أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ. ح وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ رَجُلٍ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ صَلَاةٌ فَأَقِلُّوا مِنَ الْكَلَامِ ، اللَّفْظُ لِيُوسُفَ خَالَفَهُ حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ.
It was narrated from Tawus from a man who met the Prophet, that he said:
Tawaf of the House is a form of Salah, so speak little. (Sahih Mawquf) This is the wording of Yu8saf, which was contradicted by Hanzalah bin Abi sufyan
طاؤس سے روایت ہے کہ ایک شخص جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا ہے، کہتے ہیں: ”بیت اللہ کا طواف نماز ہے تو ( دوران طواف ) باتیں کم کرو“۔ ( ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں ) اس حدیث کے الفاظ یوسف ( یوسف بن سعید ) کے ہیں۔ حنظلہ بن ابی سفیان نے ان کی یعنی حسن ۱؎ مخالفت کی ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ۵۶۹۴)، مسند احمد (۳/۴۱۴ و۴/۶۴ و۵/۳۷۷)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یہاں مخالفت سے لفظی مخالفت مراد ہے، معنوی نہیں کیونکہ مبہم اور مفسر میں کوئی تضاد نہیں ہے، حسن نے صحابی کے نام کو مبہم رکھا ہے، اور حنظلہ نے نام کی وضاحت کر دی ہے۔
2925
Sahih