کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب - کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب - Book 167 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Book 167 of Musnad Ahmad, with 20 chapters and 112 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ایک سرکش جن گزشتہ رات میری نماز کو کاٹنے کے لیے اچانک میرے سامنے آیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے قدرت عطا کی اور میں نے اس کودھکا دیا اور میں نے ارادہ کیا کہ اس کو مسجد کے ستون کے ساتھ باندھ دوں، تاکہ جب صبح ہو تو تم سارے افراد اس کو دیکھ سکو، لیکن پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان علیہ السلام کییہ دعا یاد آگئی: اے میرے رب! مجھے ایسی بادشاہت عطا کر کہ میرے بعد وہ کسی کے لیے لائق نہ ہو۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کولوٹا دیا، اس حال میں کہ وہ ناکام تھا۔
۔ علقمہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا جنّوں والی رات کو تم میں سے کوئی آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا؟ انھوں نے کہا: ہم میں سے کوئی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نہیں تھا، ہوا یوں کہ ہم نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گم پایا، ہم نے کہا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخفی انداز میں قتل کر دیا گیا ہے؟ کیاآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہیں لے جایا گیا ہے؟ آخر ہوا کیا ہے؟ ہم نے انتہائی بدترین رات گزاری، جب صبح سے پہلے کا یا سحری کا وقت تھا تو ہم نے اچانک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غارِ حراء کی طرف سے آتے ہوئے دیکھا، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھر ہم نے ساری بات بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنّوں کا داعی میرے پاس آیا، اس لیے میں ان کے پاس چلا گیا اور ان پرقرآن مجید کی تلاوت کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں لے کر گئے اور ان کے اور ان کی آگ کے نشانات دکھائے۔ وہ جزیرۂ عرب کے جنّوں میں سے تھے اور انھوں نے اس رات کو اپنے زاد کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر خوب گوشت دار ہڈی، جس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو، تمہارے ہاتھ لگے (وہ تمہارا زاد ہے) اور ہر مینگنی اور لید تمہارے چوپائیوں کا چارہ ہے، پس تم لوگ ان دو چیزوں سے استنجا نہ کیا کرو، کیونکہیہ چیزیں تمہارے جن بھائیوں کا زاد ہیں۔
Takhreej
(۱۰۲۸۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۴۵۰(انظر: ۴۱۴۹)
Explanation
فوائد:… ہر خوب گوشت دار ہڈی، اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پھر اس ہڈی پر گوشت پیدا کر دیتا ہے، جو جنات کھاتے ہیں، باقی مینگنی اور لید کو مطلق طور پر جنوں کے چوپائیوں کی خوراک قرار دیا گیا۔
صحیح بخاری میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں ہے ، وہ کہتے ہیں: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قضائے حاجت سے فارغ ہوئے تو میں نے کہا: ہڈی اور لید سے استنجا نہ کرنے کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((ھُمَا مِنْ طَعَامِ الْجِنِّ وَاَنَّہٗقَدْاَتَانِیْ وَفْدُ جِنِّ نَصِیْبَیْن، وَنِعْمَ الْجِنُّ، فَسَاَلُوْنِیَ الزَّادَ، فَدَعَوْتُ اللّٰہَ لَھُمْ اَنْ لَّا یَمُرُّوْا بِعَظْمٍ وَلَا بِرَوْثَۃٍ اِلَّا وَجَدُوْا عَلَیْھَا طَعَامًا۔)) … یہ دو چیزیں جنوں کے کھانے سے ہیں، میرے پاس نصیبین کے جنوں کا وفد آیا تھا، یہ بہترین جن تھے، اور انھوں نے مجھ سے زاد کے بارے میں سوال کیا، پس میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یہ جس ہڈی اور لید کے پاس سے گزریں، اس پر کھانا پائیں۔
ان روایات سے معلوم ہوا کہ ہڈی، لید اور مینگنی،یہ چیزیں جنوں اور ان کے چوپائیوں کی خوراک نہیں ہیں، بلکہ ان کے اوپر ان کی خوراک پڑی ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اس خوراک کی کیا شکل ہوتی ہے اور وہ اِن چیزوں سے کیسے مستفید ہوتے ہیں، ایک عالم کہا کرتے تھے کہ جن لطیف مخلوق ہیں، وہ ان چیزوں کو سونگ کر ان سے خوراک حاصل کرتے ہیں۔ واللہ اعلم۔
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں: میں جنوں کے وفد والی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس پلٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لمبا سانس لیا، میں نے کہا: آپ کوکیا ہو گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابن مسعود! میرے نفس کو موت کی اطلاع دی جا رہی ہے۔
۔ سیدنا عبدا للہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنوں والی رات اس کے ارد گرد خط لگایا، جن کھجور کے سائے کی طرح اس کے پاس آتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سے فرمایا: تم نے اپنی جگہ پر رہنا ہے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اللہ تعالیٰ کی کتاب پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زُط نسل دیکھی تو فرمایا: گویا کہ یہ وہی ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس نبیذ ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نبیذ سے وضو کیا۔
Takhreej
(۱۰۲۸۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف علی بن زید بن جدعان، أخرجہ الدارقطنی: ۱/۷۷(انظر: ۴۳۵۳)
Explanation
فوائد:… سوڈان اور ہند کی ایک جنس کانام زُط ہے۔نبیذ سے وضو کرنا صحیح نہیں ہے، کیونکہیہ مائے مطلق نہیں ہے۔ یہ روایت ضعیف ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اس طرح رات گزاری کہ حجون میں جنوں کی جماعت پر قرآن مجید کی تلاوت کی۔
Takhreej
(۱۰۲۸۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، عبید اللہ بن عبد اللہ لم یسمع من عم ابیہ عبد اللہ بن مسعود، أخرجہ ابویعلی: ۵۰۶۲ (انظر: ۳۹۵۴)
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے بھی ساتھ چلنے کاتقاضا کیا، پس ہم چل پڑے، جب میں فلاں مقام پر پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لیے لکیر لگائی اور مجھے فرمایا: تو اس کے درمیان بیٹھ جا، تو نے اس سے باہر نہیں نکلنا، وگرنہ ہلاک ہو جائے گا۔پس میں اسی میں بیٹھا رہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک کنکری کی پھینک پر یا اس سے کچھ زیادہ آگے چلے گئے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان جنوں کا ذکر کیا تو ایسے لگ رہا تھا کہ وہ زُط ہیں، ایک راوی کہتا ہے: اگر اللہ نے چاہا تو (ان کے بارے میں میرایہ بیان درست ہو گا کہ) ان پر کپڑے نہیں تھے، لیکن ان کی شرمگاہیں بھی نظر نہ آئیں، وہ دراز قد اور کم گوشت تھے، پس وہ آپ پر سوار ہونا شروع ہوگئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان پر قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہے، وہ جن میرے پاس بھی آتے، دل میںمختلف خیال ڈالتے اور میرے سامنے پیش آتے، میں ان سے بڑا خوفزدہ ہو گیا، پس میں بیٹھ گیا، جب صبح کی روشنی پھوٹنے لگی تو وہ چلے جانے لگے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، آپ بہت تھکے ہوئے اور تکلیف میں تھے، یایوں کہیے کہ قریب تھا کہ آپ کوتکلیف شروع ہو جاتی،یہ سارا کچھ ان کے سوار ہونے کی وجہ سے تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اپنے آپ کو تھکا ہوا پاتا ہوں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر مبارک میری گودی میں رکھا، پھر کچھ افراد آ گئے، انھوں نے سفید کپڑے زیب ِ تن کیے ہوئے تھے اور دراز قد تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سو گئے تھے، میں پہلے کی بہ نسبت زیادہ گھبرا گیا تھا، ان میں سے بعض نے بعض سے کہا: اس بندے یعنیآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خیر عطا کی گئی ہے، اس کی آنکھیں سوتی ہیں اور دل بیدار رہتا ہے، آؤ اس کی ایک مثال بیان کرتے ہیں اور پھر اس کی تاویل کرتے ہیں،یا ان میں سے بعض نے کہا: ہم مثال بیان کرتے ہیں اور تم اس کی تاویل کرو گے، پھر بعض نے بعض سے کہا: اس کی مثال اس سردار کی مثال کی طرح ہے،جس نے قلعہ تعمیر کیا اور پھر لوگوں کو کھانے کے لیے بلا بھیجا، جو کھانے کے لیے نہ آیا،یا اس کی بات نہ مانی، اس نے اس کو سخت سزا دی، دوسروں نے تاویل کرتے ہوئے کہا: سردار سے مراد ربّ العالمین، قلعہ سے مراد اسلام اور کھانے سے مراد جنت ہے اور داعی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود ہیں، جس نے آپ کی پیروی کی، وہ جنت میں ہو گا اور جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت نہ کی،اس کو عذاب دیا جائے گا۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہو گئے اور پوچھا: اے ابن ام عبد تو نے کیا کچھ دیکھا ہے؟ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے یہ کچھ دیکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کچھ انھوں نے کہا، اس میں سے کوئی چیز مجھ پر مخفی نہیں ہے، یہ فرشتوں کا ایک گروہ تھا۔
Takhreej
(۱۰۲۹۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، عمرو البکالی لم یثبت سماعہ لھذا الحدیث من ابن مسعود، أخرجہ بنحوہ الترمذی: ۲۸۶۱(انظر: ۳۷۸۸)
۔ صفوان بن معطل سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ادائیگی ٔ حج کے لیے روانہ ہوئے، جب ہم عرج مقام پر تھے تو ہم نے دیکھا کہ ایک سانپ کپکپا رہا تھا اور پھر جلد ہی وہ مر گیا، ایک آدمی نے اپنے تھیلے سے ایک چیتھڑا نکالا، سانپ کواس میں لپیٹا اور زمین میں گڑا کھود کر اس کو دفن کر دیا، جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے اور مسجد حرام میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی ہمارے پاس کھڑا ہوا اور اس نے کہا: تم میں عمرو بن جابر کا ساتھی کون ہے؟ ہم نے کہا: جی ہم تو اس کو نہیں جانتے، اس نے کہا: تم میں جنّوں والا کون ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ ہے، اس نے کہا: اللہ تعالیٰ تجھے جزائے خیر دے، یہ جن ان نو جنوں میں سب سے آخر میں مرا ہے، جو قرآن مجید سننے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تھے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو پیدا کیا، پھر ان کو اندھیرے میں رکھا اور اپنی مشیت کے مطابق اپنے نور میں سے کچھ حصہ لیا اور اس کو ان پر ڈال دیا، اللہ تعالیٰ کی چاہت کے مطابق وہ نور بعض افراد تک پہنچ گیا اور بعض تک نہ پہنچا، جس شخص کو اس دن وہ نور پہنچ گیا، وہ ہدایت پا گیا اور جو اس سے رہ گیا، وہ گمراہ ہوگیا۔ اسی لیے میں عبداللہ کہتا ہوں: جو کچھ ہونے والا ہے، اس پر قلم خشک ہوچکا ہے۔
۔ سیدناابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے ساری زمین سے ایک مٹھی بھری اور اس سے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا،یہی وجہ ہے کہ اولادِ آدم زمین کی مٹی کی نوعیت کے مطابق پیدا ہوئے ہیں،یعنی کوئی سفید ہے، کوئی سرخ ہے، کوئی سیاہ ہے اور کسی کی رنگتیں ان کے درمیان درمیان ہیں اور کوئی خبیث ہے، کوئی پاکیزہ مزاج ہے، کوئی نرم ہے، کوئی سخت ہے اور کوئی ان کے درمیان درمیان۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روحیں اکٹھاکیے گئے لشکر ہیں، جن جن کا وہاں تعارف ہوگیا، وہ مانوس ہوگئے اور جن کی آپس میں شناخت نہ ہو سکی، وہ مختلف ہو گئے۔
Takhreej
(۱۰۲۹۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۳۸(انظر: ۱۰۸۲۴)
Explanation
فوائد:… انسانی مزاجوں میں حیران کن فرق پایا جاتا ہے، ایک آدمی دوسرے پر جان و مال قربان کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے، جبکہ دوسرا اس سے بول کر بھی راضی نہیں ہوتا، کسی کو اپنے بیوی بچے اس قدر پیارے لگتے ہیں کہ وہ سارا وقت ان کے اندر گزارنا چاہتا ہوتا ہے، جبکہ ایسے لوگ بھی ہیں، جن کا سارا وقت گھر سے باہر دوستوں یاروں میں گزر جاتا ہے، غرضیکہ ہر آدمی کا میلان اور رجحان دوسرے سے مختلف ہے اور تقریباً ہر کوئی دوسرے کے مزاج پر نقد بھی کرتا ہے۔
دراصل عالَمِ اراوح میں اتفاق و اختلاف اور الفت و نفرت کی صورتیں اور شکلیں پیدا ہو چکی ہوتی ہیں، دنیوی زندگی تو صرف ان کا مظہر ثابت ہوتی ہے۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو ان کی صورت پر پیدا کیا، ان کا قد ساٹھ ہاتھ تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی تخلیق کی تو فرمایا: جاؤ اور فرشتوں کی بیٹھی ہوئی اُس جماعت کو سلام کہو اور غور سے سنو کہ وہ آپ کو جوابًا کیا کہتے ہیں، کیونکہیہی (جملے) آپ اور آپ کی اولاد کا سلام ہوں گے۔ ( وہ گئے اور) کہا: السلام علیکم۔ انھوں نے جواب میں کہا: السلام علیک ورحمۃ اللہ۔ یعنی ورحمۃ اللہ کے الفاظ زائد کہے۔ جب کوئی بھی آدمی جنت میں داخل ہو گا وہ آدم علیہ السلام کی صورت (وجسامت) پر داخل ہو گا۔ لیکن (دنیا میں ولادتِ آدم سے) آج تک قد و قامت میں کمی آتی رہی۔
فوائد:… انسان کا اصل قد ساٹھ ہاتھ ہے اور ہر جنتی کا یہی قد ہو گا، آہستہ آہستہ قد و قامت میں کمی آتی رہی، یہاں تک کہ اب لوگوں نے چھ سات فٹ قد کو بہت خوبصورت سمجھ لیا اور بہت طویل قد والے معیوب سمجھے جانے لگ گئے، دراصل انسان کی فطرت ارد گرد کے ماحول سے متاثر ہوتی ہے۔ اسلام میں سلام کی بڑی اہمیت بیان کی گئی ہے، اس کی ابتدا آدم علیہ السلام سے ہوئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام کو عام کرنے کا حکم دیا ہے۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: یہ روایت ان لوگوں کے قول کی تائید کرتی ہے، جو لفظِ آدم کو ہ ضمیر کا مرجع بناتے ہیں، اس حدیث کا مفہوم یہ ہے: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو جس ہیئت پر پیدا کیا تھا، اسی پر ان کو وجود بخشا، یعنی ان کو اپنی اولاد کی طرح نہ اپنی تخلیق کے دوران مختلف احوال سے گزرنا پڑا اور نہ رحموں میں پہلے نفطہ، پھر علقہ، پھر مضغہ، پھر عظام اور لحم اور خلق تامّ جیسے مراحل طے کرنا پڑے، بلکہ جونہی اللہ تعالیٰ نے ان میں روح پھونکی تو ان کو کامل و مکمل، معتدل و مناست اور ٹھیک و درست بنا دیا۔امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث پر مفصّل اور مفید گفتگو کی ہے، آپ اس کا مراجعہ کر لیں۔ (صحیحہ: ۴۴۹)
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدم علیہ السلام کا قد ساٹھ ہاتھ اور چوڑائی سات ہاتھ تھی۔
Takhreej
(۱۰۲۹۶) تخریج: حدیث صحیح دون قولہ: فی سبع اذرع عرضا فقد تفرد بھا علی بن زید بن جدعان، وھو ضعیف (انظر: ۱۰۹۱۳)
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم کے وجود کی ہر چیز کو زمین کھا جاتی ہے، ما سوائے عجب الذنب کے، اسی سے انسان کو پیدا کیا گیا اور اسی سے اس کو دوبارہ ترکیب دیا جائے گا۔
Takhreej
(۱۰۲۹۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۹۵۵ (انظر: ۸۲۸۳)
Explanation
فوائد:… بعض افراد کے مکمل جسم بھی قبر میں سالم رہتے ہیں، بہرحال ہر شخص کی عجب الذنب باقی رہتی ہے، باقی جسم فنا ہو جائے یا باقی رہے۔
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو جب تک چاہا(ان کے ڈھانچے کو) پڑا رہنے دیا، ابلیس گھوم کر اس کو دیکھنے لگا، جب اس نے دیکھا کہ یہ توپیٹ والا ہے یایہ اندر سے خالی ہے تو اس نے کہا: یہ ایسی مخلوق ہے،جو اپنے آپ پر کنٹرول نہیں کر سکے گی۔ یعنییہ وجود اپنے آپ کو شہوات سے نہیں روک سکے گا، وسوسوں سے محفوظ نہیں رہ سکے گا، نیز غصے پر بھی قابو نہیں پا سکے گا، الا من عصمہ اللہ۔ ابلیس کو کیسے اندازہ ہوا؟ اس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں، معلوم نہیں کہ اُس دور کی صفات اور اس وقت کی مخلوقات کی اہلیتیں اور تجربات کیا کیا تھے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو جمعہ کے روز عصر کے بعد پیدا کیا،یہ آخری مخلوق تھی، جس کو جمعہ کی گھڑیوں میں سے آخری گھڑی میں پیدا کیا گیا اور آخری گھڑی عصر سے رات تک ہوتی ہے۔
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک عورت کو پسلی سے پیدا کیا گیا ہے، اور اگر تو پسلی کوسیدھا کرنا چاہے گا تو اس کو توڑ دے گا، پس تو اس کے ساتھ مداہنت اختیار کر، تب وہ تیرے ساتھ زندگی گزارتی رہے گی۔
Takhreej
(۱۰۳۰۰) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۵/ ۲۷۵، والبزار: ۱۴۷۶، وابن حبان: ۴۱۷۸، والبزار: ۱۴۷۶ (انظر: ۲۰۰۹۳)
Explanation
فوائد:… حافظ ابن حجر نے کہا: اس حدیث سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ سیدہ حواء علیہا السلام، آدم علیہ السلام کی بائیں پسلی سے پیدا ہوئی تھیں۔
یہ آدمی کا پورا نہ ہونے والا خواب ہو گا کہ اس کی بیوی سو فیصد اس کی خواہشات کی تکمیل کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خواتین میں اتنی اہلیت ہی نہیں رکھی، الا ما شاء اللہ، کسی علاقے میں ایک دو مثالیں ہو بھی سکتی ہیں۔ لہٰذا خاوند کو اس فطرت کو سامنے رکھ کر کچھ صبر کا مظاہرہ بھی کرنا چاہیے۔ بعض احادیث میں عورت کو پسلی سے تشبیہ دی گئی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے اخلاق میں بھی پسلی کی طرح ایسا ٹیڑھ پن رہتا ہے، جو کوشش کے باوجود سیدھا نہیں ہوتا، اس لیے اگر خواتین
میں مثبت پہلو غالب ہو تو ان کے منفی پہلو کو نظر انداز کر دینا چاہیے، البتہ اچھے انداز میں سمجھانا ضروری ہے
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب قرضے والی آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک سب سے پہلے انکار کرنے والے آدم علیہ السلام ہیں، اس کی تفصیلیہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور ان کی پیٹھ کو چھو کر اس سے ان کی قیامت تک پیدا ہونے والی اولاد کو نکالا اور اس اولاد کو ان پر پیش کیا، انھوں نے اس میں ایک خوش نما اور تابناک آدمی دیکھا اور کہا: اے میرے ربّ! یہ کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے کہا: یہ تیرا بیٹا داود ہے، انھوں نے کہا: اے میرے ربّ ! اس کی عمر کتنی ہے؟ اللہ تعالیٰ نے کہا: ساٹھ سال، انھوں نے کہا: اے میرے ربّ! اس کی عمر میں اضافہ کر دے، اللہ تعالیٰ نے کہا: نہیں، الا یہ کہ تیری عمر سے اضافہ کیا جائے۔ آدم علیہ السلام کی عمر ایک ہزار سال تھی، انھوں نے اپنی عمر میں سے داود کی عمر میں چالیس سال اضافہ کر دیا، اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو لکھ لیا اور فرشتوں کوگواہ بنا لیا، جب آدم علیہ السلام کی وفات کا وقت آیا اور ان کی روح قبض کرنے کے لیے فرشتے ان کے پاس آئے تو انھوں نے کہا: ابھی تک میری عمر کے تو چالیس سال باقی ہیں، ان سے کہا گیا کہ آپ نے وہ چالیس سال تو اپنے بیٹے داود کو ہبہ کر دیئے تھے، آدم علیہ السلام نے کہا: میں نے تو ایسے نہیں کیا تھا، اُدھر اللہ تعالیٰ نے کتاب کو ظاہر کر دیا اور فرشتوں نے گواہی دے دی، لیکن پھر داود علیہ السلام کی عمر بھی سو سال پوری کر دی اور آدم علیہ السلام کی ایک ہزار پوری کر دی۔
Takhreej
(۱۰۳۰۱) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الطیالسی: ۲۶۹۲، وابن ابی شیبۃ: ۱۳/ ۶۰، وابویعلی: ۲۷۱۰ (انظر: ۲۲۷۰)
Explanation
فوائد:… جامع ترمذی کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((فَجَحَدَ آدَمُ فَجَحَدَتْ ذُرِّیَّتُہُ، وَنَسِیَ َآدَمُ فَأَکَلَ مِنَ الشَّجَرَۃِ فَنَسِیَتْ ذُرِّیَّتُہُ، وَخَطِأَ آدَمُ وَخَطِأَتْ ذُرِّیَّتُہُ)) … پس آدم علیہ السلام نے انکار کیا اور اس وجہ سے ان کی اولاد بھی انکار کرنے لگی، آدم علیہ السلام نے بھول کر درخت کا پھل کھالیا، پس ان کی اولاد بھی بھولنے لگی اور آدم علیہ السلام سے غلطی ہو گئی، اس وجہ سے ان کی اولادبھی غلطی کرنے لگ گئی۔
چونکہیہ معاہدہ عالم ارواح میں ہوا تھا، اس لیے ممکن ہے کہ آدم علیہ السلام کو یاد نہ ہو، یا وہ بھول گئے ہوں، بہرحال اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بھولنا، انکار کرنا اور خطا کرنا انسان کی فطرت میں رکھ دیا گیا ہے، مگر وہ جس کو اللہ تعالیٰ بچا لے۔
۔ مسلم بن یسار جہنی سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا: {وَاِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْ آدَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ}، انھوں نے کہا: میں نے خود سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا، اس کی کمر کو دائیں ہاتھ سے چھوا اورا س سے اس کی اولاد نکالی اور کہا: میں نے ان کو جنت کے لیے اور اہل جنت کے عمل کے ساتھ پیدا کیا ہے، پھر اس کی کمر کو چھوا اور اس نے مزید اولاد نکال کر کہا: میں نے ان کو آگ کے لیے اور اہل جہنم کے عمل کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو پھر عمل کا کیا تک ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ بندے کو جنت کے لیے پیدا کرتا ہے تو اس کواہل جنت کے ہی اعمال کے لیے استعمال کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ جنتی لوگوں کے عمل پر مرتا ہے اور اس طرح وہ اس کوجنت میں داخل کر دیتا ہے، اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو آگ کے لیے پیدا کرتا ہے تو اس کو جہنمی لوگوں کے عمل کے لیے استعمال کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ اہل جہنم کے اعمال پر مرتا ہے اور وہ اس کو جہنم میں داخل کر دیتا ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے نعمان یعنی عرفہ مقام میں حضرت آدم علیہ السلام کی پیٹھ (یعنی اولاد) سے پختہ عہد لیا، ان کی کمر سے اس ساری اولاد کو نکالا، جو اس نے پیدا کرنی تھی، پھر اس کو چیونٹیوں کی طرح ان کے سامنے پھیلا دیا اور پھر ان سے آمنے سامنے کلام کیا اور کہا: کیا میں تمہارا ربّ نہیں ہوں؟ انھوں نے کہا: کیوں نہیں، ہم نے گواہی دی ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم قیامت کے روز یہ کہہ دو کہ ہم اس سے غافل تھے، یایہ کہہ دو کہ ہمارے آباء و اجداد ہم سے پہلے شرک کر چکے تھے اور ان کے بعد ان کی اولاد تھے، پس کیا تو ہم کو اس کرتوت کی وجہ سے ہلاک کرے گا، جو باطل پرست لوگوں نے کیا تھا۔
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں کہتے ہیں: اور جب تیرے پروردگار نے بنوآدم کی پشتوں یعنی ان کی اولاد سے پختہ عہد لیا اور ان کو ان کے نفسوں پر گواہ بنایا اس کی تفصیلیہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جمع کیا، ان کو روحیں بنایا، پھر ان کی تصویریں بنائیں اور ان کو بولنے کی طاقت دی، پس انھوں نے کلام کیا، پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے پختہ عہد لیا اور ان کو ان کے نفسوں پر گواہ بناتے ہوئے کہا: کیا میں تمہارا ربّ نہیں ہوں؟ میں ساتوں آسمانوں، ساتوں زمینوں اور تمہارے باپ کو تم پر گواہ بناتا ہوں، تاکہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ دو کہ ہمیں اس چیز کا کوئی علم نہ تھا، تم اچھی طرح جان لو کہ میرے علاوہ نہ کوئی معبود ہے اور نہ کوئی ربّ، پس میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانا، میں عنقریب تمہاری طرف اپنے رسول بھیجوں گا، وہ تم کو میرا عہد یاد کرائیں گے، نیز میں تم پر اپنی کتابیں بھی نازل کروں گا، انھوں نے کہا: ہم یہ شہادت دیتے ہیں کہ تو ہی ہمارا ربّ اور معبود ہے، تیرے علاوہ ہمارا کوئی ربّ نہیں ہے، پس ان سب نے اقرار کیا، پھر اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو ان پر بلند کیا، انھوں نے ان میں غنی، فقیر، حسین اور کم خوبصورت افراد دیکھے اور کہا: اے میرے ربّ! تو نے ان کے درمیان برابری کیوں نہیں کی؟ اللہ تعالیٰ نے کہا: میں چاہتا ہوں کہ میرا شکریہ ادا کیا جائے، نیز انھوں نے ان میں انبیاء دیکھے، وہ چراغوں کی طرح نظر آ رہے تھے اور ان پر نور تھا، ان کو رسالت اور نبوت کے عہد و میثاق کے ساتھ خاص کیا گیا، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں اسی چیز کا ذکر ہے: اور جب ہم نے نبیوں سے ان کا پختہ عہد لیا …… عیسی بن مریم۔ عیسی علیہ السلام بھی ان ہی ارواح میں تھے، پھر اللہ تعالیٰ اس روح کو سیدہ مریم علیہا السلام کی طرف بھیجا اور وہ ان کے منہ سے ان میں داخل ہو گئی۔
Takhreej
(۱۰۳۰۴) تخریج: اثر ضعیف، محمد بن یعقوب الربالی مستور، أخرجہ الحاکم: ۲/ ۳۲۳، والبیھقی فی الاسماء والصفات : ص ۳۶۸ (انظر: ۲۱۲۳۲)
Explanation
فوائد:… درج بالا اور اس موضوع کی دیگر احادیث میں عَھْدِ اَلَسْتُ کا ذکر ہے، یہ ترکیب آیت کے ان الفاظ {اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ} سے بنائی گئی ہے، یہ عہد آدم علیہ السلام کی تخلیق کے بعد ان کی پشت سے ہونے والی تمام اولاد سے لیا گیا، پوری آیاتیوں ہیں:
{وَاِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْ آدَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ وَاَشْھَدَھُمْ عَلٰی اَنْفُسِھِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوا بَلٰی شَہِدْنَآ أَنْ تَقُولُوا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّا کُنَّا عَنْ ہٰذَا غَافِلِیْنَ۔ أَوْ تَقُوْلُوآ اِنَّمَا أَشْرَکَ آبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ کُنَّا ذُرِّیَّۃً مِنْ بَعْدِہِمْ أَفَتُہْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ۔}… اور جب آپ کے رب نے اولادِ آدم کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان سے ان ہی کے متعلق اقرار لیا کہ کیا میں تمہارا ربّ نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا کیوں نہیں! ہم سب گواہ بنتے ہیں۔ تاکہ تم لوگ قیامت کے روز یوں نہ کہو کہ ہم تو اس سے محض بے خبر تھے۔ یایوں کہو کہ پہلے پہل یہ شرک تو ہمارے بڑوں نے کیا اور ہم ان کے بعد ان کی نسل میں ہوئے، سو کیا ان غلط راہ والوں کے فعل پر تو ہم کو ہلاکت میں ڈال دے گا۔ (سورۂ اعراف: ۱۷۲، ۱۷۳)
یہ عہد ہم اس لیے تسلیم کریں گے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے اس کی اطلاع دے دی ہے، بہرحال اس کا اثر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کییہ گواہی ہر انسان کی فطرت میں ودیعت کر دی گئی ہے اور اگر یہ فطرت مختلف آلائشوں کی وجہ سے اپنی حیثیت کھو نہ بیٹھی ہو تو ایسا انسان خارجی آوازاور باطنی فکر مل جانے کی وجہ سے فوراً حق کی آواز کو قبول کرتا ہے، لیکن اگر شرک و بدعت یا گندے معاشرے کی وجہ سے وہ فطرت متأثر ہو چکی ہو تو اس کو حق تسلیم کرنے میں اجنبیت محسوس ہوتی ہے اور اس کے لیےیہ مرحلہ مشکل ہو جاتا ہے، جلد اور بدیر اسلام قبول کرنے والے صحابۂ کرام کی وجہ یہی تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی مفہوم کو ان الفاظ میں بیان کیا: ((کُلُّ مَوْلُودٍ یُولَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَأَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہِ أَوْ یُنَصِّرَانِہِ أَوْ یُمَجِّسَانِہِ کَمَثَلِ الْبَہِیمَۃِ تُنْتَجُ الْبَہِیمَۃَ ہَلْ تَرَی فِیہَا جَدْعَاء َ۔)) … ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پس اس کے ماں باپ اس کو یہودییا نصرانییا مجوسی بنا دیتے ہیں، جس طرح جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے، اس کا ناک، کان کٹا نہیں ہوتا۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)