کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب - کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب - Book 167 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Book 167 of Musnad Ahmad, with 20 chapters and 112 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
۔ سیدنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: میری بیٹھک کو درست کردے، کیونکہ زمین کی طرف وہ فرشتہ نازل ہونے والا ہے، جو پہلے کبھی نازل نہیں ہوا۔
Takhreej
(۱۰۲۶۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لابھام الشیخ من المدینۃ الذی روی عن ام سلمۃ، سیّار بن حاتم مختلف فیہ (انظر: ۲۷۵۳۶)
۔ ابو عالیہ کہتے ہیں: تمہارے نبی کے چچا زاد (سیدنا عبد اللہ بن عباس f) نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کسی بندے کے لیےیہ جائز نہیں کہ وہ یہ کہے کہ وہ یونس بن متی سے بہتر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ان کے باپ کی طرف منسوب کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چیز کا ذکر کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسراء کرایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے موسی علیہ السلام کو دیکھا، وہ گندمی رنگ کے دراز قد آدمی تھے، ایسے لگ رہا تھے، جیسے وہ شنوء ہ قبیلے کے فرد تھے، پھر عیسی علیہ السلام کا ذکر کیا کہ وہ معتدل قد کے تھے، ان کا رنگ سرخی سفیدی مائل تھا، ان کا جسم بھرا ہوا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دجال اور جہنم کے داروغے مالک کو دیکھا۔
Takhreej
(۱۰۲۶۶) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین (انظر: ۳۱۷۹)
Explanation
فوائد:… جہنم کے داروغے کا نام مالک ہے، اسی مناسبت سے یہ حدیث ذکر کی گئی۔
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک بندہ جب دنیا سے آخرت کی طرف جانے کی حالت میں ہوتا ہے تو اس کی طرف آسمان سے فرشتے نازل ہوتے ہیں، ان کے چہرے سورج کی طرح سفید ہوتے ہیں، ان کے پاس جنت کے کفنوں میں سے ایک کفن اور جنت کی خوشبوؤں میں سے خوشبو ہوتی ہے، وہ تاحد نگاہ اس آدمی کے پاس بیٹھ جاتے ہیں، پھر ملک الموت علیہ السلام آتا ہے اور اس کے سر کے پاس بیٹھ کر کہتا ہے: اے پاکیزہ نفس! نکل اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور خوشنودی کی طرف، پس اس طرح بہہ کر نکلتی ہے، جیسے مشکیزے سے پانی کا قطرہ بہتا ہے، پس وہ اس کو پکڑ لیتا ہے، جب وہ اس کو پکڑتا ہے تو دوسرے فرشتے آنکھ جھپکنے کے بقدر بھی اس کو اس کے ہاتھ میں نہیں رہنے دیتے، وہ خود اس کو پکڑ لیتے ہیں اور اس کفن اور خوشبو میں رکھ دیتے ہیں، اس سے روئے زمین پر پائی جانے والی سب سے بہترین کستوری کے جھونکے کی طرح خوشبو آتی ہے، پس وہ فرشتے اس روح کو لے کر چڑھتے ہیں اور فرشتوں کے جس گروہ کے پاس سے گزرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: یہ پاکیزہ روح کون سی ہے؟ وہ کہتے ہیں: یہ فلاں بن فلاں ہے، وہ اس کو بہترین نام کے ساتھ یاد کرتے ہیں، جس کے ساتھ وہ دنیا میں اس کو موسوم کرتے تھے، یہاں تک کہ وہ اس کو آسمان دنیا تک لے جاتے ہیں اور دروازہ کھولنے کا مطالبہ کرتے ہیں، پس ان کے لیے دروزہ کھول دیا جاتا ہے، ہر آسمان کے مقرب فرشتے اس کو الوداع کرنے کے لیے اگلے آسمان تک اس کے ساتھ چلتے ہیں،یہاں تک کہ اس روح کو ساتویں آسمان تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے بندے کی کتاب کو علیین میں لکھ دو اور اس کو زمین کی طرف لوٹا دو، کیونکہ میں نے ان کو زمین سے پیدا کیا، اسی میں ان کو لوٹاؤں گا اور اسی سے دوبارہ ان کو نکالوں گا، پس اس کی روح اس کے جسم میں لوٹا دیجاتی ہے، اس کے پس دو فرشتے آتے ہیں اور اس کو بٹھا کر کہتے ہیں: تیرا ربّ کون ہے؟ وہ کہتا ہے: میرا ربّ اللہ ہے، وہ کہتے ہیں: تیرا دین کیا ہے ؟ وہ کہتا ہے: میرا دین اسلام ہے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رات اور دن کے فرشتے نمازِ فجر اور نمازِ عصر میں جمع ہوتے ہیں، جب وہ نماز ِ فجر میں جمع ہوتے ہیں تو رات کے فرشتے چڑھ جاتے ہیں اور دن کے فرشتے ٹھہر جاتے ہیں، پھر جب عصر کی نماز میںجمع ہوتے ہیں تو دن کے فرشتے چڑھ جاتے ہیں اور رات کے فرشتے ٹھہر جاتے ہیں، پس ان کا ربّ ان سے پوچھتا ہے: تم نے میرے بندوں کو کیسے چھوڑا؟ وہ کہتے ہیں: جب ہم ان کے پاس گئے تھے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے اور اب جب ہم ان کو چھوڑ کر آئے تو پھر بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے، پس تو ان کو جزا کے دن بخش دینا۔
فوائد:… کِرَامًا کَاتِبِیْن یعنی نیکیاں اور برائیاں لکھنے والے فرشتے، فجر اور عصر کی نمازوں میں ان کی ڈیوٹیاں تبدیل ہوتی ہیں، ان دونوں نمازوں میں یہ اکٹھے ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے پاس جا کر بندے کی نماز کی شہادت دیتے ہیں، وہ لوگ کتنے بد بخت ہیں، جن کے بارے میں بارگاہِ عالیہ میں یہ شہادت دی جاتی ہو گی کہ وہ نماز سے غیر حاضر تھے اور فلاں فلاں دنیوی کام میں پڑے ہوئے تھے۔
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی نہیں ہے، مگر اس کے ساتھ جنوں میں سے ایک ساتھی اور فرشتوں میں سے ایک ساتھی مقرر کیا گیا ہے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور آپ کے ساتھ بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے ساتھ بھی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے میری نصرت کی، پس وہ مجھے صرف حق کا ہی حکم دیتا ہے۔
Takhreej
(۱۰۲۶۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۸۱۴(انظر: ۳۶۴۸)
Explanation
فوائد:… فرشتہ نیکی پر آمادہ کرتا ہے اور شیطان برائی پر ابھارتا ہے۔ اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک خصوصیت کا بیان بھی ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو زمین کی طرف اتارا تو فرشتوں نے کہا: کیا تو اس زمین میں اس کوآباد کرے گا جو اس میں فساد برپا کرے گا اور خون بہائے گا، جبکہ ہم تیری حمد کے ساتھ تیری تعریف کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے کہا: بیشک میں وہ کچھ جانتا ہوں، جو تم نہیں جانتے۔ فرشتوں نے کہا: اے ہمارے ربّ! ہم بنو آدمی کی بہ نسبت تیری زیادہ اطاعت کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا: تم دو فرشتے پیش کرو، تاکہ ان کو زمین پر اتار کر دیکھا جا سکے کہ وہ کیسے عمل کرتے ہیں، انھوں نے کہا: اے ہمارے ربّ! یہ ہاروت اور ماروت ہیں، پس ان دو فرشتوں کو زمین کی طرف اتارا گیا اور انسانیت میں سے ایک انتہائی خوبصورت عورت کی شبیہ ان کے سامنے پیش کی گئی، انھوںنے اس سے اس کے نفس کا مطالبہ کیا، لیکن اس نے کہا: نہیں،اللہ کی قسم! یہ کام اس وقت تک نہیں ہو سکتا، جب تک تم شرکیہ بات نہیں کرو گے، انھوں نے کہا: اللہ کی قسم ہے، ہم کبھی بھی شرک تو نہیں کریں گے، پس وہ چلی گئی اور ایک بچہ لے کر پھر آگئی، انھوں نے پھر اس سے بدکاری کا مطالبہ کیا، اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! جب تک تم اس بچے کو قتل نہیں کرو گے، انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم اس کو قتل تو نہیں کریں گے، پس وہ چلی گئی اور شراب کا ایک پیالہ لے کر دوبارہ آ گئی، ان فرشتوں نے پھر اس سے اس کے نفس کا سوال کیا، لیکن اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! جب تک تم یہ شراب نہیں پیو گے، پس انھوں نے وہ شراب پی لی، جب اس سے ان کو نشہ آیا تو انھوں نے اس خاتون سے زنا بھی کر لیا اور بچے کو بھی قتل کر دیا، پھر جب ان کو افاقہ ہوا، تو اس عورت نے کہا: اللہ کی قسم ہے، جس جس چیز کا تم نے انکار کیا تھا، نشے کی حالت میں تم نے ان کا ارتکاب کر لیا، پھر اس جرم کی سزا میں ان کو دنیا اور آخرت کے عذاب میں اختیار دیا گیا، پس انھوں نے دنیا کا عذاب پسند کر لیا۔
Takhreej
(۱۰۲۷۰) تخریج: اسنادہ ضعیف ومتنہ باطل، موسی بن جبیر الانصاری المدنی لایعرف حالہ، زھیر بن محمد الخراسانی، قال ابو حاتم: محلہ الصدق وفی حفظہ سوئ، والصحیح ان ھذا الحدیث لا تصح نسبتہ الی النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، وانما ھو من قصص کعب الاحبار، أخرجہ ابن حبان: ۶۱۸۶، والبزار: ۲۹۳۸ (انظر: ۶۱۷۸)
Explanation
فوائد:… بہرحال اللہ تعالیٰ کی حکمتوں کا ادراک نہیں کیا جا سکتا ہے، کسی مخلوق کے بس میں نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے افعال کے اسرار و رموز کو سمجھ سکے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {لَا یُسْـئَـلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَہُمْ یُسْــَــلُوْنَ۔} … اس سے نہیں پوچھا جاتا اس کے متعلق جو وہ کرے اور ان سے پوچھاجاتا ہے۔ (سورۂ انبیائ: ۲۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک لوگوں کے اعمال لکھنے والے فرشتوں کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ کے زمین میں چلنے پھرنے والے فرشتے ہوتے ہیں، جب وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہوئے پاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں: آؤ اپنے مقصود کی طرف، پس وہ آ جاتے ہیں اور ان لوگوں کو آسمانِ دنیا تک گھیر لیتے ہیں، پھر جب وہ اللہ تعالیٰ کے پاس جاتے ہیں تو وہ ان سے پوچھتا ہے: تم میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑکر آئے؟ وہ کہتے ہیں: ہم ان کو اس حال میں چھوڑ کر آئے کہ وہ تیری تعریف کر رہے تھے، تیری بزرگی بیان کر رہے تھے اور تیرا ذکر کر رہے تھے، وہ کہتا ہے: کیا انھوں نے مجھے دیکھا ہے؟ وہ کہتے ہیں: جی نہیں، وہ کہتا ہے: اگر وہ مجھے دیکھ لیں تو کیسا ہو گا؟ وہ کہتے ہیں: اگر وہ تجھے دیکھ لیں تو کثرت سے تیری تعریف اور بزرگی بیان کریں گے اور زیادہ ذکر کریں گے، وہ کہتا ہے: اچھا یہ بتاؤ کہ وہ کس چیز کا سوال کرتے تھے؟ وہ کہتے ہیں: جی وہ جنت کا سوال کرتے تھے، وہ کہتا ہے: کیا انھوں نے جنت کو دیکھا ہے؟ وہ کہتے ہیں: جی نہیں دیکھا، وہ کہتا ہے: اگر وہ دیکھ لیں تو؟ وہ کہتے ہیں: اگر وہ دیکھ لیں تو ان کی حرص بڑھ جائے گی اور وہ اس کازیادہ مطالبہ کریں گے، وہ کہتا ہے: وہ کس چیز سے پناہ مانگتے تھے؟ وہ کہتے ہیں: جی آگ سے، وہ کہتا ہے: کیا انھوں نے آگ کو دیکھا ہے؟ وہ کہتے ہیں: جی نہیں، وہ کہتا ہے: اگر وہ اس کودیکھ لیں تو؟ وہ کہتے ہیں: اگر وہ آگ کودیکھ لیں تو وہ اس سے دور بھاگنے میں اور اس سے ڈرنے میںزیادہ ہو جائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ کہتا ہے: بیشک میں تم کوگواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کو بخش دیا ہے، وہ کہتے ہیں: ان میں فلاں آدمی تو خطاکار تھا، اس کاارادہ ان کے ساتھ بیٹھنا نہیں تھا، وہ تو اپنے کسی کام کی غرض سے آیا تھا، وہ کہتا ہے: یہ (ایک جگہ پر بیٹھنے والے) وہ لوگ ہیں، ان کے ساتھ بیٹھنے والا بدبخت نہیں ہو سکتا۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فرشتوں کو نور سے اور جنوں کو آگ کے دہکتے ہوئے شعلے سے پیدا کیا اور آدم علیہ السلام کو اس چیز سے پیدا کیا، جس کو تمہارے لیے واضح کیا جا چکا ہے (یعنی مٹی سے پیدا کیا گیا)۔
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ابلیس اپنا تخت پانییا سمندر پر رکھتا ہے اور پھر اپنے لشکروں کو بھیجتا ہے، ان میں مرتبے کے اعتبار سے اس کا سب سے زیادہ قریبی وہ ہوتا ہے،جو سب سے بڑا فتنہ برپا کرتا ہے، ایک آ کر کہتا ہے: میں نے یہیہ کاروائی کی ہے، لیکن ابلیس کہتا ہے: تو نے تو کچھ نہیں کیا، ایک آکر کہتا ہے: میں نے اس کو اس وقت تک نہیں چھوڑا، جب تک اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی نہیں ڈال دی، پس ابلیس اس کو اپنے قریب کرتا ہے اور اس کو گلے لگا لیتا ہے اور کہتا ہے: کیا خوب ہے تو (تو نے تو کمال کر دیا ہے)۔
Takhreej
(۱۰۲۷۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۸۱۳(انظر: ۱۴۳۷۷)
Explanation
فوائد:… ابلیس کی فکر یہ ہے کہ زمین میں شرّ و معصیت عام ہو جائے، وہ اس مقصد کے لیے ہر وقت کوشاں ہے۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن صائد سے فرمایا: تو کیا کچھ دیکھتا ہے؟اس نے کہا: میں سمندر پر ایک تخت دیکھتا ہوں، اس کے ارد گرد سانپ ہوتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ابلیس کا تخت دیکھتا ہے۔
Takhreej
(۱۰۲۷۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف علی بن زید بن جدعان، أخرجہ ابویعلی: ۱۳۱۶(انظر: ۱۱۹۲۶)
Explanation
فوائد:… اس موضوع کی درج ذیل روایت صحیح ہے:
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: لَقِیَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ فِی بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِینَۃِ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((أَتَشْہَدُ أَنِّی رَسُولُ اللّٰہِ؟)) فَقَالَ ہُوَ: أَتَشْہَدُ أَنِّی رَسُولُ اللّٰہِ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَمَلَائِکَتِہِ وَکُتُبِہٖ،مَاتَرَی؟)) قَالَ: أَرَی عَرْشًا عَلَی الْمَائِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((تَرٰی عَرْشَ إِبْلِیسَ عَلَی الْبَحْرِ، وَمَا تَرٰی؟)) قَالَ: أَرٰی صَادِقَیْنِ وَکَاذِبًا أَوْ کَاذِبَیْنِ وَصَادِقًا فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((لُبِسَ عَلَیْہِ دَعُوہُ۔)) …رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما مدینہ منورہ کے کسی راستے میں ابن صیاد کو ملے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے آگے سے کہا: کیا آپ یہ شہادت دیتے ہیں کہ میں (ابن صیاد) اللہ کا رسول ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تو اللہ تعالی، اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوںپر ایمان لایا ہوں، اچھایہ بتلا کہ تو کیا دیکھتا ہے؟ اس نے کہا: میں پانی پر عرش دیکھتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو تو سمندر پر ابلیس کا عرش دیکھتا ہے، اچھا مزید کیا دیکھتا ہے؟ اس نے کہا: میں دو سچوں اور ایک جھوٹے یا دو جھوٹے اور ایک سچا دیکھتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس پر معاملہ خلط ملط ہو گیا ہے، اس کو چھوڑ دو۔ (صحیح مسلم: ۲۹۲۵)
۔ سیدنا سبرہ بن ابی فاکہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک شیطان ابن آدم کے راستوں پر بیٹھ جاتا ہے، پس وہ اسلام کے راستے پر بیٹھتا ہے اور اس کو کہتا ہے: کیا تو مسلمان ہو جائے گا اور اپنا اور اپنے آباء و اجداد کا دین چھوڑ دے گا؟ لیکن وہ اس کی نافرمانی کرکے اسلام قبول کرلیتا ہے، پھر وہ ہجرت کی راہ پر بیٹھ جاتا ہے اور اس کو کہتا ہے: کیا تو ہجرت کر جائے گا اور اپنے آسمان و زمینیعنی اپنے علاقے کو چھوڑ دے گا؟ اور مہاجر کی مثال تو رسی کے ساتھ بندھے ہوئے گھوڑے کی سی ہے، لیکن وہ اس کی نافرمانی کرکے ہجرت کر جاتا ہے، پھر وہ اس کے لیے جہاد کے راستے میں بیٹھ کر اس سے کہتا ہے: اس راہ میںنفس کی مشقت بھی ہے اور مال بھی خرچ ہو جاتا ہے، کیا تو اب قتال کر نے لگا ہے، تجھے تو قتل کر دیا جائے گا اور تیری بیوی سے نکاح کر لیا جائے گا اور تیرے مال کو تقسیم کر دیا جائے گا؟ لیکن وہ اس کی رائے کو ٹھکرا کر جہاد کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ اس عمل کے لیے نکل پڑا اور پھر وہ فوت ہو گیا تو اللہ تعالیٰ پر حق ہو گا کہ وہ اس کو جنت میں داخل کرے، یا وہ شہید ہو گیا تو پھر بھی اللہ تعالیٰ پر حق ہو گا کہ وہ اس کو جنت میں داخل کرے، یا وہ پانی میں ڈوب ہو گیا تو پھر اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ اس کو جنت میں داخل کرے، یا جانور نے اس کی گردن توڑ دی تو پھر بھی اللہ تعالیٰ پر حق ہو گا کہ وہ اس کو جنت میں داخل کرے۔
فوائد:… جب بھی اطاعت کا کام کرتے ہوئے یا برائی کو ترک کرتے ہوئے مسلمان میں اس قسم کا وسوسہ پیدا ہو تو وہ اس کو شیطان کی کوشش کا نتیجہ سمجھے اور اللہ تعالیٰ کی منشا پوری کرے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شیطان اس بات سے ناامید ہو چکا ہے کہ تمھاری (جزیزۂ عرب کی) سرزمین میں اس کی عبادت کی جائے، لیکن وہ تم سے ایسے (گناہ کروا کے) راضی ہو جائے گا، جنھیں تم حقیر سمجھتے ہو ۔
Takhreej
(۱۰۲۷۶) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ البیھقی فی الشعب : ۷۲۶۴(انظر: ۸۸۱۰)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک شیطان اس بات سے نا امید ہو چکا ہے کہ جزیرۂ عرب میں نمازی(یعنی مسلمان) اس کی عبادت کریں، لیکن وہ انھیں (لڑائی، جھگڑے اور جنگ و جدل کے) فساد پر آمادہ کرتا رہے گا۔
Takhreej
(۱۰۲۷۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۸۱۲(انظر: ۱۴۳۶۶)
Explanation
فوائد:… بعض شارحین نے کہا: حدیث ِ مبارکہ کا معنی و مفہوم یہ ہے کہ شیطان اس بات سے ناامید ہو چکا ہے کہ جزیرۂ عرب میں کوئی مؤمن مرتد ہو کر بتوں کی پوجا پاٹ کرنا شروع کر دے اور اپنے شرک کی طرف پلٹ جائے۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ مسیلمہ کے اصحاب اور مانعینِزکوۃ وغیرہ مرتد ہو گئے تھے، تو اس کا جواب یہ دیا جائے گا کہ انھوں نے کسی بت کی عبادت نہیں کی تھی۔ لیکن ملا علی قاری نے کہا: اس حدیث سے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ شیطان کی دعوت عام ہے، جو کفر کی تمام انواع پر مشتمل ہے اور صرف بتوں کی عبادت کے ساتھ خاص نہیں ہے، زیادہ بہتر یہ ہے کہ اس حدیث کو اس مفہوم پر محمول کیا جائے کہ نمازی لوگ نماز کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ شیطان کی عبادت نہیں کریں گے، جیسا کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے کیا تھا۔ (دیکھیں: تحفۃ الاحوذی: ۳/ ۱۲۷)
اس حدیث کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد سے پہلے شیطان جزیرۂ عرب میں غالب تھا اور شرک و بدعت عام تھے، دوبارہ وہ اس طرح کا غلبہ نہیں پا سکے گا۔
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب سورج غروب ہو جائے تو اپنے مویشیوں اور بچوں کو باہر نہ بھیجا کرو، یہاں تک کہ رات کاابتدائی اندھیرا ختم ہو جائے، کیونکہ غروب آفتاب کے بعد شیطانوں کو بھیجا جاتا ہے، یہاں تک کہ رات کا ابتدائی اندھیرا ختم ہو جاتا ہے۔
Takhreej
(۱۰۲۷۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۰۱۳ (انظر: ۱۴۳۴۲)
Explanation
فوائد:… اس میں بچوں کی روحانی حفاظت کی تلقین کی گئی ہے، جو والدین کی سب سے اہم ذمہ داری ہے، لیکن آج کل ہر باپ کا ہدف عصری تعلیم کا حصول ہے، والدین اور خاندانوں کے سربراہان بچوں کی روحانی تربیت سے غافل ہیں۔ نماز، تلاوت ِ قرآن، ذکر اذکار، سونے اور بیدار ہونے کی دعائیں، کھانے پینے کے آداب اور حسن اخلاق کے سلسلے میں ان کی کوئی نگرانی نہیں کی جاتی۔ ایسے والدین تو عنقا بن چکے ہیں جو کہیں کہ بیٹا! پانی پینے سے پہلے بسم اللہ پڑھو، بیٹھ کر پیو، دائیں ہاتھ سے پیو، تین سانس لو اور برتن کے اندر سانس نہ لو، کیونکہیہ ہمارے پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پاکیزہ تعلیمات ہیں۔ بس ہر ایک باپ کییہی تمنا ہے کہ اس کا بچہ تہذیب ِ نو اور جدّت پرستی میں ڈھلا ہوا ہو، جدید علوم و معارف سے آراستہ ہو، اعلی عہدے پر فائز ہو، کم سنی میں ہی انگریزی زبان پر مکمل عبور رکھتا ہو۔ وغیرہ وغیرہ۔
قارئین کرام! آپ کی تمناؤں میں کوئی قباحت نہیں، لیکن اگر یہی خواہشات بچوں کا مقصودِ زندگی بنا دی جائیں تو کسی پہلو میں خیر نہیں رہتی۔
نیزاس حدیث کا اہم تقاضا یہ ہے کہ غروب ِ آفتاب کے وقت بچوں کو گھر میں بحفاظت رکھا جائے، تاکہ وہ شیطانوں کے شرّ سے محفوظ رہ سکیں اور ان کی روح متأثر نہ ہو، لیکن آج کل دیکھایہ گیا ہے کہ اس وقت بچے گلیوں، سڑکوں اور میدانوں میں کھیل رہے ہوتے ہیں، ممکن ہے کہ اس دور کے بچوں میں خیر و بھلائی کے معدوم ہونے کییہی وجہ ہو۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک رات کو اس کے پاس سے نکل گئے، مجھے بڑی غیرت آئی (کہ باری میری ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی کسی بیوی کے پاس چلے گئے ہیں)، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس تشریف لے آئے اور اس کودیکھا، جو کچھ میں نے کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ!تجھے کیا ہو گیا ہے؟ کیا غیرت آ گئی ہے؟ میں نے کہا: بھلا مجھ جیسی خاتون آپ جیسی شخصیت پر غیرت کیوں نہ کرے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرا شیطان تجھ پر مسلط ہو گیا ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میرے ساتھ بھی شیطان ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ میں نے کہا: کیا ہر انسان کے ساتھ شیطان ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول!کیا آپ کے ساتھ بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی بالکل، لیکن اللہ تعالیٰ نے میری معاونت کی،یہاں تک کہ وہ مطیع ہو گیا۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر آدمی کے ساتھ شیطان سے اس کاساتھی مقرر کیا گیا ہے۔لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور آپ کے ساتھ بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، لیکن اللہ تعالیٰ نے میری مدد کی ہے اور وہ مطیعہو گیا ہے۔
Takhreej
(۱۰۲۸۰) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ البزار: ۲۴۴۰، والطبرانی: ۱۲۶۲۰(انظر: ۲۳۲۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، پھر اسی طرح کی روایت بیان کی، البتہ اس میں ہے: اور لیکن اللہ تعالیٰ نے میری مدد کی، پس وہ مجھے صرف حق کا حکم دیتا ہے۔
Takhreej
(۱۰۲۸۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۸۱۴ (انظر: ۳۶۴۸)
Explanation
فوائد:… یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاصہ تھا۔
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ان عورتوں کے پاس نہ جایا کرو، جن کے خاوند موجود نہ ہوں، کیونکہ شیطان تم میں خون کی طرح گردش کرتا ہے۔ ہم لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ شیطان آپ میں بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ میں بھی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اس کے خلاف میری مدد کی ہے، پس وہ مطیع ہو گیا ہے۔
Takhreej
(۱۰۲۸۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف مجالد بن سعید، وقد جمع مجالد فی ھذا المتن ثلاثۃ احادیث، وھی صحیحۃ بالشواھد، أخرجہ الترمذی: ۱۱۷۲ (انظر: ۱۴۳۲۴)
Explanation
فوائد:… شیطان کا خون کی طرح گردش کرنا، اس کو حقیقت پر محمول کیا جائے گا کہ شیطان کو اللہ تعالیٰ نے اتنی طاقت دی ہے کہ وہ انسان کے بدن کے اندر اس طرح گردش کر سکتا ہے، یا ا س سے مراد یہ ہے کہ وہ بہت زیادہ وسوسے ڈالتا ہے اور گمراہ کرنے کے لیے کئی اسباب اور طریقے استعمال کرتا ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شیطان میرے پاس سے گزرا، میں نے اس کو پکڑ لیا اور اس کا گلا دبایا،یہاں تک کہ مجھے اپنے ہاتھ پر اس کی زبان کی ٹھنڈک محسوس ہوئی، اس نے مجھے کہا: آپ نے مجھے تکلیف دی ہے، آپ نے مجھے تکلیف دی ہے۔
Takhreej
(۱۰۲۸۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، ابو عبیدۃ لم یسمع من ابیہ، أخرجہ البیھقی: ۲/ ۲۱۹ (انظر: ۳۹۲۶)
Explanation
فوائد:… لیکن اس مضمون کی درج ذیل روایت پر غور کریں:
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں: أنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَامَ فَصَلّٰی صَلَاۃَ الصُّبْحِ وَھُوَ خَلْفَہُ، فَقَرَأ، فَالْتَبَسَتْ عَلَیْہِ الْقِرَائَ ۃُ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِہِ قَالَ: ((لَوْ رَأیْتُمُوْنِیْ وَإبْلِیْسَ فَأھْوَیْتُ بِیَدِیْ، فَمَازِلْتُ أَخْنُقُہُ حَتّٰی وَجَدْتُّ بَرْدَ لُعَابِہِ بَیْنَ إصْبَعَیَّ ھَاتَیْنِ: الإبْھَامَ وَالَّتِیْ تَلِیْھَا، وَلَوْلَا دَعْوَۃُ أخِی سُلَیْمَانَ، لأَصْبَحَ مَرْبُوْطًا بِسَارِیَۃٍ مِنْ سَوَارِی الْمَسْجِدِ یَتَلَاعَبُ بِہِ صِبْیَانُ الْمَدِیْنَۃِ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أنْ لَایَحُوْلَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْقِبْلَۃِ أحَدٌ فَلْیَفْعَلْ۔)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز فجر ادا کی اوروہ (ابو سعید) آپ کے پیچھے تھے، آپ نے قرأت فرمائی توآپ پرقرأت خلط ملط ہونے لگی۔جب آپ نمازسے فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا: کاش کہ تم مجھے اورابلیس کودیکھتے، میں نے اپناہاتھ بڑھایا اور اُس کا گلا گھونٹتا رہا، حتی کہ مجھے انگوٹھے اور اس کے ساتھ والی انگلی کے درمیان اس کے لعاب کی
ٹھنڈک محسوس ہوئی۔ اگر میرے بھائی سلیمان ( علیہ السلام ) کی دعا نہ ہوتی تو وہ اس حال میں صبح کرتا کہ مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ بندھا ہوتا اور مدینے کے بچے اُس کے ساتھ کھیل رہے ہوتے۔ تم میں سے جس میں یہ استطاعت ہو کہ (دورانِ نماز) اس کے اور اس کے قبلہ کے مابین کوئی چیز حائل نہ ہو تو وہ ایسا ہی کرے۔ (أحمد: ۳/۸۲، ورواہ ابوداود: ۶۹۹ مختصرا، صحیحۃ:۳۲۵۱)
اگرچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شیطانی حملوں سے مکمل محفوظ تھے، لیکن ابلیس اپنے خبث ِ باطن کا اظہار کرتا رہتا تھا اور نتیجتاً ناکام و نامراد ہو کر واپس لوٹتاتھا۔
سلیمان علیہ السلام نے یہ دعا کی تھی: {وَھَبْ لِیْ مُلْکًا لَایَنْبَغِیْ لِاَحَدٍ مِنْ بَعْدِیْ} (سورۂ ص: ۳۵) … اور (اے اللہ!) مجھے ایسی بادشاہت عطا فرما، جو میرے بعد کسی کے لیے لائق نہ ہو۔
حافظ ابن حجرؒنےکہا: اسحدیث سے اشارہ ملتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلیمان علیہ السلام کی رعایت کرتے ہوئے ابلیس کو چھوڑ دیا تھا، لیکنیہ بھی احتمال ہے سلیمان علیہ السلام کی خصوصیتیہ ہو کہ وہ جو کام چاہتے جنوں سے کروا لیتے تھے۔ (فتح الباری)
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اسراء والی حدیث بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب میں آسمان دنیا کی طرف اترا تو دیکھا کہ میری نچلی طرف غبار، دھواں اور آوازیں تھیں، میں نے کہا: اے جبریل! یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: یہ شیطان ہیں، جو بنو آدم کی آنکھوں کے سامنے منڈلا رہے ہیں، تاکہ وہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہیوں میں غور و فکر نہ کر سکیں، اگر یہ نہ ہوتے تو وہ عجیب عجیب چیزیں دیکھتے۔
Takhreej
(۱۰۲۸۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف علی بن زید، وجھالۃ ابی الصلت، أخرجہ ابن ماجہ: ۲۲۷۳ (انظر: ۸۶۴۰)