتی تھی۔
بعض فلسفی قسم کے لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ حوادث کی کوئی ابتدا نہیںہے اور ہر مخلوق سے پہلے کسی نہ کسی مخلوق کا وجود ضروری ہے۔
اگر اس نظریے کو درست تسلیم کر لیا جائے تو کسی چیز کو اول المخلوق نہیں کہا جا سکتا۔ جبکہ اس حدیث ِ مبارکہ میں ایسے لوگوں کا ردّ کیا گیا ہے اور قلم کو سب سے پہلی مخلوق قرار دے کر یہ ثابت کیا گیا کہ مخلوقات کی ایک ابتدا ہے، اس ابتدا سے پہلے مخلوق کا کوئی فرد موجود نہ تھا۔ (صحیحہ: ۱۳۳) یہ صرف اللہ تعالیٰ کی صفت ہے کہ وہ ازل سے ہے، ابد تک رہے گا، اس کی ابتدا ہے نہ انتہا۔
۔ سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ وادیٔ بطحاء میں بیٹھے ہوئے تھے، وہاں سے ایک بدلی گزری، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟ ہم نے کہا: یہ بادل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مُزْن بھی کہتے ہیں؟ ہم نے کہا:: جی مُزْن بھی کہتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو عَنَان بھی کہتے ہیں؟ ہم جواباً خاموش رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ آسمان اور زمین کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت جتنا فاصلہ ہے، اور ہر آسمان سے دوسرے آسمان تک پانچ سو برسوں کی مسافت ہے، جبکہ ہر آسمان کی موٹائی بھی پانچ سو برس ہے اور ساتویں آسمان پر ایک سمندر ہے، اس کی گہرائی اتنی ہی ہے، جتنا زمین سے آسمان تک کا فاصلہ ہے، اس کے اوپر پہاڑی بکرے کی شکل کے آٹھ فرشتے ہیں، ان کے کھر سے گھٹنے تک کی لمبائی اتنی ہے، جتنی زمین سے آسمان تک کی مسافت ہے، پھر اس کے اوپر عرش ہے، عرش کے اوپر والے اور نیچے والے حصے کے درمیان زمین و آسمان کی مسافت جتنا فاصلہ ہے، اس کے اوپر اللہ تعالیٰ ہے، لیکن اس پر بنو آدم کے اعمال میں سے کوئی عمل مخفی نہیں ہے۔
Takhreej
(۱۰۲۰۹) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، یحییٰ بن العلاء الرازی متروک الحدیث، وقال احمد: کذاب یضع الحدیث، وسماک بن حرب وان کان صدوقا کان ربما لقّن، فاذا انفرد باصل لم یکن حجۃ، وقد تفرد بھذہ الروایۃ عن عبد اللہ بن عمیرۃ، أخرجہ ابوداود: ۴۷۲۴، ۴۷۲۵، والترمذی: ۳۳۲۰ (انظر: ۱۷۷۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو جنت الفردوس کا سوال کیا کرو، کیونکہ وہ جنت کا اعلی و افضل حصہ اور مقام ہے، اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے، اسی سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں۔
Takhreej
(۱۰۲۱۰) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۸۴۱۹)
Explanation
فوائد:… اس قسم کی احادیث کے متن کو سمجھ لینا کافی ہے، کیفیت کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دینا چاہیے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امیہ کے بعض اشعار کی تصدیق کی تھی، اس نے ایک شعر یہ کہا تھا: (حاملین عرش میں کوئی) مرد کی صورت پر ہے، کوئی بیل کی صورت پر ہے، اللہ تعالیٰ کی دائیں ٹانگ کے نیچے، تو کوئی گدھ کی صورت ہے اور کوئی گھات بیٹھے ہوئے شیر کی صورت پر۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: امیہ نے سچ کہا ہے۔ ایک دفعہ اس نے یہ شعر کہا تھا: اور ہر رات کے آخر میں سورج طلوع ہوتا ہے، اس وقت وہ سرخ ہوتا ہے اور اس کا رنگ گلابی نظر آ رہا ہوتا ہے ، وہ انکار کردیتا ہے اور نرمی کے ساتھ طلوع نہیں ہوتا، وگرنہ اس کو عذاب دیا جاتا ہے اور کوڑے لگائے جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے۔
Takhreej
(۱۰۲۱۱) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… حاملین عرش کے بارے میں درج ذیل روایت صحیح ہے:
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (( اُذِنَ لِيْ اَنْ اُحَدِّثَ عَنْ مَلَکٍ مِنْ مَلَائِکَۃِ اللّٰہِ تَعَالٰی مِنْ حَمَلَۃِ الْعَرْشِ، مَابَیْنَ شَحْمَۃِ اُذُنِہٖاِلٰی عَاتِقِہٖمَسِیْرَۃُ سَبْعِ مِئَۃِ سَنَۃٍ۔)) … مجھے اجازت دی گئی ہے کہ میں حاملینِ عرش فرشتوں میں ایک فرشتے کییہ (جسامت) بیان کروں کہ اس کی کان کی لو سے کندھے تک کا فاصلہ سات سو سال مسافت کا ہے۔ (ابوداود: ۴۷۲۷)
یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مناظر ہیں۔ جس فرشتے کی کان کی لو اور اس کے مونڈھے کا درمیان کا فاصلہ سات سو سال کی مسافت کا ہو، اس کا باقی وجود کتنا بڑا ہو گا۔ ربّ جلیل ہی ہے جو تعریف و توصیف اور حمد وثنا کا مستحق ہے۔
۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک انصاری بچے کی طرف بلایا گیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کے لیے خوشخبری ہے، یہ جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے، اس نے نہ شرّ کو پایا اور نہ اس پر عمل کیا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! اس کے علاوہ کوئی اور بات بھی کرنی ہے؟ بیشک اللہ تعالیٰ نے جنت کے لیے لوگوں کو اس وقت پیدا کیا، جب وہ اپنے باپوں کی پشتوں میں تھے، اسی طرح جہنم کے لیے لوگوں کا اس وقت تعین کر دیا، جب وہ اپنے باپوں کی پشتوں میں تھے۔
Takhreej
(۱۰۲۱۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۶۲ (انظر: ۲۵۷۴۲)
Explanation
فوائد:… دوسری نصوص سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے فوت ہو جانے والے نابالغ بچے جنت میں جائیں گے۔
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں صفوں میں کھڑے تھے، یہ ظہر یا عصر کی نماز تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کے اندر ہی کوئی چیز پکڑنا چاہی اور پھر اس قدر پیچھے ہٹے کہ لوگ بھی پیچھے ہٹنے لگ گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: آج آپ نے نماز میں ایسی کاروائی کی ہے، جو پہلے نہیں کرتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت کو پوری چمک دمک اور تروتازگی کے ساتھ مجھ پر پیش کیا گیا، میں نے تمہارے پاس لانے کے لیے اس کا انگوروں کا گچھا پکڑنا چاہا، لیکن پھر بیچ میں رکاوٹ ڈال دی گئی اور اگر میں وہ لے آتا تو زمین وآسمان میں موجود تمام مخلوقات اس سے کھاتی، لیکن اس میں کوئی کمی واقع نہ ہوتی، پھر مجھ پر آگ پیش کی گئی، جب میں نے اس کی تپش محسوس کی تو میں پیچھے ہٹ آیا، اس میں اکثریت ان عورتوں کی تھی کہ جب ان کے پاس راز رکھا جائے تو وہ اس کو فاش کر دیتی ہیں، جب ان سے سوال کیا جائے تو وہ بخل کرتی ہیں، جب وہ سوال کرتی ہیں تو چمٹ جاتی ہیں اور جب ان کو دیا جائے تو شکر نہیں کرتیں، اور میں نے لحی بن عمرو کو جہنم میں دیکھا، وہ اپنی انتڑیاں کھینچ رہا تھا، میرے دیکھنے کے مطابق اس کی زیادہ مشابہت معبد بن اکثم کعبی سے تھی۔ سیدنا معبد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اس مشابہت کی وجہ سے میرے بارے میں کوئی خطرہ ہے، جبکہ وہ والد بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، تم مؤمن ہو اور وہ کافر تھا۔ یہ وہ پہلا شخص تھا جس نے عربوں کو بتوں کی عبادت پر اکسایا تھا۔ عرب میں سب سے پہلے بتوں کی عبادت کو رائح کرنے والے شخص کا نام اس روایت میں لحی بن عمرو آیا ہے جبکہ صحیح عمرو بن لحی ہے۔ (دیکھیں بلوغ اللعانی) (عبداللہ رفیق)
Takhreej
(۱۰۲۱۴) تخریج: اسنادہ ضعیف، تفرد عبد اللہ بن محمد بن عقیل بھذہ السیاقۃ، واصل القصۃ صحیح (انظر: ۱۴۸۰۰)
Explanation
فوائد:… یہ بات کئی دلائل سے ثابت ہے کہ جنت اور جہنم کو پیدا کیا جا چکا ہے اور وہ موجود ہیں۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، وہاں سے ایک بدلی گزری، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بدلی ہے اور زمین کو سیراب کرنے والی ہے، اللہ تعالیٰ اس کو اپنے ان بندوں کی طرف چلائے جا رہا ہے، جو نہ اس کا شکر ادا کرتے ہیں اور نہ اس کو پکارتے ہیں، اچھا کیا تم یہ جانتے ہو کہ اس کے اوپر کیا ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آسمان ہے، یہ ایک موج ہے، جس کو روک دیا گیا ہے اور محفوظ چھت ہے، کیا تم جانتے ہوں کہ اس کے اور تمہارے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ سو برسوں کی مسافت ہے، کیا تم جانتے ہو کہ اُس کے اوپر کیا ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک اور آسمان ہے، کیا تم جانتے ہو کہ اِس آسمان اور اُس آسمان کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ سو سال کی مسافت ہے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سات آسمانوں کو شمار کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ ساتویں آسمان کے اوپر کیا ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عرش ہے، کیا تم جانتے ہو کہ عرش اور ساتویں آسمان کے مابین کتنا فاصلہ ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ سو سالوں کی مسافت ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا کیا تم یہ جانتے ہو کہ تمہارے نیچے کیا ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زمین ہے، اچھا کیا تمہیں اس چیز کا علم ہے کہ اس کے نیچے کیا ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک اور زمین ہے، کیا تم جانتے ہو کہ اُس کے نیچے کیا ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک اور زمین ہے، کیا تم جانتے ہو کہ اِس زمین سے اُس زمین تک کتنا فاصلہ ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ سو برسوں کی مسافت ہے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سات زمینیں شمار کیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور اللہ کی قسم ہے کہ اگر تم ساتویں زمین تک رسی لٹکاؤ تو وہ ساتویں زمین سے جا لگے لگی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: وہی پہلے ہے اور وہی پیچھے، وہی ظاہر ہے اور وہی مخفی، اور ہر چیز کو بخوبی جاننے والا ہے۔ (سورۂ حدید: ۳)
Takhreej
(۱۰۲۱۵) تخریج: اسنادہ ضعیف، الحکم بن عبد الملک مجمع علی ضعفہ، وقتادۃ مدلس، وعنعن، والحسن البصری لم یسمع من ابی ھریرۃ أخرجہ الترمذی: ۳۲۹۸ (انظر: ۸۸۲۸)
Explanation
فوائد:… آسمانِ دنیا کا نام رَقِیْع ہے، ایک قول کے مطابق اس کا اطلاق ہر آسمان پر بھی ہوتا ہے۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا او ر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہفتے والے دن کو مٹی، اتوار کو پہاڑ، سوموار کو درخت، منگل کو مکروہ چیزیں، بدھ کو نور، جمعرات کو چوپائے پیدا کئے اور آدم علیہ السلام ،جو کہ آخری مخلوق تھے، کو جمعہ کے روز بعد از وقت ِ عصر جمعہ کی آخری گھڑی میں پیدا کیا،یہ گھڑی عصر سے رات (غروبِ آفتاب) تک کے وقت کے مابین ہوتی ہے۔
Takhreej
(۱۰۲۱۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۷۸۹ (انظر: ۸۳۴۱)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ ہی ہے، جس نے ایسے کیا اور جو اس ترتیب کی حکمت کو جانتا ہے۔
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرنے سے منع کیا جاتا تھا، اس لیےیہ بات ہمیں بڑی پسند تھی کہ کوئی عقلمند دیہاتی آدمی آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرے اور ہم سنیں، پس ایک دیہاتی آدمی آیا اور اس نے کہا: اے محمد! آپ کا قاصد ہمارے پاس آیا، اس نے اس خیال کا اظہار کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھیجا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے سچ کہا۔ اس نے کہا: اچھایہ بتائیں کہ کس نے آسمان کو پیدا کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے۔ اس نے کہا: کس نے زمین کو پیدا کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے۔ اس نے کہا: کس نے ان پہاڑوں کو گاڑھا اور ان میں کئی خزانے ودیعت رکھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے۔ اس نے کہا: پس اس ذات کی قسم، جس نے آسمان پیدا کیا، زمین پیدا کی اور پہاڑ پیدا کیے، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔
۔ ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے مروی ہے کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، جبکہ وہ زمین کے بارے میں کوئی جھگڑا کر رہے تھے، سیدہ نے کہا: اے ابو سلمہ! زمین سے بچ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کی ایک بالشت کے بقدر زمین ظلم سے اپنے قبضہ میں لے لی، اس کو قیامت کے روز سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔
Takhreej
(۱۰۲۱۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۱۲(انظر: ۲۴۳۵۳)
Explanation
فوائد:… ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَہُنَّ یَـتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیْنَہُنَّ لِتَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیْرٌ وَّاَنَّ اللّٰہَ قَدْ اَحَاطَ بِکُلِّ شَیْء ٍ عِلْمًا } … اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے اور زمین سے بھی ان کی مانند ۔ ان کے درمیان حکم نازل ہوتا ہے، تاکہ تم جان لو کہ بیشک اللہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے اور یہ کہ بے شک اللہ نے یقینا ہر چیز کو علم سے گھیر رکھا ہے ۔ (سورۂ طلاق: ۱۲)
معلوم ہوا کہ سات آسمانوں کی طرح سات زمینیں ہیں۔
قدیم لوگوں نے روئے زمین کو سات حصوںپر تقسیم کیا تھا، ہر حصے کو اقلیم کہتے تھے، بعض نے سات زمینوں سے یہ ہفت اقلیم مراد لیے ہیں، بعد میں ان کو سات براعظم کہا گیا،یہ قول راجح معلوم ہوتا ہے، اس کی دو وجوہات ہیں: (۱)قرآن و حدیث میں اکثر و بیشتر السموات کے مقابلے میں لفظ الارض مستعمل ہوا، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ زمین دراصل ایک ٹکڑا ہی ہے۔ (۲) زمین ہتھیالینے والے کو سات زمینوں کی مٹی کھود کر اس کا طوق پہنایا جائے گا، اور اس زمین میں ساتوں زمینیں موجود ہیں۔
اگر سات زمینوں سے مراد سات زمینیں ہی لیں کہ وہ آسمانوں کی طرح الگ الگ ہیں تو ان میں سے ایک زمین وہ ہے، جس پر ہم رہ رہیں ہیں، پھر باقی چھ زمینیں کہاں ہیں، نیز ان پر کون سی مخلوق رہتی ہے، ان سوالات کو اللہ تعالیٰ کے سپر کیا جائے گا۔
۔ سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے زمین کا وہ حصہ ہتھیا لیا، جو اس کا نہیں ہے تو اس کو قیامت کے دن ساتویں زمین تک طوق پہنایا جائے گا ، اور جو آدمی اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے، وہ شہید ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا ظلم بڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک ہاتھ زمین، جس کو آدمی اپنے بھائی کے حق سے ہتھیا لیتا ہے، قیامت کے دن زمین کی تہہ تک اس حصے کا طوق اس آدمی کو ڈالا جائے گا اور ایک کنکری کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا، اور زمین کی تہہ کو کوئی نہیں جانتا، مگر وہی جس نے اس کو پیدا کیا ہے۔
Takhreej
(۱۰۲۲۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عبد اللہ بن لھعیۃ ولانقطاعہ، فابو عبد الرحمن الحبلی لم یُذکر انہ روی عن ابن مسعود، وروایتہ عن صغار الصحابۃ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۰۵۱۶ (انظر: ۳۷۶۷)
۔ سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شیطان انسان کے پاس آ کرکہتا ہے: کس نے آسمانوں کو پیدا کیا؟ وہ کہتا ہے: اللہ تعالیٰ نے، وہ اگلا سوال کرتا ہے: کس نے زمین کو پیدا کیا؟ وہ کہتا ہے: اللہ تعالیٰ نے، (سوالات کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے) یہاں تک کہ وہ یہ کہتا : کس نے اللہ کو پیدا کیا، جب کوئی اس چیز کو محسوس کرے تو وہ کہے: آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ (میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا ہوں)۔
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: تیری امت کے لوگ آپس میں ایک دوسرے سے سوال کرتے رہیں گے، یہاں تک کہ وہ یہ بھی کہہ دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا ہے۔
فوائد:… اللہ تعالیٰ کی ذات ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا، اس کی نہ کوئی ابتدا ہے اور نہ کوئی انتہا۔ اس وسیع و عریض کائنات کی ہر چیز اپنی تخلیق میں اُس کی محتاج ہے اور وہ ہر معاملے میں ہر ایک سے غنی ہے۔ مذکورہ بالا اور اس موضوع سے متعلقہ احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ جب کسی مسلمان کے ذہن میں اللہ تعالیٰ کے پیدا ہونے کے بارے میں سوال پیدا ہو، وہ شیطان کے وسوسے کا نتیجہ ہو یا کسی انسان کی ایجاد، تو اس کو چاہیے کہ درج ذیل تین دعاؤں میں سے کوئی ایک دعا پڑھے اور اس وسوسے کو ردّ کر دے۔
۱۔ آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖ (میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا) پڑھنا۔
۲۔ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ پڑھنا اور ایسے وسوسوں کو دفع کرنا۔
۳۔ اَللّٰہُ أَحَدٌ، اَللّٰہُ الصَّمَدُ، لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ، وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗکُفُوًاأَحَدٌ۔پڑھنا،بائیں جانب تھوکنا اور پھر اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھنا ۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: یہ احادیث ِ صحیحہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ جس کو شیطان کی طرف سے اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا؟ جیسے سوال کا وسوسہ ہو، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس کا جواب دینے سے پہلو تہی کرے اور ان احادیث میں بیان کیے گئے اذکار کا اہتمام کرے، ان تین احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ درج ذیل دعا پڑھ لیا کرے (تاکہ تینوں احادیث پر عمل ہو جائے):
آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖ۔اَللّٰہُأَحَدٌ،اَللّٰہُالصَّمَدُ،لَمْیَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ، وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗکُفُوًاأَحَدٌ۔ پھر تین دفعہ بائیں طرف تھوکے، اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھے اور اس وسوسے کو دفع کر دے۔
میرا خیال ہے کہ جو آدمی پرخلوص انداز میں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کرتے ہوئے یہ امور سرانجام دے گا، وہ اس قسم کے وسوسوں سے محفوظ رہے گا اور شیطان کو دھتکار دیا جائے گا۔
ایسے وسوسے کو دفع کرنے کے لیے نبوی تعلیم اس امر سے زیادہ مفید ہے کہ اس سوال کے جواب میں عقلی دلائل پیش کیے جائیں اور مقابل کے ساتھ مباحثہ و مجادلہ کیا جائے، کیونکہ ایسے معاملات میں بحث و تمحیص سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ لیکن افسوس ہے کہ اکثر مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان تعلیمات سے غافل ہیں۔
ان احادیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ ضروری نہیں کہ سائل کے ہر سوال کا جواب دیا جائے، بلکہ مشتبہ اور پیچیدہ امور کا جواب دینے کے بجائے احکامِ شریعت پر عمل کیا جائے۔
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا تووہ ڈانواڈول ہونے لگی، پس اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو پیدا کر کے اس پر گاڑھا، سو وہ قرار پکڑ گئی، فرشتوں کو پہاڑوں کی تخلیق سے بڑا تعجب ہوا، پس انھوں نے کہا: اے ربّ! کیا تیری مخلوق میں سے کوئی چیز پہاڑوں سے بھی سخت ہے؟ اللہ تعالیٰ نے کہا: ہاں، وہ لوہا ہے، انھوں نے کہا: اے ربّ! کیا تیری مخلوق میں سے کوئی چیز لوہے سے بھی سخت ہے؟ اس نے کہا: ہاں، وہ آگ ہے، انھوں نے کہا: اے ربّ! کیا تیری مخلوق میں سے کوئی چیز آگ سے سخت ہے؟ اس نے کہا: ہاں، وہ پانی ہے، انھوں نے کہا: اے ربّ! کیا تیری مخلوق میں سے کوئی چیز پانی سے بھی سخت ہے؟ اس نے کہا: ہاں، وہ ہوا ہے، انھوں نے کہا: اے ربّ! کیا تیری مخلوق میں سے کوئی چیز ہوا سے بھی سخت ہے؟ اس نے کہا: ہاں، آدم کا وہ بیٹا ہے، جو دائیں ہاتھ سے صدقہ کرتا ہے اور اس کو بائیں ہاتھ سے چھپاتا ہے۔
Takhreej
(۱۰۲۲۳) تخریج: اسنادہ ضعیف، سلیمان بن ابی سلیمان ، قال ابن معین: لا اعرفہ، أخرجہ الترمذی: ۳۳۶۹ (انظر: ۱۲۲۵۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ابن آدم مجھے تکلیف دیتا ہے اور وہ اس طرح کہ زمانے کو گالی دیتا ہے، جبکہ میں زمانہ ہوں، میرے ہاتھ میں اختیار ہے، میں دن رات کو الٹ پلٹ کرتا ہوں۔